🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*اب ذرا کلیجہ تھام کر سر سید کی ہرزہ سرائی کعبۃ اللہ کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں ۔*
نقل کفر کفر نباشد ۔
اپنی تحریف القرآن میں لکھتا ھے:
*جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چو کھونٹے گھر میں ایسی متعدی برکت ہے کہ جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے یہ ان کی خام خیالی ھے اس چوکھونٹے گھر کے گرد پھر نے سے کیا ہوتا ھے اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھرتے ہیں تو وہ کبھی حاجی نہیں ہوئے ۔*

(تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۲۱۱و۲۵۱)

*مزید لکھتا ہے :*
کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا اسلام کا کوئی اصلی حکم نہیں ھے
(تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۱۵۷،)

خانہ کعبہ کے گرد طواف کے مقدس عمل کو سر سید کا ”سات دفعہ اس کے گرد پھرنا“
پھر خدا کے اس عظیم اور مقدس گھر کو انتہائی ڈھٹائی اور بےغیرتی کے ساتھ
”چوکھونٹا گھر“ کہنا اور
آگے خباثت کی انتہا کرتے ہوئے یہ کہنا کہ
اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھرتے ہیں‘
کیا وہ حاجی بن گئے؟
پھر نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے خلاف یہ زہر افشانی کرنا کہ
یہ اسلام کا اصلی حکم نہیں ھے
*کیا یہ بکواسات کیا کوئی صاحب ایمان کر سکتا ہے ؟*

دوسرے پارہ کے شروع میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ھے:
سیقول السفہاء الخ“
”اب بہت سارے بیوقوف کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا ؟
*اس آیت کی رو سے جو لوگ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نہیں مانتے وہ بیوقوف ہیں اور سر سید تمام بیوقوفوں کا سردار ۔*

*سر سید فرشتوں کے وجود کا منکر 😱😡*

فرشتوں کا مستقل خارجی وجود قرآن وحدیث سے صراحۃً ثابت ہے اور فرشتوں کا اس طرح وجود ماننا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ھے
*ان کے وجود کو مانے بغیر کوئی مسلمان نہیں کہلا سکتا*

قرآن پاک میں ہے کہ :
*فرشتے خدا کی ایسی مخلوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے اور جس کام کا حکم دیا جاتا ھے اس کو بجالاتے ہیں *
(سورہ التحریم:۶)

*دوسری جگہ مذکور ہے :*
پھر یہی فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور قوم لوط پر عذاب ڈھانے لگے ۔
*(الحجر: ۵۸تا۷۷)*

ان تمام آیات اور روایات سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا مستقل خارجی وجود ھے
*مگر سر سید اس کا منکر ہے وہ لکھتا ہے کہ :*
قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا مسلمانوں نے اعتقاد کر رکھا ہے ثابت نہیں ہوتا

(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۴۲)
نعوذبااللہ

*آگے لکھتا ہے :*
اس میں شک نہیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے‘ انسان تھے اور قوم لوط کے پاس بھیجے گئے تھے ۔
علماء مفسرین نے قبل اس کے کہ الفاظ قرآن پر غور کریں
یہودیوں کی روایتوں کے موافق ان کا فرشتہ ہونا تسلیم کر لیا ھے حالانکہ وہ خاصے بھلے چنگے انسان تھے ۔
(تفسیر القرآن ج:۵‘ص:۶۱)

*اس طرح قرآن پاک اور احادیث طیبہ یہ بات موجود ہے کہ :*
مختلف غزوات کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا ہے
*جیسا کہ آیت ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلة ۔*
(سورہ آل عمران:۱۲۳)
میں مذکور ھے

*سر سید اس کا منکر ہے وہ اس آیت کے تحت لکھتا ہے :*
بڑا بحث طلب مسئلہ اس آیت میں فرشتوں کا لڑائی میں دشمنوں سے لڑنے کے لیے اترنا ہے‘ *میں اس بات کا بالکل منکر ہوں‘ مجھے یقین ہے کہ* کوئی فرشتہ لڑنے کو سپاہی بن کریا گھوڑے پر چڑھ کر نہیں آیا‘ مجھ کو یہ بھی یقین ہے کہ
قرآن سے بھی ان جنگجو فرشتوں کا اترنا ثابت نہیں ۔

(تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ص:۵۲)

*سر سید جبرائیل امین علیہ السلام کا منکر ھے*

*قرآن پاک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ھے*
ترجمہ :
جو کوئی مخالف ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرائیل کا اور میکائیل کا تو اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کا مخالف ھے ۔
(البقرہ:۹۸)

*اسی طرح کئی احادیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کبھی انسانی شکل میِں بارگاہ نبوی میں تشریف لاتے ‘چنانچہ مشکوٰة کی پہلی حدیث*
”حدیث جبرائیل“ میں جب سوالات کرنے کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا :
*فانہ جبرئیل اتاکم یعلمکم دینکم ۔*
یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے‘ تم کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۔
(مشکوٰة: کتاب الایمان)

سر سید حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وجود کا منکر ھے
*وہ لکھتا ہے :*
ہم بھی جبرائیل اور روح القدس کو شئی واحد تجویز کرتے ہیں‘ مگر اس کو خارج از خلقتِ انبیاء جداگانہ مخلوق تسلیم نہیں کرتے‘ بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ خود انبیاء علیہم السلام میں جو ملکہ نبوت ہے اور ذریعہ مبدء فیاض سے ان امور کے اقتباس کا ہے جو نبوت یعنی رسالت سے علاقہ رکھتے ہیں‘ وہی روح القدس ہے اور وہی جبرائیل ہے ۔

(تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ ص:۱۵۶‘ ج:۱‘ ص:۱۸۱‘ ۱۲۲‘ ۱۲۹‘ ۱۷۰،)
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*اس عبارت میں سر سید نے اس بات کا انکار کیا کہ*
حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کوئی خارجی وجود ھے
بلکہ ان کے نزدیک یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت میں ودیعت کردہ ایک ملکہ نبوت کا نام ھے

*سر سید کا واقعہ معراج سے انکار*

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ واقعہٴ معراج ہے ۔
سر سید نے یہاں بھی عقل لڑائی مشرکینِ مکہ کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنے جسم مبارک کے ساتھ سات آسمانوں پر جانا اس کی عقل میں نہ آسکا اور وہ انکار کر گیا ۔
اپنی تفسیرالقرآن ج :۲ ص: ۱۳۰ پر لکھتا ہے :
ہماری تحقیق میں واقعہ معراج ایک خواب تھا جو رسول اللہ نے دیکھا تھا ۔

*حقیقت میں معجزہ کہتے ہی اس کو ہیں جس کو سمجھنے سے عقل عاجز ہو ۔*
اگر اسے خواب یا تصور کا واقعہ قرار دیں *تو معجزہ نہیں کہلایا جا سکتا ‘ کیونکہ*
خواب اور تصور میں کوئی بھی شخص اس قسم کا واقعہ دیکھ سکتا ھے
*اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واقعہ معراج تب معجزہ بنے گا جب ہم یہ تسلیم کر لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج روح مع الجسد ہوئی تھی یعنی جسم اور روح دونوں کو معراج ہوئی تھی‘ اور اسی بات پر امت کا اجماع چلا آ رہا ھے*
روایات میں آتا ھے کہ
واقعہ معراج کا سن کر کفار ومشرکین مکہ آپ کے ساتھ حجت بازی کرنے لگے ۔
*اگر واقعہ معراج خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار و مشرکین کبھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حجت بازی نہ کرتے ۔*

*جنات و شیاطین کے وجود کا انکار*

جنات و شیاطین کا وجود قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ایک راسخ العقیدہ مسلمان کےلیے اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں‘
*مگر یہ مردود گوبر کی لد سے بھرے ہوئے دماغ والا سر سید اس کا انکار کرتا ہے*
وہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے ماتحت جنات کے کام کرنے کے قرآنی واقعہ پر تبصرہ کرتا ہے :
ان آیتوں میں ”جن“ کا لفظ آیا ہے‘ اس سے وہ پہاڑی *اور جنگلی آدمی مراد ہے*
جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاں بیت المقدس بنانے کا کام کرتے تھے اور جن پر بسبب وحشی اور جنگلی ہونے کے جو انسانوں سے جنگلوں میں چھپے رہتے تھے اور نیز بسبب قوی اور طاقتور اور محنتی ہونے کے ”جن“ کا اطلاق ہوا ہے پس اس سے وہ جن مراد نہیں جن کو مشرکین نے اپنے خیال میں ایک مخلوق مع ان اوصاف کے جو ان کے ساتھ منسوب کئے ہیں‘ مانا ہے اور جن پر مسلمان بھی یقین کرتے ہیں ۔

(تفسیر القرآن ج: ۳‘ ص: ۶۷)

اس طرح سرسید شیطان کا الگ مستقل وجود تسلیم نہیں کرتا ‘ بلکہ انسان کے اندر موجود شرانگیز صفت کو شیطان قرار دیتا ہے ۔
آگے لکھتا ہے :
انہی قویٰ کو جو انسان میں ہے اور جن کو نفس امارہ یا قوائے بہیمیہ سے تعبیر کرتے ہیں‘ یہی شیطان ہے ۔
(تفسیر القرآن جلد ۳ صفحہ ۴۵،)

سر سید کے اعتزالی گمراہ کُن عقائد و نظریات کا مکمل احاطہ کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے ،
فقیر چشتی نے اس کے چند گمراہ افکار پر روشنی ڈالی ہے ۔

*حقیقت میں سرسید اور ان جیسے دیگر روشن خیالوں کی فکری جولانیوں کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ : *

ناطقہ بگریباں ہے اسے کیا کہیے ؟
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے ؟

مسلمانوں کےلیے ضروری ہے کہ
وہ موجودہ دور کے ان معتزلہ کے افکار و نظریات کو پہچان کر اپنے ایمان و عمل کو ان کی فریب کاری سے بچائیں اور جو سادہ لوح مسلمان ان کے شکنجہ میں آ چکے ہیں ان کے بارے میں فکر مند ہوکر ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں ۔
حیرت کی بات ہے موجودہ پی ڈی ایم کی امریکی سازش سے لاٸی گٸی حکومت نے *پاکستان کے پچھترویں 75 جشنِ آزادی پر جو پچھتر روپۓ کا یادگاری نوٹ جاری کیا ہے اُس پر اپنے آقا انگریز کے اس پٹھو گمراہ شخص کی تصویر لگاٸی ہے*

75 روپے کے نوٹ پر سر سید احمد خان کی تصویر چھاپنے پر ہم پاکستانی اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مکمل طور پر بائیکاٹ Boycott کرتے ہیں

*ہمارا حکومت پاکستان سے مطالبہ ھے کہ*
75 روپے کے نوٹ سے سر سید احمد خان کی تصویر ختم کی جائے اور نیا 75 روپے کا نوٹ جاری کیا جائے

*فقط داڑھی پر نہ جانا مسلمانو*
داڑھی تو *مرزا قادیانی کانے دجال کذاب کافر و مرتد زندیق کی بھی تھی*
دیکھنا یہ چاہیئے کہ
*اس بندے کے عقائد اور نظریات عین قرآن و حدیث کے مطابق اسلامی ہیں کہ نہیں*

سر سید احمد خان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے 📚کتاب بنام 👇🏿

*سر سید احمد خان کا اصلی روپ*

کا مطالعہ کریں

اے اہلِ ایمان و اہلِ وطن کب تک خوابِ غفلت میں پڑے رہو گے ؟ ۔
اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں سے بچاۓ آمین ۔
سر سید احمد خان
کا اصلی روپ

مناظر اہلسنت علامہ مولانا
مفتی راشد محمود رضوی مدظلہ العالی

مکتبہ نور بصیرت کراچی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا مفتی غلام جان ہزاروی ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: عبد المصطفیٰ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا مفتی غلام جان ہزاروی بن مولانا احمد جی بن مولانا محمد عالم ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1316ھ، مطابق 1896ء کو مقام "اوگرہ" تحصیل مانسہرہ ،ضلع ہری پور ہزارہ، پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
قرآنِ مجید اور فارسی نظم و نثر اور صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں اپنے والد سے پڑھیں ۔ اس کے بعد شوق علم میں "دہلی اور سہار ن پور " کی درس گاہوں میں بھی گئے ۔ مدرسہ عالیہ جامع مسجد آگرہ کے اساتذہ سے بھی کسبِ علم کیا ۔ مولانا غلام رسول (انّہی ضلع گجرات) سے "حمد اللہ اور زواہد ثلاثہ" کا درس لیا۔ "مینڈ ھو" ضلع اعظم گڑھ اور " گلاوٹی " ضلع بلند شہر میں معقول کی کتابیں پڑھیں ۔ ٹونک میں حضرت علامہ حکیم سید برکات احمد سے ریاضی اور معقولات میں استفادہ کیا ۔

1335ھ میں "مدرسہ عالیہ رامپور" سے درجۂ تکمیل  پاس کیا مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری آپ پر بے حد شفقت فرماتے تھے ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا شہرہ سن کر مرکز علم و عرفان " بریلی شریف " پہنچے اور شمس العلماء مولانا ظہور الحسن فاروقی رام پوری اور صدر الشریعہ مولانا حکیم محمد امجد علی  اعظمی سے درس نظامی کی آخری کتابیں پڑھ کر صحاح ستہ کا دور ہ کیا ۔

1337ھ کے جلسۂ دستار بندی میں امام اہل سنت امام احمد رضا بر یلوی نے دستار بندی فرمائی اور سند فضیلت عطا فرمائی۔

بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت کے دست اقدس پر مرید ہوئے اور پھر خلافت سے نوازے گئے ۔

سیرت و خصائص:
مفتیِ  اعظم پاکستان، نائبِ اعلیٰ حضرت، ناشرِ دینِ متین ،امام المدرسین، استاذ العلماء والفضلاء، شیخِ کامل حضرت علامہ مولانا مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ بھی ان خوش نصیب شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے میخانۂ رضا سے جامِ  علم و معرفت نوش کی ہیں، اور پھر ساری زندگی فیضِ رضا تقسیمِ کرتے رہے، اور تعلیماتِ رضا عام کرتے رہے ۔ اعلیٰ حضرت کا ہر ہر شاگرد و خلیفہ آسمانِ علم و فن کا چمکتا ہوا ستارہ تھا ۔

جو ان سے وابستہ ہوا اس کو بھی چمکا دیا۔ آپ فراغت کے بعد "مدرسہ منظر الا سلام بریلی "میں مدرس اور مسجد بی بی جی (بریلی) میں امام و خطیب مقرر ہوئے ۔حضرت مولانا خواجہ محمود تونسوی(نبیرہ پیرپٹھان حضرت شاہ سلیمان تونسوی ) کی دعوت پر وہاں سے مدرسہ " سلیمانیہ تونسہ شریف" جاکر کچھ عرصہ  تدریس فرمائی ۔

ایک سال "مکھڈشریف "رہے۔ اس کے بعد خان محمد امیر کاں رئیس " شہیلیہ ضلع ہزارہ " نے آپ کو بلا کر عہدۂ  قضاء پر مامور کیا لیکن کچھ دن بعد ہی آپ لاہور چلے گئے، اور جامعہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس اور مفتی مقرر ہوئے ۔

1345ھ میں بریلی شریف اور اجمیر شریف حاضری دیتے ہوئے حج و زیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے ۔ شب بیداری، یتیموں، بیواؤں کی دستگیری، اور اپنا کام خود کرنا آپ کے اوصافِ حسنہ تھے ۔ دینِ متین کی تبلیغ و ترویج کا جذبہ بدرجۂ اتم موجود تھا ۔

تاریخِ وِصال:
25 محرم الحرام  1379ھ، مطابق یکم اگست 1959ء کو کلمہ شریف اور صلوٰۃ و سلام کا ذکر کرتے ہوئے عین اس وقت جب مؤذن نے اذانِ ظہر کی آواز بلند کی، آپ نے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر دی ۔

نمازِ جنازہ:
نماز جنازہ حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا البرکات سید احمد رحمہ اللہ نے پڑھائی ۔

مزار شریف:
دوسرے دن غازی علم دین شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار کے جنوبی جانب دفن کئے گئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-ghulam-jan-hazarvi
Copyright © Zia-e-Taiba
3👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍2
مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، تلمیذ صدر الشریعہ، فقیہ زماں، حضرت علامہ مولانا مفتی ابو المظفر عبد المصطفی غلام جان قادری رضوی رضی الله عنہ کی ولادت 1316ھ اوگرہ، مانسہرہ، پاکستان میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، امام و خطیب مسجد بی بی جی بریلی شریف، صدر مدرس و مفتی جامعہ نعمانیہ لاہور، بہترین مدرس، مفتی اسلام، شب بیدار عبادت گزار، یتیموں اور بیواؤں کے مددگار و غمخوار، اور صاحب تصنیف تھے۔ ”فتاویٰ غلامیہ“ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ 25 محرم 1379ھ بروز ہفتہ صلاۃ و سلام پڑھتے اذان ظہر کے وقت وصال فرمایا۔ مفتی اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور لاہور میں غازی علم دین شہید کے مزار مبارک کے جنوبی جانب آرام فرما ہوئے۔ (حیات فقیہ زماں، تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت)

"Murid and Khalifah of AlaHazrat, Student of Sadr al-Shariah, Jurist of Era, Allamah Mufti Abu al-Muzaffar Abdul Mustafa Ghulam Jan Qadiri Ridawi (RadiyAllahu Anhu) was born in 1316 AH in Ogra, Mansehra, Pakistan. He was a graduate of Dar al-Uloom Mazhar-e-Islam Bareilly Sharif, Imam and Khatib of Bibi Jee Mosque Bareilly Sharif, Head Teacher and Mufti of Jami’ah Nau’maniyah Lahore, excellent educator, Mufti of Islam, devout worshiper, benefactor of orphans and widows, and author of books. ""Fatawa Ghulamiyah"" is a collection of his verdicts. He passed away on Saturday, 25th Muharram 1379 AH while reciting Durood and Salam at the time of the Adhan of Zuhr Prayers. Grand Mufti of Pakistan Allamah Abu al-Barakaat led his funeral prayer and was laid to rest at the southern side of Ghazi Ilm Din Shaheed's mausoleum in Lahore. [Hayat-e Faqeeh-e Zaman, Tazkirah Akabir-e AhleSunnat]"

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0gJ7F3c8qWeAgXaWUfTwjqGaUv51JR1aXJrJ8u6jsQETrhSYJP1dSQ5x6duqGFJoxl&id=100050689590519
3👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-01-1444 ᴴ | 24-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍2