🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-01-1444 ᴴ | 15-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-01-1444 ᴴ | 16-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-01-1444 ᴴ | 16-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-01-1444 ᴴ | 16-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2
مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
scholars.pk
Hazrat Abdur Rehman Jami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
👍3❤2
شہزادۂ امام حسین، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔
آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی:
شہر بانو بنت یزگرد ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ بروز جمعرات 5 شعبان المعظم 38ھ، بمطابق جنوری / 659ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ اپنے جد امجد حضرت امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کے آغوش میں تربیت پائی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے تو فرماتے" مرحبا یا حبیب ابن الحبیب" ۔
سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہیں پایا ۔ (طبقات الحفاظ) ـ
امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کہ یہ اہل فضل میں سے تھے، ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحیح اور افضل ترین وہ تمام اسانید ہیں جوزہری رضی اللہ عنہ نے اِن سے، اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے، اور اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں ۔ ( طبقات الحفّاظ ) ـ
اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ تابعین سے تھے، ثِقہ، مامون ،کثیر الحدیث، عالی قدر، رفیع منزلت، پرہیز گار، عابِد اور خائف من اللہ تھے ۔ ( طبقات ابن سعد ) ـ
ابو الائمہ اور سید التابعین تھے، واقعہ کر بلا میں موجود تھے، لیکن بوجہ علالت شریکِ قتال نہ ہو سکے، دنیا کی لذتوں کو ترک کیا ہوا تھا ۔ واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے آنسؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی ۔ جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہو جاتا، اور جسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھتے ۔ (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کا ایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے ۔
وصال:
آپ کا وصال 18 محرم الحرام 94ھ، بمطابق اکتوبر 712ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوا ۔
مزار شریف:
جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی الہ عنہ کے پہلومیں دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
الصواعق المحرقہ ۔ شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-zain-ul-abideen
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔
آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی:
شہر بانو بنت یزگرد ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ بروز جمعرات 5 شعبان المعظم 38ھ، بمطابق جنوری / 659ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ اپنے جد امجد حضرت امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کے آغوش میں تربیت پائی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے تو فرماتے" مرحبا یا حبیب ابن الحبیب" ۔
سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہیں پایا ۔ (طبقات الحفاظ) ـ
امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کہ یہ اہل فضل میں سے تھے، ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحیح اور افضل ترین وہ تمام اسانید ہیں جوزہری رضی اللہ عنہ نے اِن سے، اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے، اور اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں ۔ ( طبقات الحفّاظ ) ـ
اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ تابعین سے تھے، ثِقہ، مامون ،کثیر الحدیث، عالی قدر، رفیع منزلت، پرہیز گار، عابِد اور خائف من اللہ تھے ۔ ( طبقات ابن سعد ) ـ
ابو الائمہ اور سید التابعین تھے، واقعہ کر بلا میں موجود تھے، لیکن بوجہ علالت شریکِ قتال نہ ہو سکے، دنیا کی لذتوں کو ترک کیا ہوا تھا ۔ واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے آنسؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی ۔ جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہو جاتا، اور جسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھتے ۔ (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کا ایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے ۔
وصال:
آپ کا وصال 18 محرم الحرام 94ھ، بمطابق اکتوبر 712ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوا ۔
مزار شریف:
جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی الہ عنہ کے پہلومیں دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
الصواعق المحرقہ ۔ شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-zain-ul-abideen
scholars.pk
Muslim Scholar Hazrat Imam Zain-ul-Abideen,The Fourth Imam, Books , Qoutes, Sayi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
Ziaetaiba please to share the true history of Muslim Scholar Hazrat Imam Zain-ul-Abideen History, Books, Hadees, Family Tree, Photoes, Date of Birth
👍3❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شہزادۂ امام حسین، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نام و نسب: اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔ سلسلۂ نسب: حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر…
شہزادۂ امام حسین رضی اللہ عنہ ، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37027
یوم وصال: 18 محرم الحرام 94ھ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37027
یوم وصال: 18 محرم الحرام 94ھ
❤2👍2