🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-01-1444 ᴴ | 18-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-01-1444 ᴴ | 18-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی
یوم پیدائش 20 محرم الحرام
علّامہ کوکب نورانی اوکاڑوی ایک مختصر تعارف : علامہ محمد کوکب نورانی اوکاڑوی علّامہ محمد شفیع اوکاڑوی
ولادت:
آپ ماہِ محرم الحرام ، 17اگست 1957ء بہ وقتِ فجرِ صبح صادق بمقام سلطان مینشن عقب بولٹن مارکیٹ کراچی میں پیدا ہوئے ،
آپ راسخ العقیدہ اور متصلّب سُنّی حنفی ہیں۔ آپ کا پیدائشی نام عقیقے کے موقع پر ’’ احمد ‘‘ رکھا گیا آپ نے پورے نام کا سجع یوں کہا ہے: کوکبِ نورانی را اَحمد ( ﷺ ) شفیع آپ یمنی شیوخ کے اس تاجر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو حضرت ابو بکر صدّیق کی بدولت مشرف بہ اسلام ہُوا، اِس خاندان کے افراد بغرضِ تجارت ہندوستان آئے اور کچھ وہاں آباد ہو گئے ، آپ کے خاندان کے بزرگ تاجر پیشہ اور صوفی منش تھے۔
بھائی اور بہن:
آپ گیارہ بہن بھائی تھے جن میں سے آپ سے دو بڑے بھائی کم سِنی میں وفات پا گئے، اب آپ سمیت تین بھائی اور چھ بہنیں بِفَضْلِہٖ تَعَالیٰ حیات ہیں۔
ابتدائی تعلیم:
آپ کا ابتدائی بچپن اوکاڑا ( پنجاب ) میں گزرا ، اشرف المدارس ہائی اسکول اور جامعہ حنفیہ اشرف المدارس ، جی ٹی روڈ ، اوکاڑا میں ابتدائی دِینی و دُنیوی تعلیم حاصل کی ۔
آپ نے گیارہ برس کی عمر میں مولانا قاری محمد عبد اللطیف امجد سعیدی سے قرآن پاک حِفظ کیا ، میٹرک کا امتحان آپ نے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 1 ، پی ۔ ای ۔ سی ۔ ایچ سوسائٹی کراچی سے 1971ء میں پاس کیا۔ آپ نے انٹر کا امتحان گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی سے 1973ء میں پاس کیا، مزید تعلیم آپ نے پرائی ویٹ حاصل کی ، اور ڈاکٹریٹ ( پی ایچ ڈی ) کی ڈگری بیرونِ ملک سے حاصل کی ۔
دینی تعلیم:
آپ نے دِینی تعلیم دار العلوم حنفیّہ غوثیہ کراچی ، اشرف المدارس اوکاڑا ، اور پھر مدرسہ عربیہ اسلامی انوار العلوم ملتان میں مکمل کی ،
اساتذہ:
درسِ نظامی و دورۂ حدیث شریف و تفسیر آپ نے اپنے والدِ گرامی حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی ، حضرت شیخ الاسلام مولانا غلام علی اوکاڑوی، غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ، عالمِ حجاز علّامہ سیّد محمد علوی مالکی ، مفتیِ بغداد ملا عبدالکریم المدرس، فاضلِ جلیل علامہ زید ابو الحسن فاروقی مجددی دہلوی اور مولانا شیخ محمد علی حلبی مدنی جیسے مقتدر علمائے کرام سے مختلف اَدوار میں کیا،
بعد اَزاں آپ نے مدینہ منوّرہ، دمشق، بغداد، ترکی اور دہلی کے ممتاز علماء و مشائخ کرام سے بھی اسناد حدیث و تفسیر اور اجازات حاصل کریں۔
شعر واَدب اور خطّاطی سے لگاؤ:
اُردو اور فارسی شعر واَدب میں جن لوگوں نے آپ کی رہ نمائی فرمائی ان میں سیّد محمد قائم افسر الٰہ آبادی ، جناب اقتدار احمد اکبر حیدر آبادی ، جناب صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ، جناب کرنل محمد خان اور جناب شکیل عادل زادہ شامل ہیں ۔
اسکول اور کالج کے زمانے میں متعدد مباحثوں اور قرأت و نعت کے مقابلوں میں شامل ہوتے رہے اور انعامات حاصل کیے اور اسی دَور سے شعر و اَدب سے گہرا لگاؤ رہا ، اسکول بزمِ اَدب کے صدر اور ادبی ماہ نامے کے مدیر بھی رہے ۔ فنِ خطّاطی میں آپ نے مولانا قاری محمد طفیل امرت سری اور خطّاطِ اسلام حافظ محمد یوسف سدیدی سے رہ نمائی حاصل کی ۔ علمی طلب کے ابتدائی دَور میں آپ نے ’’بزمِ شاہینِ پاکستان ‘‘ کے نام سے طلبہ و نوجوانوں کی تنظیم قائم کی جس کا مقصد فروغِ تعلیم ، نادار طلبہ کی امداد اور قرأت و نعت وتقاریر کے مقابلوں کا انعقاد کرنا اور اسلامی تیوہار منانا تھا ۔
بیعت و خلافت:
1964ء میں آپ غوثِ زماں حضرت گنجِ کرم پیر سیّد محمد اسمٰعیل شاہ بخاری المعروف حضرت کرماں والے کے ہاتھ پر نقش بندی سلسلۂ طریقت میں بیعت ہوئے ۔
بعد اَزاں غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی اور خان وادہِ غوثِ اعظم میں پِیر سید طاہر علاؤ الدین گِیلانی کے ہاتھ پر بیعتِ تبرک کی۔ آپ کو عرب و عجم کے 19 مشائخِ کرام سے تمام سلاسلِ طریقت میں خلافت و اجازت حاصل ہے۔ آپ کے مریدین دنیا بھر میں خاصی تعداد میں ہیں۔
آپ نے 1965ء اور 1971ء کی پاک و ہند جنگ کے موقع پر شہری دفاع اور اسکاؤٹس کے ساتھ تعاون کِیا ۔ ۱۹۷۴ء میں تحریکِ ختمِ نبوّت اور ۱۹۷۷ء میں تحریکِ نظامِ مصطفی ( ﷺ ) میں اپنے والدِ گرامی خطیبِ اعظم پاکستان کے شانہ بَہ شانہ نمایاں خدمات انجام دِیں ۔ آپ ۱۹۶۷ء سے ریڈیو پاکستان سے براڈکاسٹ اور 1969ء سے تاحال پاکستان ٹیلی وِژن اور دنیا بھر کے 50 ٹی وی چینلز سے ٹیلے کاسٹ کیے جارہے ہیں۔
مستقل خطابت:
آپ جامعہ میں معلّم و مدرّس بننے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن آپ کے والدِ یہ چاہتے تھے کہ آپ ان ہی کے طریق پر خطیب و ادیب بنیں چناں چہ پہلے جُزوی طَور پر اور پھر 1984ء سے خطیبِ اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی وفات کے بعد آپ نے باقاعدہ مستقل درس و خطابت کا سلسلہ شروع کِیا اور جامع مسجد گل زارِ حبیب ، گلستانِ اوکاڑوی (سولجر بازار ) کراچی میں جمعہ کی خطابت و امامت کا آغاز کِیا جو تاحال جاری ہے ، اس سے قبل آپ زیادہ تر تحریری
یوم پیدائش 20 محرم الحرام
علّامہ کوکب نورانی اوکاڑوی ایک مختصر تعارف : علامہ محمد کوکب نورانی اوکاڑوی علّامہ محمد شفیع اوکاڑوی
ولادت:
آپ ماہِ محرم الحرام ، 17اگست 1957ء بہ وقتِ فجرِ صبح صادق بمقام سلطان مینشن عقب بولٹن مارکیٹ کراچی میں پیدا ہوئے ،
آپ راسخ العقیدہ اور متصلّب سُنّی حنفی ہیں۔ آپ کا پیدائشی نام عقیقے کے موقع پر ’’ احمد ‘‘ رکھا گیا آپ نے پورے نام کا سجع یوں کہا ہے: کوکبِ نورانی را اَحمد ( ﷺ ) شفیع آپ یمنی شیوخ کے اس تاجر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو حضرت ابو بکر صدّیق کی بدولت مشرف بہ اسلام ہُوا، اِس خاندان کے افراد بغرضِ تجارت ہندوستان آئے اور کچھ وہاں آباد ہو گئے ، آپ کے خاندان کے بزرگ تاجر پیشہ اور صوفی منش تھے۔
بھائی اور بہن:
آپ گیارہ بہن بھائی تھے جن میں سے آپ سے دو بڑے بھائی کم سِنی میں وفات پا گئے، اب آپ سمیت تین بھائی اور چھ بہنیں بِفَضْلِہٖ تَعَالیٰ حیات ہیں۔
ابتدائی تعلیم:
آپ کا ابتدائی بچپن اوکاڑا ( پنجاب ) میں گزرا ، اشرف المدارس ہائی اسکول اور جامعہ حنفیہ اشرف المدارس ، جی ٹی روڈ ، اوکاڑا میں ابتدائی دِینی و دُنیوی تعلیم حاصل کی ۔
آپ نے گیارہ برس کی عمر میں مولانا قاری محمد عبد اللطیف امجد سعیدی سے قرآن پاک حِفظ کیا ، میٹرک کا امتحان آپ نے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 1 ، پی ۔ ای ۔ سی ۔ ایچ سوسائٹی کراچی سے 1971ء میں پاس کیا۔ آپ نے انٹر کا امتحان گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی سے 1973ء میں پاس کیا، مزید تعلیم آپ نے پرائی ویٹ حاصل کی ، اور ڈاکٹریٹ ( پی ایچ ڈی ) کی ڈگری بیرونِ ملک سے حاصل کی ۔
دینی تعلیم:
آپ نے دِینی تعلیم دار العلوم حنفیّہ غوثیہ کراچی ، اشرف المدارس اوکاڑا ، اور پھر مدرسہ عربیہ اسلامی انوار العلوم ملتان میں مکمل کی ،
اساتذہ:
درسِ نظامی و دورۂ حدیث شریف و تفسیر آپ نے اپنے والدِ گرامی حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی ، حضرت شیخ الاسلام مولانا غلام علی اوکاڑوی، غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ، عالمِ حجاز علّامہ سیّد محمد علوی مالکی ، مفتیِ بغداد ملا عبدالکریم المدرس، فاضلِ جلیل علامہ زید ابو الحسن فاروقی مجددی دہلوی اور مولانا شیخ محمد علی حلبی مدنی جیسے مقتدر علمائے کرام سے مختلف اَدوار میں کیا،
بعد اَزاں آپ نے مدینہ منوّرہ، دمشق، بغداد، ترکی اور دہلی کے ممتاز علماء و مشائخ کرام سے بھی اسناد حدیث و تفسیر اور اجازات حاصل کریں۔
شعر واَدب اور خطّاطی سے لگاؤ:
اُردو اور فارسی شعر واَدب میں جن لوگوں نے آپ کی رہ نمائی فرمائی ان میں سیّد محمد قائم افسر الٰہ آبادی ، جناب اقتدار احمد اکبر حیدر آبادی ، جناب صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ، جناب کرنل محمد خان اور جناب شکیل عادل زادہ شامل ہیں ۔
اسکول اور کالج کے زمانے میں متعدد مباحثوں اور قرأت و نعت کے مقابلوں میں شامل ہوتے رہے اور انعامات حاصل کیے اور اسی دَور سے شعر و اَدب سے گہرا لگاؤ رہا ، اسکول بزمِ اَدب کے صدر اور ادبی ماہ نامے کے مدیر بھی رہے ۔ فنِ خطّاطی میں آپ نے مولانا قاری محمد طفیل امرت سری اور خطّاطِ اسلام حافظ محمد یوسف سدیدی سے رہ نمائی حاصل کی ۔ علمی طلب کے ابتدائی دَور میں آپ نے ’’بزمِ شاہینِ پاکستان ‘‘ کے نام سے طلبہ و نوجوانوں کی تنظیم قائم کی جس کا مقصد فروغِ تعلیم ، نادار طلبہ کی امداد اور قرأت و نعت وتقاریر کے مقابلوں کا انعقاد کرنا اور اسلامی تیوہار منانا تھا ۔
بیعت و خلافت:
1964ء میں آپ غوثِ زماں حضرت گنجِ کرم پیر سیّد محمد اسمٰعیل شاہ بخاری المعروف حضرت کرماں والے کے ہاتھ پر نقش بندی سلسلۂ طریقت میں بیعت ہوئے ۔
بعد اَزاں غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی اور خان وادہِ غوثِ اعظم میں پِیر سید طاہر علاؤ الدین گِیلانی کے ہاتھ پر بیعتِ تبرک کی۔ آپ کو عرب و عجم کے 19 مشائخِ کرام سے تمام سلاسلِ طریقت میں خلافت و اجازت حاصل ہے۔ آپ کے مریدین دنیا بھر میں خاصی تعداد میں ہیں۔
آپ نے 1965ء اور 1971ء کی پاک و ہند جنگ کے موقع پر شہری دفاع اور اسکاؤٹس کے ساتھ تعاون کِیا ۔ ۱۹۷۴ء میں تحریکِ ختمِ نبوّت اور ۱۹۷۷ء میں تحریکِ نظامِ مصطفی ( ﷺ ) میں اپنے والدِ گرامی خطیبِ اعظم پاکستان کے شانہ بَہ شانہ نمایاں خدمات انجام دِیں ۔ آپ ۱۹۶۷ء سے ریڈیو پاکستان سے براڈکاسٹ اور 1969ء سے تاحال پاکستان ٹیلی وِژن اور دنیا بھر کے 50 ٹی وی چینلز سے ٹیلے کاسٹ کیے جارہے ہیں۔
مستقل خطابت:
آپ جامعہ میں معلّم و مدرّس بننے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن آپ کے والدِ یہ چاہتے تھے کہ آپ ان ہی کے طریق پر خطیب و ادیب بنیں چناں چہ پہلے جُزوی طَور پر اور پھر 1984ء سے خطیبِ اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی وفات کے بعد آپ نے باقاعدہ مستقل درس و خطابت کا سلسلہ شروع کِیا اور جامع مسجد گل زارِ حبیب ، گلستانِ اوکاڑوی (سولجر بازار ) کراچی میں جمعہ کی خطابت و امامت کا آغاز کِیا جو تاحال جاری ہے ، اس سے قبل آپ زیادہ تر تحریری
👍4❤1
کام کرتے رہے ہیں ۔
آپ 1984ء سے تاحیات، گل زارِ حبیب ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں، جس کے زیرِ اہتمام جامع مسجد گل زارِ حبیب، جامعہ اسلامیہ گل زارِ حبیب، مسجد نورِ حبیب اور نظیریہ مسجد زیرِ تعمیر ہیں۔ نمایاں کارگزاری: 27؍ اپریل 1984ء کو ’’مولانا اوکاڑوی اکادمی (العالمی )‘‘ قائم کی جس کے آپ بانی و سربراہ ہیں۔ سوادِ اعظم اہلِ سنت حقیقی اور انٹرنیشنل سُنّی موومنٹ کے نام سے بھی عالمی تنظیمیں قائم کیں، جن کے آپ سربراہ ہیں۔ یہ تنظیمیں غیر سیاسی خالص مسلکی علمی اور دِینی و فلاحی مقاصد کی تکمیل کے لئے آپ نے قائم کیں اور ان تینوں اداروں کی شاخیں بیرونِ ملک میں بھی کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔
صدقاتِ جاریَہ کے متعدد کام اس کے علاوہ ہیں۔ آپ نے گزشتہ 35 برس سے عید میلاد النبی (ﷺ ) کے موقع پر نہایت خوش نما عید کارڈ شائع کرکے تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا جس میں ہر سال نیا مضمون ہوتا ہے اور اسے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اسلامی کتب کی طباعت کے دو ادارے ، کرماں والا پبلشرز اور نورانی کتب خانہ بھی آپ کی سرپرستی میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
بیرونِ ملک اَسفار:
1996ء میں آپ نے امریکا میں جماعتِ اہلِ سنّت قائم کی۔ کچھ ملکوں میں دِینی درس گاہیں پہلی مرتبہ آپ نے قائم کیں۔ آپ نے ملک میں متعدد سرکاری و غیر سرکاری اور بیرونِ ملک بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی
اور پانچ بُرورِ اعظم میں پچاس سے زیادہ ممالک کے تبلیغی دَورے بھی کئے جن میں چیدہ چیدہ ممالک، حجازِ مقدس، شام اُردن، عراق، مصر، تُرکی، متحدہ عرب امارات، سلطنتِ عُمان، کینیا، زِم باب وے، ملاوِی، ری یونین، لی سو ٹو، جنوبی افریقہ، بوٹ سوانا، ببوتو سوانا، سوازی لینڈ، برطانیہ، ماریشس، فرانس، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ ہیں
جہاں آپ متعدد بار گئے اور اب تک تین سو سے زائد غیر مسلموں کو حلقہ بگوشِ اسلام کِیا اور مسلکِ حق اہلِ سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت اور اصلاحِ عقائد و اعمال کا فریضہ انجام دیا۔
آپ نے جزوی طَور پر تدریس کا فریضہ بھی انجام دیا لیکن آپ کا زیادہ رجحان تحقیق و تصنیف اور خطابت کی طرف مائل رہا اور اب تک ملک بھر اور بیرونِ ملک سات ہزار سے زائد خطابات کرچکے ہیں،
آپ کو متعدد زبانیں آتی ہیں جن میں اُردو ، پنجابی ، عربی ، فارسی اور انگریزی شامل ہیں اور ان زبانوں میں چالیس ہزار سے زائد کتابیں آپ کی ذاتی لائبریری میں موجود ہیں ۔ آپ قرآنِ پاک کا انگریزی میں ترجمہ بھی کر رہے ہیں۔
تصنیف و تالیف:
آپ نے اُردو اور انگریزی زبان میں کئی کتابیں بھی تصنیف کی ہیں ، آپ کی پہلی کتاب 1988ء میں شائع ہوئی۔ آپ کی تصانیف کے عنوانات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اذان اور دُرود شریف 2۔ دیوبند سے بریلی (حقائق) 3۔ اسلام کی پہلی عید 4۔ عید میلاد النبی ﷺ 5۔ سفید و سیاہ 6۔ جو ہانس برگ سے بریلی کتابچوں کا جواب 7۔ مسئلہ امامت 8۔ پیر جی سرکارکرماں والے۔۔۔ حالات ، واقعات اور مشاہدات و تاثرات 9۔ ختم شریف حضرت داتا گنج بخش رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ 10۔ خمینی ، چند حقائق 12۔ ٹروتھ وِنز (حق کی فتح ) 13۔ شجرۂ طیبہ 14۔ حقائق (ایک غیر مقلد کے اعتراضات کے جواب میں) 15۔ اَورادِ مشائخ (وظائف اور دعاؤں کا مجموعہ) 16۔ مزارات و تبرکات اور ان کے فیوضات 17۔ خطیبِ پاکستان ، اپنے معاصرین کی نظر میں 18۔ والدینِ رسالت مآب * قبر کے احکام و آداب 19۔ بیادِ شیخ الاسلام(حضرت مولانا غلام علی اوکاڑوی کی وفات پر مرتّب کی گئی کتاب) 20۔ حقائق نامہ دارالعلوم دیو بند 21۔ نعت اور آدابِ نعت 22۔ کلام اعلی حضرت ترجمانِ حقیقت 23۔ دہشت گردی اور اسلام: تین تحریریں 24۔ ماں جی قبلہ کی یاد میں 25۔ کتابی سلسلہ ، الخطیب شمارہ ،1 (عالمی سُنّی ڈائریکٹری) 26۔ ہر سال اپنے والدِ گرامی کے عرس پر سالانہ یادگاری مجلہ بھی شائع کرتے ہیں ۔
زیرِ ترتیب کتب:
علامہ کوکب اوکاڑوی کے جو ناتمام مسوّدے کتابوں کے ابھی زیرترتیب ہیں ان کے نام یہ تجویز کیے ہیں : 1۔ میرا دِین (اسلامی بنیادی ضروری عقائد کی معلومات ) 2۔ مقالاتِ کوکب (مختلف موضوعات پر تحریروں کا مجموعہ) 3۔ بدعت کی حقیقت 4۔ اپنی ادا دیکھ(مخالفین کے قول و فعل کا تضاد اُن کی تحریروں اور تصویروں کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ) 5۔ احکامِ نبوی (ﷺ) اور ہماری زندگی 6۔ بارہ مہینے کے نیک اعمال(مہینوں کے نام ، فضائل ، خاص ایام اور ان کے اعمال کی تفصیل) 7۔ قادیانی دجّال 8۔ اسماء الاطفال (بچوں کے نام کیسے رکھیں اور ناموں کی فہرست)۔
آپ کی ایک انقلابی کارکردگی ’’ آخر اختلاف کیوں ‘‘ کے عنوان سے وڈیو سی ڈی ہے جو دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئی اور لاکھوں افراد کے لیے اصلاحِ عقائد میں بہت مفید ثابت ہوئی ۔ دیگر کار گزاریوں اور خدمات کی تفصیل اس کے سِوا ہے ۔
(آزاد دائرۃ المعارف وِکیپیڈیا)
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-kokab-noorani-okarvi
Copyright © Zia-e-Taiba
آپ 1984ء سے تاحیات، گل زارِ حبیب ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں، جس کے زیرِ اہتمام جامع مسجد گل زارِ حبیب، جامعہ اسلامیہ گل زارِ حبیب، مسجد نورِ حبیب اور نظیریہ مسجد زیرِ تعمیر ہیں۔ نمایاں کارگزاری: 27؍ اپریل 1984ء کو ’’مولانا اوکاڑوی اکادمی (العالمی )‘‘ قائم کی جس کے آپ بانی و سربراہ ہیں۔ سوادِ اعظم اہلِ سنت حقیقی اور انٹرنیشنل سُنّی موومنٹ کے نام سے بھی عالمی تنظیمیں قائم کیں، جن کے آپ سربراہ ہیں۔ یہ تنظیمیں غیر سیاسی خالص مسلکی علمی اور دِینی و فلاحی مقاصد کی تکمیل کے لئے آپ نے قائم کیں اور ان تینوں اداروں کی شاخیں بیرونِ ملک میں بھی کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔
صدقاتِ جاریَہ کے متعدد کام اس کے علاوہ ہیں۔ آپ نے گزشتہ 35 برس سے عید میلاد النبی (ﷺ ) کے موقع پر نہایت خوش نما عید کارڈ شائع کرکے تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا جس میں ہر سال نیا مضمون ہوتا ہے اور اسے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اسلامی کتب کی طباعت کے دو ادارے ، کرماں والا پبلشرز اور نورانی کتب خانہ بھی آپ کی سرپرستی میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
بیرونِ ملک اَسفار:
1996ء میں آپ نے امریکا میں جماعتِ اہلِ سنّت قائم کی۔ کچھ ملکوں میں دِینی درس گاہیں پہلی مرتبہ آپ نے قائم کیں۔ آپ نے ملک میں متعدد سرکاری و غیر سرکاری اور بیرونِ ملک بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی
اور پانچ بُرورِ اعظم میں پچاس سے زیادہ ممالک کے تبلیغی دَورے بھی کئے جن میں چیدہ چیدہ ممالک، حجازِ مقدس، شام اُردن، عراق، مصر، تُرکی، متحدہ عرب امارات، سلطنتِ عُمان، کینیا، زِم باب وے، ملاوِی، ری یونین، لی سو ٹو، جنوبی افریقہ، بوٹ سوانا، ببوتو سوانا، سوازی لینڈ، برطانیہ، ماریشس، فرانس، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ ہیں
جہاں آپ متعدد بار گئے اور اب تک تین سو سے زائد غیر مسلموں کو حلقہ بگوشِ اسلام کِیا اور مسلکِ حق اہلِ سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت اور اصلاحِ عقائد و اعمال کا فریضہ انجام دیا۔
آپ نے جزوی طَور پر تدریس کا فریضہ بھی انجام دیا لیکن آپ کا زیادہ رجحان تحقیق و تصنیف اور خطابت کی طرف مائل رہا اور اب تک ملک بھر اور بیرونِ ملک سات ہزار سے زائد خطابات کرچکے ہیں،
آپ کو متعدد زبانیں آتی ہیں جن میں اُردو ، پنجابی ، عربی ، فارسی اور انگریزی شامل ہیں اور ان زبانوں میں چالیس ہزار سے زائد کتابیں آپ کی ذاتی لائبریری میں موجود ہیں ۔ آپ قرآنِ پاک کا انگریزی میں ترجمہ بھی کر رہے ہیں۔
تصنیف و تالیف:
آپ نے اُردو اور انگریزی زبان میں کئی کتابیں بھی تصنیف کی ہیں ، آپ کی پہلی کتاب 1988ء میں شائع ہوئی۔ آپ کی تصانیف کے عنوانات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اذان اور دُرود شریف 2۔ دیوبند سے بریلی (حقائق) 3۔ اسلام کی پہلی عید 4۔ عید میلاد النبی ﷺ 5۔ سفید و سیاہ 6۔ جو ہانس برگ سے بریلی کتابچوں کا جواب 7۔ مسئلہ امامت 8۔ پیر جی سرکارکرماں والے۔۔۔ حالات ، واقعات اور مشاہدات و تاثرات 9۔ ختم شریف حضرت داتا گنج بخش رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ 10۔ خمینی ، چند حقائق 12۔ ٹروتھ وِنز (حق کی فتح ) 13۔ شجرۂ طیبہ 14۔ حقائق (ایک غیر مقلد کے اعتراضات کے جواب میں) 15۔ اَورادِ مشائخ (وظائف اور دعاؤں کا مجموعہ) 16۔ مزارات و تبرکات اور ان کے فیوضات 17۔ خطیبِ پاکستان ، اپنے معاصرین کی نظر میں 18۔ والدینِ رسالت مآب * قبر کے احکام و آداب 19۔ بیادِ شیخ الاسلام(حضرت مولانا غلام علی اوکاڑوی کی وفات پر مرتّب کی گئی کتاب) 20۔ حقائق نامہ دارالعلوم دیو بند 21۔ نعت اور آدابِ نعت 22۔ کلام اعلی حضرت ترجمانِ حقیقت 23۔ دہشت گردی اور اسلام: تین تحریریں 24۔ ماں جی قبلہ کی یاد میں 25۔ کتابی سلسلہ ، الخطیب شمارہ ،1 (عالمی سُنّی ڈائریکٹری) 26۔ ہر سال اپنے والدِ گرامی کے عرس پر سالانہ یادگاری مجلہ بھی شائع کرتے ہیں ۔
زیرِ ترتیب کتب:
علامہ کوکب اوکاڑوی کے جو ناتمام مسوّدے کتابوں کے ابھی زیرترتیب ہیں ان کے نام یہ تجویز کیے ہیں : 1۔ میرا دِین (اسلامی بنیادی ضروری عقائد کی معلومات ) 2۔ مقالاتِ کوکب (مختلف موضوعات پر تحریروں کا مجموعہ) 3۔ بدعت کی حقیقت 4۔ اپنی ادا دیکھ(مخالفین کے قول و فعل کا تضاد اُن کی تحریروں اور تصویروں کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ) 5۔ احکامِ نبوی (ﷺ) اور ہماری زندگی 6۔ بارہ مہینے کے نیک اعمال(مہینوں کے نام ، فضائل ، خاص ایام اور ان کے اعمال کی تفصیل) 7۔ قادیانی دجّال 8۔ اسماء الاطفال (بچوں کے نام کیسے رکھیں اور ناموں کی فہرست)۔
آپ کی ایک انقلابی کارکردگی ’’ آخر اختلاف کیوں ‘‘ کے عنوان سے وڈیو سی ڈی ہے جو دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئی اور لاکھوں افراد کے لیے اصلاحِ عقائد میں بہت مفید ثابت ہوئی ۔ دیگر کار گزاریوں اور خدمات کی تفصیل اس کے سِوا ہے ۔
(آزاد دائرۃ المعارف وِکیپیڈیا)
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-kokab-noorani-okarvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
امام احمد بن عبد اللہ محدث ابو نعیم
اصبہانی یوم وصال 20 محرم الحرام
حضرت امام احمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ المعروف ابی نعیم اصبہانی محدث (مصنف حلیۃ اولیاء) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
یوم ولادت:
۳۳۶ھ / وفات ۴۳۰ھ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: احمد ، کنیت: ابو نعیم
سلسلۂ نسب یہ ہے:
احمد بن عبداللہ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن وائل بن مہران۔
آپ کی ولادت رجب ۳۳۶ھ میں بمقام اصفہان ہوئی۔
ابو نعیم اگر چہ عجمی نژاد تھے مگر آپ کے جد اعلیٰ مہران کو خاندان نبوت سے شرف ولاء حاصل تھا جس کی برکت نے آپ کے خاندان میں علم و عمل کو فروغ دیا آپ کے والد عبد اللہ زبردست عالم تھے انہوں نے فرزند ارجمند کو کم عمری ہی سے تحصیل علم اور سماع حدیث کے مشغلہ سے وابستہ کر دیا تھا۔ شوق علم دیکھ کر مشائخ عمدہ نے بطریق تبرک آپ کو سند حدیث عنایت فرمائی۔
حافظ ذہبی لکھتے ہیں ’’اجازلہ مشائخ الدنیا سنۃ نیف واربعین وثلاث مائۃ ولہ ست سنین‘‘ ۳۴۰ھ کے بعد جب آپ کی عمر صرف چھ سال تھی دنیا کے سربر آوردہ اور عظیم مشائخ نے آپ کو اجازت سے نوازا‘‘۔ (تذکرہ ج ۳ ص۲۷۵) ـ
شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں:
(سند اجازت مرحمت فرمانے والوں میں) ابوالعباس اصم، خیثمہ بن سلیمان طرابلسی، جعفر خلدی اور شیخ عبداللہ بن عمر بن شوذب بھی ہیں۔ اور یہ (ابو نعیم) اس خصوصیت کے ساتھ منفرد ہیں۔ (بستان المحدثین ص ۷۳)
آپ نے شیخ ابو محمد بن فارس سے ۳۴۴ھ میں پڑھنا شروع کیا طلب علم کا شوق اتنا بڑھا ہوا تھا کہ اصفہان کے علاوہ کوفہ، بصرہ، بغداد، خراسان، شام، واسط، نیشاپور، مکہ، مدینہ کا سفر کیا اور وہاں کے اساطین حدیث سے اپنے دامن کو مالا مال کیاـ
ان کے مشہور اساتذہ و شیوخ حسب ذیل ہیں:
ابو محمد بن فارس، اس کے بعد ابو احمد عسال، احمد بن معبد سمسار، احمد بن بندار عشار، احمد بن محمد قصار، عبداللہ بن حسن بن بندار، ابو بکر بن ہیثم بندار، ابو بحر بن کوثر، ابو بکر بن خلاد نصیبی، حبیب قزاز، ابو بکر جعابی، ابو القاسم طبری، ابو بکر آجری، ابو علی بن صواف، ابراہیم بن عبداللہ بن ابی العزائم کوفی، عبداللہ بن جعفر جابری، احمد بن حسن مکی، فاروق خطابی، ابوالشیخ بن حبان خراسان اور عراق کے بہت سے ائمہ سے حدیث کا سماع کیا تھا۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۲۷۵)
علم و فضل:
فطری مناسبت علم قوتِ حفظ و ضبط اور بیکراں ذوق و شوق نے امام ابو نعیم کو اپنے وقت کا جلیل القدر محدث بنا دیا تھا لوگوں نے آپ کو الحافظ المشھود، الحافظ الکبیر من اکابر الحافاظ الثقات کے القاب سے نوازا ہے۔ وقت کے ائمہ فن نے آپ کی جلالت شان فی الحدیث کاول کھول کر اعتراف کیا ہے ـ
حافظ ذہبی:
’’الحافظ الکبیر محدث العصر الصوفی‘‘ آپ صوفی باصفا، بہت بڑے حافظ حدیث اور اپنے زمانہ کے محدث اعظم ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص۲۷۵)
خطیب بغدادی:
’’لم ار احداً اطلق علیہ اسم الحفظ غیر ابی نعیم وابی حازم العدوی‘‘ میں نے حافظ ابو نعیم اصفہانی اور ابو حازم عدوی کے سوا کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جس پر بجا طور پر حافظ کا اطلاق کیا جائے۔ (ایضاّص ۲۷۶)
ابن مردوبہ:
’’کان ابو نعیم فی وقتہ مرحولا علیہِ لم یکن فی افق من الآفاق احد احفظ منہ ولا اسند منہ‘‘ حافظ ابو نعیم کی طرف استفادہ کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ دنیا کے کسی حصہ میں اس وقت ان سے بڑا حافظ حدیث کو ئی نہیں تھا اور نہ ان سے زیادہ عالی سند کوئی آدمی موجود تھا۔ (ایضاّص ۲۷۶)
حمزہ بن عباس علوی:
’’کان اصحاب الحدیث یقولون بقی الحافظ اربع عشرۃ بلا نظیر لا یوجد شرقا ولا غربا اعلیٰ اسناداًمنہ ولا احفظ منہ‘‘ محدثین کہا کرتے تھے کہ حافظ ابو نعیم کا چودہ سال تک کوئی نظیر نہیں تھا۔ مشرق و مغرب میں نہ ان سے بڑا کوئی حافظ حدیث تھا اور نہ کسی کے پاس ان سے اعلیٰ سند تھی۔ (ایضاّص ۲۷۶)
ابن نجار:
’’وہ محدثین کے سرتاج اور اعلام دین میں تھے حدیث کی جمع ورادیت کی طرح اس کی معرفت و درایت میں بھی شہرت و امتیاز رکھتے تھے‘‘۔
ابن سکھی:
’’وہ حفظ و ضبط میں مرتبۂ کمال پر فائز تھے‘‘۔ (طبقات الشافعیہ ج ۳ ص ۸) حلقۂ درس:
امام ابو نعیم کے علمی کمالات اور غیر معمولی تجرفن نے ان کی ذات کو مرجع خلائق بنا دیا تھا دور دور سے تشنگان علم نبوت کھنچ کھنچ کر ان کے حلقۂ درس میں شامل ہوا کرتے تھے ان کے گرد طلبہ کا ہجوم ہر وقت رہتا۔ اصاغر واکابر سبھی ان کی بارگاہ سے فیض باب ہوتے تھے۔ ابن مردویہ کا بیان ہے: ’’کان ابو نعیم فی وقتہ مرحولا الیہ…… کان حافظ الدنیا قد اجتمعوا عندہ وکل یوم نوبۃ واحد منھم یقرأ مایریدہ الی قریب الظھر فاذا قام الی دارہ ربما کان یقرأ علیہ فی الطریق جزء لم یکن لہ غذا سوی التسمیع والتصنیف‘‘ حافظ ابو نعیم کی طرف استفادہ کے لیے آنے والوں کا تانتا بندا رہتا تھا۔ دنیا کے حافظ حدیث آپ کے پاس جمع رہتے تھے ان میں سے رہ روز ایک ایک آدمی کی پڑھنے کی باری ہوتی تھی۔ وہ ظہر سے تھوڑی دیر پہلے تک جو چاہتا پڑھتا۔ بعض اوقات گھر کو جاتے ہوئے راستہ میں طالب علم ان سے پڑھتے
اصبہانی یوم وصال 20 محرم الحرام
حضرت امام احمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ المعروف ابی نعیم اصبہانی محدث (مصنف حلیۃ اولیاء) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
یوم ولادت:
۳۳۶ھ / وفات ۴۳۰ھ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: احمد ، کنیت: ابو نعیم
سلسلۂ نسب یہ ہے:
احمد بن عبداللہ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن وائل بن مہران۔
آپ کی ولادت رجب ۳۳۶ھ میں بمقام اصفہان ہوئی۔
ابو نعیم اگر چہ عجمی نژاد تھے مگر آپ کے جد اعلیٰ مہران کو خاندان نبوت سے شرف ولاء حاصل تھا جس کی برکت نے آپ کے خاندان میں علم و عمل کو فروغ دیا آپ کے والد عبد اللہ زبردست عالم تھے انہوں نے فرزند ارجمند کو کم عمری ہی سے تحصیل علم اور سماع حدیث کے مشغلہ سے وابستہ کر دیا تھا۔ شوق علم دیکھ کر مشائخ عمدہ نے بطریق تبرک آپ کو سند حدیث عنایت فرمائی۔
حافظ ذہبی لکھتے ہیں ’’اجازلہ مشائخ الدنیا سنۃ نیف واربعین وثلاث مائۃ ولہ ست سنین‘‘ ۳۴۰ھ کے بعد جب آپ کی عمر صرف چھ سال تھی دنیا کے سربر آوردہ اور عظیم مشائخ نے آپ کو اجازت سے نوازا‘‘۔ (تذکرہ ج ۳ ص۲۷۵) ـ
شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں:
(سند اجازت مرحمت فرمانے والوں میں) ابوالعباس اصم، خیثمہ بن سلیمان طرابلسی، جعفر خلدی اور شیخ عبداللہ بن عمر بن شوذب بھی ہیں۔ اور یہ (ابو نعیم) اس خصوصیت کے ساتھ منفرد ہیں۔ (بستان المحدثین ص ۷۳)
آپ نے شیخ ابو محمد بن فارس سے ۳۴۴ھ میں پڑھنا شروع کیا طلب علم کا شوق اتنا بڑھا ہوا تھا کہ اصفہان کے علاوہ کوفہ، بصرہ، بغداد، خراسان، شام، واسط، نیشاپور، مکہ، مدینہ کا سفر کیا اور وہاں کے اساطین حدیث سے اپنے دامن کو مالا مال کیاـ
ان کے مشہور اساتذہ و شیوخ حسب ذیل ہیں:
ابو محمد بن فارس، اس کے بعد ابو احمد عسال، احمد بن معبد سمسار، احمد بن بندار عشار، احمد بن محمد قصار، عبداللہ بن حسن بن بندار، ابو بکر بن ہیثم بندار، ابو بحر بن کوثر، ابو بکر بن خلاد نصیبی، حبیب قزاز، ابو بکر جعابی، ابو القاسم طبری، ابو بکر آجری، ابو علی بن صواف، ابراہیم بن عبداللہ بن ابی العزائم کوفی، عبداللہ بن جعفر جابری، احمد بن حسن مکی، فاروق خطابی، ابوالشیخ بن حبان خراسان اور عراق کے بہت سے ائمہ سے حدیث کا سماع کیا تھا۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۲۷۵)
علم و فضل:
فطری مناسبت علم قوتِ حفظ و ضبط اور بیکراں ذوق و شوق نے امام ابو نعیم کو اپنے وقت کا جلیل القدر محدث بنا دیا تھا لوگوں نے آپ کو الحافظ المشھود، الحافظ الکبیر من اکابر الحافاظ الثقات کے القاب سے نوازا ہے۔ وقت کے ائمہ فن نے آپ کی جلالت شان فی الحدیث کاول کھول کر اعتراف کیا ہے ـ
حافظ ذہبی:
’’الحافظ الکبیر محدث العصر الصوفی‘‘ آپ صوفی باصفا، بہت بڑے حافظ حدیث اور اپنے زمانہ کے محدث اعظم ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص۲۷۵)
خطیب بغدادی:
’’لم ار احداً اطلق علیہ اسم الحفظ غیر ابی نعیم وابی حازم العدوی‘‘ میں نے حافظ ابو نعیم اصفہانی اور ابو حازم عدوی کے سوا کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جس پر بجا طور پر حافظ کا اطلاق کیا جائے۔ (ایضاّص ۲۷۶)
ابن مردوبہ:
’’کان ابو نعیم فی وقتہ مرحولا علیہِ لم یکن فی افق من الآفاق احد احفظ منہ ولا اسند منہ‘‘ حافظ ابو نعیم کی طرف استفادہ کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ دنیا کے کسی حصہ میں اس وقت ان سے بڑا حافظ حدیث کو ئی نہیں تھا اور نہ ان سے زیادہ عالی سند کوئی آدمی موجود تھا۔ (ایضاّص ۲۷۶)
حمزہ بن عباس علوی:
’’کان اصحاب الحدیث یقولون بقی الحافظ اربع عشرۃ بلا نظیر لا یوجد شرقا ولا غربا اعلیٰ اسناداًمنہ ولا احفظ منہ‘‘ محدثین کہا کرتے تھے کہ حافظ ابو نعیم کا چودہ سال تک کوئی نظیر نہیں تھا۔ مشرق و مغرب میں نہ ان سے بڑا کوئی حافظ حدیث تھا اور نہ کسی کے پاس ان سے اعلیٰ سند تھی۔ (ایضاّص ۲۷۶)
ابن نجار:
’’وہ محدثین کے سرتاج اور اعلام دین میں تھے حدیث کی جمع ورادیت کی طرح اس کی معرفت و درایت میں بھی شہرت و امتیاز رکھتے تھے‘‘۔
ابن سکھی:
’’وہ حفظ و ضبط میں مرتبۂ کمال پر فائز تھے‘‘۔ (طبقات الشافعیہ ج ۳ ص ۸) حلقۂ درس:
امام ابو نعیم کے علمی کمالات اور غیر معمولی تجرفن نے ان کی ذات کو مرجع خلائق بنا دیا تھا دور دور سے تشنگان علم نبوت کھنچ کھنچ کر ان کے حلقۂ درس میں شامل ہوا کرتے تھے ان کے گرد طلبہ کا ہجوم ہر وقت رہتا۔ اصاغر واکابر سبھی ان کی بارگاہ سے فیض باب ہوتے تھے۔ ابن مردویہ کا بیان ہے: ’’کان ابو نعیم فی وقتہ مرحولا الیہ…… کان حافظ الدنیا قد اجتمعوا عندہ وکل یوم نوبۃ واحد منھم یقرأ مایریدہ الی قریب الظھر فاذا قام الی دارہ ربما کان یقرأ علیہ فی الطریق جزء لم یکن لہ غذا سوی التسمیع والتصنیف‘‘ حافظ ابو نعیم کی طرف استفادہ کے لیے آنے والوں کا تانتا بندا رہتا تھا۔ دنیا کے حافظ حدیث آپ کے پاس جمع رہتے تھے ان میں سے رہ روز ایک ایک آدمی کی پڑھنے کی باری ہوتی تھی۔ وہ ظہر سے تھوڑی دیر پہلے تک جو چاہتا پڑھتا۔ بعض اوقات گھر کو جاتے ہوئے راستہ میں طالب علم ان سے پڑھتے
👍1
جاتے جس سے آپ گھبراتے نہیں تھے کیوں کہ حدیث پڑھانا اور کتابیں تصنیف کرنا آپ کی غذا تھی۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص ۲۷۶)
حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
’’ورحلہ الحافظ الی بابہ العلمہ وحفظہ وعلو اسنادہ‘‘ دنیا کے کونے کونے سے حفاظ حدیث آپ کے حفظ، علمی شہرت اور علو اسناد کی وجہ سے آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ (ایضاّص ۲۷۵)
تلامذہ / شاگرد
آپ سے فیضیاب ہونے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے چند اہم تلامذہ کے نام یہ ہیں: ابو بکر خطیب، ابو بکر بن علی ذکوانی، ابو سعید مالینی، ابو صالح مؤذن، ابو علی ذحشنی، ابو الفضل احمد الحداد، ابو علی حسن بن احمد حداد، سلیمان ابراہیم، قاضی عبدالسلام بن احمد کوشیار بن لیالیروز جیلی، ابو بکر محمد بن ابراہیم عطار، ابو منصور محمد بن عبداللہ شروطی، ابو سعید محمد بن محمد مطرز، ہبۃ اللہ بن محمد شیرازی، یوسف بن تفکری۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص ۲۷۵)
دیگر علوم وفنون:
حدیث کے علاوہ فقہ اور تصوف میں بھی کافی ورک تھا مسلکاّ وہ شافعی تھے تصوف و سلوک سے ان کی دلچسپی موروثی تھی ان کے نانا محمد بن یوسف بلند پایہ صوفی بزرگ تھے تصوف میں امام ابو نعیم کے کمال کی سند ان کی کتاب حلیلۃ الاولیاء ہے۔
تصانیف:
امام ابو نعیم باکمال مصنف تھے انہوں نے بہت سی گراں مایہ کتابیں لکھی ہیں جن میں چند کے نام یہ ہیں۔ کتاب معرفۃ الصحابہ، کتاب دلائل النبوۃ دو جلد، کتاب المستخرج علی البخاری، کتاب المستخرج علی مسلم، کتاب تاریخ اصفہان ، صفۃ الجنۃ، کتاب الطب، کتاب المعتقد۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۲۷۶)
اس کے علاوہ مزید کتابیں ہیں کتاب الاربعین، تثبیت الرویا، کتاب حرمۃ المساجد، رسائل مختصرۃ، ریاختہ المتعلمین، طرق حدیث، عمل الیوم واہللیلۃ، کتاب الفتن، کتاب فضائل الخلفاء، کتاب فضائل الصحابہ، فضلا لسواک، کتاب فضل عالم العفیف، کتابا لفوائد، مختصر الاستیعاب، کتاب معجم الشیوخ ۳ جلد، کتاب معجم الصحابہ، کتاب علوم الحدیث، کتاب المستخرج علی التوحید، کتاب المہدی۔
دلائل النبوۃ:
امام ابو نعیم کی مطبعہ کتابوں میں اس کتاب کو بڑی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اس کتاب میں وہ تمام واقعات و مرویات سنداً بیان کیے گئے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خصائص و کامالت اور فضائل و مکارم نیز دلائل نبوت اور معجزات وغیرہ سے متعلق ہیں پہلے قرآن مجید کی روشنی میں رسول اکرم ﷺ کے اوصاف و خصوصیات بیان کیے گئے ہیں اور تائید میں روایات بھی پیش کی گئی ہیں پھر آپ کے حسب و نسب کی فضیلت اور قدیم کتابوں اور انبیاء سابقین کے صحیفوں میں آپ کے بارے میں جو پشین گوئیاں ہے ان کو ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد آپ کی ولادت سے وفات تک کے تمام حیرت انگیز واقعات اور معجزات اور آپ کی پیشین گوئیوں اور امور نوعیت وغیرہ بھی بیان کر دی ہے اور بعض شبہات و اشکالات کو بھی رفع کیا ہے آخر میں بعض مشہور بعض جلیل القدر انبیاء کے خاص اور اہم معجزات کا تذکرہ کرنے کے بعد دیکھایا گیا کہ حضور ﷺ کو بھی اسی نویت کے معجزات عطا کیے گئےتھے۔ حلیۃ الاولیاء:
یہ کتاب امام ابو نعیم کی سب سے بے نظیر کتاب ہے صاحب کشف الظنون نے عمدہ اور معتبر کتاب بتایا ہے۔
حافظ سبقی نے اسے عدیم النظیر کتاب بتایا ہے وہ کہتے ہیں ’’ولم یصنف مثل کتابہ حلیۃ الاولیاء‘‘ آج تک ایسی کتاب نہیں لکھی گئی۔ (تذکرہ ج ۳ ۲۷۵) مصنف کی زندگی میں اس کو شہرت اور غیر معمولی حسن قبول و اعتبار حاصل وہگیا تھا اسی زمانہ میں جب نیشاپور پہونچی تو لوگوں نے چار سو دینار میں خریدا۔ (ایضاّ)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں ان کی ناور و عجیب کتابوں میں سے حلیۃ الاولیاء ایسی نادر کتاب ہے جس کی نظیر اسلام میں نصیب نہیں ہوئی۔ (بستان المحدثین ص ۷۴)
حافظ ابن کثیر کا بیان ہے:
اس سے مصنف کی وسعت نظر ان کے شیوخ کی کثرت اور مخارج و طرق حدیث سے پوری واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
طبقات صوفیہ میں یہ نہایت اہم اور عمدہ کتاب ہے اس موضوع پر اس سے قبل کوئی کتاب ایسی بہتر و جامع نہیں لکھی گئی تھی۔ علامہ ابن جوزی نے اپنی مشہور کتاب صفوۃ الصفوۃ کی بنیاد اسی پر رکھی۔
حلیۃ الاولیاء میں ان صحابۂ کرام، تابعین عظام، تبع تابعین اور مابعد کے ائمہ اعلام کا تذکرہ ہے جو زہد تقویٰ اور معرفت و سلوک میں ممتاز تھے ان بزرگوں کے فضائل و مناقب اور ان کے واقعات و حکایات جمع کر کے تصوف میں ان کا مرتبہ واضح کیا گیا ہے۔ اور ان سے مروی حدیثیں اور ان کے عارفانہ اقوال و ملفوظات بھی درج کیے گئے ہیں۔
وفات:
۲۰ محرم الحرام ۴۳۰ھ میں ۹۴ سال کی عمر پاکر داعئ اجل کو لبیک کہا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hafiz-abu-nuaim-ahmad-bin-abdullah-al-asbahani
حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
’’ورحلہ الحافظ الی بابہ العلمہ وحفظہ وعلو اسنادہ‘‘ دنیا کے کونے کونے سے حفاظ حدیث آپ کے حفظ، علمی شہرت اور علو اسناد کی وجہ سے آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ (ایضاّص ۲۷۵)
تلامذہ / شاگرد
آپ سے فیضیاب ہونے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے چند اہم تلامذہ کے نام یہ ہیں: ابو بکر خطیب، ابو بکر بن علی ذکوانی، ابو سعید مالینی، ابو صالح مؤذن، ابو علی ذحشنی، ابو الفضل احمد الحداد، ابو علی حسن بن احمد حداد، سلیمان ابراہیم، قاضی عبدالسلام بن احمد کوشیار بن لیالیروز جیلی، ابو بکر محمد بن ابراہیم عطار، ابو منصور محمد بن عبداللہ شروطی، ابو سعید محمد بن محمد مطرز، ہبۃ اللہ بن محمد شیرازی، یوسف بن تفکری۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص ۲۷۵)
دیگر علوم وفنون:
حدیث کے علاوہ فقہ اور تصوف میں بھی کافی ورک تھا مسلکاّ وہ شافعی تھے تصوف و سلوک سے ان کی دلچسپی موروثی تھی ان کے نانا محمد بن یوسف بلند پایہ صوفی بزرگ تھے تصوف میں امام ابو نعیم کے کمال کی سند ان کی کتاب حلیلۃ الاولیاء ہے۔
تصانیف:
امام ابو نعیم باکمال مصنف تھے انہوں نے بہت سی گراں مایہ کتابیں لکھی ہیں جن میں چند کے نام یہ ہیں۔ کتاب معرفۃ الصحابہ، کتاب دلائل النبوۃ دو جلد، کتاب المستخرج علی البخاری، کتاب المستخرج علی مسلم، کتاب تاریخ اصفہان ، صفۃ الجنۃ، کتاب الطب، کتاب المعتقد۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۲۷۶)
اس کے علاوہ مزید کتابیں ہیں کتاب الاربعین، تثبیت الرویا، کتاب حرمۃ المساجد، رسائل مختصرۃ، ریاختہ المتعلمین، طرق حدیث، عمل الیوم واہللیلۃ، کتاب الفتن، کتاب فضائل الخلفاء، کتاب فضائل الصحابہ، فضلا لسواک، کتاب فضل عالم العفیف، کتابا لفوائد، مختصر الاستیعاب، کتاب معجم الشیوخ ۳ جلد، کتاب معجم الصحابہ، کتاب علوم الحدیث، کتاب المستخرج علی التوحید، کتاب المہدی۔
دلائل النبوۃ:
امام ابو نعیم کی مطبعہ کتابوں میں اس کتاب کو بڑی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اس کتاب میں وہ تمام واقعات و مرویات سنداً بیان کیے گئے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خصائص و کامالت اور فضائل و مکارم نیز دلائل نبوت اور معجزات وغیرہ سے متعلق ہیں پہلے قرآن مجید کی روشنی میں رسول اکرم ﷺ کے اوصاف و خصوصیات بیان کیے گئے ہیں اور تائید میں روایات بھی پیش کی گئی ہیں پھر آپ کے حسب و نسب کی فضیلت اور قدیم کتابوں اور انبیاء سابقین کے صحیفوں میں آپ کے بارے میں جو پشین گوئیاں ہے ان کو ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد آپ کی ولادت سے وفات تک کے تمام حیرت انگیز واقعات اور معجزات اور آپ کی پیشین گوئیوں اور امور نوعیت وغیرہ بھی بیان کر دی ہے اور بعض شبہات و اشکالات کو بھی رفع کیا ہے آخر میں بعض مشہور بعض جلیل القدر انبیاء کے خاص اور اہم معجزات کا تذکرہ کرنے کے بعد دیکھایا گیا کہ حضور ﷺ کو بھی اسی نویت کے معجزات عطا کیے گئےتھے۔ حلیۃ الاولیاء:
یہ کتاب امام ابو نعیم کی سب سے بے نظیر کتاب ہے صاحب کشف الظنون نے عمدہ اور معتبر کتاب بتایا ہے۔
حافظ سبقی نے اسے عدیم النظیر کتاب بتایا ہے وہ کہتے ہیں ’’ولم یصنف مثل کتابہ حلیۃ الاولیاء‘‘ آج تک ایسی کتاب نہیں لکھی گئی۔ (تذکرہ ج ۳ ۲۷۵) مصنف کی زندگی میں اس کو شہرت اور غیر معمولی حسن قبول و اعتبار حاصل وہگیا تھا اسی زمانہ میں جب نیشاپور پہونچی تو لوگوں نے چار سو دینار میں خریدا۔ (ایضاّ)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں ان کی ناور و عجیب کتابوں میں سے حلیۃ الاولیاء ایسی نادر کتاب ہے جس کی نظیر اسلام میں نصیب نہیں ہوئی۔ (بستان المحدثین ص ۷۴)
حافظ ابن کثیر کا بیان ہے:
اس سے مصنف کی وسعت نظر ان کے شیوخ کی کثرت اور مخارج و طرق حدیث سے پوری واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
طبقات صوفیہ میں یہ نہایت اہم اور عمدہ کتاب ہے اس موضوع پر اس سے قبل کوئی کتاب ایسی بہتر و جامع نہیں لکھی گئی تھی۔ علامہ ابن جوزی نے اپنی مشہور کتاب صفوۃ الصفوۃ کی بنیاد اسی پر رکھی۔
حلیۃ الاولیاء میں ان صحابۂ کرام، تابعین عظام، تبع تابعین اور مابعد کے ائمہ اعلام کا تذکرہ ہے جو زہد تقویٰ اور معرفت و سلوک میں ممتاز تھے ان بزرگوں کے فضائل و مناقب اور ان کے واقعات و حکایات جمع کر کے تصوف میں ان کا مرتبہ واضح کیا گیا ہے۔ اور ان سے مروی حدیثیں اور ان کے عارفانہ اقوال و ملفوظات بھی درج کیے گئے ہیں۔
وفات:
۲۰ محرم الحرام ۴۳۰ھ میں ۹۴ سال کی عمر پاکر داعئ اجل کو لبیک کہا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hafiz-abu-nuaim-ahmad-bin-abdullah-al-asbahani
www.scholars.pk
Hazrat Sheikh Hafiz Abu Nuaim Ahmad Bin Abdullah Al-Asbahani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles |…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles |…
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم = اذان بلالی ‼
میرے ایک تحقیقی مقالے کاخلاصہ پیش خدمت ہے
میرے سکالر ساتھیو!!!
اذان بلالی کا مشہور واقعہ جس قدر بالتفصیل غلام فرید، مقبول صابری کی قوالی میں ہے شاید اس قدر تفصیل تو جعل ساز علماء کو بھی معلوم نہ ہو اس واقعے کو علامہ ارشد القادری نے زلف وزنجیر،خواجہ اللہ بخش علیہ الرحمہ نے غذاء المحبین،اور ابن قدامہ حنبلی نے المغنی،اور ان کے ایک بھتیجے شمس الدین عمرنے "المقنع" میں ذکر کیا ہے
تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور منافقین کی سازش پر مبنی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت بلال کا متبادل جو صحابی اذان کیلئے مقرر ہوا کیا وہ (معاذاللہ)کسی قصائی کابیٹا تھا کہ سورج طلوع نہ ہوا؟
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹ پر مبنی واقعہ ہے
آئیے دلائل ملاحظہ فرمائیں ‼
1: ملاعلی قاری فرماتے ہیں
"حدیث:ان بلالا کان یبدل الشین فی الاذان سینا"
قال المزی فیمانقلہ عنہ البرھان السفاقسی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم نرہ فی شیئ من الکتب"
الاسرار المرفوعہ فی اخبارالموضوعہ ص 73
یعنی یہ جو مشھور بات کہ حضرت بلال اذان میں شین کو سین پڑھتے تھے امام مزی سے برھان سفاقسی نقل کرتے ہیں کہ یہ محض بے اصل کہانی ھےعوام میں مشہور ہے مگر کسی کتاب میں ھمیں نہیں ملی
2:امام عجلونی فرماتے ہیں
"قال ابن کثیر لیس لہ ولایصح "وتقدم فی ان بلالا"
لکن قال ابن قدامہ فی مغنیہ روی ان بلالا کان یقول اسھدیجعل الشین سیناوالمعتمدھوالاول فقدترجمہ غیرواحد بانہ کان اندی الصوت حسنہ فصیح الکلام وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لصاحب رویا الاذان عبداللہ بن زیدالق علیہ ای علی بلال الاذان فانہ اندی صوتامنک فلوکانت فیہ لثغہ لتوفرت الدواعی علی نقلھا
ولعابھا اھل النفاق علیہ المبالغون فی التنقیص لاھل الاسلام۔ انتھی؛
وقال العلامہ ابراھیم الباجی فی "مولدہ"
واشھدباللہ للہ ان سیدی بلالاماقال اسھد بالسین المھملہ قط کماوقع لموفق الدین ابن قدامہ فی مغنیہ وقلدہ ابن اخیہ الشیخ ابوعمرشمس الدین فی شرحہ کتاب المقنع وردعلیہ الحفاظ کمابسطتہ فی ذکر موذنیہ بل کان بلال من افصح الناس وانداھم صوتا"
کشف الخفاء للعجلونی ص564ج1
حافظ ابن کثیر فرماتےہیں
اس واقعے کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ درست ہے اس کی بحث"ان بلالا"کے عنوان سے گذرچکی ہے
لیکن علامہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب "المغنی" میں روایت کیاہے کہ حضرت بلال اسھد کہتے تھے یعنی شین کوسین پڑھتے تھے لیکن معتمدبات پہلی ہے(یعنی اس واقعہ کی اصل نہیں)بہت سے لوگوں نے حضرت بلال کے حالات زندگی لکھے اور یہ بھی لکھاہے کہ وہ بلندآواز تھے، ان کی آواز خوبصورت تھی،وہ فصیح وبلیغ تھے،اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے متعلق خواب دیکھنے والے صحابی عبداللہ بن زید سے خود کہاہے کہ اذان حضرت بلال کوسکھاوکیونکہ وہ بلند آوازہیں
اگربالفرض وہ توتلے ہوتے تواس بات کو بہت سے لوگ نقل کرتے، اصل بات یہ ھے کہ منافقین نے حضرت بلال پر عیب پرلگایاہے ان کی عادت ہے کہ وہ حدسے زیادہ صحابہ اوراھل اسلام کی تنقیص کرتے ہیں (انتھی)
علامہ ابراھیم باجی اپنی کتاب "مولد"میں فرماتے ہیں قسم بخداحضرت بلال اسھد نہیں کہتے تھے یہ تو ابن قدامہ اور ان کے بھتیجے شمس الدین نے غلط لکھاہے اس بات کو حفاظ حدیث نے ردکردیا ہے میں نے اپنی کتاب "موذنین رسول"میں خوب تفصیل سے اسکی تردید کی ،
سچی بات یہ ھے کہ حضرت بلال کی زبان بالکل فصیح تھی اور ان کی آواز بلند تھی:
3:حاشیہ نزھہ النظر شرح نخبہ الفکر میں ہے
"وامثلہ احادیث الموضوعہ کثیرہ منھا حدیث سین بلال عنداللہ شین"
حاشیہ شرح نخبہ ص14
یعنی احادیث موضوعہ بہت ہیں ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت بلال کے شین کوسین پڑھنے کاواقعہ ہے
4:علامہ عجلونی ایک اور مقام پررقمطرازہیں
"قال فی الدرر لم یرد فی شیئ من الکتب ، وقال القاری لیس لہ اصل وقال البرھان السفاقسی نقلاعن الامام المزی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم یرد فی شیئ من الکتب "
کشف الخفاء ص263ج1
یعنی درر میں ہے کہ یہ واقعہ کسی کتاب میں نہیں ہے ملاعلی قاری،برھان سفاقسی،علامہ مزی وغیرہ نے اس کوموضوع قرار دیاہے
5:علامہ زرقانی فرماتے ہیں
"سین بلال عنداللہ شین باطل لااصل لہ"
مختصر مقاصدالحسنہ ص140
حضرت بلال کاشین کوسین پڑھنے کاواقعہ من گھڑت ہے
6:مقاصد حسنہ میں ہے
"سین بلال عند اللہ شین لااصل لہ وقدترجمہ غیرواحد بانہ ندی الصوت حسنہ فصیحہ ولعابھااھل النفاق والضلال المجتھدین فی التنقیص لاھل الاسلام نسال اللہ التوفیق"
المقاصد الحسنہ ص295ج1ملخصا
سین بلال عنداللہ شین بالکل بے اصل حدیث ہے حالانکہ حضرت بلال کی سیرت کئی لوگوں نے بیان کیاہے اور سب نے لکھا ہے کہ ان کی آواز خوبصورت تھی اور وہ فصیح وبلیغ تھے یہ عیب جوئی منافقین کوسوجھی اسلام کے ازلی دشمنوں نے اس واقعہ کوگھڑاہے
ھم اللہ سے خیر کے سوالی ہیں ‼
واللہ تعالیٰ اعلم ‼ اپناخیال رکھئیے گا ‼
فقط والسلام ‼
آپکا اپنا محمد عرفان الحق نقشبندی
میرے ایک تحقیقی مقالے کاخلاصہ پیش خدمت ہے
میرے سکالر ساتھیو!!!
اذان بلالی کا مشہور واقعہ جس قدر بالتفصیل غلام فرید، مقبول صابری کی قوالی میں ہے شاید اس قدر تفصیل تو جعل ساز علماء کو بھی معلوم نہ ہو اس واقعے کو علامہ ارشد القادری نے زلف وزنجیر،خواجہ اللہ بخش علیہ الرحمہ نے غذاء المحبین،اور ابن قدامہ حنبلی نے المغنی،اور ان کے ایک بھتیجے شمس الدین عمرنے "المقنع" میں ذکر کیا ہے
تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور منافقین کی سازش پر مبنی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت بلال کا متبادل جو صحابی اذان کیلئے مقرر ہوا کیا وہ (معاذاللہ)کسی قصائی کابیٹا تھا کہ سورج طلوع نہ ہوا؟
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹ پر مبنی واقعہ ہے
آئیے دلائل ملاحظہ فرمائیں ‼
1: ملاعلی قاری فرماتے ہیں
"حدیث:ان بلالا کان یبدل الشین فی الاذان سینا"
قال المزی فیمانقلہ عنہ البرھان السفاقسی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم نرہ فی شیئ من الکتب"
الاسرار المرفوعہ فی اخبارالموضوعہ ص 73
یعنی یہ جو مشھور بات کہ حضرت بلال اذان میں شین کو سین پڑھتے تھے امام مزی سے برھان سفاقسی نقل کرتے ہیں کہ یہ محض بے اصل کہانی ھےعوام میں مشہور ہے مگر کسی کتاب میں ھمیں نہیں ملی
2:امام عجلونی فرماتے ہیں
"قال ابن کثیر لیس لہ ولایصح "وتقدم فی ان بلالا"
لکن قال ابن قدامہ فی مغنیہ روی ان بلالا کان یقول اسھدیجعل الشین سیناوالمعتمدھوالاول فقدترجمہ غیرواحد بانہ کان اندی الصوت حسنہ فصیح الکلام وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لصاحب رویا الاذان عبداللہ بن زیدالق علیہ ای علی بلال الاذان فانہ اندی صوتامنک فلوکانت فیہ لثغہ لتوفرت الدواعی علی نقلھا
ولعابھا اھل النفاق علیہ المبالغون فی التنقیص لاھل الاسلام۔ انتھی؛
وقال العلامہ ابراھیم الباجی فی "مولدہ"
واشھدباللہ للہ ان سیدی بلالاماقال اسھد بالسین المھملہ قط کماوقع لموفق الدین ابن قدامہ فی مغنیہ وقلدہ ابن اخیہ الشیخ ابوعمرشمس الدین فی شرحہ کتاب المقنع وردعلیہ الحفاظ کمابسطتہ فی ذکر موذنیہ بل کان بلال من افصح الناس وانداھم صوتا"
کشف الخفاء للعجلونی ص564ج1
حافظ ابن کثیر فرماتےہیں
اس واقعے کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ درست ہے اس کی بحث"ان بلالا"کے عنوان سے گذرچکی ہے
لیکن علامہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب "المغنی" میں روایت کیاہے کہ حضرت بلال اسھد کہتے تھے یعنی شین کوسین پڑھتے تھے لیکن معتمدبات پہلی ہے(یعنی اس واقعہ کی اصل نہیں)بہت سے لوگوں نے حضرت بلال کے حالات زندگی لکھے اور یہ بھی لکھاہے کہ وہ بلندآواز تھے، ان کی آواز خوبصورت تھی،وہ فصیح وبلیغ تھے،اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے متعلق خواب دیکھنے والے صحابی عبداللہ بن زید سے خود کہاہے کہ اذان حضرت بلال کوسکھاوکیونکہ وہ بلند آوازہیں
اگربالفرض وہ توتلے ہوتے تواس بات کو بہت سے لوگ نقل کرتے، اصل بات یہ ھے کہ منافقین نے حضرت بلال پر عیب پرلگایاہے ان کی عادت ہے کہ وہ حدسے زیادہ صحابہ اوراھل اسلام کی تنقیص کرتے ہیں (انتھی)
علامہ ابراھیم باجی اپنی کتاب "مولد"میں فرماتے ہیں قسم بخداحضرت بلال اسھد نہیں کہتے تھے یہ تو ابن قدامہ اور ان کے بھتیجے شمس الدین نے غلط لکھاہے اس بات کو حفاظ حدیث نے ردکردیا ہے میں نے اپنی کتاب "موذنین رسول"میں خوب تفصیل سے اسکی تردید کی ،
سچی بات یہ ھے کہ حضرت بلال کی زبان بالکل فصیح تھی اور ان کی آواز بلند تھی:
3:حاشیہ نزھہ النظر شرح نخبہ الفکر میں ہے
"وامثلہ احادیث الموضوعہ کثیرہ منھا حدیث سین بلال عنداللہ شین"
حاشیہ شرح نخبہ ص14
یعنی احادیث موضوعہ بہت ہیں ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت بلال کے شین کوسین پڑھنے کاواقعہ ہے
4:علامہ عجلونی ایک اور مقام پررقمطرازہیں
"قال فی الدرر لم یرد فی شیئ من الکتب ، وقال القاری لیس لہ اصل وقال البرھان السفاقسی نقلاعن الامام المزی انہ اشتھر علی السنہ العوام ولم یرد فی شیئ من الکتب "
کشف الخفاء ص263ج1
یعنی درر میں ہے کہ یہ واقعہ کسی کتاب میں نہیں ہے ملاعلی قاری،برھان سفاقسی،علامہ مزی وغیرہ نے اس کوموضوع قرار دیاہے
5:علامہ زرقانی فرماتے ہیں
"سین بلال عنداللہ شین باطل لااصل لہ"
مختصر مقاصدالحسنہ ص140
حضرت بلال کاشین کوسین پڑھنے کاواقعہ من گھڑت ہے
6:مقاصد حسنہ میں ہے
"سین بلال عند اللہ شین لااصل لہ وقدترجمہ غیرواحد بانہ ندی الصوت حسنہ فصیحہ ولعابھااھل النفاق والضلال المجتھدین فی التنقیص لاھل الاسلام نسال اللہ التوفیق"
المقاصد الحسنہ ص295ج1ملخصا
سین بلال عنداللہ شین بالکل بے اصل حدیث ہے حالانکہ حضرت بلال کی سیرت کئی لوگوں نے بیان کیاہے اور سب نے لکھا ہے کہ ان کی آواز خوبصورت تھی اور وہ فصیح وبلیغ تھے یہ عیب جوئی منافقین کوسوجھی اسلام کے ازلی دشمنوں نے اس واقعہ کوگھڑاہے
ھم اللہ سے خیر کے سوالی ہیں ‼
واللہ تعالیٰ اعلم ‼ اپناخیال رکھئیے گا ‼
فقط والسلام ‼
آپکا اپنا محمد عرفان الحق نقشبندی
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اذان نہ دینے کا واقعہ بے اصل ہے.🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اَلسَــلامُ عَلَيْـكُم وَرَحْمَـةُ اَللهِ وَبَـرَكاتُــهُ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل:👈🏻محمد توفیق رضا خان*
*✧ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ـــــــــــــــــــــــــــ✧*
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*📚الجــــواب👇🏻*
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ حضرات نے ان کی اذان پر اعتراض کیا کہ وہ شین کو سین کہتے ہیں..*
*تو حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں معزول کر دیا اور کسی دوسرے صاحب نے اذان دی تو صبح نہ ہوئ*
*جب اذان حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی تب صبح ہوئ.*
*یہ واقعہ بے اصل ہے مستند و معتبر حدیث و تاریخ کی کتابوں میں کہیں نہیں جو صاحب بیان کریں ان سے معلوم کرنا چاہیۓ کہ انہوں نے یہ واقعہ کہاں دیکھا.*
*اور یہ حدیث کہ حضرت رسول پاک ﷺ نے فرمایا👇*
*(سین بلال عنداللہ شین)*
*بلال کی سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے*
*اس حدیث کو حضرت مولانا قاری علی مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گڑھی ہوئ فرمایا"*
*بحــــوالہ👇*
*📚(موضوعات کبیر ص/43)*
*📚(فتاویٰ بحرالعلوم ج/5 ص/380)*
*واللہ تعالیٰ اعلــم بــاالصـــوابـــــ*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📝شــــرف قلـــــم📝*
*حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد آفتاب عالم رحمتی دہلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خطیب و امام جامع مسجد مہا سموند (چھتیس گڑھ)*
*رابطہ کریں:+917860124553*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اَلسَــلامُ عَلَيْـكُم وَرَحْمَـةُ اَللهِ وَبَـرَكاتُــهُ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل:👈🏻محمد توفیق رضا خان*
*✧ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ـــــــــــــــــــــــــــ✧*
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*📚الجــــواب👇🏻*
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ حضرات نے ان کی اذان پر اعتراض کیا کہ وہ شین کو سین کہتے ہیں..*
*تو حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں معزول کر دیا اور کسی دوسرے صاحب نے اذان دی تو صبح نہ ہوئ*
*جب اذان حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی تب صبح ہوئ.*
*یہ واقعہ بے اصل ہے مستند و معتبر حدیث و تاریخ کی کتابوں میں کہیں نہیں جو صاحب بیان کریں ان سے معلوم کرنا چاہیۓ کہ انہوں نے یہ واقعہ کہاں دیکھا.*
*اور یہ حدیث کہ حضرت رسول پاک ﷺ نے فرمایا👇*
*(سین بلال عنداللہ شین)*
*بلال کی سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے*
*اس حدیث کو حضرت مولانا قاری علی مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گڑھی ہوئ فرمایا"*
*بحــــوالہ👇*
*📚(موضوعات کبیر ص/43)*
*📚(فتاویٰ بحرالعلوم ج/5 ص/380)*
*واللہ تعالیٰ اعلــم بــاالصـــوابـــــ*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📝شــــرف قلـــــم📝*
*حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد آفتاب عالم رحمتی دہلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خطیب و امام جامع مسجد مہا سموند (چھتیس گڑھ)*
*رابطہ کریں:+917860124553*
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 امجــــدی مضـــامین 📚*
--------------------------------------------------------------
*🕯اذان بلال اور سورج کا نکلنا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-
کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،
ع *ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے*
اس روایت کے متعلق علمائے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
*(1)* امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
(البداية والنهاية، ج5، ص477)
*(2)* امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-
(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)
*(3)* امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-
(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)
*(4)* علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-
(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)
*(5)* علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص186، ر1378)
*(6)* امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-
(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)
*(7)* علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-
(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)
*(8)* علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-
(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)
*(9)* علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)
*(10)* علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص530، ر1520)
*(11 تا 15)* اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-
*(16)* علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-
(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)
*(17)* علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-
(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
*(18)* مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)
ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و ح
--------------------------------------------------------------
*🕯اذان بلال اور سورج کا نکلنا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-
کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،
ع *ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے*
اس روایت کے متعلق علمائے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
*(1)* امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
(البداية والنهاية، ج5، ص477)
*(2)* امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-
(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)
*(3)* امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-
(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)
*(4)* علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-
(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)
*(5)* علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص186، ر1378)
*(6)* امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-
(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)
*(7)* علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-
(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)
*(8)* علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-
(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)
*(9)* علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)
*(10)* علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص530، ر1520)
*(11 تا 15)* اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-
*(16)* علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-
(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)
*(17)* علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-
(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
*(18)* مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)
ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و ح
👍1