🌹 فیضان حضرت بلال حبشی
رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنه 💐
یومِ وصال 20 محرم الحرام 20ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت بلال رضی الله تعالیٰ عنه
کیا ح بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنه 💐
یومِ وصال 20 محرم الحرام 20ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت بلال رضی الله تعالیٰ عنه
کیا ح بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*📚غیر مسلم کچھ روپیے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد زائد دوں گا تو اس روپے کا لینا کیسا؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰەِ وَ بَرَکَاتُەْ
*الســـــوال*
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ آپ مجھے ایک لاکھ روپے دیجیے اور میں آپ کو ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کو لینا کیسا ہے ؟ جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی۔
السـائل: محمد حیدر علی قادری، بھنگا ضلع شراوستی یوپی الـــــھنـــد
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب:* اگر کوئی غیر مسلم کسی سے ایک لاکھ روپے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کا لینا جائز ہے کیونکہ یہاں کے کافر حربی ہیں اور کافر حربی و مسلمان کے درمیان کوئی سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " لا ربا بين المسلم و الحربى فى دار الحرب " اھ
( شرح فتح القدیر علی الھدایہ ج 7 ص 38 : کتاب البیوع ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور مسلمان و حربی کے درمیان ایسا عقد فاسد کہ جس سے زیادتی مسلمان کو حاصل ہو جائز ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے کہ " ان مرادهم من حل الربا و القمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا الى العلة " اھ
( فتاوی شامی ج 7 ص 423 : کتاب البیوع ، باب الربا ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور فتاوی فیض الرسول میں ہے کہ " یہاں کے کافر کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے کہ وہ حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ " ان هم الا حربى و ما يعقلها الا العالمون " اھ ( تفسیرات احمدیہ ص 30 )
مگر زائد رقم سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے قال الله تعالی : و حرم الربوا " اھ
اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ: اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جب کہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔
(فتاوی رضویہ ج 7 ص 93 بحوالہ فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 391 : مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور )
واللہ اعلم بالصواب
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:*
*کریم اللہ رضوی، خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*📚غیر مسلم کچھ روپیے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد زائد دوں گا تو اس روپے کا لینا کیسا؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰەِ وَ بَرَکَاتُەْ
*الســـــوال*
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ آپ مجھے ایک لاکھ روپے دیجیے اور میں آپ کو ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کو لینا کیسا ہے ؟ جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی۔
السـائل: محمد حیدر علی قادری، بھنگا ضلع شراوستی یوپی الـــــھنـــد
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب:* اگر کوئی غیر مسلم کسی سے ایک لاکھ روپے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کا لینا جائز ہے کیونکہ یہاں کے کافر حربی ہیں اور کافر حربی و مسلمان کے درمیان کوئی سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " لا ربا بين المسلم و الحربى فى دار الحرب " اھ
( شرح فتح القدیر علی الھدایہ ج 7 ص 38 : کتاب البیوع ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور مسلمان و حربی کے درمیان ایسا عقد فاسد کہ جس سے زیادتی مسلمان کو حاصل ہو جائز ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے کہ " ان مرادهم من حل الربا و القمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا الى العلة " اھ
( فتاوی شامی ج 7 ص 423 : کتاب البیوع ، باب الربا ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور فتاوی فیض الرسول میں ہے کہ " یہاں کے کافر کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے کہ وہ حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ " ان هم الا حربى و ما يعقلها الا العالمون " اھ ( تفسیرات احمدیہ ص 30 )
مگر زائد رقم سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے قال الله تعالی : و حرم الربوا " اھ
اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ: اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جب کہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔
(فتاوی رضویہ ج 7 ص 93 بحوالہ فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 391 : مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور )
واللہ اعلم بالصواب
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:*
*کریم اللہ رضوی، خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-01-1444 ᴴ | 19-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ کیا حضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
21-01-1444 ᴴ | 20-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1