Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
اذان میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں
اس طرح اذان دینا کیسا ہے اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، یادافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ، یادافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه۔
اور اگر پوری اذان کے بعد یا دافع البلاء یا دافع الوباء بولا گیا تو کیا یہ صحیح ہے؟
سائل: عاشق رضا قادری مدھوبنی بینی پٹی محمد پور بہار
الجواب۔شریعت میں اذان ایک خاص قسم کے اعلان ہے جس کیلئے الفاظ مقرر ہیں اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
ہدایہ میں ہے"ﻭﺻﻔﺔ اﻷﺫاﻥ ﻣﻌﺮﻭﻓﺔ ﻭﻫﻮ ﻛﻤﺎ ﺃﺫﻥ اﻟﻤﻠﻚ اﻟﻨﺎﺯﻝ ﻣﻦ اﻟﺴﻤﺎء"(ج١،ص٤٣،ش)-
در مختار میں ہے"ﻫﻮ ﻟﻐﺔ اﻹﻋﻼﻡ ﻭﺷﺮﻋﺎ ﺇﻋﻼﻡ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻟﻢ ﻳﻘﻞ ﺑﺪﺧﻮﻝ اﻟﻮﻗﺖ ﻟﻴﻌﻢ اﻟﻔﺎﺋﺘﺔ ﻭﺑﻴﻦ ﻳﺪﻱ اﻟﺨﻄﻴﺐ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺑﺄﻟﻔﺎﻅ ﻛﺬﻟﻚ ﺃﻱ ﻣﺨﺼﻮﺻﺔ"(شامی،ج٢،ص٥٨، ٥٩)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
لہذا درمیان اذان یا دافع البلاء والوباء کہنا جائز نہیں اور اذان پوری کرکے بلا فصل و امتیاز بھی درست نہیں ہاں کچھ وقفہ کے بعد کہے تو حرج نہیں۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٣ مارچ ٢٠٢٠
اس طرح اذان دینا کیسا ہے اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، یادافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ، یادافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه۔
اور اگر پوری اذان کے بعد یا دافع البلاء یا دافع الوباء بولا گیا تو کیا یہ صحیح ہے؟
سائل: عاشق رضا قادری مدھوبنی بینی پٹی محمد پور بہار
الجواب۔شریعت میں اذان ایک خاص قسم کے اعلان ہے جس کیلئے الفاظ مقرر ہیں اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
ہدایہ میں ہے"ﻭﺻﻔﺔ اﻷﺫاﻥ ﻣﻌﺮﻭﻓﺔ ﻭﻫﻮ ﻛﻤﺎ ﺃﺫﻥ اﻟﻤﻠﻚ اﻟﻨﺎﺯﻝ ﻣﻦ اﻟﺴﻤﺎء"(ج١،ص٤٣،ش)-
در مختار میں ہے"ﻫﻮ ﻟﻐﺔ اﻹﻋﻼﻡ ﻭﺷﺮﻋﺎ ﺇﻋﻼﻡ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻟﻢ ﻳﻘﻞ ﺑﺪﺧﻮﻝ اﻟﻮﻗﺖ ﻟﻴﻌﻢ اﻟﻔﺎﺋﺘﺔ ﻭﺑﻴﻦ ﻳﺪﻱ اﻟﺨﻄﻴﺐ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺑﺄﻟﻔﺎﻅ ﻛﺬﻟﻚ ﺃﻱ ﻣﺨﺼﻮﺻﺔ"(شامی،ج٢،ص٥٨، ٥٩)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
لہذا درمیان اذان یا دافع البلاء والوباء کہنا جائز نہیں اور اذان پوری کرکے بلا فصل و امتیاز بھی درست نہیں ہاں کچھ وقفہ کے بعد کہے تو حرج نہیں۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٣ مارچ ٢٠٢٠
❤3👍2
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
دفع بلا کیلئے وہی معروف اذان کہی جاے گی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ وقت بلاء جو اذان دینے کا حکم ہے وہ اذان پنج وقتہ نماز جیسی اذان ہوگی یا کچھ کلمات کی کمی بیشی ہوگی۔ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
بینوا توجروا۔
المستفتی ابو انیق عالم برکاتی مالدہ مغربی بنگال
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔اذان جن کلمات کے ساتھ نماز پنجگانہ کیلئے ہوتی ہے اسی پر اذان کا اطلاق ہوتا ہے اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
اور فضائل و فوائد اذان بھی اسی معروف اذان کے ساتھ وابسطہ ہیں نیز جس روایت میں وبا اور عذاب کے زمانہ میں اذان دینے پر عذاب سے امن کی خبر دی گئی اس میں بھی کمی زیادتی کے ساتھ خاص الفاظ بیان نہیں ہوے لہذا نماز کے سوا دوسرے مواقع میں بھی وہی اذان ہے۔
ابو القاسم الطبرانی المجم الکبیر میں "ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا ﺃﺫﻥ ﻓﻲ ﻗﺮﻳﺔ ﺃﻣﻨﻬﺎ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻋﺬاﺑﻪ ﺫﻟﻚ اﻟﻴﻮﻡ"(ج١،ص٢٥٧)۔
"اذا اذن فی قریة امنھا اللہ من عذابه فی ذالك الیوم" جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٥ مارچ ٢٠٢٠
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ وقت بلاء جو اذان دینے کا حکم ہے وہ اذان پنج وقتہ نماز جیسی اذان ہوگی یا کچھ کلمات کی کمی بیشی ہوگی۔ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
بینوا توجروا۔
المستفتی ابو انیق عالم برکاتی مالدہ مغربی بنگال
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔اذان جن کلمات کے ساتھ نماز پنجگانہ کیلئے ہوتی ہے اسی پر اذان کا اطلاق ہوتا ہے اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
اور فضائل و فوائد اذان بھی اسی معروف اذان کے ساتھ وابسطہ ہیں نیز جس روایت میں وبا اور عذاب کے زمانہ میں اذان دینے پر عذاب سے امن کی خبر دی گئی اس میں بھی کمی زیادتی کے ساتھ خاص الفاظ بیان نہیں ہوے لہذا نماز کے سوا دوسرے مواقع میں بھی وہی اذان ہے۔
ابو القاسم الطبرانی المجم الکبیر میں "ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا ﺃﺫﻥ ﻓﻲ ﻗﺮﻳﺔ ﺃﻣﻨﻬﺎ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻋﺬاﺑﻪ ﺫﻟﻚ اﻟﻴﻮﻡ"(ج١،ص٢٥٧)۔
"اذا اذن فی قریة امنھا اللہ من عذابه فی ذالك الیوم" جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٥ مارچ ٢٠٢٠
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-01-1444 ᴴ | 22-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2