Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم = اذان بلالی ‼
میرے ایک تحقیقی مقالے کاخلاصہ پیش خدمت ہے
میرے سکالر ساتھیو!!!
اذان بلالی کا مشہور واقعہ جس قدر بالتفصیل غلام فرید، مقبول صابری کی قوالی میں ہے شاید اس قدر تفصیل تو جعل ساز علماء کو بھی معلوم نہ ہو اس واقعے کو علامہ ارشد القادری نے زلف وزنجیر،خواجہ اللہ بخش علیہ الرحمہ نے غذاء المحبین،اور ابن قدامہ حنبلی نے المغنی،اور ان کے ایک بھتیجے شمس الدین عمرنے "المقنع" میں ذکر کیا ہے
تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور منافقین کی سازش پر مبنی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت بلال کا متبادل جو صحابی اذان کیلئے مقرر ہوا کیا وہ (معاذاللہ)کسی قصائی کابیٹا تھا کہ سورج طلوع نہ ہوا؟
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹ پر مبنی واقعہ ہے
آئیے دلائل ملاحظہ فرمائیں ‼
1: ملاعلی قاری فرماتے ہیں
"حدیث:ان بلالا کان یبدل الشین فی الاذان سینا"
قال المزی فیمانقلہ عنہ البرھان السفاقسی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم نرہ فی شیئ من الکتب"
الاسرار المرفوعہ فی اخبارالموضوعہ ص 73
یعنی یہ جو مشھور بات کہ حضرت بلال اذان میں شین کو سین پڑھتے تھے امام مزی سے برھان سفاقسی نقل کرتے ہیں کہ یہ محض بے اصل کہانی ھےعوام میں مشہور ہے مگر کسی کتاب میں ھمیں نہیں ملی
2:امام عجلونی فرماتے ہیں
"قال ابن کثیر لیس لہ ولایصح "وتقدم فی ان بلالا"
لکن قال ابن قدامہ فی مغنیہ روی ان بلالا کان یقول اسھدیجعل الشین سیناوالمعتمدھوالاول فقدترجمہ غیرواحد بانہ کان اندی الصوت حسنہ فصیح الکلام وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لصاحب رویا الاذان عبداللہ بن زیدالق علیہ ای علی بلال الاذان فانہ اندی صوتامنک فلوکانت فیہ لثغہ لتوفرت الدواعی علی نقلھا
ولعابھا اھل النفاق علیہ المبالغون فی التنقیص لاھل الاسلام۔ انتھی؛
وقال العلامہ ابراھیم الباجی فی "مولدہ"
واشھدباللہ للہ ان سیدی بلالاماقال اسھد بالسین المھملہ قط کماوقع لموفق الدین ابن قدامہ فی مغنیہ وقلدہ ابن اخیہ الشیخ ابوعمرشمس الدین فی شرحہ کتاب المقنع وردعلیہ الحفاظ کمابسطتہ فی ذکر موذنیہ بل کان بلال من افصح الناس وانداھم صوتا"
کشف الخفاء للعجلونی ص564ج1
حافظ ابن کثیر فرماتےہیں
اس واقعے کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ درست ہے اس کی بحث"ان بلالا"کے عنوان سے گذرچکی ہے
لیکن علامہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب "المغنی" میں روایت کیاہے کہ حضرت بلال اسھد کہتے تھے یعنی شین کوسین پڑھتے تھے لیکن معتمدبات پہلی ہے(یعنی اس واقعہ کی اصل نہیں)بہت سے لوگوں نے حضرت بلال کے حالات زندگی لکھے اور یہ بھی لکھاہے کہ وہ بلندآواز تھے، ان کی آواز خوبصورت تھی،وہ فصیح وبلیغ تھے،اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے متعلق خواب دیکھنے والے صحابی عبداللہ بن زید سے خود کہاہے کہ اذان حضرت بلال کوسکھاوکیونکہ وہ بلند آوازہیں
اگربالفرض وہ توتلے ہوتے تواس بات کو بہت سے لوگ نقل کرتے، اصل بات یہ ھے کہ منافقین نے حضرت بلال پر عیب پرلگایاہے ان کی عادت ہے کہ وہ حدسے زیادہ صحابہ اوراھل اسلام کی تنقیص کرتے ہیں (انتھی)
علامہ ابراھیم باجی اپنی کتاب "مولد"میں فرماتے ہیں قسم بخداحضرت بلال اسھد نہیں کہتے تھے یہ تو ابن قدامہ اور ان کے بھتیجے شمس الدین نے غلط لکھاہے اس بات کو حفاظ حدیث نے ردکردیا ہے میں نے اپنی کتاب "موذنین رسول"میں خوب تفصیل سے اسکی تردید کی ،
سچی بات یہ ھے کہ حضرت بلال کی زبان بالکل فصیح تھی اور ان کی آواز بلند تھی:
3:حاشیہ نزھہ النظر شرح نخبہ الفکر میں ہے
"وامثلہ احادیث الموضوعہ کثیرہ منھا حدیث سین بلال عنداللہ شین"
حاشیہ شرح نخبہ ص14
یعنی احادیث موضوعہ بہت ہیں ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت بلال کے شین کوسین پڑھنے کاواقعہ ہے
4:علامہ عجلونی ایک اور مقام پررقمطرازہیں
"قال فی الدرر لم یرد فی شیئ من الکتب ، وقال القاری لیس لہ اصل وقال البرھان السفاقسی نقلاعن الامام المزی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم یرد فی شیئ من الکتب "
کشف الخفاء ص263ج1
یعنی درر میں ہے کہ یہ واقعہ کسی کتاب میں نہیں ہے ملاعلی قاری،برھان سفاقسی،علامہ مزی وغیرہ نے اس کوموضوع قرار دیاہے
5:علامہ زرقانی فرماتے ہیں
"سین بلال عنداللہ شین باطل لااصل لہ"
مختصر مقاصدالحسنہ ص140
حضرت بلال کاشین کوسین پڑھنے کاواقعہ من گھڑت ہے
6:مقاصد حسنہ میں ہے
"سین بلال عند اللہ شین لااصل لہ وقدترجمہ غیرواحد بانہ ندی الصوت حسنہ فصیحہ ولعابھااھل النفاق والضلال المجتھدین فی التنقیص لاھل الاسلام نسال اللہ التوفیق"
المقاصد الحسنہ ص295ج1ملخصا
سین بلال عنداللہ شین بالکل بے اصل حدیث ہے حالانکہ حضرت بلال کی سیرت کئی لوگوں نے بیان کیاہے اور سب نے لکھا ہے کہ ان کی آواز خوبصورت تھی اور وہ فصیح وبلیغ تھے یہ عیب جوئی منافقین کوسوجھی اسلام کے ازلی دشمنوں نے اس واقعہ کوگھڑاہے
ھم اللہ سے خیر کے سوالی ہیں ‼
واللہ تعالیٰ اعلم ‼ اپناخیال رکھئیے گا ‼
فقط والسلام ‼
آپکا اپنا محمد عرفان الحق نقشبندی
میرے ایک تحقیقی مقالے کاخلاصہ پیش خدمت ہے
میرے سکالر ساتھیو!!!
اذان بلالی کا مشہور واقعہ جس قدر بالتفصیل غلام فرید، مقبول صابری کی قوالی میں ہے شاید اس قدر تفصیل تو جعل ساز علماء کو بھی معلوم نہ ہو اس واقعے کو علامہ ارشد القادری نے زلف وزنجیر،خواجہ اللہ بخش علیہ الرحمہ نے غذاء المحبین،اور ابن قدامہ حنبلی نے المغنی،اور ان کے ایک بھتیجے شمس الدین عمرنے "المقنع" میں ذکر کیا ہے
تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور منافقین کی سازش پر مبنی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت بلال کا متبادل جو صحابی اذان کیلئے مقرر ہوا کیا وہ (معاذاللہ)کسی قصائی کابیٹا تھا کہ سورج طلوع نہ ہوا؟
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹ پر مبنی واقعہ ہے
آئیے دلائل ملاحظہ فرمائیں ‼
1: ملاعلی قاری فرماتے ہیں
"حدیث:ان بلالا کان یبدل الشین فی الاذان سینا"
قال المزی فیمانقلہ عنہ البرھان السفاقسی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم نرہ فی شیئ من الکتب"
الاسرار المرفوعہ فی اخبارالموضوعہ ص 73
یعنی یہ جو مشھور بات کہ حضرت بلال اذان میں شین کو سین پڑھتے تھے امام مزی سے برھان سفاقسی نقل کرتے ہیں کہ یہ محض بے اصل کہانی ھےعوام میں مشہور ہے مگر کسی کتاب میں ھمیں نہیں ملی
2:امام عجلونی فرماتے ہیں
"قال ابن کثیر لیس لہ ولایصح "وتقدم فی ان بلالا"
لکن قال ابن قدامہ فی مغنیہ روی ان بلالا کان یقول اسھدیجعل الشین سیناوالمعتمدھوالاول فقدترجمہ غیرواحد بانہ کان اندی الصوت حسنہ فصیح الکلام وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لصاحب رویا الاذان عبداللہ بن زیدالق علیہ ای علی بلال الاذان فانہ اندی صوتامنک فلوکانت فیہ لثغہ لتوفرت الدواعی علی نقلھا
ولعابھا اھل النفاق علیہ المبالغون فی التنقیص لاھل الاسلام۔ انتھی؛
وقال العلامہ ابراھیم الباجی فی "مولدہ"
واشھدباللہ للہ ان سیدی بلالاماقال اسھد بالسین المھملہ قط کماوقع لموفق الدین ابن قدامہ فی مغنیہ وقلدہ ابن اخیہ الشیخ ابوعمرشمس الدین فی شرحہ کتاب المقنع وردعلیہ الحفاظ کمابسطتہ فی ذکر موذنیہ بل کان بلال من افصح الناس وانداھم صوتا"
کشف الخفاء للعجلونی ص564ج1
حافظ ابن کثیر فرماتےہیں
اس واقعے کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ درست ہے اس کی بحث"ان بلالا"کے عنوان سے گذرچکی ہے
لیکن علامہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب "المغنی" میں روایت کیاہے کہ حضرت بلال اسھد کہتے تھے یعنی شین کوسین پڑھتے تھے لیکن معتمدبات پہلی ہے(یعنی اس واقعہ کی اصل نہیں)بہت سے لوگوں نے حضرت بلال کے حالات زندگی لکھے اور یہ بھی لکھاہے کہ وہ بلندآواز تھے، ان کی آواز خوبصورت تھی،وہ فصیح وبلیغ تھے،اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے متعلق خواب دیکھنے والے صحابی عبداللہ بن زید سے خود کہاہے کہ اذان حضرت بلال کوسکھاوکیونکہ وہ بلند آوازہیں
اگربالفرض وہ توتلے ہوتے تواس بات کو بہت سے لوگ نقل کرتے، اصل بات یہ ھے کہ منافقین نے حضرت بلال پر عیب پرلگایاہے ان کی عادت ہے کہ وہ حدسے زیادہ صحابہ اوراھل اسلام کی تنقیص کرتے ہیں (انتھی)
علامہ ابراھیم باجی اپنی کتاب "مولد"میں فرماتے ہیں قسم بخداحضرت بلال اسھد نہیں کہتے تھے یہ تو ابن قدامہ اور ان کے بھتیجے شمس الدین نے غلط لکھاہے اس بات کو حفاظ حدیث نے ردکردیا ہے میں نے اپنی کتاب "موذنین رسول"میں خوب تفصیل سے اسکی تردید کی ،
سچی بات یہ ھے کہ حضرت بلال کی زبان بالکل فصیح تھی اور ان کی آواز بلند تھی:
3:حاشیہ نزھہ النظر شرح نخبہ الفکر میں ہے
"وامثلہ احادیث الموضوعہ کثیرہ منھا حدیث سین بلال عنداللہ شین"
حاشیہ شرح نخبہ ص14
یعنی احادیث موضوعہ بہت ہیں ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت بلال کے شین کوسین پڑھنے کاواقعہ ہے
4:علامہ عجلونی ایک اور مقام پررقمطرازہیں
"قال فی الدرر لم یرد فی شیئ من الکتب ، وقال القاری لیس لہ اصل وقال البرھان السفاقسی نقلاعن الامام المزی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم یرد فی شیئ من الکتب "
کشف الخفاء ص263ج1
یعنی درر میں ہے کہ یہ واقعہ کسی کتاب میں نہیں ہے ملاعلی قاری،برھان سفاقسی،علامہ مزی وغیرہ نے اس کوموضوع قرار دیاہے
5:علامہ زرقانی فرماتے ہیں
"سین بلال عنداللہ شین باطل لااصل لہ"
مختصر مقاصدالحسنہ ص140
حضرت بلال کاشین کوسین پڑھنے کاواقعہ من گھڑت ہے
6:مقاصد حسنہ میں ہے
"سین بلال عند اللہ شین لااصل لہ وقدترجمہ غیرواحد بانہ ندی الصوت حسنہ فصیحہ ولعابھااھل النفاق والضلال المجتھدین فی التنقیص لاھل الاسلام نسال اللہ التوفیق"
المقاصد الحسنہ ص295ج1ملخصا
سین بلال عنداللہ شین بالکل بے اصل حدیث ہے حالانکہ حضرت بلال کی سیرت کئی لوگوں نے بیان کیاہے اور سب نے لکھا ہے کہ ان کی آواز خوبصورت تھی اور وہ فصیح وبلیغ تھے یہ عیب جوئی منافقین کوسوجھی اسلام کے ازلی دشمنوں نے اس واقعہ کوگھڑاہے
ھم اللہ سے خیر کے سوالی ہیں ‼
واللہ تعالیٰ اعلم ‼ اپناخیال رکھئیے گا ‼
فقط والسلام ‼
آپکا اپنا محمد عرفان الحق نقشبندی
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اذان نہ دینے کا واقعہ بے اصل ہے.🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اَلسَــلامُ عَلَيْـكُم وَرَحْمَـةُ اَللهِ وَبَـرَكاتُــهُ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل:👈🏻محمد توفیق رضا خان*
*✧ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ـــــــــــــــــــــــــــ✧*
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*📚الجــــواب👇🏻*
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ حضرات نے ان کی اذان پر اعتراض کیا کہ وہ شین کو سین کہتے ہیں..*
*تو حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں معزول کر دیا اور کسی دوسرے صاحب نے اذان دی تو صبح نہ ہوئ*
*جب اذان حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی تب صبح ہوئ.*
*یہ واقعہ بے اصل ہے مستند و معتبر حدیث و تاریخ کی کتابوں میں کہیں نہیں جو صاحب بیان کریں ان سے معلوم کرنا چاہیۓ کہ انہوں نے یہ واقعہ کہاں دیکھا.*
*اور یہ حدیث کہ حضرت رسول پاک ﷺ نے فرمایا👇*
*(سین بلال عنداللہ شین)*
*بلال کی سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے*
*اس حدیث کو حضرت مولانا قاری علی مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گڑھی ہوئ فرمایا"*
*بحــــوالہ👇*
*📚(موضوعات کبیر ص/43)*
*📚(فتاویٰ بحرالعلوم ج/5 ص/380)*
*واللہ تعالیٰ اعلــم بــاالصـــوابـــــ*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📝شــــرف قلـــــم📝*
*حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد آفتاب عالم رحمتی دہلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خطیب و امام جامع مسجد مہا سموند (چھتیس گڑھ)*
*رابطہ کریں:+917860124553*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اَلسَــلامُ عَلَيْـكُم وَرَحْمَـةُ اَللهِ وَبَـرَكاتُــهُ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل:👈🏻محمد توفیق رضا خان*
*✧ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ـــــــــــــــــــــــــــ✧*
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*📚الجــــواب👇🏻*
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ حضرات نے ان کی اذان پر اعتراض کیا کہ وہ شین کو سین کہتے ہیں..*
*تو حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں معزول کر دیا اور کسی دوسرے صاحب نے اذان دی تو صبح نہ ہوئ*
*جب اذان حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی تب صبح ہوئ.*
*یہ واقعہ بے اصل ہے مستند و معتبر حدیث و تاریخ کی کتابوں میں کہیں نہیں جو صاحب بیان کریں ان سے معلوم کرنا چاہیۓ کہ انہوں نے یہ واقعہ کہاں دیکھا.*
*اور یہ حدیث کہ حضرت رسول پاک ﷺ نے فرمایا👇*
*(سین بلال عنداللہ شین)*
*بلال کی سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے*
*اس حدیث کو حضرت مولانا قاری علی مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گڑھی ہوئ فرمایا"*
*بحــــوالہ👇*
*📚(موضوعات کبیر ص/43)*
*📚(فتاویٰ بحرالعلوم ج/5 ص/380)*
*واللہ تعالیٰ اعلــم بــاالصـــوابـــــ*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📝شــــرف قلـــــم📝*
*حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد آفتاب عالم رحمتی دہلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خطیب و امام جامع مسجد مہا سموند (چھتیس گڑھ)*
*رابطہ کریں:+917860124553*
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 امجــــدی مضـــامین 📚*
--------------------------------------------------------------
*🕯اذان بلال اور سورج کا نکلنا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-
کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،
ع *ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے*
اس روایت کے متعلق علمائے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
*(1)* امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
(البداية والنهاية، ج5، ص477)
*(2)* امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-
(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)
*(3)* امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-
(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)
*(4)* علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-
(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)
*(5)* علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص186، ر1378)
*(6)* امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-
(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)
*(7)* علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-
(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)
*(8)* علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-
(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)
*(9)* علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)
*(10)* علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص530، ر1520)
*(11 تا 15)* اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-
*(16)* علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-
(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)
*(17)* علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-
(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
*(18)* مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)
ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و ح
--------------------------------------------------------------
*🕯اذان بلال اور سورج کا نکلنا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-
کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،
ع *ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے*
اس روایت کے متعلق علمائے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
*(1)* امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
(البداية والنهاية، ج5، ص477)
*(2)* امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-
(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)
*(3)* امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-
(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)
*(4)* علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-
(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)
*(5)* علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص186، ر1378)
*(6)* امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-
(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)
*(7)* علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-
(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)
*(8)* علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-
(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)
*(9)* علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)
*(10)* علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص530، ر1520)
*(11 تا 15)* اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-
*(16)* علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-
(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)
*(17)* علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-
(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
*(18)* مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)
ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و ح
👍1
Forwarded from Deleted Account
السلام علیکم
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما لےنےکے بعد حضرت بلال مدینہ چھوڑ دیتے ہیں پھر کچھ دنوں کے بعد حضور انکے خواب میں آکر پوچھتے ہیں بلال کیا تمہیں ہماری یاد نہیں آتی
☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️یہ واقعہ اگر کسی بھائی کو تفصیل سے معلوم ہے تو بتادیں
اور یہ بھی بتائیں کہ یہ واقعہ کس کتاب میں ملے گا
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما لےنےکے بعد حضرت بلال مدینہ چھوڑ دیتے ہیں پھر کچھ دنوں کے بعد حضور انکے خواب میں آکر پوچھتے ہیں بلال کیا تمہیں ہماری یاد نہیں آتی
☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️یہ واقعہ اگر کسی بھائی کو تفصیل سے معلوم ہے تو بتادیں
اور یہ بھی بتائیں کہ یہ واقعہ کس کتاب میں ملے گا
👍1
Forwarded from ابو عاطف
یہ واقعہ فتاوی رضویہ ج10، ص727، 728 پر لکھا ہے.
فتاوی رضویہ جلد10 👇👇👇
فتاوی رضویہ جلد10 👇👇👇
👍1
❸❾ سیرت حضرت بلال
✍ مولانا حسیب القادری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9841
❹❾ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ
✍ پروفیسر طفیل چوہدری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9843
❺❾ سیدنا حضرت بلال
✍ پروفیسر طفیل چوھدری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9845
❻❾ پیکر جمال حضرت بلال
✍ ڈاکٹر عبد الشکور ساجد
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9847
❼❾ بلال مؤذن الرسول عربی
✍ عبد الحمید جودہ السحار
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9849
❽❾ اذان بلال اور سورج کا نکلنا
✍ عبد مصطفیٰ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9851
❾❾ کیا حضرت بلال کا رنگ کالا تھا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9853
⓪⓪① حضرت بلال کا قبول اسلام
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9855
①⓪① حضرت سیدنا بلال
✍ علامہ فیض احمد اویسی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9857
✍ مولانا حسیب القادری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9841
❹❾ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ
✍ پروفیسر طفیل چوہدری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9843
❺❾ سیدنا حضرت بلال
✍ پروفیسر طفیل چوھدری
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9845
❻❾ پیکر جمال حضرت بلال
✍ ڈاکٹر عبد الشکور ساجد
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9847
❼❾ بلال مؤذن الرسول عربی
✍ عبد الحمید جودہ السحار
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9849
❽❾ اذان بلال اور سورج کا نکلنا
✍ عبد مصطفیٰ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9851
❾❾ کیا حضرت بلال کا رنگ کالا تھا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9853
⓪⓪① حضرت بلال کا قبول اسلام
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9855
①⓪① حضرت سیدنا بلال
✍ علامہ فیض احمد اویسی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/9857
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-01-1444 ᴴ | 18-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-01-1444 ᴴ | 19-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کیا حضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کیا حضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی؟
❤1👍1