Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
بعد أذان و اقامت معا بلند آواز سے محمد رسول اللہ نہ چاہئے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسٸلہ میں کہ
ایک جگہ ایک شخص اذان و تکبیر کے آخر میں محمد رسول اللہ بلند آواز سے پڑھنے لگا سمجھانے پر کہتا ہے کہ میں حضور کا نام ہی تو لے رہا ہوں اسکا یہ عمل از روٸے شرع کیسا ہے لہجہ بدل کر یا کچھ فاصلے سے پڑھاجاٸے تو کیا حکم ہے وہ کہتا ہےکہ درود شریف بھی تو اذان و تکبیر سے پہلے پڑھتے ہیں وہ بھی تو اذان میں شامل نہیں۔
بینوا توجروا
المستفتی:محمد ریحان
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔یہ عمل درست نہیں کلمات اذان و اقامت میں زیادتی ہے اور اس کا درود شریف پر قیاس کرنا درست نہیں کہ قبل اقامت اور بعد جواب اذان درود شریف پڑھنے کا شرع شریف میں حکم ہے جبکہ محمد رسول اللہ پڑھنے کا حکم نہیں آیا جیساکہ در مختار مع رد المحتار میں ہے "ﻭﻳﺪﻋﻮ ﻋﻨﺪ ﻓﺮاﻏﻪ ﺑﺎﻟﻮﺳﻴﻠﺔ ﻟﺮﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ۔ﺃﻱ ﺑﻌﺪ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻤﺎ ﺭﻭاﻩ ﻣﺴﻠﻢ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﺇﺫا ﺳﻤﻌﺘﻢ اﻟﻤﺆﺫﻥ ﻓﻘﻮﻟﻮا ﻣﺜﻞ ﻣﺎ ﻳﻘﻮﻝ ﺛﻢ ﺻﻠﻮا ﻋﻠﻲ ﻓﺈﻧﻪ ﻣﻦ ﺻﻠﻰ ﻋﻠﻲ ﺻﻼﺓ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺑﻬﺎ ﻋﺸﺮا ﺛﻢ ﺳﻠﻮا ﻟﻲ اﻟﻮﺳﻴﻠﺔ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻣﻨﺰﻟﺔ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﻻ ﺗﻨﺒﻐﻲ ﺇﻻ ﻟﻌﺒﺪ ﻣﺆﻣﻦ ﻣﻦ ﻋﺒﺎﺩ اﻟﻠﻪ ﻭﺃﺭﺟﻮ ﺃﻥ ﺃﻛﻮﻥ ﺃﻧﺎ ﻫﻮ ﻓﻤﻦ ﺳﺄﻝ اﻟﻠﻪ ﻟﻲ اﻟﻮﺳﻴﻠﺔ ﺣﻠﺖ ﻟﻪ اﻟﺸﻔﺎﻋﺔ"(شامی،ج٢،ص٨٤)-
البتہ وقفہ کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ سکتے ہیں اس میں کوئی کچھ حرج نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ پورا کلمہ شریف پڑھے۔
اذان و اقامت سے قبل و بعد درود شریف اذان سے فصل کرکے یا آواز پست کرکے پڑھنے کا حکم ہے تاکہ اذان و اقامت میں امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اذان و اقامت نہ معلوم ہو اور اگر ان میں کوئی وصل کرے یا اس طور پر پڑھے کہ اذان و اقامت میں شامل ہونا معلوم ہو تو یہ بھی درست نہیں-
فتاوی رضویہ میں ہے "درود شریف قبلِ اقامت پڑھنے میں حرج نہیں مگر اقامت سے فصل چاہئے یا درود شریف کی آواز آواز اقامت سے ایسی جدا ہوکہ امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اقامت نہ معلوم ہو"(ج٢،ص٣٨٧)-
فتاوی فیض الرسول میں ہے "اذان و اقامت سے پہلے درود شریف پڑھنا جائز ہے مگر درود شریف پڑھنے کے بعد قدرے ٹھہر جائے پھر اذان و اقامت پڑھے تاکہ دونوں کے درمیان فصل ہو جائے یا درود شریف کی آواز اذان و اقامت کی آواز سے پست رہے تاکہ امتیاز رہے"(ج١،ص١٨٠)-
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٨ اگست ٢٠٢٠
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسٸلہ میں کہ
ایک جگہ ایک شخص اذان و تکبیر کے آخر میں محمد رسول اللہ بلند آواز سے پڑھنے لگا سمجھانے پر کہتا ہے کہ میں حضور کا نام ہی تو لے رہا ہوں اسکا یہ عمل از روٸے شرع کیسا ہے لہجہ بدل کر یا کچھ فاصلے سے پڑھاجاٸے تو کیا حکم ہے وہ کہتا ہےکہ درود شریف بھی تو اذان و تکبیر سے پہلے پڑھتے ہیں وہ بھی تو اذان میں شامل نہیں۔
بینوا توجروا
المستفتی:محمد ریحان
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔یہ عمل درست نہیں کلمات اذان و اقامت میں زیادتی ہے اور اس کا درود شریف پر قیاس کرنا درست نہیں کہ قبل اقامت اور بعد جواب اذان درود شریف پڑھنے کا شرع شریف میں حکم ہے جبکہ محمد رسول اللہ پڑھنے کا حکم نہیں آیا جیساکہ در مختار مع رد المحتار میں ہے "ﻭﻳﺪﻋﻮ ﻋﻨﺪ ﻓﺮاﻏﻪ ﺑﺎﻟﻮﺳﻴﻠﺔ ﻟﺮﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ۔ﺃﻱ ﺑﻌﺪ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻤﺎ ﺭﻭاﻩ ﻣﺴﻠﻢ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﺇﺫا ﺳﻤﻌﺘﻢ اﻟﻤﺆﺫﻥ ﻓﻘﻮﻟﻮا ﻣﺜﻞ ﻣﺎ ﻳﻘﻮﻝ ﺛﻢ ﺻﻠﻮا ﻋﻠﻲ ﻓﺈﻧﻪ ﻣﻦ ﺻﻠﻰ ﻋﻠﻲ ﺻﻼﺓ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺑﻬﺎ ﻋﺸﺮا ﺛﻢ ﺳﻠﻮا ﻟﻲ اﻟﻮﺳﻴﻠﺔ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻣﻨﺰﻟﺔ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﻻ ﺗﻨﺒﻐﻲ ﺇﻻ ﻟﻌﺒﺪ ﻣﺆﻣﻦ ﻣﻦ ﻋﺒﺎﺩ اﻟﻠﻪ ﻭﺃﺭﺟﻮ ﺃﻥ ﺃﻛﻮﻥ ﺃﻧﺎ ﻫﻮ ﻓﻤﻦ ﺳﺄﻝ اﻟﻠﻪ ﻟﻲ اﻟﻮﺳﻴﻠﺔ ﺣﻠﺖ ﻟﻪ اﻟﺸﻔﺎﻋﺔ"(شامی،ج٢،ص٨٤)-
البتہ وقفہ کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ سکتے ہیں اس میں کوئی کچھ حرج نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ پورا کلمہ شریف پڑھے۔
اذان و اقامت سے قبل و بعد درود شریف اذان سے فصل کرکے یا آواز پست کرکے پڑھنے کا حکم ہے تاکہ اذان و اقامت میں امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اذان و اقامت نہ معلوم ہو اور اگر ان میں کوئی وصل کرے یا اس طور پر پڑھے کہ اذان و اقامت میں شامل ہونا معلوم ہو تو یہ بھی درست نہیں-
فتاوی رضویہ میں ہے "درود شریف قبلِ اقامت پڑھنے میں حرج نہیں مگر اقامت سے فصل چاہئے یا درود شریف کی آواز آواز اقامت سے ایسی جدا ہوکہ امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اقامت نہ معلوم ہو"(ج٢،ص٣٨٧)-
فتاوی فیض الرسول میں ہے "اذان و اقامت سے پہلے درود شریف پڑھنا جائز ہے مگر درود شریف پڑھنے کے بعد قدرے ٹھہر جائے پھر اذان و اقامت پڑھے تاکہ دونوں کے درمیان فصل ہو جائے یا درود شریف کی آواز اذان و اقامت کی آواز سے پست رہے تاکہ امتیاز رہے"(ج١،ص١٨٠)-
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٨ اگست ٢٠٢٠
❤3👍2
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
اذان میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں
اس طرح اذان دینا کیسا ہے اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، یادافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ، یادافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه۔
اور اگر پوری اذان کے بعد یا دافع البلاء یا دافع الوباء بولا گیا تو کیا یہ صحیح ہے؟
سائل: عاشق رضا قادری مدھوبنی بینی پٹی محمد پور بہار
الجواب۔شریعت میں اذان ایک خاص قسم کے اعلان ہے جس کیلئے الفاظ مقرر ہیں اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
ہدایہ میں ہے"ﻭﺻﻔﺔ اﻷﺫاﻥ ﻣﻌﺮﻭﻓﺔ ﻭﻫﻮ ﻛﻤﺎ ﺃﺫﻥ اﻟﻤﻠﻚ اﻟﻨﺎﺯﻝ ﻣﻦ اﻟﺴﻤﺎء"(ج١،ص٤٣،ش)-
در مختار میں ہے"ﻫﻮ ﻟﻐﺔ اﻹﻋﻼﻡ ﻭﺷﺮﻋﺎ ﺇﻋﻼﻡ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻟﻢ ﻳﻘﻞ ﺑﺪﺧﻮﻝ اﻟﻮﻗﺖ ﻟﻴﻌﻢ اﻟﻔﺎﺋﺘﺔ ﻭﺑﻴﻦ ﻳﺪﻱ اﻟﺨﻄﻴﺐ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺑﺄﻟﻔﺎﻅ ﻛﺬﻟﻚ ﺃﻱ ﻣﺨﺼﻮﺻﺔ"(شامی،ج٢،ص٥٨، ٥٩)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
لہذا درمیان اذان یا دافع البلاء والوباء کہنا جائز نہیں اور اذان پوری کرکے بلا فصل و امتیاز بھی درست نہیں ہاں کچھ وقفہ کے بعد کہے تو حرج نہیں۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٣ مارچ ٢٠٢٠
اس طرح اذان دینا کیسا ہے اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، یادافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ، یادافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه۔
اور اگر پوری اذان کے بعد یا دافع البلاء یا دافع الوباء بولا گیا تو کیا یہ صحیح ہے؟
سائل: عاشق رضا قادری مدھوبنی بینی پٹی محمد پور بہار
الجواب۔شریعت میں اذان ایک خاص قسم کے اعلان ہے جس کیلئے الفاظ مقرر ہیں اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
ہدایہ میں ہے"ﻭﺻﻔﺔ اﻷﺫاﻥ ﻣﻌﺮﻭﻓﺔ ﻭﻫﻮ ﻛﻤﺎ ﺃﺫﻥ اﻟﻤﻠﻚ اﻟﻨﺎﺯﻝ ﻣﻦ اﻟﺴﻤﺎء"(ج١،ص٤٣،ش)-
در مختار میں ہے"ﻫﻮ ﻟﻐﺔ اﻹﻋﻼﻡ ﻭﺷﺮﻋﺎ ﺇﻋﻼﻡ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻟﻢ ﻳﻘﻞ ﺑﺪﺧﻮﻝ اﻟﻮﻗﺖ ﻟﻴﻌﻢ اﻟﻔﺎﺋﺘﺔ ﻭﺑﻴﻦ ﻳﺪﻱ اﻟﺨﻄﻴﺐ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺑﺄﻟﻔﺎﻅ ﻛﺬﻟﻚ ﺃﻱ ﻣﺨﺼﻮﺻﺔ"(شامی،ج٢،ص٥٨، ٥٩)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
لہذا درمیان اذان یا دافع البلاء والوباء کہنا جائز نہیں اور اذان پوری کرکے بلا فصل و امتیاز بھی درست نہیں ہاں کچھ وقفہ کے بعد کہے تو حرج نہیں۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٣ مارچ ٢٠٢٠
❤3👍2
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
دفع بلا کیلئے وہی معروف اذان کہی جاے گی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ وقت بلاء جو اذان دینے کا حکم ہے وہ اذان پنج وقتہ نماز جیسی اذان ہوگی یا کچھ کلمات کی کمی بیشی ہوگی۔ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
بینوا توجروا۔
المستفتی ابو انیق عالم برکاتی مالدہ مغربی بنگال
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔اذان جن کلمات کے ساتھ نماز پنجگانہ کیلئے ہوتی ہے اسی پر اذان کا اطلاق ہوتا ہے اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
اور فضائل و فوائد اذان بھی اسی معروف اذان کے ساتھ وابسطہ ہیں نیز جس روایت میں وبا اور عذاب کے زمانہ میں اذان دینے پر عذاب سے امن کی خبر دی گئی اس میں بھی کمی زیادتی کے ساتھ خاص الفاظ بیان نہیں ہوے لہذا نماز کے سوا دوسرے مواقع میں بھی وہی اذان ہے۔
ابو القاسم الطبرانی المجم الکبیر میں "ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا ﺃﺫﻥ ﻓﻲ ﻗﺮﻳﺔ ﺃﻣﻨﻬﺎ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻋﺬاﺑﻪ ﺫﻟﻚ اﻟﻴﻮﻡ"(ج١،ص٢٥٧)۔
"اذا اذن فی قریة امنھا اللہ من عذابه فی ذالك الیوم" جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٥ مارچ ٢٠٢٠
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ وقت بلاء جو اذان دینے کا حکم ہے وہ اذان پنج وقتہ نماز جیسی اذان ہوگی یا کچھ کلمات کی کمی بیشی ہوگی۔ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
بینوا توجروا۔
المستفتی ابو انیق عالم برکاتی مالدہ مغربی بنگال
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب۔اذان جن کلمات کے ساتھ نماز پنجگانہ کیلئے ہوتی ہے اسی پر اذان کا اطلاق ہوتا ہے اس میں کمی زیادتی ترمیم و تبدیل جائز نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے "ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻭﺯاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻭﻧﻘﺺ اﻟﺒﻌﺾ۔ﻭﺃﺻﻞ اﻷﺫاﻥ ﺛﺒﺖ ﺑﺤﺪﻳﺜﻪ ﻓﻜﺬا ﻗﺪﺭﻩ ﻭﻣﺎ ﻳﺮﻭﻭﻥ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﻓﻼ ﻳﻘﺒﻞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻓﻴﻤﺎ ﺗﻌﻢ ﺑﻪ اﻟﺒﻠﻮﻯ ﻭاﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻓﻲ ﻣﺜﻠﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻭﻫﻮ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ"ملتقطا
(ج١،ص١٤٧)۔
فتاوی اشرفیہ میں ہے "بعد دفن قبر پر اذان دینا مستحسن ہے مگر اذان کے کلمات میں ترمیم وتبدیل کرنا جائز نہیں۔"حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح‘‘ کی جگہ ’’یا حل المشکلات‘‘ و ’’یا دافع البلیات‘‘ یا کچھ اور کہنا اذان میں ترمیم ہوئی اس کی اجازت نہیں"(ج٥، ص١٨٩)-
اور فضائل و فوائد اذان بھی اسی معروف اذان کے ساتھ وابسطہ ہیں نیز جس روایت میں وبا اور عذاب کے زمانہ میں اذان دینے پر عذاب سے امن کی خبر دی گئی اس میں بھی کمی زیادتی کے ساتھ خاص الفاظ بیان نہیں ہوے لہذا نماز کے سوا دوسرے مواقع میں بھی وہی اذان ہے۔
ابو القاسم الطبرانی المجم الکبیر میں "ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا ﺃﺫﻥ ﻓﻲ ﻗﺮﻳﺔ ﺃﻣﻨﻬﺎ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻋﺬاﺑﻪ ﺫﻟﻚ اﻟﻴﻮﻡ"(ج١،ص٢٥٧)۔
"اذا اذن فی قریة امنھا اللہ من عذابه فی ذالك الیوم" جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٢٥ مارچ ٢٠٢٠
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-01-1444 ᴴ | 22-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1444 ᴴ | 23-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2