🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤4👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍3
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*سر سید احمد خان کے گمراہ کُن عقائد و نظریات*
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
*محترم قارئینِ کرام :*
انگریز نے *مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان* سے وہ کام لیے جو وہ اپنے ملکوں کی ساری دولت خرچ کر کے بھی نہیں کر سکتے تھے ۔
*سر سید کا عقیدہ کیا تھا ؟*
*مرزا قادیانی کافر و مرتد لکھتا ہے کہ*
سر سید احمد تین باتوں میں مجھ سے متفق ھے :
*ایک یہ کہ* عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے‘
بلکہ معمول کے مطابق ان کا باپ تھا۔
(واضح رہے کہ عیسائیوں کے ایک فرقے کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ مریم علیہا السلام کے یوسف نامی ایک شخص سے تعلقات تھے جس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام شادی سے قبل پیدا ہوئے ۔
*(نعوذ باللہ من ذلک)*
*دوسرے یہ کہ* عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ اس سے ان کے درجات بلند کرنا مراد ھے ۔
*تیسرے یہ کہ* نبی آخر الزمان حضرت محمد کو روح مع الجسد معراج نہیں ہوئی‘ بلکہ صرف ان کی روح کو معراج ہوئی ھے ۔
*نیچری وہ فرقہ ھے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ*
جیسی آدمی کی نیچر ہو ویسا دین ہونا چاہئیے *مطلب یہ کہ :*
اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات و قوانین کا نام *دین نہیں ھے بلکہ*
جو آدمی کی نیچر ہو ویسا دین ہونا چاہیے *اس فرقے کو نیچری کہتے ہیں نیچری فرقے کا بانی سر سیّد احمد خان ھے ۔*
سر سید احمد خان خود نیچری تھا *اس کے نظر یات باطل تھے ۔*
*سر سید احمد خان کے نظریات کیا تھے؟*
*علماء کرام* کا اس کے بارے میں انکشافات ویڈیوز دیکھنے کے لیے نیچے دیے *فیسبک و یوٹیوب لنکس* کو کلک کریں 👇🏿👇👇🏿
https://youtu.be/5oEODU9p3vw
https://youtu.be/W0Bb9gd6_H8
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2129610990554568&id=735072713341743
*Share on Facebook👇🏿*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=282651184020387&id=110286531256854
https://www.facebook.com/574783339338584/posts/1261512463998998/
https://youtu.be/rNiTsdaTRjE
https://youtu.be/FCz7S9Q7wqY
https://www.facebook.com/100077258012787/posts/pfbid02JUaZLASzcWzt9iDgHhuppmvizVFpzjKdD6jFTQZQ4UDuNPNDY35cHceWrEMJxW2ml/
https://youtu.be/tLtZ9-aByko
https://www.facebook.com/100072470257718/posts/191908283234846/
Radd.E.Wahabiyat24
*Download Book* 📚➖⤵️
https://madninetwork.blogspot.com/2022/03/blog-post_29.html
➖➖➖➖➖➖➖▪️
*سر سید احمد خان کے اسلام کے خلاف جرائم اور اس کے کفریہ عقائد*
سر سیّد کے خاص اور *چہیتے شاگرد اور پہنچے ہوئے پیرو کار خالد نیچری کی خاص پسندیدہ شخصیت ضیاءالدین نیچری کی کتاب* خود نوشت افکار سر سیّد کی *چند باطل گمراہ کن گستاخانہ عبارتیں* آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں : ⬇
*عقیدہ :*
خدا نہ ہندو ھے نہ عرضی مسلمان ، نہ مقلّد نہ لا مذہب نہ یہودی نہ عیسائی بلکہ وہ تو پکا چھٹا ہوا نیچری ھے
(بحوالہ :کتاب :خود نوشت ص63)
نعوذبااللہ
*عقیدہ :*
خدانے اَن پڑھ بدؤوں کے لئے ان ہی کی زبان میں قرآن اُتارا
*یعنی سر سیّد کے خیال میں قرآن انگریزی جو اس کے نزدیک بہتر و اعلیٰ زبان ہے* اس میں نازل ہونا چاہئے
لیکن خدا نے اَن پڑھ بدؤوں کی زبان عربی میں قرآن نازل کیا ۔
*(معاذاللہ )*
(بحوالہ :کتاب :خود نوشت )
*عقیدہ :*
شیطان کے متعلق سر سیّد کا عقیدہ یہ تھا کہ
وہ خود ہی انسان میں ایک قوّت ہے جو انسان کو سیدھے راستے پر سے پھیرتی ھے
*شیطان کے وجود کو انسان کے اندر مانتا ہے انسان سے الگ نہیں مانتا ۔*
(بحوالہ :کتاب :خود نوشت ص 75)
*عقیدہ :*
حضرت آدم علیہ السلام کا جنّت میں رہنا ،
فرشتوں کا سجدہ کرنا ،
حضرت عیسیٰ علیہ السلام
اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کا ظہور ،
دجال کی آمد ،
فرشتے کا صور پھونکنا ،
روز جزا و سزا ،
میدان حشر و نشر ،
پل صراط،
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ،
اللہ تعالیٰ کا دیدار
*ان سب عقائد کا انکار کیا ھے جو کہ* قرآن و حدیث سے ثابت ہیں
(بحوالہ :کتاب :خود نوشت ص 24تا132)
*عقیدہ :*
خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ
*خلافت کا ہر کسی کو استحقاق تھا جس کی چل گئی وہ خلیفہ ہوگیا ۔*
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(بحوالہ :کتاب :خود ونوشت ص 233)
*عقیدہ :*
*حج میں قربانی کی کوئی مذہبی اصل قرآن سے نہیں پائی جاتی* آگے لکھتا ہے کہ
*اس کا کچھ بھی نشان مذہب اسلام میں نہیں ھے حج کی قربانیاں درحقیقت مذہبی قربانیاں نہیں ہیں*
(معاذاللہ )
(بحوالہ :کتاب :خو د نوشت ص 139)
*عقیدہ :*
الطاف حسین حالی حیاتِ جاوید میں لکھتا ہے کہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
*محترم قارئینِ کرام :*
انگریز نے *مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان* سے وہ کام لیے جو وہ اپنے ملکوں کی ساری دولت خرچ کر کے بھی نہیں کر سکتے تھے ۔
*سر سید کا عقیدہ کیا تھا ؟*
*مرزا قادیانی کافر و مرتد لکھتا ہے کہ*
سر سید احمد تین باتوں میں مجھ سے متفق ھے :
*ایک یہ کہ* عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے‘
بلکہ معمول کے مطابق ان کا باپ تھا۔
(واضح رہے کہ عیسائیوں کے ایک فرقے کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ مریم علیہا السلام کے یوسف نامی ایک شخص سے تعلقات تھے جس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام شادی سے قبل پیدا ہوئے ۔
*(نعوذ باللہ من ذلک)*
*دوسرے یہ کہ* عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ اس سے ان کے درجات بلند کرنا مراد ھے ۔
*تیسرے یہ کہ* نبی آخر الزمان حضرت محمد کو روح مع الجسد معراج نہیں ہوئی‘ بلکہ صرف ان کی روح کو معراج ہوئی ھے ۔
*نیچری وہ فرقہ ھے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ*
جیسی آدمی کی نیچر ہو ویسا دین ہونا چاہئیے *مطلب یہ کہ :*
اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات و قوانین کا نام *دین نہیں ھے بلکہ*
جو آدمی کی نیچر ہو ویسا دین ہونا چاہیے *اس فرقے کو نیچری کہتے ہیں نیچری فرقے کا بانی سر سیّد احمد خان ھے ۔*
سر سید احمد خان خود نیچری تھا *اس کے نظر یات باطل تھے ۔*
*سر سید احمد خان کے نظریات کیا تھے؟*
*علماء کرام* کا اس کے بارے میں انکشافات ویڈیوز دیکھنے کے لیے نیچے دیے *فیسبک و یوٹیوب لنکس* کو کلک کریں 👇🏿👇👇🏿
https://youtu.be/5oEODU9p3vw
https://youtu.be/W0Bb9gd6_H8
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2129610990554568&id=735072713341743
*Share on Facebook👇🏿*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=282651184020387&id=110286531256854
https://www.facebook.com/574783339338584/posts/1261512463998998/
https://youtu.be/rNiTsdaTRjE
https://youtu.be/FCz7S9Q7wqY
https://www.facebook.com/100077258012787/posts/pfbid02JUaZLASzcWzt9iDgHhuppmvizVFpzjKdD6jFTQZQ4UDuNPNDY35cHceWrEMJxW2ml/
https://youtu.be/tLtZ9-aByko
https://www.facebook.com/100072470257718/posts/191908283234846/
Radd.E.Wahabiyat24
*Download Book* 📚➖⤵️
https://madninetwork.blogspot.com/2022/03/blog-post_29.html
➖➖➖➖➖➖➖▪️
*سر سید احمد خان کے اسلام کے خلاف جرائم اور اس کے کفریہ عقائد*
سر سیّد کے خاص اور *چہیتے شاگرد اور پہنچے ہوئے پیرو کار خالد نیچری کی خاص پسندیدہ شخصیت ضیاءالدین نیچری کی کتاب* خود نوشت افکار سر سیّد کی *چند باطل گمراہ کن گستاخانہ عبارتیں* آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں : ⬇
*عقیدہ :*
خدا نہ ہندو ھے نہ عرضی مسلمان ، نہ مقلّد نہ لا مذہب نہ یہودی نہ عیسائی بلکہ وہ تو پکا چھٹا ہوا نیچری ھے
(بحوالہ :کتاب :خود نوشت ص63)
نعوذبااللہ
*عقیدہ :*
خدانے اَن پڑھ بدؤوں کے لئے ان ہی کی زبان میں قرآن اُتارا
*یعنی سر سیّد کے خیال میں قرآن انگریزی جو اس کے نزدیک بہتر و اعلیٰ زبان ہے* اس میں نازل ہونا چاہئے
لیکن خدا نے اَن پڑھ بدؤوں کی زبان عربی میں قرآن نازل کیا ۔
*(معاذاللہ )*
(بحوالہ :کتاب :خود نوشت )
*عقیدہ :*
شیطان کے متعلق سر سیّد کا عقیدہ یہ تھا کہ
وہ خود ہی انسان میں ایک قوّت ہے جو انسان کو سیدھے راستے پر سے پھیرتی ھے
*شیطان کے وجود کو انسان کے اندر مانتا ہے انسان سے الگ نہیں مانتا ۔*
(بحوالہ :کتاب :خود نوشت ص 75)
*عقیدہ :*
حضرت آدم علیہ السلام کا جنّت میں رہنا ،
فرشتوں کا سجدہ کرنا ،
حضرت عیسیٰ علیہ السلام
اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کا ظہور ،
دجال کی آمد ،
فرشتے کا صور پھونکنا ،
روز جزا و سزا ،
میدان حشر و نشر ،
پل صراط،
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ،
اللہ تعالیٰ کا دیدار
*ان سب عقائد کا انکار کیا ھے جو کہ* قرآن و حدیث سے ثابت ہیں
(بحوالہ :کتاب :خود نوشت ص 24تا132)
*عقیدہ :*
خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ
*خلافت کا ہر کسی کو استحقاق تھا جس کی چل گئی وہ خلیفہ ہوگیا ۔*
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(بحوالہ :کتاب :خود ونوشت ص 233)
*عقیدہ :*
*حج میں قربانی کی کوئی مذہبی اصل قرآن سے نہیں پائی جاتی* آگے لکھتا ہے کہ
*اس کا کچھ بھی نشان مذہب اسلام میں نہیں ھے حج کی قربانیاں درحقیقت مذہبی قربانیاں نہیں ہیں*
(معاذاللہ )
(بحوالہ :کتاب :خو د نوشت ص 139)
*عقیدہ :*
الطاف حسین حالی حیاتِ جاوید میں لکھتا ہے کہ
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
جب سہانپور کی جامع مسجد کے لئے ان سے چندہ طلب کیا گیا تو انہوں نے ( سر سید نے ) چندہ دینے سے انکار کر دیا اور لکھ بھیجا کہ
*میں خدا کے زندہ گھروں ( کالج ) کی تعمیر کی فکر میں ہوں اور آپ لوگوں کو اینٹ مٹی کے گھر کی تعمیر کا خیال ھے*
(خو د نوشت صفحہ 101) ۔
*(معاذاللہ)*
*اعلحٰضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب محدّث بریلی علیہ الرحمہ نے اسکے لٹریچر وغیرہ کے تجزئیے کے بعد یہ فتویٰ 📝 دیا ہے کہ*
سر سیّد احمد خان نیچری گمراہ آدمی تھا ۔
*محترم قارئینِ کرام :*
سر سید احمد خان *فرقہ وہابیت سے تعلق رکھتا تھا*
بعد میں اس نے نیچری فرقے کی بنیاد رکھی
*انگریزوں کا ایجنٹ ،نام نہاد لمبی داڑھی والا مسٹر احمد خان بھی کچھ اس قسم کا آدمی تھا جسکی وجہ سے اسکے ایمان میں بگاڑ پیدا ہوا اور آہستہ آہستہ اس نے اسلامی حقائق و عقائد کا مذاق اڑانا شروع کی اور بےایمان ،مرتد اور گمراہ ہو گیا ۔*
*دینِ اسلام میں* نیچری سوچوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ھے
اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرّر اور بیان کردہ قوانین پر عمل کرنے کا نام اسلام ھے
*سر سید احمد خان نہ تھا بلکہ مسٹر احمد خان تھا*
اس کو اسلام کا خیر خواہ کہنے والے اس کے *باطل عقائد پڑھ کر ہوش کے ناخن لیں*
اس کو اچھا آدمی کہہ کر یا لکھ کر اپنے ایمان کے دشمن نہ بنیں
*کیونکہ ہر مکتبہ فکر کا عالم مسٹر احمد خان ( سر سید احمد خان ) کو نیچری فرقہ کا بانی ، گمراہ اور زندیق لکھتا ھے*
سر سید احمد خان کے افکار و عقاٸد نے علماء و مشائخ کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔
اگرچہ اس وقت کے علماء و مشائخ نے سر سید پر کفر کا فتویٰ عائد کرنے سے گریز کیا
لیکن سر سید کے گمراہ کن افکار سے کلی براءت کا بھی اظہار کیا اور سر سید کی اصلاح کی بھی کوششیں کی لیکن
*وہ بار آور نہ ہو سکیں اور سر سید اپنی ہی فکر کے پیچھے چل پڑے۔*
ذیل میں چند ایسے افکار درج کیے جا رہے ہیں : ⬇
سر سید کا کہنا تھا کہ
*ملائکہ اور شیطان کوئی الگ مخلوق نہیں ۔* یہ انسان میں خیر و شر کی قوتوں کے نام ہیں ۔
*جنات سے جنگلی اور وحشی انسان مراد ہیں ۔*
معجزات انبیاء کا انکار
کسی نبی سے کسی قسم کا *معجزہ* مافوق الفطرت اور خلاف عقل واقع نہیں ہوا ۔
قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام سے منسوب محیر العقول واقعات محض قویٰ انسانی کی قوت کا مظہر ہیں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا نہیں ہوئے کیونکہ قانون فطرت کے بر خلاف ایسا نہیں ہو سکتا ۔
ٹٹ پونجیئے عربی مدرسوں سے ہماری کوئی قومی عزت نہیں ۔
اس سے کاہل ، مال مردم خور ،
بےمحنت اور خیرات کی روٹی کھانے والے ملاﺅں کا گروہ بڑھتا جائے گا ۔
*اعلیٰ عہدے صرف لائق انگریزی دانوں کو دیے جانے کی پالیسی میں سختی ہونی چاہیے ۔*
کافر انگریز کے لیے دعا
معاذاللہ
خدا *لارڈ میکالے* کو بہشت نصیب کرے ۔ اس سے زیادہ ہندوستان کو بھلائی پہنچانے والا کوئی اور نہیں ۔
*ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خدا کی طرف سے ایک رحمت ھے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری اور نمک حلالی خدا کی طرف سے ہمارا فرض ھے* نعوذبااللہ
*ہندو اور مسلمان ایک مذہبی لفظ ہے ورنہ* ہندو ، مسلمان اور عیسائی بھی جو ہندوستان میں رہتے ہیں سب ایک ہی قوم ہیں ۔
*نعوذبااللہ*
(افکار سر سید مرتبہ ضیاءالدین لاہوری)
(نقش سر سید)
(سر سید کی کہانی)
(حیات سر سید)
قرآن مجید کی فصاحت بے مثال کو معجزہ سمجھنا ایک غلط فہمی ہے ۔ فاتوا بسورة من مثلہ کا یہ مقصد نہیں ھے
(تصانیف احمدیہ حصہ ١ جلد ١ صفحہ۱۲)
نعوذبااللہ
جس مجموعہ مسائل و احکام و اعتقادات وغیرہ پر فی زمانہ *اسلام کا اطلاق کیا جاتا ہے وہ یقیناً مغربی علوم کے مقابلہ میں قائم نہیں رہ سکتا ۔*
نعوذبااللہ
(بروایت حالی حیات جاوید جلدا۵۲۲)
میں فرض سمجھتا ہوں کہ
جو لوگ لکھے پڑھے ہیں
( میں اپنے تئیں لکھے پڑھوں میں نہیں سمجھتا )
وہ حال کے علوم جدید کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حمایت میں کھڑے ہوں اور مثل علماء کے یا تو مسائلِ حکمت جدید کو باطل کر دیں یا مسائل اسلام کو ان کے مطابق کر دیں کہ اس زمانہ میں صرف یہی صورت حمایت اور حفاظت اسلام کی ھے
(مقالات سر سید صفحہ ١٠)
تمام مفسرین کی سوائے معتزلہ کے یہ عادت ہے کہ
اپنی تفسیروں میں محض بےسند اور افوائی روایتوں کو بلا تحقیق لکھتے چلے جاتے ہیں
اور ذرا بھی تحقیق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے
معاذاللہ
(ترقیم فی قصہ اصحاب الکہف وارقیم۔مطبع معید عام آگرہ۔ص۔۲۱)
تفسیروں اور سیر کی کتابوں میں خواہ وہ تفسیر ابن جریر ہو
یا تفسیر کبیر وغیرہ اور
خواہ وہ سیرة ابن اسحاق ہو
خواہ سیرت ابن ہشام اور
خواہ وہ روضة ال احباب ہو
یا مدارج النبوہ وغیرہ
ان میں تو اکثر ایسی لغو اور نا معتبر روایتیں اور قصے مندرج ہیں جن کا بیان نہ کرنا ان کے بیان کرنے سے بہتر ھے
*استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ*
( آخری مضامین صحہ ۵۳۱،)
*میں خدا کے زندہ گھروں ( کالج ) کی تعمیر کی فکر میں ہوں اور آپ لوگوں کو اینٹ مٹی کے گھر کی تعمیر کا خیال ھے*
(خو د نوشت صفحہ 101) ۔
*(معاذاللہ)*
*اعلحٰضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب محدّث بریلی علیہ الرحمہ نے اسکے لٹریچر وغیرہ کے تجزئیے کے بعد یہ فتویٰ 📝 دیا ہے کہ*
سر سیّد احمد خان نیچری گمراہ آدمی تھا ۔
*محترم قارئینِ کرام :*
سر سید احمد خان *فرقہ وہابیت سے تعلق رکھتا تھا*
بعد میں اس نے نیچری فرقے کی بنیاد رکھی
*انگریزوں کا ایجنٹ ،نام نہاد لمبی داڑھی والا مسٹر احمد خان بھی کچھ اس قسم کا آدمی تھا جسکی وجہ سے اسکے ایمان میں بگاڑ پیدا ہوا اور آہستہ آہستہ اس نے اسلامی حقائق و عقائد کا مذاق اڑانا شروع کی اور بےایمان ،مرتد اور گمراہ ہو گیا ۔*
*دینِ اسلام میں* نیچری سوچوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ھے
اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرّر اور بیان کردہ قوانین پر عمل کرنے کا نام اسلام ھے
*سر سید احمد خان نہ تھا بلکہ مسٹر احمد خان تھا*
اس کو اسلام کا خیر خواہ کہنے والے اس کے *باطل عقائد پڑھ کر ہوش کے ناخن لیں*
اس کو اچھا آدمی کہہ کر یا لکھ کر اپنے ایمان کے دشمن نہ بنیں
*کیونکہ ہر مکتبہ فکر کا عالم مسٹر احمد خان ( سر سید احمد خان ) کو نیچری فرقہ کا بانی ، گمراہ اور زندیق لکھتا ھے*
سر سید احمد خان کے افکار و عقاٸد نے علماء و مشائخ کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔
اگرچہ اس وقت کے علماء و مشائخ نے سر سید پر کفر کا فتویٰ عائد کرنے سے گریز کیا
لیکن سر سید کے گمراہ کن افکار سے کلی براءت کا بھی اظہار کیا اور سر سید کی اصلاح کی بھی کوششیں کی لیکن
*وہ بار آور نہ ہو سکیں اور سر سید اپنی ہی فکر کے پیچھے چل پڑے۔*
ذیل میں چند ایسے افکار درج کیے جا رہے ہیں : ⬇
سر سید کا کہنا تھا کہ
*ملائکہ اور شیطان کوئی الگ مخلوق نہیں ۔* یہ انسان میں خیر و شر کی قوتوں کے نام ہیں ۔
*جنات سے جنگلی اور وحشی انسان مراد ہیں ۔*
معجزات انبیاء کا انکار
کسی نبی سے کسی قسم کا *معجزہ* مافوق الفطرت اور خلاف عقل واقع نہیں ہوا ۔
قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام سے منسوب محیر العقول واقعات محض قویٰ انسانی کی قوت کا مظہر ہیں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا نہیں ہوئے کیونکہ قانون فطرت کے بر خلاف ایسا نہیں ہو سکتا ۔
ٹٹ پونجیئے عربی مدرسوں سے ہماری کوئی قومی عزت نہیں ۔
اس سے کاہل ، مال مردم خور ،
بےمحنت اور خیرات کی روٹی کھانے والے ملاﺅں کا گروہ بڑھتا جائے گا ۔
*اعلیٰ عہدے صرف لائق انگریزی دانوں کو دیے جانے کی پالیسی میں سختی ہونی چاہیے ۔*
کافر انگریز کے لیے دعا
معاذاللہ
خدا *لارڈ میکالے* کو بہشت نصیب کرے ۔ اس سے زیادہ ہندوستان کو بھلائی پہنچانے والا کوئی اور نہیں ۔
*ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خدا کی طرف سے ایک رحمت ھے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری اور نمک حلالی خدا کی طرف سے ہمارا فرض ھے* نعوذبااللہ
*ہندو اور مسلمان ایک مذہبی لفظ ہے ورنہ* ہندو ، مسلمان اور عیسائی بھی جو ہندوستان میں رہتے ہیں سب ایک ہی قوم ہیں ۔
*نعوذبااللہ*
(افکار سر سید مرتبہ ضیاءالدین لاہوری)
(نقش سر سید)
(سر سید کی کہانی)
(حیات سر سید)
قرآن مجید کی فصاحت بے مثال کو معجزہ سمجھنا ایک غلط فہمی ہے ۔ فاتوا بسورة من مثلہ کا یہ مقصد نہیں ھے
(تصانیف احمدیہ حصہ ١ جلد ١ صفحہ۱۲)
نعوذبااللہ
جس مجموعہ مسائل و احکام و اعتقادات وغیرہ پر فی زمانہ *اسلام کا اطلاق کیا جاتا ہے وہ یقیناً مغربی علوم کے مقابلہ میں قائم نہیں رہ سکتا ۔*
نعوذبااللہ
(بروایت حالی حیات جاوید جلدا۵۲۲)
میں فرض سمجھتا ہوں کہ
جو لوگ لکھے پڑھے ہیں
( میں اپنے تئیں لکھے پڑھوں میں نہیں سمجھتا )
وہ حال کے علوم جدید کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حمایت میں کھڑے ہوں اور مثل علماء کے یا تو مسائلِ حکمت جدید کو باطل کر دیں یا مسائل اسلام کو ان کے مطابق کر دیں کہ اس زمانہ میں صرف یہی صورت حمایت اور حفاظت اسلام کی ھے
(مقالات سر سید صفحہ ١٠)
تمام مفسرین کی سوائے معتزلہ کے یہ عادت ہے کہ
اپنی تفسیروں میں محض بےسند اور افوائی روایتوں کو بلا تحقیق لکھتے چلے جاتے ہیں
اور ذرا بھی تحقیق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے
معاذاللہ
(ترقیم فی قصہ اصحاب الکہف وارقیم۔مطبع معید عام آگرہ۔ص۔۲۱)
تفسیروں اور سیر کی کتابوں میں خواہ وہ تفسیر ابن جریر ہو
یا تفسیر کبیر وغیرہ اور
خواہ وہ سیرة ابن اسحاق ہو
خواہ سیرت ابن ہشام اور
خواہ وہ روضة ال احباب ہو
یا مدارج النبوہ وغیرہ
ان میں تو اکثر ایسی لغو اور نا معتبر روایتیں اور قصے مندرج ہیں جن کا بیان نہ کرنا ان کے بیان کرنے سے بہتر ھے
*استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ*
( آخری مضامین صحہ ۵۳۱،)
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتب مقدسہ میں تحریف لفظی کی ہے اور*
نہ علمائے متقدمین و محقیقین اس بات کے قائم تھے مگر علمائے متاخرین اس بات کے قائل ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتب مقدسہ میں تحریف و تبدل کی ھے
(تفسیر القرآن جلد ۱ صفحہ ۴)
جو ہمارے خدا کا مذہب ہے وہی ہمارا مذہب ھے *خدا نہ ہندو ھے نہ عرفی مسلمان نہ مقلد نہ لا مذہب نہ یہودی نہ عیسائی وہ تو پکا چھٹا ہوا نچیری ھے*
وہ خود اپنے کو نیچری کہتا ھے پھر اگر ہم بھی نیچری ہوں تو اس سے زیادہ ہم کو کیا فخر ھے
(مقالات سر سید جلد ۵۱ صفحہ ۷۴۱،)
میں شیطان کے وجود کا قائل ہوں مگر انسان ہی میں وہ موجود ھے
(تہذیب الاخلاق)
انسان کے دین دنیا اور تمدن و معاشرت بلکہ زندگی کی حالت کو کرامت اور معجزہ پر یقین یا اعتقاد رکھنے سے زیادہ خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ھے
(مقالات سر سید)
حالانکہ قرآن مجید کی کسی آیات میں اس بات پر نص نہیں ہے کہ *حضرت ابراہیم درحقیقت آگ میں ڈالے گئے تھے* بےشک ان کےلیے آگ دہکائی گئی تھی اور ڈرایا گیا تھا کہ ان کو آگ میں ڈال کر جلا دیں گے *مگر یہ بات کہ درحقیقت وہ آگ میں ڈالے گئے قرآن مجید سے ثابت نہیں ھے*
(تفسیر القرآن)
نعوذبااللہ
خدا نے ہم کو قانون فطرت سے یہ بتایا کہ
آگ جلا دینے والی ھے پس جب تک یہ قانون فطرت قائم ہے اس کے برخلاف ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے کہ قولی وعدہ کے بر خلاف ناممکن ھے
(تحریر فی اصول التفسیر صفحہ 40)
*حضرت یونس کے قصے میں اس بات پر قرآن مجید میں کوئی نص صریح نہیں ہے کہ*
درحقیقت مچھلی ان کو نگل گئی تھی ۔
(تحریر فی اصول التفسیر)
نعوذبااللہ
حضرت عیسیٰ کو یہودیوں نے نہ سنگ بار کرکے قتل کیا نہ صلیب پر قتل کیا *بلکہ وہ اپنی موت سے مرے* اور خدا نے ان کے درجہ اور مرتبہ کو مرتفع کیا ۔
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(تفسیر القرآن)
قرآن مجید میں کہیں بیان نہیں ہوا کہ
معراج بجسدہ و حالتِ بیداری میں ہوئی تھی ۔
شق قمر کا ہونا محض غلط ھے
ہمارے نزدیک تو نہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے اترنے والے ہیں نہ مہدی موعود پیدا یا ظاہر ہونے والے ہیں ۔
(آخری مضامین)
*مہدی کے آنے کی کوئی پیش گوئی مذہبِ اسلام میں ہے ہی نہیں بلکہ* وہ سب ایسی ہی جھوٹی روایتیں ہیں جیسے کہ دجال اور مسیح کے آنے کی ۔
معاذاللہ
(تہذیب الاخلاق)
*سر سید احمد خان کو موجودہ دور کا روشن خیال طبقہ* نئے دور کا مجدّد اور مسلمانوں کی ترقی کا راہنما سمجھتے ہیں،
ذیل میں سر سید کے افکار پر کچھ تفصیل پیش خدمت ھے
یہ پڑھنے کے بعد آپ کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ
*سر سید بھی حقیقت میں معتزلہ کے اسی سلسلہ کا فرد تھا اوراور اس کے روحانی شاگرد’ روشن خیال مذہب کے موجودہ داعی ڈاکٹر، فلاسفر، دانشور، پروفیسر ٹائپ لوگ بھی معتزلہ کے اسی مقصد یعنی دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور لوگوں کا ایمان چوسنے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اور*
ہمارے معاشرہ کا تھوڑا پڑھا لکھا اور آزاد خیال طبقہ ان کو اسلام کا اصل داعی سمجھ کر انہی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہا ھے
سر سید کی چند تصنیفات
سرسید نے اسلام کے نام پر بہت سارے مضامین‘ مقالات اور کتب تحریر کیں۔
ایک خلق الانسان انسانی پیدائش سے متعلق لکھی ‘
جس میں ڈارون کے اس نظریہ کی تصدیق و توثیق کی گئی ہے کہ *انسان پہلے بندر تھا پھر بتدریج انسان بنا‘ یوں قرآن و سنت کی نصوص کا منکر ہوا ،*
اسباب بغاوت ہند ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے انگریزوں کے خلاف جہاد کو بغاوت کا نام دیا‘
اور انگریز سامراج کے مخالف علما اور مجاہدین پر کھلی تنقید کی ، تفسیر القرآن پندرہ پاروں کی تفسیر لکھی ہے جو درحقیقت تحریف القرآن ھے
سر سید لکھتا ھے :
میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہیے
(تفسیر القرآن: ۱۹ ص:۲)
چنانچہ سر سید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اسلام کے نام پر *اپنے ملحدانہ نظریات سے فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی‘*
جس میں نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے‘
نہ ہی جنت و دوزخ کا کہیں نشان ہے اور
نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور
معجزات و کرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں ۔
خود سر سید کے پیرو کار و معتقد مولانا الطاف حسین حالی‘ مؤلف مسدس ( وفات دسمبر ۱۹۱۴ء ) تحریر فرماتے ہیں کہ :
*سر سید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے رکیک لغزشیں سرزد ہوئی ہیں ۔*
(حیات جاوید مطبوعہ آگرہ ص:۱۸۴)
*سر سید کی عربی شناسی*
غزوہٴ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کا ایک دانت مبارک شہید ہوا تھا‘ چنانچہ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں :
وان الرباعیة التی کسرت لہ علیہ السلام ہی الیمنیٰ السفلیٰ ۔
(السیرة النبویة ج:۳‘ ص:۵۷)
نہ علمائے متقدمین و محقیقین اس بات کے قائم تھے مگر علمائے متاخرین اس بات کے قائل ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتب مقدسہ میں تحریف و تبدل کی ھے
(تفسیر القرآن جلد ۱ صفحہ ۴)
جو ہمارے خدا کا مذہب ہے وہی ہمارا مذہب ھے *خدا نہ ہندو ھے نہ عرفی مسلمان نہ مقلد نہ لا مذہب نہ یہودی نہ عیسائی وہ تو پکا چھٹا ہوا نچیری ھے*
وہ خود اپنے کو نیچری کہتا ھے پھر اگر ہم بھی نیچری ہوں تو اس سے زیادہ ہم کو کیا فخر ھے
(مقالات سر سید جلد ۵۱ صفحہ ۷۴۱،)
میں شیطان کے وجود کا قائل ہوں مگر انسان ہی میں وہ موجود ھے
(تہذیب الاخلاق)
انسان کے دین دنیا اور تمدن و معاشرت بلکہ زندگی کی حالت کو کرامت اور معجزہ پر یقین یا اعتقاد رکھنے سے زیادہ خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ھے
(مقالات سر سید)
حالانکہ قرآن مجید کی کسی آیات میں اس بات پر نص نہیں ہے کہ *حضرت ابراہیم درحقیقت آگ میں ڈالے گئے تھے* بےشک ان کےلیے آگ دہکائی گئی تھی اور ڈرایا گیا تھا کہ ان کو آگ میں ڈال کر جلا دیں گے *مگر یہ بات کہ درحقیقت وہ آگ میں ڈالے گئے قرآن مجید سے ثابت نہیں ھے*
(تفسیر القرآن)
نعوذبااللہ
خدا نے ہم کو قانون فطرت سے یہ بتایا کہ
آگ جلا دینے والی ھے پس جب تک یہ قانون فطرت قائم ہے اس کے برخلاف ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے کہ قولی وعدہ کے بر خلاف ناممکن ھے
(تحریر فی اصول التفسیر صفحہ 40)
*حضرت یونس کے قصے میں اس بات پر قرآن مجید میں کوئی نص صریح نہیں ہے کہ*
درحقیقت مچھلی ان کو نگل گئی تھی ۔
(تحریر فی اصول التفسیر)
نعوذبااللہ
حضرت عیسیٰ کو یہودیوں نے نہ سنگ بار کرکے قتل کیا نہ صلیب پر قتل کیا *بلکہ وہ اپنی موت سے مرے* اور خدا نے ان کے درجہ اور مرتبہ کو مرتفع کیا ۔
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(تفسیر القرآن)
قرآن مجید میں کہیں بیان نہیں ہوا کہ
معراج بجسدہ و حالتِ بیداری میں ہوئی تھی ۔
شق قمر کا ہونا محض غلط ھے
ہمارے نزدیک تو نہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے اترنے والے ہیں نہ مہدی موعود پیدا یا ظاہر ہونے والے ہیں ۔
(آخری مضامین)
*مہدی کے آنے کی کوئی پیش گوئی مذہبِ اسلام میں ہے ہی نہیں بلکہ* وہ سب ایسی ہی جھوٹی روایتیں ہیں جیسے کہ دجال اور مسیح کے آنے کی ۔
معاذاللہ
(تہذیب الاخلاق)
*سر سید احمد خان کو موجودہ دور کا روشن خیال طبقہ* نئے دور کا مجدّد اور مسلمانوں کی ترقی کا راہنما سمجھتے ہیں،
ذیل میں سر سید کے افکار پر کچھ تفصیل پیش خدمت ھے
یہ پڑھنے کے بعد آپ کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ
*سر سید بھی حقیقت میں معتزلہ کے اسی سلسلہ کا فرد تھا اوراور اس کے روحانی شاگرد’ روشن خیال مذہب کے موجودہ داعی ڈاکٹر، فلاسفر، دانشور، پروفیسر ٹائپ لوگ بھی معتزلہ کے اسی مقصد یعنی دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور لوگوں کا ایمان چوسنے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اور*
ہمارے معاشرہ کا تھوڑا پڑھا لکھا اور آزاد خیال طبقہ ان کو اسلام کا اصل داعی سمجھ کر انہی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہا ھے
سر سید کی چند تصنیفات
سرسید نے اسلام کے نام پر بہت سارے مضامین‘ مقالات اور کتب تحریر کیں۔
ایک خلق الانسان انسانی پیدائش سے متعلق لکھی ‘
جس میں ڈارون کے اس نظریہ کی تصدیق و توثیق کی گئی ہے کہ *انسان پہلے بندر تھا پھر بتدریج انسان بنا‘ یوں قرآن و سنت کی نصوص کا منکر ہوا ،*
اسباب بغاوت ہند ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے انگریزوں کے خلاف جہاد کو بغاوت کا نام دیا‘
اور انگریز سامراج کے مخالف علما اور مجاہدین پر کھلی تنقید کی ، تفسیر القرآن پندرہ پاروں کی تفسیر لکھی ہے جو درحقیقت تحریف القرآن ھے
سر سید لکھتا ھے :
میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہیے
(تفسیر القرآن: ۱۹ ص:۲)
چنانچہ سر سید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اسلام کے نام پر *اپنے ملحدانہ نظریات سے فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی‘*
جس میں نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے‘
نہ ہی جنت و دوزخ کا کہیں نشان ہے اور
نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور
معجزات و کرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں ۔
خود سر سید کے پیرو کار و معتقد مولانا الطاف حسین حالی‘ مؤلف مسدس ( وفات دسمبر ۱۹۱۴ء ) تحریر فرماتے ہیں کہ :
*سر سید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے رکیک لغزشیں سرزد ہوئی ہیں ۔*
(حیات جاوید مطبوعہ آگرہ ص:۱۸۴)
*سر سید کی عربی شناسی*
غزوہٴ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کا ایک دانت مبارک شہید ہوا تھا‘ چنانچہ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں :
وان الرباعیة التی کسرت لہ علیہ السلام ہی الیمنیٰ السفلیٰ ۔
(السیرة النبویة ج:۳‘ ص:۵۷)
👍1
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
ترجمہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کا داہنا نچلا دانت مبارک شہید ہوا تھا ۔
فن تجوید و قرأت کے لحاظ سے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک کو رباعی کہتے ہیں‘ جیسے لغت کے امام ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
رباعی کا لفظ ثمانی کی طرح ہے یعنی سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک ۔
(لسان العرب جلد ۸ صحہ ۱۰۸)
سرسید نے رباعی کا لفظ دیکھ کر اسے اربع (چار) سمجھ لیا ھے اور حکم لگا دیا کہ
آپ کے چار دانت شہید ہوئے تھے“۔
*چنانچہ وہ لکھتا ھے :*
آنحضرت کے چار دانت پتھر کے صدمہ سے ٹوٹ گئے ۔
(تفسیر القرآن ج:۴‘ص:۶۴)
*قارئینِ کرام :*
ملاحظہ فرمائیں کہ جو شخص رباعی اور اربعہ میں فرق نہیں کر سکا اس نے قرآن کی تفسیر لکھنے میں کیا گل کھلائے ہوں گے ۔
*قرآن کی من مانی تشریحات*
سر سید نے *معتزلی سوچ کے مطابق دینِ اسلام کو عقل کی ترازو میں تول کر مسلماتِ دین کا انکار کیا اور* قرآنِ کریم میں
جہاں معجزات یا مظاہر قدرت خداوندی کا ذکر ھے ‘ اس کی تاویل فاسدہ کر کے من مانی تشریح کی ھے
پہلے پارے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ :
یہود سے جب عہد و پیماں لیا جا رہا تھا تو اس وقت کوہِ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لاکھڑا کردیا تھا ۔
جسے سارے مفسرین نے بیان کیا ہے‘ *سر سید اس واقعہ کا انکار کرتا ہے اور لکھتا گے :*
پہاڑ کو اٹھا کر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا‘ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے رہے تھے کہ وہ ان کے سروں پر گر پڑے گا ۔
سر سید نہ صرف آیت کی غلط تاویل کرتا ہے بلکہ
*نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مفسرین کا مذاق بھی اڑاتا ھے*
وہ لکھتا ھے:
مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اس واقعہ کو عجیب و غریب واقعہ بنا دیا ھے اور ہمارے مسلمان مفسر عجائباتِ دور اذکار کا ہونا مذہب کا فخر اور اس کی عمدگی سمجھتے تھے‘
اس لیے انہوں نے تفسیروں میں لغو اور بیہودہ عجائبات ( یعنی معجزات ) بھر دی ہیں‘
بعضوں نے لکھا ہے کہ
کوہِ سینا کو خدا ان کے سروں پر اٹھا لایا تھا کہ مجھ سے اقرار کرو نہیں تو اسی پہاڑ کے تلے کچل دیتا ہوں‘ یہ تمام خرافات اور لغو اور بیہودہ باتیں ہیں ۔
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص۹۷تا۹۹،)
*کوئی سر سید سے یہ پوچھے کہ*
آتش فشانی اور پہاڑ کے لرزنے کا بیان اس نے کس آیت اور کس حدیث کی بناء پر کیا ھے
اس کے پاس کوئی نقلی ثبوت نہیں ہے یہ اس کی اپنی عقلی اختراع ھے ہم اس کے جمہور مفسرین کے مقابلے میں ایسی عقل پر دس حرف بھیجتے ہیں ۔
بریں عقل ودانش بباید گریست
*جنت و دوزخ کا انکار*
تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ *جنت ودوزخ حق ہیں اور دونوں پیدا کی جا چکی ہیں ۔*
خود قرآن پاک سے یہ ثابت ہے ارشاد خداوندی ہے :
*وسارعوا الی مغفرة من ربکم وجنة عرضہا السموات والارض اعدت للمتقین ۔*
(سورہ آل عمران:۱۳۳)
ترجمہ :
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ھے اور پرہیزگاروں کے لیے تیار کی جا چکی ھے
*دوزخ کے پیدا کیے جانے بارے میں ارشاد خداوندی ہے :*
فاتقوا النار التی وقود ہا الناس والحجارة اعدت للکافرین ۔
(سور البقرہ:۲۴)
ترجمہ :
*پس ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے جو کافروں کے لئے تیار کی جا چکی ھے*
سر سید جنت و دوزخ دونوں کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ لکھتا ہے :
پس یہ مسئلہ کہ بہشت اور دوزخ دونوں بالفعل مخلوق و موجود ہیں‘ قرآن سے ثابت نہیں ۔
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۳۰)
نعوذبااللہ
وہ مزید لکھتا ھے :
یہ سمجھنا کہ جنت مثل باغ کے پیدا کی ہوئی ہے‘ اس میں سنگ مرمر کے اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں۔ باغ میں سرسبز و شاداب درخت ہیں‘ دودھ و شراب و شہد کی نالیاں بہہ رہی ہیں‘ ہر قسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے ۔ *ایسا بیہودہ پن ھے* جس پر تعجب ہوتا ھے
اگر بہشت یہی ہو تو بے مبالغہ ہمارے خرابات (شراب خانے) اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں ۔
*(نعوذ باللہ)*
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۲۳،)
قرآن میں جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کسی قرآن پڑھنے والے سے مخفی نہیں ، *مگر سر سید نے نا صرف ان کا صاف انکار کیا بلکہ مذاق بھی اڑایا اور شراب خانوں کو جنت سے ہزار درجے بہتر قرار دیا ۔* أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔
*کعبة اللہ شریف کے متعلق موقف*
کعبة اللہ شریف بارے کی عظمت کے بارے میں قرآن و حدیث میں کافی تذکرہ موجود ھے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
یعنی سب سے پہلا گھرجو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا ہے یہ وہ ہے جو مکہ میں ھے
بابرکت ہے اور جہاں والوں کے لئے راہنما ہے ۔
(سورہ آل عمران:۹۶)
ترجمہ :
*اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ گھر ھے بزرگی اور تعظیم والا‘ لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا ھے*
(سورہ المائدہ:۹۷)
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے اسی کی تشریح میں فرمایا : ⬇
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کا داہنا نچلا دانت مبارک شہید ہوا تھا ۔
فن تجوید و قرأت کے لحاظ سے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک کو رباعی کہتے ہیں‘ جیسے لغت کے امام ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
رباعی کا لفظ ثمانی کی طرح ہے یعنی سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک ۔
(لسان العرب جلد ۸ صحہ ۱۰۸)
سرسید نے رباعی کا لفظ دیکھ کر اسے اربع (چار) سمجھ لیا ھے اور حکم لگا دیا کہ
آپ کے چار دانت شہید ہوئے تھے“۔
*چنانچہ وہ لکھتا ھے :*
آنحضرت کے چار دانت پتھر کے صدمہ سے ٹوٹ گئے ۔
(تفسیر القرآن ج:۴‘ص:۶۴)
*قارئینِ کرام :*
ملاحظہ فرمائیں کہ جو شخص رباعی اور اربعہ میں فرق نہیں کر سکا اس نے قرآن کی تفسیر لکھنے میں کیا گل کھلائے ہوں گے ۔
*قرآن کی من مانی تشریحات*
سر سید نے *معتزلی سوچ کے مطابق دینِ اسلام کو عقل کی ترازو میں تول کر مسلماتِ دین کا انکار کیا اور* قرآنِ کریم میں
جہاں معجزات یا مظاہر قدرت خداوندی کا ذکر ھے ‘ اس کی تاویل فاسدہ کر کے من مانی تشریح کی ھے
پہلے پارے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ :
یہود سے جب عہد و پیماں لیا جا رہا تھا تو اس وقت کوہِ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لاکھڑا کردیا تھا ۔
جسے سارے مفسرین نے بیان کیا ہے‘ *سر سید اس واقعہ کا انکار کرتا ہے اور لکھتا گے :*
پہاڑ کو اٹھا کر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا‘ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے رہے تھے کہ وہ ان کے سروں پر گر پڑے گا ۔
سر سید نہ صرف آیت کی غلط تاویل کرتا ہے بلکہ
*نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مفسرین کا مذاق بھی اڑاتا ھے*
وہ لکھتا ھے:
مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اس واقعہ کو عجیب و غریب واقعہ بنا دیا ھے اور ہمارے مسلمان مفسر عجائباتِ دور اذکار کا ہونا مذہب کا فخر اور اس کی عمدگی سمجھتے تھے‘
اس لیے انہوں نے تفسیروں میں لغو اور بیہودہ عجائبات ( یعنی معجزات ) بھر دی ہیں‘
بعضوں نے لکھا ہے کہ
کوہِ سینا کو خدا ان کے سروں پر اٹھا لایا تھا کہ مجھ سے اقرار کرو نہیں تو اسی پہاڑ کے تلے کچل دیتا ہوں‘ یہ تمام خرافات اور لغو اور بیہودہ باتیں ہیں ۔
استغفراللہ معاذاللہ نعوذبااللہ
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص۹۷تا۹۹،)
*کوئی سر سید سے یہ پوچھے کہ*
آتش فشانی اور پہاڑ کے لرزنے کا بیان اس نے کس آیت اور کس حدیث کی بناء پر کیا ھے
اس کے پاس کوئی نقلی ثبوت نہیں ہے یہ اس کی اپنی عقلی اختراع ھے ہم اس کے جمہور مفسرین کے مقابلے میں ایسی عقل پر دس حرف بھیجتے ہیں ۔
بریں عقل ودانش بباید گریست
*جنت و دوزخ کا انکار*
تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ *جنت ودوزخ حق ہیں اور دونوں پیدا کی جا چکی ہیں ۔*
خود قرآن پاک سے یہ ثابت ہے ارشاد خداوندی ہے :
*وسارعوا الی مغفرة من ربکم وجنة عرضہا السموات والارض اعدت للمتقین ۔*
(سورہ آل عمران:۱۳۳)
ترجمہ :
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ھے اور پرہیزگاروں کے لیے تیار کی جا چکی ھے
*دوزخ کے پیدا کیے جانے بارے میں ارشاد خداوندی ہے :*
فاتقوا النار التی وقود ہا الناس والحجارة اعدت للکافرین ۔
(سور البقرہ:۲۴)
ترجمہ :
*پس ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے جو کافروں کے لئے تیار کی جا چکی ھے*
سر سید جنت و دوزخ دونوں کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ لکھتا ہے :
پس یہ مسئلہ کہ بہشت اور دوزخ دونوں بالفعل مخلوق و موجود ہیں‘ قرآن سے ثابت نہیں ۔
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۳۰)
نعوذبااللہ
وہ مزید لکھتا ھے :
یہ سمجھنا کہ جنت مثل باغ کے پیدا کی ہوئی ہے‘ اس میں سنگ مرمر کے اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں۔ باغ میں سرسبز و شاداب درخت ہیں‘ دودھ و شراب و شہد کی نالیاں بہہ رہی ہیں‘ ہر قسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے ۔ *ایسا بیہودہ پن ھے* جس پر تعجب ہوتا ھے
اگر بہشت یہی ہو تو بے مبالغہ ہمارے خرابات (شراب خانے) اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں ۔
*(نعوذ باللہ)*
(تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۲۳،)
قرآن میں جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کسی قرآن پڑھنے والے سے مخفی نہیں ، *مگر سر سید نے نا صرف ان کا صاف انکار کیا بلکہ مذاق بھی اڑایا اور شراب خانوں کو جنت سے ہزار درجے بہتر قرار دیا ۔* أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔
*کعبة اللہ شریف کے متعلق موقف*
کعبة اللہ شریف بارے کی عظمت کے بارے میں قرآن و حدیث میں کافی تذکرہ موجود ھے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
یعنی سب سے پہلا گھرجو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا ہے یہ وہ ہے جو مکہ میں ھے
بابرکت ہے اور جہاں والوں کے لئے راہنما ہے ۔
(سورہ آل عمران:۹۶)
ترجمہ :
*اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ گھر ھے بزرگی اور تعظیم والا‘ لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا ھے*
(سورہ المائدہ:۹۷)
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے اسی کی تشریح میں فرمایا : ⬇
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا