Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
دفع بلا کیلئے وہی معروف اذان کہی جاے گی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ وقت بلاء جو اذان دینے کا حکم ہے وہ اذان پنج وقتہ نماز جیسی اذان ہوگی یا کچھ کلمات کی کمی بیشی ہوگی۔ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
بینوا توجروا۔
المستفتی ابو انیق عالم برکاتی مالدہ مغربی بنگال
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔اذان جن کلمات کے ساتھ نماز پنجگانہ کیلئے ہوتی ہے اسی پر اذان کا اطلاق ہوتا ہے اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
اور فضائل و فوائد اذان بھی اسی معروف اذان کے ساتھ وابسطہ ہیں نیز جس روایت میں وبا اور عذاب کے زمانہ میں اذان دینے پر عذاب سے امن کی خبر دی گئی اس میں بھی کمی زیادتی کے ساتھ خاص الفاظ بیان نہیں ہوے لہذا نماز کے سوا دوسرے مواقع میں بھی وہی اذان ہے۔
ابو القاسم الطبرانی المجم الکبیر میں "ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا ﺃﺫﻥ ﻓﻲ ﻗﺮﻳﺔ ﺃﻣﻨﻬﺎ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻋﺬاﺑﻪ ﺫﻟﻚ اﻟﻴﻮﻡ"(ج١،ص٢٥٧)۔
"اذا اذن فی قریة امنھا اللہ من عذابه فی ذالك الیوم" جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٥ مارچ ٢٠٢٠
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ وقت بلاء جو اذان دینے کا حکم ہے وہ اذان پنج وقتہ نماز جیسی اذان ہوگی یا کچھ کلمات کی کمی بیشی ہوگی۔ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
بینوا توجروا۔
المستفتی ابو انیق عالم برکاتی مالدہ مغربی بنگال
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔اذان جن کلمات کے ساتھ نماز پنجگانہ کیلئے ہوتی ہے اسی پر اذان کا اطلاق ہوتا ہے اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
اور فضائل و فوائد اذان بھی اسی معروف اذان کے ساتھ وابسطہ ہیں نیز جس روایت میں وبا اور عذاب کے زمانہ میں اذان دینے پر عذاب سے امن کی خبر دی گئی اس میں بھی کمی زیادتی کے ساتھ خاص الفاظ بیان نہیں ہوے لہذا نماز کے سوا دوسرے مواقع میں بھی وہی اذان ہے۔
ابو القاسم الطبرانی المجم الکبیر میں "ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا ﺃﺫﻥ ﻓﻲ ﻗﺮﻳﺔ ﺃﻣﻨﻬﺎ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻋﺬاﺑﻪ ﺫﻟﻚ اﻟﻴﻮﻡ"(ج١،ص٢٥٧)۔
"اذا اذن فی قریة امنھا اللہ من عذابه فی ذالك الیوم" جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٥ مارچ ٢٠٢٠
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-01-1444 ᴴ | 22-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2