Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اذان بلال اور سورج کا نکلنا
عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-
کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،
ع ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے
اس روایت کے متعلق علماے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
(1) امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
(البداية والنهاية، ج5، ص477)
(2) امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-
(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)
(3) امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-
(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)
(4) علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-
(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)
(5) علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص186، ر1378)
(6) امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-
(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)
(7) علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-
(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)
(8) علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-
(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)
(9) علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)
(10) علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص530، ر1520)
(11 تا 15) اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-
(16) علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-
(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)
(17) علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-
(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
(18) مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)
ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-
عبد مصطفی
عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-
کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،
ع ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے
اس روایت کے متعلق علماے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
(1) امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
(البداية والنهاية، ج5، ص477)
(2) امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-
(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)
(3) امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-
(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)
(4) علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-
(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)
(5) علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص186، ر1378)
(6) امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-
(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)
(7) علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-
(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)
(8) علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-
(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)
(9) علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)
(10) علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص530، ر1520)
(11 تا 15) اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-
(16) علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-
(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)
(17) علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-
(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
(18) مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)
ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-
عبد مصطفی
👍1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
इस्लाम अमन का दर्स देता है?
सुनने में अच्छा लगता है के इस्लाम अमन का दर्स देता है और एक तरह से देखा जाए तो ये अच्छा भी है लेकिन अब इस का इस्तेमाल मुसलमानो को बुज़दिल बनाने के लिए किया जा रहा है।
एक बुजुर्ग ने क्या खूब कहा था :
"इस्लाम अमन का दर्स उस वक़्त देता है जब बिलाल काबे की छत पर हों"
कहने वाले ने ये लाखो करोड़ो की बात कह दी जिस में समझने वालों के लिए बहुत कुछ है।
जब हमारी हुक़ूमत हो, हमारी रियासत हो, हमारी सलतनत हो तो अमन की बात की जाएगी, ये नही कि हमारे भाइयो का क़त्ले आम हो रहा हो, हमारी बहनो की इज़्ज़त पर हमला किया जा रहा हो, हमारा वुजूद मिटाने की कोशिश की जा रही हो और हम अमन का दर्स देते रहे।
अब्दे मुस्तफ़ा
सुनने में अच्छा लगता है के इस्लाम अमन का दर्स देता है और एक तरह से देखा जाए तो ये अच्छा भी है लेकिन अब इस का इस्तेमाल मुसलमानो को बुज़दिल बनाने के लिए किया जा रहा है।
एक बुजुर्ग ने क्या खूब कहा था :
"इस्लाम अमन का दर्स उस वक़्त देता है जब बिलाल काबे की छत पर हों"
कहने वाले ने ये लाखो करोड़ो की बात कह दी जिस में समझने वालों के लिए बहुत कुछ है।
जब हमारी हुक़ूमत हो, हमारी रियासत हो, हमारी सलतनत हो तो अमन की बात की जाएगी, ये नही कि हमारे भाइयो का क़त्ले आम हो रहा हो, हमारी बहनो की इज़्ज़त पर हमला किया जा रहा हो, हमारा वुजूद मिटाने की कोशिश की जा रही हो और हम अमन का दर्स देते रहे।
अब्दे मुस्तफ़ा
👍1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Islam Aman Ka Dars Deta Hai?
Sunne Mein Achha Lagta Hai Ke Islam Aman Ka Dars Deta Hai Aur Ek Taraf Se Dekha Jaaye To Ye Achha Bhi Hai Lekin Ab Is Ka Istemal Musalmano Ko Buzdil Banane Ke Liye Kiya Ja Raha Hai
Ek Buzurg Ne Kya Khoob Kaha Tha :
"Islam Aman Ka Dars Us Waqt Deta Hai Jab Bilal Kaabe Ki Chhat Par Ho"
Kehne Waale Ne Ye Laakho Karodo Ki Baat Keh Di Jis Mein Samajhne Waalo Ke Liye Bahut Kuchh Hai
Jab Humari Hukumat Ho, Humari Riyasat Ho, Humari Saltanat Ho To Aman Ki Baat Ki Jayegi, Ye Nahin Ke Humare Bhaiyo Ka Qatle Aam Ho Raha Ho, Humari Bahno Ki Izzat Par Hamla Kiya Ja Raha Ho, Humara Wujood Mitane Ki Koshish Ki Ja Raho Ho Aur Hum Aman Ka Dars Dete Rahein
Abde Mustafa
Sunne Mein Achha Lagta Hai Ke Islam Aman Ka Dars Deta Hai Aur Ek Taraf Se Dekha Jaaye To Ye Achha Bhi Hai Lekin Ab Is Ka Istemal Musalmano Ko Buzdil Banane Ke Liye Kiya Ja Raha Hai
Ek Buzurg Ne Kya Khoob Kaha Tha :
"Islam Aman Ka Dars Us Waqt Deta Hai Jab Bilal Kaabe Ki Chhat Par Ho"
Kehne Waale Ne Ye Laakho Karodo Ki Baat Keh Di Jis Mein Samajhne Waalo Ke Liye Bahut Kuchh Hai
Jab Humari Hukumat Ho, Humari Riyasat Ho, Humari Saltanat Ho To Aman Ki Baat Ki Jayegi, Ye Nahin Ke Humare Bhaiyo Ka Qatle Aam Ho Raha Ho, Humari Bahno Ki Izzat Par Hamla Kiya Ja Raha Ho, Humara Wujood Mitane Ki Koshish Ki Ja Raho Ho Aur Hum Aman Ka Dars Dete Rahein
Abde Mustafa
👍1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اسلام امن کا درس دیتا ہے؟
سننے میں اچھا لگتا ہے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے اور ایک طرف سے دیکھا جائے تو یہ اچھا بھی ہے لیکن اب اس کا استعمال مسلمانوں کو بزدل بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ایک بزرگ نے کیا خوب کہا تھا:
"اسلام امن کا درس اس وقت دیتا ہے جب بلال کعبے کی چھت پر ہوں"
کہنے والے نے یہ لاکھوں کروڑوں کی بات کَہ دی جس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے۔
جب ہماری حکومت ہو، ہماری ریاست ہو، ہماری سلطنت ہو تو امن کی بات کی جائے گی، یہ نہیں کہ ہمارے بھائیوں کا قتل عام ہو رہا ہو، ہماری بہنوں کی عزت پر حملہ کیا جا رہا ہو، ہمارا وجود مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہو اور ہم امن کا درس دیتے رہیں۔
عبد مصطفی
سننے میں اچھا لگتا ہے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے اور ایک طرف سے دیکھا جائے تو یہ اچھا بھی ہے لیکن اب اس کا استعمال مسلمانوں کو بزدل بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ایک بزرگ نے کیا خوب کہا تھا:
"اسلام امن کا درس اس وقت دیتا ہے جب بلال کعبے کی چھت پر ہوں"
کہنے والے نے یہ لاکھوں کروڑوں کی بات کَہ دی جس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے۔
جب ہماری حکومت ہو، ہماری ریاست ہو، ہماری سلطنت ہو تو امن کی بات کی جائے گی، یہ نہیں کہ ہمارے بھائیوں کا قتل عام ہو رہا ہو، ہماری بہنوں کی عزت پر حملہ کیا جا رہا ہو، ہمارا وجود مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہو اور ہم امن کا درس دیتے رہیں۔
عبد مصطفی
👍2
🌹 فیضان حضرت بلال حبشی
رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنه 💐
یومِ وصال 20 محرم الحرام 20ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت بلال رضی الله تعالیٰ عنه
کیا ح بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنه 💐
یومِ وصال 20 محرم الحرام 20ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت بلال رضی الله تعالیٰ عنه
کیا ح بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*📚غیر مسلم کچھ روپیے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد زائد دوں گا تو اس روپے کا لینا کیسا؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰەِ وَ بَرَکَاتُەْ
*الســـــوال*
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ آپ مجھے ایک لاکھ روپے دیجیے اور میں آپ کو ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کو لینا کیسا ہے ؟ جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی۔
السـائل: محمد حیدر علی قادری، بھنگا ضلع شراوستی یوپی الـــــھنـــد
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب:* اگر کوئی غیر مسلم کسی سے ایک لاکھ روپے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کا لینا جائز ہے کیونکہ یہاں کے کافر حربی ہیں اور کافر حربی و مسلمان کے درمیان کوئی سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " لا ربا بين المسلم و الحربى فى دار الحرب " اھ
( شرح فتح القدیر علی الھدایہ ج 7 ص 38 : کتاب البیوع ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور مسلمان و حربی کے درمیان ایسا عقد فاسد کہ جس سے زیادتی مسلمان کو حاصل ہو جائز ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے کہ " ان مرادهم من حل الربا و القمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا الى العلة " اھ
( فتاوی شامی ج 7 ص 423 : کتاب البیوع ، باب الربا ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور فتاوی فیض الرسول میں ہے کہ " یہاں کے کافر کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے کہ وہ حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ " ان هم الا حربى و ما يعقلها الا العالمون " اھ ( تفسیرات احمدیہ ص 30 )
مگر زائد رقم سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے قال الله تعالی : و حرم الربوا " اھ
اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ: اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جب کہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔
(فتاوی رضویہ ج 7 ص 93 بحوالہ فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 391 : مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور )
واللہ اعلم بالصواب
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:*
*کریم اللہ رضوی، خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*📚غیر مسلم کچھ روپیے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد زائد دوں گا تو اس روپے کا لینا کیسا؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰەِ وَ بَرَکَاتُەْ
*الســـــوال*
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ آپ مجھے ایک لاکھ روپے دیجیے اور میں آپ کو ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کو لینا کیسا ہے ؟ جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی۔
السـائل: محمد حیدر علی قادری، بھنگا ضلع شراوستی یوپی الـــــھنـــد
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب:* اگر کوئی غیر مسلم کسی سے ایک لاکھ روپے بطور قرض لے اور کہے ایک مہینے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار روپے دوں گا تو اس روپے کا لینا جائز ہے کیونکہ یہاں کے کافر حربی ہیں اور کافر حربی و مسلمان کے درمیان کوئی سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " لا ربا بين المسلم و الحربى فى دار الحرب " اھ
( شرح فتح القدیر علی الھدایہ ج 7 ص 38 : کتاب البیوع ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور مسلمان و حربی کے درمیان ایسا عقد فاسد کہ جس سے زیادتی مسلمان کو حاصل ہو جائز ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے کہ " ان مرادهم من حل الربا و القمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا الى العلة " اھ
( فتاوی شامی ج 7 ص 423 : کتاب البیوع ، باب الربا ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور فتاوی فیض الرسول میں ہے کہ " یہاں کے کافر کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے کہ وہ حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ " ان هم الا حربى و ما يعقلها الا العالمون " اھ ( تفسیرات احمدیہ ص 30 )
مگر زائد رقم سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے قال الله تعالی : و حرم الربوا " اھ
اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ: اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جب کہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔
(فتاوی رضویہ ج 7 ص 93 بحوالہ فتاوی فیض الرسول ج 2 ص 391 : مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور )
واللہ اعلم بالصواب
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:*
*کریم اللہ رضوی، خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-01-1444 ᴴ | 19-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ کیا حضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
21-01-1444 ᴴ | 20-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1