🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 فیضان حضرت بلال حبشی
رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنه 💐
یومِ وصال 20 محرم الحرام 20ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت بلال رضی الله تعالیٰ عنه
کیا ح بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍1
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*📚غیر مسلم کچھ روپیے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد زائد دوں گا تو اس روپے کا لینا کیسا؟📚*


اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰەِ وَ بَرَکَاتُەْ
*الســـــوال*
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ آپ مجھے ایک لاکھ روپے دیجیے اور میں آپ کو ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کو لینا کیسا ہے ؟ جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی۔
السـائل: محمد حیدر علی قادری، بھنگا ضلع شراوستی یوپی الـــــھنـــد


وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب:* اگر کوئی غیر مسلم کسی سے ایک لاکھ روپے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کا لینا جائز ہے کیونکہ یہاں کے کافر حربی ہیں اور کافر حربی و مسلمان کے درمیان کوئی سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " لا ربا بين المسلم و الحربى فى دار الحرب " اھ
( شرح فتح القدیر علی الھدایہ ج 7 ص 38 : کتاب البیوع ، دار الکتب العلمیہ بیروت )

اور مسلمان و حربی کے درمیان ایسا عقد فاسد کہ جس سے زیادتی مسلمان کو حاصل ہو جائز ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے کہ " ان مرادهم من حل الربا و القمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا الى العلة " اھ
( فتاوی شامی ج 7 ص 423 : کتاب البیوع ، باب الربا ، دار الکتب العلمیہ بیروت )

اور فتاوی فیض الرسول میں ہے کہ " یہاں کے کافر کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے کہ وہ حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ " ان هم الا حربى و ما يعقلها الا العالمون " اھ ( تفسیرات احمدیہ ص 30 )

مگر زائد رقم سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے قال الله تعالی : و حرم الربوا " اھ

اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ: اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جب کہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔
(فتاوی رضویہ ج 7 ص 93 بحوالہ فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 391 : مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور )

واللہ اعلم بالصواب


*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:*
*کریم اللہ رضوی، خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-01-1444 ᴴ | 20-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-01-1444 ᴴ | 20-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1