Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
جب سہانپور کی جامع مسجد کے لئے ان سے چندہ طلب کیا گیا تو انہوں نے ( سر سید نے ) چندہ دینے سے انکار کر دیا اور لکھ بھیجا کہ
*میں خدا کے زندہ گھروں ( کالج ) کی تعمیر کی فکر میں ہوں اور آپ لوگوں کو اینٹ مٹی کے گھر کی تعمیر کا خیال ھے*
(خو د نوشت صفحہ 101) ۔
*(معاذاللہ)*
*اعلحٰضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب محدّث بریلی علیہ الرحمہ نے اسکے لٹریچر وغیرہ کے تجزئیے کے بعد یہ فتویٰ 📝 دیا ہے کہ*
سر سیّد احمد خان نیچری گمراہ آدمی تھا ۔
*محترم قارئینِ کرام :*
سر سید احمد خان *فرقہ وہابیت سے تعلق رکھتا تھا*
بعد میں اس نے نیچری فرقے کی بنیاد رکھی
*انگریزوں کا ایجنٹ ،نام نہاد لمبی داڑھی والا مسٹر احمد خان بھی کچھ اس قسم کا آدمی تھا جسکی وجہ سے اسکے ایمان میں بگاڑ پیدا ہوا اور آہستہ آہستہ اس نے اسلامی حقائق و عقائد کا مذاق اڑانا شروع کی اور بےایمان ،مرتد اور گمراہ ہو گیا ۔*
*دینِ اسلام میں* نیچری سوچوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ھے
اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرّر اور بیان کردہ قوانین پر عمل کرنے کا نام اسلام ھے
*سر سید احمد خان نہ تھا بلکہ مسٹر احمد خان تھا*
اس کو اسلام کا خیر خواہ کہنے والے اس کے *باطل عقائد پڑھ کر ہوش کے ناخن لیں*
اس کو اچھا آدمی کہہ کر یا لکھ کر اپنے ایمان کے دشمن نہ بنیں
*کیونکہ ہر مکتبہ فکر کا عالم مسٹر احمد خان ( سر سید احمد خان ) کو نیچری فرقہ کا بانی ، گمراہ اور زندیق لکھتا ھے*
سر سید احمد خان کے افکار و عقاٸد نے علماء و مشائخ کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔
اگرچہ اس وقت کے علماء و مشائخ نے سر سید پر کفر کا فتویٰ عائد کرنے سے گریز کیا
لیکن سر سید کے گمراہ کن افکار سے کلی براءت کا بھی اظہار کیا اور سر سید کی اصلاح کی بھی کوششیں کی لیکن
*وہ بار آور نہ ہو سکیں اور سر سید اپنی ہی فکر کے پیچھے چل پڑے۔*
ذیل میں چند ایسے افکار درج کیے جا رہے ہیں : ⬇
سر سید کا کہنا تھا کہ
*ملائکہ اور شیطان کوئی الگ مخلوق نہیں ۔* یہ انسان میں خیر و شر کی قوتوں کے نام ہیں ۔
*جنات سے جنگلی اور وحشی انسان مراد ہیں ۔*
معجزات انبیاء کا انکار
کسی نبی سے کسی قسم کا *معجزہ* مافوق الفطرت اور خلاف عقل واقع نہیں ہوا ۔
قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام سے منسوب محیر العقول واقعات محض قویٰ انسانی کی قوت کا مظہر ہیں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا نہیں ہوئے کیونکہ قانون فطرت کے بر خلاف ایسا نہیں ہو سکتا ۔
ٹٹ پونجیئے عربی مدرسوں سے ہماری کوئی قومی عزت نہیں ۔
اس سے کاہل ، مال مردم خور ،
بےمحنت اور خیرات کی روٹی کھانے والے ملاﺅں کا گروہ بڑھتا جائے گا ۔
*اعلیٰ عہدے صرف لائق انگریزی دانوں کو دیے جانے کی پالیسی میں سختی ہونی چاہیے ۔*
کافر انگریز کے لیے دعا
معاذاللہ
خدا *لارڈ میکالے* کو بہشت نصیب کرے ۔ اس سے زیادہ ہندوستان کو بھلائی پہنچانے والا کوئی اور نہیں ۔
*ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خدا کی طرف سے ایک رحمت ھے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری اور نمک حلالی خدا کی طرف سے ہمارا فرض ھے* نعوذبااللہ
*ہندو اور مسلمان ایک مذہبی لفظ ہے ورنہ* ہندو ، مسلمان اور عیسائی بھی جو ہندوستان میں رہتے ہیں سب ایک ہی قوم ہیں ۔
*نعوذبااللہ*
(افکار سر سید مرتبہ ضیاءالدین لاہوری)
(نقش سر سید)
(سر سید کی کہانی)
(حیات سر سید)
قرآن مجید کی فصاحت بے مثال کو معجزہ سمجھنا ایک غلط فہمی ہے ۔ فاتوا بسورة من مثلہ کا یہ مقصد نہیں ھے
(تصانیف احمدیہ حصہ ١ جلد ١ صفحہ۱۲)
نعوذبااللہ
جس مجموعہ مسائل و احکام و اعتقادات وغیرہ پر فی زمانہ *اسلام کا اطلاق کیا جاتا ہے وہ یقیناً مغربی علوم کے مقابلہ میں قائم نہیں رہ سکتا ۔*
نعوذبااللہ
(بروایت حالی حیات جاوید جلدا۵۲۲)
میں فرض سمجھتا ہوں کہ
جو لوگ لکھے پڑھے ہیں
( میں اپنے تئیں لکھے پڑھوں میں نہیں سمجھتا )
وہ حال کے علوم جدید کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حمایت میں کھڑے ہوں اور مثل علماء کے یا تو مسائلِ حکمت جدید کو باطل کر دیں یا مسائل اسلام کو ان کے مطابق کر دیں کہ اس زمانہ میں صرف یہی صورت حمایت اور حفاظت اسلام کی ھے
(مقالات سر سید صفحہ ١٠)
تمام مفسرین کی سوائے معتزلہ کے یہ عادت ہے کہ
اپنی تفسیروں میں محض بےسند اور افوائی روایتوں کو بلا تحقیق لکھتے چلے جاتے ہیں
اور ذرا بھی تحقیق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے
معاذاللہ
(ترقیم فی قصہ اصحاب الکہف وارقیم۔مطبع معید عام آگرہ۔ص۔۲۱)
تفسیروں اور سیر کی کتابوں میں خواہ وہ تفسیر ابن جریر ہو
یا تفسیر کبیر وغیرہ اور
خواہ وہ سیرة ابن اسحاق ہو
خواہ سیرت ابن ہشام اور
خواہ وہ روضة ال احباب ہو
یا مدارج النبوہ وغیرہ
ان میں تو اکثر ایسی لغو اور نا معتبر روایتیں اور قصے مندرج ہیں جن کا بیان نہ کرنا ان کے بیان کرنے سے بہتر ھے
*استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ*
( آخری مضامین صحہ ۵۳۱،)
*میں خدا کے زندہ گھروں ( کالج ) کی تعمیر کی فکر میں ہوں اور آپ لوگوں کو اینٹ مٹی کے گھر کی تعمیر کا خیال ھے*
(خو د نوشت صفحہ 101) ۔
*(معاذاللہ)*
*اعلحٰضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب محدّث بریلی علیہ الرحمہ نے اسکے لٹریچر وغیرہ کے تجزئیے کے بعد یہ فتویٰ 📝 دیا ہے کہ*
سر سیّد احمد خان نیچری گمراہ آدمی تھا ۔
*محترم قارئینِ کرام :*
سر سید احمد خان *فرقہ وہابیت سے تعلق رکھتا تھا*
بعد میں اس نے نیچری فرقے کی بنیاد رکھی
*انگریزوں کا ایجنٹ ،نام نہاد لمبی داڑھی والا مسٹر احمد خان بھی کچھ اس قسم کا آدمی تھا جسکی وجہ سے اسکے ایمان میں بگاڑ پیدا ہوا اور آہستہ آہستہ اس نے اسلامی حقائق و عقائد کا مذاق اڑانا شروع کی اور بےایمان ،مرتد اور گمراہ ہو گیا ۔*
*دینِ اسلام میں* نیچری سوچوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ھے
اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرّر اور بیان کردہ قوانین پر عمل کرنے کا نام اسلام ھے
*سر سید احمد خان نہ تھا بلکہ مسٹر احمد خان تھا*
اس کو اسلام کا خیر خواہ کہنے والے اس کے *باطل عقائد پڑھ کر ہوش کے ناخن لیں*
اس کو اچھا آدمی کہہ کر یا لکھ کر اپنے ایمان کے دشمن نہ بنیں
*کیونکہ ہر مکتبہ فکر کا عالم مسٹر احمد خان ( سر سید احمد خان ) کو نیچری فرقہ کا بانی ، گمراہ اور زندیق لکھتا ھے*
سر سید احمد خان کے افکار و عقاٸد نے علماء و مشائخ کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔
اگرچہ اس وقت کے علماء و مشائخ نے سر سید پر کفر کا فتویٰ عائد کرنے سے گریز کیا
لیکن سر سید کے گمراہ کن افکار سے کلی براءت کا بھی اظہار کیا اور سر سید کی اصلاح کی بھی کوششیں کی لیکن
*وہ بار آور نہ ہو سکیں اور سر سید اپنی ہی فکر کے پیچھے چل پڑے۔*
ذیل میں چند ایسے افکار درج کیے جا رہے ہیں : ⬇
سر سید کا کہنا تھا کہ
*ملائکہ اور شیطان کوئی الگ مخلوق نہیں ۔* یہ انسان میں خیر و شر کی قوتوں کے نام ہیں ۔
*جنات سے جنگلی اور وحشی انسان مراد ہیں ۔*
معجزات انبیاء کا انکار
کسی نبی سے کسی قسم کا *معجزہ* مافوق الفطرت اور خلاف عقل واقع نہیں ہوا ۔
قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام سے منسوب محیر العقول واقعات محض قویٰ انسانی کی قوت کا مظہر ہیں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا نہیں ہوئے کیونکہ قانون فطرت کے بر خلاف ایسا نہیں ہو سکتا ۔
ٹٹ پونجیئے عربی مدرسوں سے ہماری کوئی قومی عزت نہیں ۔
اس سے کاہل ، مال مردم خور ،
بےمحنت اور خیرات کی روٹی کھانے والے ملاﺅں کا گروہ بڑھتا جائے گا ۔
*اعلیٰ عہدے صرف لائق انگریزی دانوں کو دیے جانے کی پالیسی میں سختی ہونی چاہیے ۔*
کافر انگریز کے لیے دعا
معاذاللہ
خدا *لارڈ میکالے* کو بہشت نصیب کرے ۔ اس سے زیادہ ہندوستان کو بھلائی پہنچانے والا کوئی اور نہیں ۔
*ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خدا کی طرف سے ایک رحمت ھے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری اور نمک حلالی خدا کی طرف سے ہمارا فرض ھے* نعوذبااللہ
*ہندو اور مسلمان ایک مذہبی لفظ ہے ورنہ* ہندو ، مسلمان اور عیسائی بھی جو ہندوستان میں رہتے ہیں سب ایک ہی قوم ہیں ۔
*نعوذبااللہ*
(افکار سر سید مرتبہ ضیاءالدین لاہوری)
(نقش سر سید)
(سر سید کی کہانی)
(حیات سر سید)
قرآن مجید کی فصاحت بے مثال کو معجزہ سمجھنا ایک غلط فہمی ہے ۔ فاتوا بسورة من مثلہ کا یہ مقصد نہیں ھے
(تصانیف احمدیہ حصہ ١ جلد ١ صفحہ۱۲)
نعوذبااللہ
جس مجموعہ مسائل و احکام و اعتقادات وغیرہ پر فی زمانہ *اسلام کا اطلاق کیا جاتا ہے وہ یقیناً مغربی علوم کے مقابلہ میں قائم نہیں رہ سکتا ۔*
نعوذبااللہ
(بروایت حالی حیات جاوید جلدا۵۲۲)
میں فرض سمجھتا ہوں کہ
جو لوگ لکھے پڑھے ہیں
( میں اپنے تئیں لکھے پڑھوں میں نہیں سمجھتا )
وہ حال کے علوم جدید کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حمایت میں کھڑے ہوں اور مثل علماء کے یا تو مسائلِ حکمت جدید کو باطل کر دیں یا مسائل اسلام کو ان کے مطابق کر دیں کہ اس زمانہ میں صرف یہی صورت حمایت اور حفاظت اسلام کی ھے
(مقالات سر سید صفحہ ١٠)
تمام مفسرین کی سوائے معتزلہ کے یہ عادت ہے کہ
اپنی تفسیروں میں محض بےسند اور افوائی روایتوں کو بلا تحقیق لکھتے چلے جاتے ہیں
اور ذرا بھی تحقیق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے
معاذاللہ
(ترقیم فی قصہ اصحاب الکہف وارقیم۔مطبع معید عام آگرہ۔ص۔۲۱)
تفسیروں اور سیر کی کتابوں میں خواہ وہ تفسیر ابن جریر ہو
یا تفسیر کبیر وغیرہ اور
خواہ وہ سیرة ابن اسحاق ہو
خواہ سیرت ابن ہشام اور
خواہ وہ روضة ال احباب ہو
یا مدارج النبوہ وغیرہ
ان میں تو اکثر ایسی لغو اور نا معتبر روایتیں اور قصے مندرج ہیں جن کا بیان نہ کرنا ان کے بیان کرنے سے بہتر ھے
*استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ*
( آخری مضامین صحہ ۵۳۱،)
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتب مقدسہ میں تحریف لفظی کی ہے اور*
نہ علمائے متقدمین و محقیقین اس بات کے قائم تھے مگر علمائے متاخرین اس بات کے قائل ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتب مقدسہ میں تحریف و تبدل کی ھے
(تفسیر القرآن جلد ۱ صفحہ ۴)
جو ہمارے خدا کا مذہب ہے وہی ہمارا مذہب ھے *خدا نہ ہندو ھے نہ عرفی مسلمان نہ مقلد نہ لا مذہب نہ یہودی نہ عیسائی وہ تو پکا چھٹا ہوا نچیری ھے*
وہ خود اپنے کو نیچری کہتا ھے پھر اگر ہم بھی نیچری ہوں تو اس سے زیادہ ہم کو کیا فخر ھے
(مقالات سر سید جلد ۵۱ صفحہ ۷۴۱،)
میں شیطان کے وجود کا قائل ہوں مگر انسان ہی میں وہ موجود ھے
(تہذیب الاخلاق)
انسان کے دین دنیا اور تمدن و معاشرت بلکہ زندگی کی حالت کو کرامت اور معجزہ پر یقین یا اعتقاد رکھنے سے زیادہ خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ھے
(مقالات سر سید)
حالانکہ قرآن مجید کی کسی آیات میں اس بات پر نص نہیں ہے کہ *حضرت ابراہیم درحقیقت آگ میں ڈالے گئے تھے* بےشک ان کےلیے آگ دہکائی گئی تھی اور ڈرایا گیا تھا کہ ان کو آگ میں ڈال کر جلا دیں گے *مگر یہ بات کہ درحقیقت وہ آگ میں ڈالے گئے قرآن مجید سے ثابت نہیں ھے*
(تفسیر القرآن)
نعوذبااللہ
خدا نے ہم کو قانون فطرت سے یہ بتایا کہ
آگ جلا دینے والی ھے پس جب تک یہ قانون فطرت قائم ہے اس کے برخلاف ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے کہ قولی وعدہ کے بر خلاف ناممکن ھے
(تحریر فی اصول التفسیر صفحہ 40)
*حضرت یونس کے قصے میں اس بات پر قرآن مجید میں کوئی نص صریح نہیں ہے کہ*
درحقیقت مچھلی ان کو نگل گئی تھی ۔
(تحریر فی اصول التفسیر)
نعوذبااللہ
حضرت عیسیٰ کو یہودیوں نے نہ سنگ بار کرکے قتل کیا نہ صلیب پر قتل کیا *بلکہ وہ اپنی موت سے مرے* اور خدا نے ان کے درجہ اور مرتبہ کو مرتفع کیا ۔
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(تفسیر القرآن)
قرآن مجید میں کہیں بیان نہیں ہوا کہ
معراج بجسدہ و حالتِ بیداری میں ہوئی تھی ۔
شق قمر کا ہونا محض غلط ھے
ہمارے نزدیک تو نہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے اترنے والے ہیں نہ مہدی موعود پیدا یا ظاہر ہونے والے ہیں ۔
(آخری مضامین)
*مہدی کے آنے کی کوئی پیش گوئی مذہبِ اسلام میں ہے ہی نہیں بلکہ* وہ سب ایسی ہی جھوٹی روایتیں ہیں جیسے کہ دجال اور مسیح کے آنے کی ۔
معاذاللہ
(تہذیب الاخلاق)
*سر سید احمد خان کو موجودہ دور کا روشن خیال طبقہ* نئے دور کا مجدّد اور مسلمانوں کی ترقی کا راہنما سمجھتے ہیں،
ذیل میں سر سید کے افکار پر کچھ تفصیل پیش خدمت ھے
یہ پڑھنے کے بعد آپ کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ
*سر سید بھی حقیقت میں معتزلہ کے اسی سلسلہ کا فرد تھا اوراور اس کے روحانی شاگرد’ روشن خیال مذہب کے موجودہ داعی ڈاکٹر، فلاسفر، دانشور، پروفیسر ٹائپ لوگ بھی معتزلہ کے اسی مقصد یعنی دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور لوگوں کا ایمان چوسنے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اور*
ہمارے معاشرہ کا تھوڑا پڑھا لکھا اور آزاد خیال طبقہ ان کو اسلام کا اصل داعی سمجھ کر انہی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہا ھے
سر سید کی چند تصنیفات
سرسید نے اسلام کے نام پر بہت سارے مضامین‘ مقالات اور کتب تحریر کیں۔
ایک خلق الانسان انسانی پیدائش سے متعلق لکھی ‘
جس میں ڈارون کے اس نظریہ کی تصدیق و توثیق کی گئی ہے کہ *انسان پہلے بندر تھا پھر بتدریج انسان بنا‘ یوں قرآن و سنت کی نصوص کا منکر ہوا ،*
اسباب بغاوت ہند ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے انگریزوں کے خلاف جہاد کو بغاوت کا نام دیا‘
اور انگریز سامراج کے مخالف علما اور مجاہدین پر کھلی تنقید کی ، تفسیر القرآن پندرہ پاروں کی تفسیر لکھی ہے جو درحقیقت تحریف القرآن ھے
سر سید لکھتا ھے :
میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہیے
(تفسیر القرآن: ۱۹ ص:۲)
چنانچہ سر سید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اسلام کے نام پر *اپنے ملحدانہ نظریات سے فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی‘*
جس میں نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے‘
نہ ہی جنت و دوزخ کا کہیں نشان ہے اور
نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور
معجزات و کرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں ۔
خود سر سید کے پیرو کار و معتقد مولانا الطاف حسین حالی‘ مؤلف مسدس ( وفات دسمبر ۱۹۱۴ء ) تحریر فرماتے ہیں کہ :
*سر سید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے رکیک لغزشیں سرزد ہوئی ہیں ۔*
(حیات جاوید مطبوعہ آگرہ ص:۱۸۴)
*سر سید کی عربی شناسی*
غزوہٴ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کا ایک دانت مبارک شہید ہوا تھا‘ چنانچہ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں :
وان الرباعیة التی کسرت لہ علیہ السلام ہی الیمنیٰ السفلیٰ ۔
(السیرة النبویة ج:۳‘ ص:۵۷)
نہ علمائے متقدمین و محقیقین اس بات کے قائم تھے مگر علمائے متاخرین اس بات کے قائل ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتب مقدسہ میں تحریف و تبدل کی ھے
(تفسیر القرآن جلد ۱ صفحہ ۴)
جو ہمارے خدا کا مذہب ہے وہی ہمارا مذہب ھے *خدا نہ ہندو ھے نہ عرفی مسلمان نہ مقلد نہ لا مذہب نہ یہودی نہ عیسائی وہ تو پکا چھٹا ہوا نچیری ھے*
وہ خود اپنے کو نیچری کہتا ھے پھر اگر ہم بھی نیچری ہوں تو اس سے زیادہ ہم کو کیا فخر ھے
(مقالات سر سید جلد ۵۱ صفحہ ۷۴۱،)
میں شیطان کے وجود کا قائل ہوں مگر انسان ہی میں وہ موجود ھے
(تہذیب الاخلاق)
انسان کے دین دنیا اور تمدن و معاشرت بلکہ زندگی کی حالت کو کرامت اور معجزہ پر یقین یا اعتقاد رکھنے سے زیادہ خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ھے
(مقالات سر سید)
حالانکہ قرآن مجید کی کسی آیات میں اس بات پر نص نہیں ہے کہ *حضرت ابراہیم درحقیقت آگ میں ڈالے گئے تھے* بےشک ان کےلیے آگ دہکائی گئی تھی اور ڈرایا گیا تھا کہ ان کو آگ میں ڈال کر جلا دیں گے *مگر یہ بات کہ درحقیقت وہ آگ میں ڈالے گئے قرآن مجید سے ثابت نہیں ھے*
(تفسیر القرآن)
نعوذبااللہ
خدا نے ہم کو قانون فطرت سے یہ بتایا کہ
آگ جلا دینے والی ھے پس جب تک یہ قانون فطرت قائم ہے اس کے برخلاف ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے کہ قولی وعدہ کے بر خلاف ناممکن ھے
(تحریر فی اصول التفسیر صفحہ 40)
*حضرت یونس کے قصے میں اس بات پر قرآن مجید میں کوئی نص صریح نہیں ہے کہ*
درحقیقت مچھلی ان کو نگل گئی تھی ۔
(تحریر فی اصول التفسیر)
نعوذبااللہ
حضرت عیسیٰ کو یہودیوں نے نہ سنگ بار کرکے قتل کیا نہ صلیب پر قتل کیا *بلکہ وہ اپنی موت سے مرے* اور خدا نے ان کے درجہ اور مرتبہ کو مرتفع کیا ۔
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(تفسیر القرآن)
قرآن مجید میں کہیں بیان نہیں ہوا کہ
معراج بجسدہ و حالتِ بیداری میں ہوئی تھی ۔
شق قمر کا ہونا محض غلط ھے
ہمارے نزدیک تو نہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے اترنے والے ہیں نہ مہدی موعود پیدا یا ظاہر ہونے والے ہیں ۔
(آخری مضامین)
*مہدی کے آنے کی کوئی پیش گوئی مذہبِ اسلام میں ہے ہی نہیں بلکہ* وہ سب ایسی ہی جھوٹی روایتیں ہیں جیسے کہ دجال اور مسیح کے آنے کی ۔
معاذاللہ
(تہذیب الاخلاق)
*سر سید احمد خان کو موجودہ دور کا روشن خیال طبقہ* نئے دور کا مجدّد اور مسلمانوں کی ترقی کا راہنما سمجھتے ہیں،
ذیل میں سر سید کے افکار پر کچھ تفصیل پیش خدمت ھے
یہ پڑھنے کے بعد آپ کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ
*سر سید بھی حقیقت میں معتزلہ کے اسی سلسلہ کا فرد تھا اوراور اس کے روحانی شاگرد’ روشن خیال مذہب کے موجودہ داعی ڈاکٹر، فلاسفر، دانشور، پروفیسر ٹائپ لوگ بھی معتزلہ کے اسی مقصد یعنی دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور لوگوں کا ایمان چوسنے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اور*
ہمارے معاشرہ کا تھوڑا پڑھا لکھا اور آزاد خیال طبقہ ان کو اسلام کا اصل داعی سمجھ کر انہی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہا ھے
سر سید کی چند تصنیفات
سرسید نے اسلام کے نام پر بہت سارے مضامین‘ مقالات اور کتب تحریر کیں۔
ایک خلق الانسان انسانی پیدائش سے متعلق لکھی ‘
جس میں ڈارون کے اس نظریہ کی تصدیق و توثیق کی گئی ہے کہ *انسان پہلے بندر تھا پھر بتدریج انسان بنا‘ یوں قرآن و سنت کی نصوص کا منکر ہوا ،*
اسباب بغاوت ہند ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے انگریزوں کے خلاف جہاد کو بغاوت کا نام دیا‘
اور انگریز سامراج کے مخالف علما اور مجاہدین پر کھلی تنقید کی ، تفسیر القرآن پندرہ پاروں کی تفسیر لکھی ہے جو درحقیقت تحریف القرآن ھے
سر سید لکھتا ھے :
میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہیے
(تفسیر القرآن: ۱۹ ص:۲)
چنانچہ سر سید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اسلام کے نام پر *اپنے ملحدانہ نظریات سے فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی‘*
جس میں نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے‘
نہ ہی جنت و دوزخ کا کہیں نشان ہے اور
نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور
معجزات و کرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں ۔
خود سر سید کے پیرو کار و معتقد مولانا الطاف حسین حالی‘ مؤلف مسدس ( وفات دسمبر ۱۹۱۴ء ) تحریر فرماتے ہیں کہ :
*سر سید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے رکیک لغزشیں سرزد ہوئی ہیں ۔*
(حیات جاوید مطبوعہ آگرہ ص:۱۸۴)
*سر سید کی عربی شناسی*
غزوہٴ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کا ایک دانت مبارک شہید ہوا تھا‘ چنانچہ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں :
وان الرباعیة التی کسرت لہ علیہ السلام ہی الیمنیٰ السفلیٰ ۔
(السیرة النبویة ج:۳‘ ص:۵۷)
👍1
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
ترجمہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کا داہنا نچلا دانت مبارک شہید ہوا تھا ۔
فن تجوید و قرأت کے لحاظ سے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک کو رباعی کہتے ہیں‘ جیسے لغت کے امام ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
رباعی کا لفظ ثمانی کی طرح ہے یعنی سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک ۔
(لسان العرب جلد ۸ صحہ ۱۰۸)
سرسید نے رباعی کا لفظ دیکھ کر اسے اربع (چار) سمجھ لیا ھے اور حکم لگا دیا کہ
آپ کے چار دانت شہید ہوئے تھے“۔
*چنانچہ وہ لکھتا ھے :*
آنحضرت کے چار دانت پتھر کے صدمہ سے ٹوٹ گئے ۔
(تفسیر القرآن ج:۴‘ص:۶۴)
*قارئینِ کرام :*
ملاحظہ فرمائیں کہ جو شخص رباعی اور اربعہ میں فرق نہیں کر سکا اس نے قرآن کی تفسیر لکھنے میں کیا گل کھلائے ہوں گے ۔
*قرآن کی من مانی تشریحات*
سر سید نے *معتزلی سوچ کے مطابق دینِ اسلام کو عقل کی ترازو میں تول کر مسلماتِ دین کا انکار کیا اور* قرآنِ کریم میں
جہاں معجزات یا مظاہر قدرت خداوندی کا ذکر ھے ‘ اس کی تاویل فاسدہ کر کے من مانی تشریح کی ھے
پہلے پارے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ :
یہود سے جب عہد و پیماں لیا جا رہا تھا تو اس وقت کوہِ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لاکھڑا کردیا تھا ۔
جسے سارے مفسرین نے بیان کیا ہے‘ *سر سید اس واقعہ کا انکار کرتا ہے اور لکھتا گے :*
پہاڑ کو اٹھا کر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا‘ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے رہے تھے کہ وہ ان کے سروں پر گر پڑے گا ۔
سر سید نہ صرف آیت کی غلط تاویل کرتا ہے بلکہ
*نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مفسرین کا مذاق بھی اڑاتا ھے*
وہ لکھتا ھے:
مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اس واقعہ کو عجیب و غریب واقعہ بنا دیا ھے اور ہمارے مسلمان مفسر عجائباتِ دور اذکار کا ہونا مذہب کا فخر اور اس کی عمدگی سمجھتے تھے‘
اس لیے انہوں نے تفسیروں میں لغو اور بیہودہ عجائبات ( یعنی معجزات ) بھر دی ہیں‘
بعضوں نے لکھا ہے کہ
کوہِ سینا کو خدا ان کے سروں پر اٹھا لایا تھا کہ مجھ سے اقرار کرو نہیں تو اسی پہاڑ کے تلے کچل دیتا ہوں‘ یہ تمام خرافات اور لغو اور بیہودہ باتیں ہیں ۔
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص۹۷تا۹۹،)
*کوئی سر سید سے یہ پوچھے کہ*
آتش فشانی اور پہاڑ کے لرزنے کا بیان اس نے کس آیت اور کس حدیث کی بناء پر کیا ھے
اس کے پاس کوئی نقلی ثبوت نہیں ہے یہ اس کی اپنی عقلی اختراع ھے ہم اس کے جمہور مفسرین کے مقابلے میں ایسی عقل پر دس حرف بھیجتے ہیں ۔
بریں عقل ودانش بباید گریست
*جنت و دوزخ کا انکار*
تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ *جنت ودوزخ حق ہیں اور دونوں پیدا کی جا چکی ہیں ۔*
خود قرآن پاک سے یہ ثابت ہے ارشاد خداوندی ہے :
*وسارعوا الی مغفرة من ربکم وجنة عرضہا السموات والارض اعدت للمتقین ۔*
(سورہ آل عمران:۱۳۳)
ترجمہ :
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ھے اور پرہیزگاروں کے لیے تیار کی جا چکی ھے
*دوزخ کے پیدا کیے جانے بارے میں ارشاد خداوندی ہے :*
فاتقوا النار التی وقود ہا الناس والحجارة اعدت للکافرین ۔
(سور البقرہ:۲۴)
ترجمہ :
*پس ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے جو کافروں کے لئے تیار کی جا چکی ھے*
سر سید جنت و دوزخ دونوں کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ لکھتا ہے :
پس یہ مسئلہ کہ بہشت اور دوزخ دونوں بالفعل مخلوق و موجود ہیں‘ قرآن سے ثابت نہیں ۔
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۳۰)
نعوذبااللہ
وہ مزید لکھتا ھے :
یہ سمجھنا کہ جنت مثل باغ کے پیدا کی ہوئی ہے‘ اس میں سنگ مرمر کے اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں۔ باغ میں سرسبز و شاداب درخت ہیں‘ دودھ و شراب و شہد کی نالیاں بہہ رہی ہیں‘ ہر قسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے ۔ *ایسا بیہودہ پن ھے* جس پر تعجب ہوتا ھے
اگر بہشت یہی ہو تو بے مبالغہ ہمارے خرابات (شراب خانے) اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں ۔
*(نعوذ باللہ)*
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۲۳،)
قرآن میں جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کسی قرآن پڑھنے والے سے مخفی نہیں ، *مگر سر سید نے نا صرف ان کا صاف انکار کیا بلکہ مذاق بھی اڑایا اور شراب خانوں کو جنت سے ہزار درجے بہتر قرار دیا ۔* أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔
*کعبة اللہ شریف کے متعلق موقف*
کعبة اللہ شریف بارے کی عظمت کے بارے میں قرآن و حدیث میں کافی تذکرہ موجود ھے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
یعنی سب سے پہلا گھرجو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا ہے یہ وہ ہے جو مکہ میں ھے
بابرکت ہے اور جہاں والوں کے لئے راہنما ہے ۔
(سورہ آل عمران:۹۶)
ترجمہ :
*اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ گھر ھے بزرگی اور تعظیم والا‘ لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا ھے*
(سورہ المائدہ:۹۷)
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے اسی کی تشریح میں فرمایا : ⬇
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کا داہنا نچلا دانت مبارک شہید ہوا تھا ۔
فن تجوید و قرأت کے لحاظ سے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک کو رباعی کہتے ہیں‘ جیسے لغت کے امام ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
رباعی کا لفظ ثمانی کی طرح ہے یعنی سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک ۔
(لسان العرب جلد ۸ صحہ ۱۰۸)
سرسید نے رباعی کا لفظ دیکھ کر اسے اربع (چار) سمجھ لیا ھے اور حکم لگا دیا کہ
آپ کے چار دانت شہید ہوئے تھے“۔
*چنانچہ وہ لکھتا ھے :*
آنحضرت کے چار دانت پتھر کے صدمہ سے ٹوٹ گئے ۔
(تفسیر القرآن ج:۴‘ص:۶۴)
*قارئینِ کرام :*
ملاحظہ فرمائیں کہ جو شخص رباعی اور اربعہ میں فرق نہیں کر سکا اس نے قرآن کی تفسیر لکھنے میں کیا گل کھلائے ہوں گے ۔
*قرآن کی من مانی تشریحات*
سر سید نے *معتزلی سوچ کے مطابق دینِ اسلام کو عقل کی ترازو میں تول کر مسلماتِ دین کا انکار کیا اور* قرآنِ کریم میں
جہاں معجزات یا مظاہر قدرت خداوندی کا ذکر ھے ‘ اس کی تاویل فاسدہ کر کے من مانی تشریح کی ھے
پہلے پارے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ :
یہود سے جب عہد و پیماں لیا جا رہا تھا تو اس وقت کوہِ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لاکھڑا کردیا تھا ۔
جسے سارے مفسرین نے بیان کیا ہے‘ *سر سید اس واقعہ کا انکار کرتا ہے اور لکھتا گے :*
پہاڑ کو اٹھا کر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا‘ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے رہے تھے کہ وہ ان کے سروں پر گر پڑے گا ۔
سر سید نہ صرف آیت کی غلط تاویل کرتا ہے بلکہ
*نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مفسرین کا مذاق بھی اڑاتا ھے*
وہ لکھتا ھے:
مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اس واقعہ کو عجیب و غریب واقعہ بنا دیا ھے اور ہمارے مسلمان مفسر عجائباتِ دور اذکار کا ہونا مذہب کا فخر اور اس کی عمدگی سمجھتے تھے‘
اس لیے انہوں نے تفسیروں میں لغو اور بیہودہ عجائبات ( یعنی معجزات ) بھر دی ہیں‘
بعضوں نے لکھا ہے کہ
کوہِ سینا کو خدا ان کے سروں پر اٹھا لایا تھا کہ مجھ سے اقرار کرو نہیں تو اسی پہاڑ کے تلے کچل دیتا ہوں‘ یہ تمام خرافات اور لغو اور بیہودہ باتیں ہیں ۔
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص۹۷تا۹۹،)
*کوئی سر سید سے یہ پوچھے کہ*
آتش فشانی اور پہاڑ کے لرزنے کا بیان اس نے کس آیت اور کس حدیث کی بناء پر کیا ھے
اس کے پاس کوئی نقلی ثبوت نہیں ہے یہ اس کی اپنی عقلی اختراع ھے ہم اس کے جمہور مفسرین کے مقابلے میں ایسی عقل پر دس حرف بھیجتے ہیں ۔
بریں عقل ودانش بباید گریست
*جنت و دوزخ کا انکار*
تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ *جنت ودوزخ حق ہیں اور دونوں پیدا کی جا چکی ہیں ۔*
خود قرآن پاک سے یہ ثابت ہے ارشاد خداوندی ہے :
*وسارعوا الی مغفرة من ربکم وجنة عرضہا السموات والارض اعدت للمتقین ۔*
(سورہ آل عمران:۱۳۳)
ترجمہ :
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ھے اور پرہیزگاروں کے لیے تیار کی جا چکی ھے
*دوزخ کے پیدا کیے جانے بارے میں ارشاد خداوندی ہے :*
فاتقوا النار التی وقود ہا الناس والحجارة اعدت للکافرین ۔
(سور البقرہ:۲۴)
ترجمہ :
*پس ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے جو کافروں کے لئے تیار کی جا چکی ھے*
سر سید جنت و دوزخ دونوں کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ لکھتا ہے :
پس یہ مسئلہ کہ بہشت اور دوزخ دونوں بالفعل مخلوق و موجود ہیں‘ قرآن سے ثابت نہیں ۔
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۳۰)
نعوذبااللہ
وہ مزید لکھتا ھے :
یہ سمجھنا کہ جنت مثل باغ کے پیدا کی ہوئی ہے‘ اس میں سنگ مرمر کے اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں۔ باغ میں سرسبز و شاداب درخت ہیں‘ دودھ و شراب و شہد کی نالیاں بہہ رہی ہیں‘ ہر قسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے ۔ *ایسا بیہودہ پن ھے* جس پر تعجب ہوتا ھے
اگر بہشت یہی ہو تو بے مبالغہ ہمارے خرابات (شراب خانے) اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں ۔
*(نعوذ باللہ)*
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۲۳،)
قرآن میں جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کسی قرآن پڑھنے والے سے مخفی نہیں ، *مگر سر سید نے نا صرف ان کا صاف انکار کیا بلکہ مذاق بھی اڑایا اور شراب خانوں کو جنت سے ہزار درجے بہتر قرار دیا ۔* أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔
*کعبة اللہ شریف کے متعلق موقف*
کعبة اللہ شریف بارے کی عظمت کے بارے میں قرآن و حدیث میں کافی تذکرہ موجود ھے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
یعنی سب سے پہلا گھرجو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا ہے یہ وہ ہے جو مکہ میں ھے
بابرکت ہے اور جہاں والوں کے لئے راہنما ہے ۔
(سورہ آل عمران:۹۶)
ترجمہ :
*اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ گھر ھے بزرگی اور تعظیم والا‘ لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا ھے*
(سورہ المائدہ:۹۷)
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے اسی کی تشریح میں فرمایا : ⬇
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*اب ذرا کلیجہ تھام کر سر سید کی ہرزہ سرائی کعبۃ اللہ کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں ۔*
نقل کفر کفر نباشد ۔
اپنی تحریف القرآن میں لکھتا ھے:
*جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چو کھونٹے گھر میں ایسی متعدی برکت ہے کہ جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے یہ ان کی خام خیالی ھے اس چوکھونٹے گھر کے گرد پھر نے سے کیا ہوتا ھے اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھرتے ہیں تو وہ کبھی حاجی نہیں ہوئے ۔*
(تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۲۱۱و۲۵۱)
*مزید لکھتا ہے :*
کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا اسلام کا کوئی اصلی حکم نہیں ھے
(تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۱۵۷،)
خانہ کعبہ کے گرد طواف کے مقدس عمل کو سر سید کا ”سات دفعہ اس کے گرد پھرنا“
پھر خدا کے اس عظیم اور مقدس گھر کو انتہائی ڈھٹائی اور بےغیرتی کے ساتھ
”چوکھونٹا گھر“ کہنا اور
آگے خباثت کی انتہا کرتے ہوئے یہ کہنا کہ
اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھرتے ہیں‘
کیا وہ حاجی بن گئے؟
پھر نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے خلاف یہ زہر افشانی کرنا کہ
یہ اسلام کا اصلی حکم نہیں ھے
*کیا یہ بکواسات کیا کوئی صاحب ایمان کر سکتا ہے ؟*
دوسرے پارہ کے شروع میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ھے:
سیقول السفہاء الخ“
”اب بہت سارے بیوقوف کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا ؟
*اس آیت کی رو سے جو لوگ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نہیں مانتے وہ بیوقوف ہیں اور سر سید تمام بیوقوفوں کا سردار ۔*
*سر سید فرشتوں کے وجود کا منکر 😱➖😡*
فرشتوں کا مستقل خارجی وجود قرآن وحدیث سے صراحۃً ثابت ہے اور فرشتوں کا اس طرح وجود ماننا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ھے
*ان کے وجود کو مانے بغیر کوئی مسلمان نہیں کہلا سکتا*
قرآن پاک میں ہے کہ :
*فرشتے خدا کی ایسی مخلوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے اور جس کام کا حکم دیا جاتا ھے اس کو بجالاتے ہیں *
(سورہ التحریم:۶)
*دوسری جگہ مذکور ہے :*
پھر یہی فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور قوم لوط پر عذاب ڈھانے لگے ۔
*(الحجر: ۵۸تا۷۷)*
ان تمام آیات اور روایات سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا مستقل خارجی وجود ھے
*مگر سر سید اس کا منکر ہے وہ لکھتا ہے کہ :*
قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا مسلمانوں نے اعتقاد کر رکھا ہے ثابت نہیں ہوتا
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۴۲)
نعوذبااللہ
*آگے لکھتا ہے :*
اس میں شک نہیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے‘ انسان تھے اور قوم لوط کے پاس بھیجے گئے تھے ۔
علماء مفسرین نے قبل اس کے کہ الفاظ قرآن پر غور کریں
یہودیوں کی روایتوں کے موافق ان کا فرشتہ ہونا تسلیم کر لیا ھے حالانکہ وہ خاصے بھلے چنگے انسان تھے ۔
(تفسیر القرآن ج:۵‘ص:۶۱)
*اس طرح قرآن پاک اور احادیث طیبہ یہ بات موجود ہے کہ :*
مختلف غزوات کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا ہے
*جیسا کہ آیت ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلة ۔*
(سورہ آل عمران:۱۲۳)
میں مذکور ھے
*سر سید اس کا منکر ہے وہ اس آیت کے تحت لکھتا ہے :*
بڑا بحث طلب مسئلہ اس آیت میں فرشتوں کا لڑائی میں دشمنوں سے لڑنے کے لیے اترنا ہے‘ *میں اس بات کا بالکل منکر ہوں‘ مجھے یقین ہے کہ* کوئی فرشتہ لڑنے کو سپاہی بن کریا گھوڑے پر چڑھ کر نہیں آیا‘ مجھ کو یہ بھی یقین ہے کہ
قرآن سے بھی ان جنگجو فرشتوں کا اترنا ثابت نہیں ۔
(تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ص:۵۲)
*سر سید جبرائیل امین علیہ السلام کا منکر ھے*
*قرآن پاک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ھے*
ترجمہ :
جو کوئی مخالف ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرائیل کا اور میکائیل کا تو اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کا مخالف ھے ۔
(البقرہ:۹۸)
*اسی طرح کئی احادیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کبھی انسانی شکل میِں بارگاہ نبوی میں تشریف لاتے ‘چنانچہ مشکوٰة کی پہلی حدیث*
”حدیث جبرائیل“ میں جب سوالات کرنے کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا :
*فانہ جبرئیل اتاکم یعلمکم دینکم ۔*
یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے‘ تم کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۔
(مشکوٰة: کتاب الایمان)
سر سید حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وجود کا منکر ھے
*وہ لکھتا ہے :*
ہم بھی جبرائیل اور روح القدس کو شئی واحد تجویز کرتے ہیں‘ مگر اس کو خارج از خلقتِ انبیاء جداگانہ مخلوق تسلیم نہیں کرتے‘ بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ خود انبیاء علیہم السلام میں جو ملکہ نبوت ہے اور ذریعہ مبدء فیاض سے ان امور کے اقتباس کا ہے جو نبوت یعنی رسالت سے علاقہ رکھتے ہیں‘ وہی روح القدس ہے اور وہی جبرائیل ہے ۔
(تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ ص:۱۵۶‘ ج:۱‘ ص:۱۸۱‘ ۱۲۲‘ ۱۲۹‘ ۱۷۰،)
نقل کفر کفر نباشد ۔
اپنی تحریف القرآن میں لکھتا ھے:
*جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چو کھونٹے گھر میں ایسی متعدی برکت ہے کہ جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے یہ ان کی خام خیالی ھے اس چوکھونٹے گھر کے گرد پھر نے سے کیا ہوتا ھے اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھرتے ہیں تو وہ کبھی حاجی نہیں ہوئے ۔*
(تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۲۱۱و۲۵۱)
*مزید لکھتا ہے :*
کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا اسلام کا کوئی اصلی حکم نہیں ھے
(تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۱۵۷،)
خانہ کعبہ کے گرد طواف کے مقدس عمل کو سر سید کا ”سات دفعہ اس کے گرد پھرنا“
پھر خدا کے اس عظیم اور مقدس گھر کو انتہائی ڈھٹائی اور بےغیرتی کے ساتھ
”چوکھونٹا گھر“ کہنا اور
آگے خباثت کی انتہا کرتے ہوئے یہ کہنا کہ
اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھرتے ہیں‘
کیا وہ حاجی بن گئے؟
پھر نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے خلاف یہ زہر افشانی کرنا کہ
یہ اسلام کا اصلی حکم نہیں ھے
*کیا یہ بکواسات کیا کوئی صاحب ایمان کر سکتا ہے ؟*
دوسرے پارہ کے شروع میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ھے:
سیقول السفہاء الخ“
”اب بہت سارے بیوقوف کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا ؟
*اس آیت کی رو سے جو لوگ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نہیں مانتے وہ بیوقوف ہیں اور سر سید تمام بیوقوفوں کا سردار ۔*
*سر سید فرشتوں کے وجود کا منکر 😱➖😡*
فرشتوں کا مستقل خارجی وجود قرآن وحدیث سے صراحۃً ثابت ہے اور فرشتوں کا اس طرح وجود ماننا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ھے
*ان کے وجود کو مانے بغیر کوئی مسلمان نہیں کہلا سکتا*
قرآن پاک میں ہے کہ :
*فرشتے خدا کی ایسی مخلوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے اور جس کام کا حکم دیا جاتا ھے اس کو بجالاتے ہیں *
(سورہ التحریم:۶)
*دوسری جگہ مذکور ہے :*
پھر یہی فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور قوم لوط پر عذاب ڈھانے لگے ۔
*(الحجر: ۵۸تا۷۷)*
ان تمام آیات اور روایات سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا مستقل خارجی وجود ھے
*مگر سر سید اس کا منکر ہے وہ لکھتا ہے کہ :*
قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا مسلمانوں نے اعتقاد کر رکھا ہے ثابت نہیں ہوتا
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۴۲)
نعوذبااللہ
*آگے لکھتا ہے :*
اس میں شک نہیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے‘ انسان تھے اور قوم لوط کے پاس بھیجے گئے تھے ۔
علماء مفسرین نے قبل اس کے کہ الفاظ قرآن پر غور کریں
یہودیوں کی روایتوں کے موافق ان کا فرشتہ ہونا تسلیم کر لیا ھے حالانکہ وہ خاصے بھلے چنگے انسان تھے ۔
(تفسیر القرآن ج:۵‘ص:۶۱)
*اس طرح قرآن پاک اور احادیث طیبہ یہ بات موجود ہے کہ :*
مختلف غزوات کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا ہے
*جیسا کہ آیت ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلة ۔*
(سورہ آل عمران:۱۲۳)
میں مذکور ھے
*سر سید اس کا منکر ہے وہ اس آیت کے تحت لکھتا ہے :*
بڑا بحث طلب مسئلہ اس آیت میں فرشتوں کا لڑائی میں دشمنوں سے لڑنے کے لیے اترنا ہے‘ *میں اس بات کا بالکل منکر ہوں‘ مجھے یقین ہے کہ* کوئی فرشتہ لڑنے کو سپاہی بن کریا گھوڑے پر چڑھ کر نہیں آیا‘ مجھ کو یہ بھی یقین ہے کہ
قرآن سے بھی ان جنگجو فرشتوں کا اترنا ثابت نہیں ۔
(تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ص:۵۲)
*سر سید جبرائیل امین علیہ السلام کا منکر ھے*
*قرآن پاک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ھے*
ترجمہ :
جو کوئی مخالف ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرائیل کا اور میکائیل کا تو اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کا مخالف ھے ۔
(البقرہ:۹۸)
*اسی طرح کئی احادیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کبھی انسانی شکل میِں بارگاہ نبوی میں تشریف لاتے ‘چنانچہ مشکوٰة کی پہلی حدیث*
”حدیث جبرائیل“ میں جب سوالات کرنے کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا :
*فانہ جبرئیل اتاکم یعلمکم دینکم ۔*
یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے‘ تم کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۔
(مشکوٰة: کتاب الایمان)
سر سید حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وجود کا منکر ھے
*وہ لکھتا ہے :*
ہم بھی جبرائیل اور روح القدس کو شئی واحد تجویز کرتے ہیں‘ مگر اس کو خارج از خلقتِ انبیاء جداگانہ مخلوق تسلیم نہیں کرتے‘ بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ خود انبیاء علیہم السلام میں جو ملکہ نبوت ہے اور ذریعہ مبدء فیاض سے ان امور کے اقتباس کا ہے جو نبوت یعنی رسالت سے علاقہ رکھتے ہیں‘ وہی روح القدس ہے اور وہی جبرائیل ہے ۔
(تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ ص:۱۵۶‘ ج:۱‘ ص:۱۸۱‘ ۱۲۲‘ ۱۲۹‘ ۱۷۰،)
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*اس عبارت میں سر سید نے اس بات کا انکار کیا کہ*
حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کوئی خارجی وجود ھے
بلکہ ان کے نزدیک یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت میں ودیعت کردہ ایک ملکہ نبوت کا نام ھے
*سر سید کا واقعہ معراج سے انکار*
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ واقعہٴ معراج ہے ۔
سر سید نے یہاں بھی عقل لڑائی مشرکینِ مکہ کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنے جسم مبارک کے ساتھ سات آسمانوں پر جانا اس کی عقل میں نہ آسکا اور وہ انکار کر گیا ۔
اپنی تفسیرالقرآن ج :۲ ص: ۱۳۰ پر لکھتا ہے :
ہماری تحقیق میں واقعہ معراج ایک خواب تھا جو رسول اللہ نے دیکھا تھا ۔
*حقیقت میں معجزہ کہتے ہی اس کو ہیں جس کو سمجھنے سے عقل عاجز ہو ۔*
اگر اسے خواب یا تصور کا واقعہ قرار دیں *تو معجزہ نہیں کہلایا جا سکتا ‘ کیونکہ*
خواب اور تصور میں کوئی بھی شخص اس قسم کا واقعہ دیکھ سکتا ھے
*اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واقعہ معراج تب معجزہ بنے گا جب ہم یہ تسلیم کر لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج روح مع الجسد ہوئی تھی یعنی جسم اور روح دونوں کو معراج ہوئی تھی‘ اور اسی بات پر امت کا اجماع چلا آ رہا ھے*
روایات میں آتا ھے کہ
واقعہ معراج کا سن کر کفار ومشرکین مکہ آپ کے ساتھ حجت بازی کرنے لگے ۔
*اگر واقعہ معراج خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار و مشرکین کبھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حجت بازی نہ کرتے ۔*
*جنات و شیاطین کے وجود کا انکار*
جنات و شیاطین کا وجود قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ایک راسخ العقیدہ مسلمان کےلیے اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں‘
*مگر یہ مردود گوبر کی لد سے بھرے ہوئے دماغ والا سر سید اس کا انکار کرتا ہے*
وہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے ماتحت جنات کے کام کرنے کے قرآنی واقعہ پر تبصرہ کرتا ہے :
ان آیتوں میں ”جن“ کا لفظ آیا ہے‘ اس سے وہ پہاڑی *اور جنگلی آدمی مراد ہے*
جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاں بیت المقدس بنانے کا کام کرتے تھے اور جن پر بسبب وحشی اور جنگلی ہونے کے جو انسانوں سے جنگلوں میں چھپے رہتے تھے اور نیز بسبب قوی اور طاقتور اور محنتی ہونے کے ”جن“ کا اطلاق ہوا ہے پس اس سے وہ جن مراد نہیں جن کو مشرکین نے اپنے خیال میں ایک مخلوق مع ان اوصاف کے جو ان کے ساتھ منسوب کئے ہیں‘ مانا ہے اور جن پر مسلمان بھی یقین کرتے ہیں ۔
(تفسیر القرآن ج: ۳‘ ص: ۶۷)
اس طرح سرسید شیطان کا الگ مستقل وجود تسلیم نہیں کرتا ‘ بلکہ انسان کے اندر موجود شرانگیز صفت کو شیطان قرار دیتا ہے ۔
آگے لکھتا ہے :
انہی قویٰ کو جو انسان میں ہے اور جن کو نفس امارہ یا قوائے بہیمیہ سے تعبیر کرتے ہیں‘ یہی شیطان ہے ۔
(تفسیر القرآن جلد ۳ صفحہ ۴۵،)
سر سید کے اعتزالی گمراہ کُن عقائد و نظریات کا مکمل احاطہ کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے ،
فقیر چشتی نے اس کے چند گمراہ افکار پر روشنی ڈالی ہے ۔
*حقیقت میں سرسید اور ان جیسے دیگر روشن خیالوں کی فکری جولانیوں کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ : ⬇*
ناطقہ بگریباں ہے اسے کیا کہیے ؟
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے ؟
مسلمانوں کےلیے ضروری ہے کہ
وہ موجودہ دور کے ان معتزلہ کے افکار و نظریات کو پہچان کر اپنے ایمان و عمل کو ان کی فریب کاری سے بچائیں اور جو سادہ لوح مسلمان ان کے شکنجہ میں آ چکے ہیں ان کے بارے میں فکر مند ہوکر ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں ۔
حیرت کی بات ہے موجودہ پی ڈی ایم کی امریکی سازش سے لاٸی گٸی حکومت نے *پاکستان کے پچھترویں 75 جشنِ آزادی پر جو پچھتر روپۓ کا یادگاری نوٹ جاری کیا ہے اُس پر اپنے آقا انگریز کے اس پٹھو گمراہ شخص کی تصویر لگاٸی ہے*
75 روپے کے نوٹ پر سر سید احمد خان کی تصویر چھاپنے پر ہم پاکستانی اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مکمل طور پر بائیکاٹ Boycott کرتے ہیں
*ہمارا حکومت پاکستان سے مطالبہ ھے کہ*
75 روپے کے نوٹ سے سر سید احمد خان کی تصویر ختم کی جائے اور نیا 75 روپے کا نوٹ جاری کیا جائے
*فقط داڑھی پر نہ جانا مسلمانو*
داڑھی تو *مرزا قادیانی کانے دجال کذاب کافر و مرتد زندیق کی بھی تھی*
دیکھنا یہ چاہیئے کہ
*اس بندے کے عقائد اور نظریات عین قرآن و حدیث کے مطابق اسلامی ہیں کہ نہیں*
سر سید احمد خان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے 📚کتاب بنام 👇🏿
*سر سید احمد خان کا اصلی روپ*
کا مطالعہ کریں
اے اہلِ ایمان و اہلِ وطن کب تک خوابِ غفلت میں پڑے رہو گے ؟ ۔
اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں سے بچاۓ آمین ۔
حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کوئی خارجی وجود ھے
بلکہ ان کے نزدیک یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت میں ودیعت کردہ ایک ملکہ نبوت کا نام ھے
*سر سید کا واقعہ معراج سے انکار*
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ واقعہٴ معراج ہے ۔
سر سید نے یہاں بھی عقل لڑائی مشرکینِ مکہ کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنے جسم مبارک کے ساتھ سات آسمانوں پر جانا اس کی عقل میں نہ آسکا اور وہ انکار کر گیا ۔
اپنی تفسیرالقرآن ج :۲ ص: ۱۳۰ پر لکھتا ہے :
ہماری تحقیق میں واقعہ معراج ایک خواب تھا جو رسول اللہ نے دیکھا تھا ۔
*حقیقت میں معجزہ کہتے ہی اس کو ہیں جس کو سمجھنے سے عقل عاجز ہو ۔*
اگر اسے خواب یا تصور کا واقعہ قرار دیں *تو معجزہ نہیں کہلایا جا سکتا ‘ کیونکہ*
خواب اور تصور میں کوئی بھی شخص اس قسم کا واقعہ دیکھ سکتا ھے
*اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واقعہ معراج تب معجزہ بنے گا جب ہم یہ تسلیم کر لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج روح مع الجسد ہوئی تھی یعنی جسم اور روح دونوں کو معراج ہوئی تھی‘ اور اسی بات پر امت کا اجماع چلا آ رہا ھے*
روایات میں آتا ھے کہ
واقعہ معراج کا سن کر کفار ومشرکین مکہ آپ کے ساتھ حجت بازی کرنے لگے ۔
*اگر واقعہ معراج خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار و مشرکین کبھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حجت بازی نہ کرتے ۔*
*جنات و شیاطین کے وجود کا انکار*
جنات و شیاطین کا وجود قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ایک راسخ العقیدہ مسلمان کےلیے اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں‘
*مگر یہ مردود گوبر کی لد سے بھرے ہوئے دماغ والا سر سید اس کا انکار کرتا ہے*
وہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے ماتحت جنات کے کام کرنے کے قرآنی واقعہ پر تبصرہ کرتا ہے :
ان آیتوں میں ”جن“ کا لفظ آیا ہے‘ اس سے وہ پہاڑی *اور جنگلی آدمی مراد ہے*
جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاں بیت المقدس بنانے کا کام کرتے تھے اور جن پر بسبب وحشی اور جنگلی ہونے کے جو انسانوں سے جنگلوں میں چھپے رہتے تھے اور نیز بسبب قوی اور طاقتور اور محنتی ہونے کے ”جن“ کا اطلاق ہوا ہے پس اس سے وہ جن مراد نہیں جن کو مشرکین نے اپنے خیال میں ایک مخلوق مع ان اوصاف کے جو ان کے ساتھ منسوب کئے ہیں‘ مانا ہے اور جن پر مسلمان بھی یقین کرتے ہیں ۔
(تفسیر القرآن ج: ۳‘ ص: ۶۷)
اس طرح سرسید شیطان کا الگ مستقل وجود تسلیم نہیں کرتا ‘ بلکہ انسان کے اندر موجود شرانگیز صفت کو شیطان قرار دیتا ہے ۔
آگے لکھتا ہے :
انہی قویٰ کو جو انسان میں ہے اور جن کو نفس امارہ یا قوائے بہیمیہ سے تعبیر کرتے ہیں‘ یہی شیطان ہے ۔
(تفسیر القرآن جلد ۳ صفحہ ۴۵،)
سر سید کے اعتزالی گمراہ کُن عقائد و نظریات کا مکمل احاطہ کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے ،
فقیر چشتی نے اس کے چند گمراہ افکار پر روشنی ڈالی ہے ۔
*حقیقت میں سرسید اور ان جیسے دیگر روشن خیالوں کی فکری جولانیوں کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ : ⬇*
ناطقہ بگریباں ہے اسے کیا کہیے ؟
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے ؟
مسلمانوں کےلیے ضروری ہے کہ
وہ موجودہ دور کے ان معتزلہ کے افکار و نظریات کو پہچان کر اپنے ایمان و عمل کو ان کی فریب کاری سے بچائیں اور جو سادہ لوح مسلمان ان کے شکنجہ میں آ چکے ہیں ان کے بارے میں فکر مند ہوکر ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں ۔
حیرت کی بات ہے موجودہ پی ڈی ایم کی امریکی سازش سے لاٸی گٸی حکومت نے *پاکستان کے پچھترویں 75 جشنِ آزادی پر جو پچھتر روپۓ کا یادگاری نوٹ جاری کیا ہے اُس پر اپنے آقا انگریز کے اس پٹھو گمراہ شخص کی تصویر لگاٸی ہے*
75 روپے کے نوٹ پر سر سید احمد خان کی تصویر چھاپنے پر ہم پاکستانی اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مکمل طور پر بائیکاٹ Boycott کرتے ہیں
*ہمارا حکومت پاکستان سے مطالبہ ھے کہ*
75 روپے کے نوٹ سے سر سید احمد خان کی تصویر ختم کی جائے اور نیا 75 روپے کا نوٹ جاری کیا جائے
*فقط داڑھی پر نہ جانا مسلمانو*
داڑھی تو *مرزا قادیانی کانے دجال کذاب کافر و مرتد زندیق کی بھی تھی*
دیکھنا یہ چاہیئے کہ
*اس بندے کے عقائد اور نظریات عین قرآن و حدیث کے مطابق اسلامی ہیں کہ نہیں*
سر سید احمد خان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے 📚کتاب بنام 👇🏿
*سر سید احمد خان کا اصلی روپ*
کا مطالعہ کریں
اے اہلِ ایمان و اہلِ وطن کب تک خوابِ غفلت میں پڑے رہو گے ؟ ۔
اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں سے بچاۓ آمین ۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا مفتی غلام جان ہزاروی ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: عبد المصطفیٰ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا مفتی غلام جان ہزاروی بن مولانا احمد جی بن مولانا محمد عالم ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1316ھ، مطابق 1896ء کو مقام "اوگرہ" تحصیل مانسہرہ ،ضلع ہری پور ہزارہ، پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
قرآنِ مجید اور فارسی نظم و نثر اور صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں اپنے والد سے پڑھیں ۔ اس کے بعد شوق علم میں "دہلی اور سہار ن پور " کی درس گاہوں میں بھی گئے ۔ مدرسہ عالیہ جامع مسجد آگرہ کے اساتذہ سے بھی کسبِ علم کیا ۔ مولانا غلام رسول (انّہی ضلع گجرات) سے "حمد اللہ اور زواہد ثلاثہ" کا درس لیا۔ "مینڈ ھو" ضلع اعظم گڑھ اور " گلاوٹی " ضلع بلند شہر میں معقول کی کتابیں پڑھیں ۔ ٹونک میں حضرت علامہ حکیم سید برکات احمد سے ریاضی اور معقولات میں استفادہ کیا ۔
1335ھ میں "مدرسہ عالیہ رامپور" سے درجۂ تکمیل پاس کیا مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری آپ پر بے حد شفقت فرماتے تھے ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا شہرہ سن کر مرکز علم و عرفان " بریلی شریف " پہنچے اور شمس العلماء مولانا ظہور الحسن فاروقی رام پوری اور صدر الشریعہ مولانا حکیم محمد امجد علی اعظمی سے درس نظامی کی آخری کتابیں پڑھ کر صحاح ستہ کا دور ہ کیا ۔
1337ھ کے جلسۂ دستار بندی میں امام اہل سنت امام احمد رضا بر یلوی نے دستار بندی فرمائی اور سند فضیلت عطا فرمائی۔
بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت کے دست اقدس پر مرید ہوئے اور پھر خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
مفتیِ اعظم پاکستان، نائبِ اعلیٰ حضرت، ناشرِ دینِ متین ،امام المدرسین، استاذ العلماء والفضلاء، شیخِ کامل حضرت علامہ مولانا مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بھی ان خوش نصیب شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے میخانۂ رضا سے جامِ علم و معرفت نوش کی ہیں، اور پھر ساری زندگی فیضِ رضا تقسیمِ کرتے رہے، اور تعلیماتِ رضا عام کرتے رہے ۔ اعلیٰ حضرت کا ہر ہر شاگرد و خلیفہ آسمانِ علم و فن کا چمکتا ہوا ستارہ تھا ۔
جو ان سے وابستہ ہوا اس کو بھی چمکا دیا۔ آپ فراغت کے بعد "مدرسہ منظر الا سلام بریلی "میں مدرس اور مسجد بی بی جی (بریلی) میں امام و خطیب مقرر ہوئے ۔حضرت مولانا خواجہ محمود تونسوی(نبیرہ پیرپٹھان حضرت شاہ سلیمان تونسوی ) کی دعوت پر وہاں سے مدرسہ " سلیمانیہ تونسہ شریف" جاکر کچھ عرصہ تدریس فرمائی ۔
ایک سال "مکھڈشریف "رہے۔ اس کے بعد خان محمد امیر کاں رئیس " شہیلیہ ضلع ہزارہ " نے آپ کو بلا کر عہدۂ قضاء پر مامور کیا لیکن کچھ دن بعد ہی آپ لاہور چلے گئے، اور جامعہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس اور مفتی مقرر ہوئے ۔
1345ھ میں بریلی شریف اور اجمیر شریف حاضری دیتے ہوئے حج و زیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے ۔ شب بیداری، یتیموں، بیواؤں کی دستگیری، اور اپنا کام خود کرنا آپ کے اوصافِ حسنہ تھے ۔ دینِ متین کی تبلیغ و ترویج کا جذبہ بدرجۂ اتم موجود تھا ۔
تاریخِ وِصال:
25 محرم الحرام 1379ھ، مطابق یکم اگست 1959ء کو کلمہ شریف اور صلوٰۃ و سلام کا ذکر کرتے ہوئے عین اس وقت جب مؤذن نے اذانِ ظہر کی آواز بلند کی، آپ نے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر دی ۔
نمازِ جنازہ:
نماز جنازہ حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا البرکات سید احمد رحمہ اللہ نے پڑھائی ۔
مزار شریف:
دوسرے دن غازی علم دین شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار کے جنوبی جانب دفن کئے گئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-ghulam-jan-hazarvi
Copyright © Zia-e-Taiba
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا مفتی غلام جان ہزاروی ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: عبد المصطفیٰ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا مفتی غلام جان ہزاروی بن مولانا احمد جی بن مولانا محمد عالم ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1316ھ، مطابق 1896ء کو مقام "اوگرہ" تحصیل مانسہرہ ،ضلع ہری پور ہزارہ، پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
قرآنِ مجید اور فارسی نظم و نثر اور صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں اپنے والد سے پڑھیں ۔ اس کے بعد شوق علم میں "دہلی اور سہار ن پور " کی درس گاہوں میں بھی گئے ۔ مدرسہ عالیہ جامع مسجد آگرہ کے اساتذہ سے بھی کسبِ علم کیا ۔ مولانا غلام رسول (انّہی ضلع گجرات) سے "حمد اللہ اور زواہد ثلاثہ" کا درس لیا۔ "مینڈ ھو" ضلع اعظم گڑھ اور " گلاوٹی " ضلع بلند شہر میں معقول کی کتابیں پڑھیں ۔ ٹونک میں حضرت علامہ حکیم سید برکات احمد سے ریاضی اور معقولات میں استفادہ کیا ۔
1335ھ میں "مدرسہ عالیہ رامپور" سے درجۂ تکمیل پاس کیا مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری آپ پر بے حد شفقت فرماتے تھے ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا شہرہ سن کر مرکز علم و عرفان " بریلی شریف " پہنچے اور شمس العلماء مولانا ظہور الحسن فاروقی رام پوری اور صدر الشریعہ مولانا حکیم محمد امجد علی اعظمی سے درس نظامی کی آخری کتابیں پڑھ کر صحاح ستہ کا دور ہ کیا ۔
1337ھ کے جلسۂ دستار بندی میں امام اہل سنت امام احمد رضا بر یلوی نے دستار بندی فرمائی اور سند فضیلت عطا فرمائی۔
بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت کے دست اقدس پر مرید ہوئے اور پھر خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
مفتیِ اعظم پاکستان، نائبِ اعلیٰ حضرت، ناشرِ دینِ متین ،امام المدرسین، استاذ العلماء والفضلاء، شیخِ کامل حضرت علامہ مولانا مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بھی ان خوش نصیب شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے میخانۂ رضا سے جامِ علم و معرفت نوش کی ہیں، اور پھر ساری زندگی فیضِ رضا تقسیمِ کرتے رہے، اور تعلیماتِ رضا عام کرتے رہے ۔ اعلیٰ حضرت کا ہر ہر شاگرد و خلیفہ آسمانِ علم و فن کا چمکتا ہوا ستارہ تھا ۔
جو ان سے وابستہ ہوا اس کو بھی چمکا دیا۔ آپ فراغت کے بعد "مدرسہ منظر الا سلام بریلی "میں مدرس اور مسجد بی بی جی (بریلی) میں امام و خطیب مقرر ہوئے ۔حضرت مولانا خواجہ محمود تونسوی(نبیرہ پیرپٹھان حضرت شاہ سلیمان تونسوی ) کی دعوت پر وہاں سے مدرسہ " سلیمانیہ تونسہ شریف" جاکر کچھ عرصہ تدریس فرمائی ۔
ایک سال "مکھڈشریف "رہے۔ اس کے بعد خان محمد امیر کاں رئیس " شہیلیہ ضلع ہزارہ " نے آپ کو بلا کر عہدۂ قضاء پر مامور کیا لیکن کچھ دن بعد ہی آپ لاہور چلے گئے، اور جامعہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس اور مفتی مقرر ہوئے ۔
1345ھ میں بریلی شریف اور اجمیر شریف حاضری دیتے ہوئے حج و زیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے ۔ شب بیداری، یتیموں، بیواؤں کی دستگیری، اور اپنا کام خود کرنا آپ کے اوصافِ حسنہ تھے ۔ دینِ متین کی تبلیغ و ترویج کا جذبہ بدرجۂ اتم موجود تھا ۔
تاریخِ وِصال:
25 محرم الحرام 1379ھ، مطابق یکم اگست 1959ء کو کلمہ شریف اور صلوٰۃ و سلام کا ذکر کرتے ہوئے عین اس وقت جب مؤذن نے اذانِ ظہر کی آواز بلند کی، آپ نے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر دی ۔
نمازِ جنازہ:
نماز جنازہ حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا البرکات سید احمد رحمہ اللہ نے پڑھائی ۔
مزار شریف:
دوسرے دن غازی علم دین شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار کے جنوبی جانب دفن کئے گئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-ghulam-jan-hazarvi
Copyright © Zia-e-Taiba
scholars.pk
Hazrat Mufti Ghulam Jan Hazarvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: مولانا مفتی غلام جان ہزاروی ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: عبد المصطفیٰ ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: مولانا مفتی غلام جان ہزاروی بن مولانا احمد جی بن مولانا محمد عالم ۔ (علیہم…
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ
مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ
مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ
❤3👍2
مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، تلمیذ صدر الشریعہ، فقیہ زماں، حضرت علامہ مولانا مفتی ابو المظفر عبد المصطفی غلام جان قادری رضوی رضی الله عنہ کی ولادت 1316ھ اوگرہ، مانسہرہ، پاکستان میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، امام و خطیب مسجد بی بی جی بریلی شریف، صدر مدرس و مفتی جامعہ نعمانیہ لاہور، بہترین مدرس، مفتی اسلام، شب بیدار عبادت گزار، یتیموں اور بیواؤں کے مددگار و غمخوار، اور صاحب تصنیف تھے۔ ”فتاویٰ غلامیہ“ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ 25 محرم 1379ھ بروز ہفتہ صلاۃ و سلام پڑھتے اذان ظہر کے وقت وصال فرمایا۔ مفتی اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور لاہور میں غازی علم دین شہید کے مزار مبارک کے جنوبی جانب آرام فرما ہوئے۔ (حیات فقیہ زماں، تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت)
"Murid and Khalifah of AlaHazrat, Student of Sadr al-Shariah, Jurist of Era, Allamah Mufti Abu al-Muzaffar Abdul Mustafa Ghulam Jan Qadiri Ridawi (RadiyAllahu Anhu) was born in 1316 AH in Ogra, Mansehra, Pakistan. He was a graduate of Dar al-Uloom Mazhar-e-Islam Bareilly Sharif, Imam and Khatib of Bibi Jee Mosque Bareilly Sharif, Head Teacher and Mufti of Jami’ah Nau’maniyah Lahore, excellent educator, Mufti of Islam, devout worshiper, benefactor of orphans and widows, and author of books. ""Fatawa Ghulamiyah"" is a collection of his verdicts. He passed away on Saturday, 25th Muharram 1379 AH while reciting Durood and Salam at the time of the Adhan of Zuhr Prayers. Grand Mufti of Pakistan Allamah Abu al-Barakaat led his funeral prayer and was laid to rest at the southern side of Ghazi Ilm Din Shaheed's mausoleum in Lahore. [Hayat-e Faqeeh-e Zaman, Tazkirah Akabir-e AhleSunnat]"
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0gJ7F3c8qWeAgXaWUfTwjqGaUv51JR1aXJrJ8u6jsQETrhSYJP1dSQ5x6duqGFJoxl&id=100050689590519
"Murid and Khalifah of AlaHazrat, Student of Sadr al-Shariah, Jurist of Era, Allamah Mufti Abu al-Muzaffar Abdul Mustafa Ghulam Jan Qadiri Ridawi (RadiyAllahu Anhu) was born in 1316 AH in Ogra, Mansehra, Pakistan. He was a graduate of Dar al-Uloom Mazhar-e-Islam Bareilly Sharif, Imam and Khatib of Bibi Jee Mosque Bareilly Sharif, Head Teacher and Mufti of Jami’ah Nau’maniyah Lahore, excellent educator, Mufti of Islam, devout worshiper, benefactor of orphans and widows, and author of books. ""Fatawa Ghulamiyah"" is a collection of his verdicts. He passed away on Saturday, 25th Muharram 1379 AH while reciting Durood and Salam at the time of the Adhan of Zuhr Prayers. Grand Mufti of Pakistan Allamah Abu al-Barakaat led his funeral prayer and was laid to rest at the southern side of Ghazi Ilm Din Shaheed's mausoleum in Lahore. [Hayat-e Faqeeh-e Zaman, Tazkirah Akabir-e AhleSunnat]"
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0gJ7F3c8qWeAgXaWUfTwjqGaUv51JR1aXJrJ8u6jsQETrhSYJP1dSQ5x6duqGFJoxl&id=100050689590519
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-01-1444 ᴴ | 24-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2