🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-01-1444 ᴴ | 17-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-01-1444 ᴴ | 18-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-01-1444 ᴴ | 18-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-01-1444 ᴴ | 18-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی
یوم پیدائش 20 محرم الحرام
علّامہ کوکب نورانی اوکاڑوی ایک مختصر تعارف : علامہ محمد کوکب نورانی اوکاڑوی علّامہ محمد شفیع اوکاڑوی
ولادت:
آپ ماہِ محرم الحرام ، 17اگست 1957ء بہ وقتِ فجرِ صبح صادق بمقام سلطان مینشن عقب بولٹن مارکیٹ کراچی میں پیدا ہوئے ،
آپ راسخ العقیدہ اور متصلّب سُنّی حنفی ہیں۔ آپ کا پیدائشی نام عقیقے کے موقع پر ’’ احمد ‘‘ رکھا گیا آپ نے پورے نام کا سجع یوں کہا ہے: کوکبِ نورانی را اَحمد ( ﷺ ) شفیع آپ یمنی شیوخ کے اس تاجر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو حضرت ابو بکر صدّیق کی بدولت مشرف بہ اسلام ہُوا، اِس خاندان کے افراد بغرضِ تجارت ہندوستان آئے اور کچھ وہاں آباد ہو گئے ، آپ کے خاندان کے بزرگ تاجر پیشہ اور صوفی منش تھے۔
بھائی اور بہن:
آپ گیارہ بہن بھائی تھے جن میں سے آپ سے دو بڑے بھائی کم سِنی میں وفات پا گئے، اب آپ سمیت تین بھائی اور چھ بہنیں بِفَضْلِہٖ تَعَالیٰ حیات ہیں۔
ابتدائی تعلیم:
آپ کا ابتدائی بچپن اوکاڑا ( پنجاب ) میں گزرا ، اشرف المدارس ہائی اسکول اور جامعہ حنفیہ اشرف المدارس ، جی ٹی روڈ ، اوکاڑا میں ابتدائی دِینی و دُنیوی تعلیم حاصل کی ۔
آپ نے گیارہ برس کی عمر میں مولانا قاری محمد عبد اللطیف امجد سعیدی سے قرآن پاک حِفظ کیا ، میٹرک کا امتحان آپ نے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 1 ، پی ۔ ای ۔ سی ۔ ایچ سوسائٹی کراچی سے 1971ء میں پاس کیا۔ آپ نے انٹر کا امتحان گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی سے 1973ء میں پاس کیا، مزید تعلیم آپ نے پرائی ویٹ حاصل کی ، اور ڈاکٹریٹ ( پی ایچ ڈی ) کی ڈگری بیرونِ ملک سے حاصل کی ۔
دینی تعلیم:
آپ نے دِینی تعلیم دار العلوم حنفیّہ غوثیہ کراچی ، اشرف المدارس اوکاڑا ، اور پھر مدرسہ عربیہ اسلامی انوار العلوم ملتان میں مکمل کی ،
اساتذہ:
درسِ نظامی و دورۂ حدیث شریف و تفسیر آپ نے اپنے والدِ گرامی حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی ، حضرت شیخ الاسلام مولانا غلام علی اوکاڑوی، غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ، عالمِ حجاز علّامہ سیّد محمد علوی مالکی ، مفتیِ بغداد ملا عبدالکریم المدرس، فاضلِ جلیل علامہ زید ابو الحسن فاروقی مجددی دہلوی اور مولانا شیخ محمد علی حلبی مدنی جیسے مقتدر علمائے کرام سے مختلف اَدوار میں کیا،
بعد اَزاں آپ نے مدینہ منوّرہ، دمشق، بغداد، ترکی اور دہلی کے ممتاز علماء و مشائخ کرام سے بھی اسناد حدیث و تفسیر اور اجازات حاصل کریں۔
شعر واَدب اور خطّاطی سے لگاؤ:
اُردو اور فارسی شعر واَدب میں جن لوگوں نے آپ کی رہ نمائی فرمائی ان میں سیّد محمد قائم افسر الٰہ آبادی ، جناب اقتدار احمد اکبر حیدر آبادی ، جناب صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ، جناب کرنل محمد خان اور جناب شکیل عادل زادہ شامل ہیں ۔
اسکول اور کالج کے زمانے میں متعدد مباحثوں اور قرأت و نعت کے مقابلوں میں شامل ہوتے رہے اور انعامات حاصل کیے اور اسی دَور سے شعر و اَدب سے گہرا لگاؤ رہا ، اسکول بزمِ اَدب کے صدر اور ادبی ماہ نامے کے مدیر بھی رہے ۔ فنِ خطّاطی میں آپ نے مولانا قاری محمد طفیل امرت سری اور خطّاطِ اسلام حافظ محمد یوسف سدیدی سے رہ نمائی حاصل کی ۔ علمی طلب کے ابتدائی دَور میں آپ نے ’’بزمِ شاہینِ پاکستان ‘‘ کے نام سے طلبہ و نوجوانوں کی تنظیم قائم کی جس کا مقصد فروغِ تعلیم ، نادار طلبہ کی امداد اور قرأت و نعت وتقاریر کے مقابلوں کا انعقاد کرنا اور اسلامی تیوہار منانا تھا ۔
بیعت و خلافت:
1964ء میں آپ غوثِ زماں حضرت گنجِ کرم پیر سیّد محمد اسمٰعیل شاہ بخاری المعروف حضرت کرماں والے کے ہاتھ پر نقش بندی سلسلۂ طریقت میں بیعت ہوئے ۔
بعد اَزاں غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی اور خان وادہِ غوثِ اعظم میں پِیر سید طاہر علاؤ الدین گِیلانی کے ہاتھ پر بیعتِ تبرک کی۔ آپ کو عرب و عجم کے 19 مشائخِ کرام سے تمام سلاسلِ طریقت میں خلافت و اجازت حاصل ہے۔ آپ کے مریدین دنیا بھر میں خاصی تعداد میں ہیں۔
آپ نے 1965ء اور 1971ء کی پاک و ہند جنگ کے موقع پر شہری دفاع اور اسکاؤٹس کے ساتھ تعاون کِیا ۔ ۱۹۷۴ء میں تحریکِ ختمِ نبوّت اور ۱۹۷۷ء میں تحریکِ نظامِ مصطفی ( ﷺ ) میں اپنے والدِ گرامی خطیبِ اعظم پاکستان کے شانہ بَہ شانہ نمایاں خدمات انجام دِیں ۔ آپ ۱۹۶۷ء سے ریڈیو پاکستان سے براڈکاسٹ اور 1969ء سے تاحال پاکستان ٹیلی وِژن اور دنیا بھر کے 50 ٹی وی چینلز سے ٹیلے کاسٹ کیے جارہے ہیں۔
مستقل خطابت:
آپ جامعہ میں معلّم و مدرّس بننے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن آپ کے والدِ یہ چاہتے تھے کہ آپ ان ہی کے طریق پر خطیب و ادیب بنیں چناں چہ پہلے جُزوی طَور پر اور پھر 1984ء سے خطیبِ اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی وفات کے بعد آپ نے باقاعدہ مستقل درس و خطابت کا سلسلہ شروع کِیا اور جامع مسجد گل زارِ حبیب ، گلستانِ اوکاڑوی (سولجر بازار ) کراچی میں جمعہ کی خطابت و امامت کا آغاز کِیا جو تاحال جاری ہے ، اس سے قبل آپ زیادہ تر تحریری
یوم پیدائش 20 محرم الحرام
علّامہ کوکب نورانی اوکاڑوی ایک مختصر تعارف : علامہ محمد کوکب نورانی اوکاڑوی علّامہ محمد شفیع اوکاڑوی
ولادت:
آپ ماہِ محرم الحرام ، 17اگست 1957ء بہ وقتِ فجرِ صبح صادق بمقام سلطان مینشن عقب بولٹن مارکیٹ کراچی میں پیدا ہوئے ،
آپ راسخ العقیدہ اور متصلّب سُنّی حنفی ہیں۔ آپ کا پیدائشی نام عقیقے کے موقع پر ’’ احمد ‘‘ رکھا گیا آپ نے پورے نام کا سجع یوں کہا ہے: کوکبِ نورانی را اَحمد ( ﷺ ) شفیع آپ یمنی شیوخ کے اس تاجر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو حضرت ابو بکر صدّیق کی بدولت مشرف بہ اسلام ہُوا، اِس خاندان کے افراد بغرضِ تجارت ہندوستان آئے اور کچھ وہاں آباد ہو گئے ، آپ کے خاندان کے بزرگ تاجر پیشہ اور صوفی منش تھے۔
بھائی اور بہن:
آپ گیارہ بہن بھائی تھے جن میں سے آپ سے دو بڑے بھائی کم سِنی میں وفات پا گئے، اب آپ سمیت تین بھائی اور چھ بہنیں بِفَضْلِہٖ تَعَالیٰ حیات ہیں۔
ابتدائی تعلیم:
آپ کا ابتدائی بچپن اوکاڑا ( پنجاب ) میں گزرا ، اشرف المدارس ہائی اسکول اور جامعہ حنفیہ اشرف المدارس ، جی ٹی روڈ ، اوکاڑا میں ابتدائی دِینی و دُنیوی تعلیم حاصل کی ۔
آپ نے گیارہ برس کی عمر میں مولانا قاری محمد عبد اللطیف امجد سعیدی سے قرآن پاک حِفظ کیا ، میٹرک کا امتحان آپ نے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 1 ، پی ۔ ای ۔ سی ۔ ایچ سوسائٹی کراچی سے 1971ء میں پاس کیا۔ آپ نے انٹر کا امتحان گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی سے 1973ء میں پاس کیا، مزید تعلیم آپ نے پرائی ویٹ حاصل کی ، اور ڈاکٹریٹ ( پی ایچ ڈی ) کی ڈگری بیرونِ ملک سے حاصل کی ۔
دینی تعلیم:
آپ نے دِینی تعلیم دار العلوم حنفیّہ غوثیہ کراچی ، اشرف المدارس اوکاڑا ، اور پھر مدرسہ عربیہ اسلامی انوار العلوم ملتان میں مکمل کی ،
اساتذہ:
درسِ نظامی و دورۂ حدیث شریف و تفسیر آپ نے اپنے والدِ گرامی حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی ، حضرت شیخ الاسلام مولانا غلام علی اوکاڑوی، غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ، عالمِ حجاز علّامہ سیّد محمد علوی مالکی ، مفتیِ بغداد ملا عبدالکریم المدرس، فاضلِ جلیل علامہ زید ابو الحسن فاروقی مجددی دہلوی اور مولانا شیخ محمد علی حلبی مدنی جیسے مقتدر علمائے کرام سے مختلف اَدوار میں کیا،
بعد اَزاں آپ نے مدینہ منوّرہ، دمشق، بغداد، ترکی اور دہلی کے ممتاز علماء و مشائخ کرام سے بھی اسناد حدیث و تفسیر اور اجازات حاصل کریں۔
شعر واَدب اور خطّاطی سے لگاؤ:
اُردو اور فارسی شعر واَدب میں جن لوگوں نے آپ کی رہ نمائی فرمائی ان میں سیّد محمد قائم افسر الٰہ آبادی ، جناب اقتدار احمد اکبر حیدر آبادی ، جناب صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ، جناب کرنل محمد خان اور جناب شکیل عادل زادہ شامل ہیں ۔
اسکول اور کالج کے زمانے میں متعدد مباحثوں اور قرأت و نعت کے مقابلوں میں شامل ہوتے رہے اور انعامات حاصل کیے اور اسی دَور سے شعر و اَدب سے گہرا لگاؤ رہا ، اسکول بزمِ اَدب کے صدر اور ادبی ماہ نامے کے مدیر بھی رہے ۔ فنِ خطّاطی میں آپ نے مولانا قاری محمد طفیل امرت سری اور خطّاطِ اسلام حافظ محمد یوسف سدیدی سے رہ نمائی حاصل کی ۔ علمی طلب کے ابتدائی دَور میں آپ نے ’’بزمِ شاہینِ پاکستان ‘‘ کے نام سے طلبہ و نوجوانوں کی تنظیم قائم کی جس کا مقصد فروغِ تعلیم ، نادار طلبہ کی امداد اور قرأت و نعت وتقاریر کے مقابلوں کا انعقاد کرنا اور اسلامی تیوہار منانا تھا ۔
بیعت و خلافت:
1964ء میں آپ غوثِ زماں حضرت گنجِ کرم پیر سیّد محمد اسمٰعیل شاہ بخاری المعروف حضرت کرماں والے کے ہاتھ پر نقش بندی سلسلۂ طریقت میں بیعت ہوئے ۔
بعد اَزاں غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی اور خان وادہِ غوثِ اعظم میں پِیر سید طاہر علاؤ الدین گِیلانی کے ہاتھ پر بیعتِ تبرک کی۔ آپ کو عرب و عجم کے 19 مشائخِ کرام سے تمام سلاسلِ طریقت میں خلافت و اجازت حاصل ہے۔ آپ کے مریدین دنیا بھر میں خاصی تعداد میں ہیں۔
آپ نے 1965ء اور 1971ء کی پاک و ہند جنگ کے موقع پر شہری دفاع اور اسکاؤٹس کے ساتھ تعاون کِیا ۔ ۱۹۷۴ء میں تحریکِ ختمِ نبوّت اور ۱۹۷۷ء میں تحریکِ نظامِ مصطفی ( ﷺ ) میں اپنے والدِ گرامی خطیبِ اعظم پاکستان کے شانہ بَہ شانہ نمایاں خدمات انجام دِیں ۔ آپ ۱۹۶۷ء سے ریڈیو پاکستان سے براڈکاسٹ اور 1969ء سے تاحال پاکستان ٹیلی وِژن اور دنیا بھر کے 50 ٹی وی چینلز سے ٹیلے کاسٹ کیے جارہے ہیں۔
مستقل خطابت:
آپ جامعہ میں معلّم و مدرّس بننے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن آپ کے والدِ یہ چاہتے تھے کہ آپ ان ہی کے طریق پر خطیب و ادیب بنیں چناں چہ پہلے جُزوی طَور پر اور پھر 1984ء سے خطیبِ اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی وفات کے بعد آپ نے باقاعدہ مستقل درس و خطابت کا سلسلہ شروع کِیا اور جامع مسجد گل زارِ حبیب ، گلستانِ اوکاڑوی (سولجر بازار ) کراچی میں جمعہ کی خطابت و امامت کا آغاز کِیا جو تاحال جاری ہے ، اس سے قبل آپ زیادہ تر تحریری
👍4❤1