🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-01-1444 ᴴ | 13-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-01-1444 ᴴ | 14-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-01-1444 ᴴ | 14-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-01-1444 ᴴ | 14-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*🕯جنگ آزادی میں علمائے کرام کی سرگرمیاں🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اس وقت وطن عزیز ہندوستان میں 75/ واں یومِ آزادی بڑی تزک واحتشام کے ساتھ منایا جارہا ہے- لیکن یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج کے دن لوگ تحریک آزادی میں پسینہ بہانے والوں کو تو خوب یاد کرتے ہیں لیکن خون بہانے والوں کو فراموش کر دیا جاتاہے، یہ ایک مسلم الثبوت اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہندوستان کی آزادی علمائے کرام ہی کے دم قدم سے متصور ہے- آج ہم آزادی کی جس خوشگوار فضا میں زندگی کے لمحات بسر کر رہے ہیں یہ علمائے حق ہی کے سرفروشانہ جذبات اور مجاہدانہ کردار کا ثمرہ ہے- انہیں کے مقدس لہو سے شجر آزادی کی آبیاری و آبپاشی ہوئی ہے، اگر انہوں نے بروقت حالات کے طوفانی رخ کا تدارک نہ کیا ہوتا تو آج مسلمان یہاں کس حال میں ہوتے وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے- مگر اندازہ یہ لگایا جاتاہے کہ اولاً ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو ان کے اندر اسلامی روح، ایمانی جذبہ اور دینی غیرت و حمیت مفقود ہوتی-
جنگ آزادی کے چند نامور قائدین :
مفتی عنایت احمد کاکوروی:
آپ ٩/ شوال المکرم ١٢٢٨/ہجری مطابق ٥/اکتوبر ١٨١٣/ عیسوی کو مقام دیوی میں پیدا ہوئے- تحصیل علم کے لئے رامپور تشریف لے گئے- پھر علی گڑھ جاکر منقول و معقول کی سند حاصل کی، مولانا بزرگ علی مارہروی سے ریاض پڑھی- علی گڑھ ہی میں سرکاری ملازمت اختیار کرلی اور مفتی و منصف کے عہدے پر فائز ہوئے- ایک سال کے بعد بریلی شریف تبادلہ ہوگیا- اسی دوران میں ١٨٥٧/ عیسوی کی آزادی کے شعلے بھڑکنے لگے آپ نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا- بریلی شریف کے انقلابی گروہ کی مشاورتی مجالس میں برابر شریک ہوتے رہے- نواب خان بہادر کی قیادت میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے – اس وقت بریلی شریف مجاہدینِ آزادی کا مرکز تھا- یہاں مجاہدین آزادی کی ہر قسم کی امداد و اعانت مولانا رضا علی خان اور مولانا نقی علی خان فرما رہے تھے- آپ نے ان کے ساتھ مل کر بڑی خدمات سر انجام دیں- جب جنرل بخت خان بریلی شریف پہنچے تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب آپ کے ساتھ ہوگئے- جب یہ لشکر رام پور پہنچا تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب اس کے ساتھ ہی تھے- وائی رام پور نے جب مجاہدین آزادی کی اعانت سے انکار کیا اور جنرل بخت نے اس کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا- جنرل بخت نے وائی رام پور سے صلح کرلی تو اس وقت مفتی عنایت احمد کاکوروی مولانا سرفراز علی کے مشورے سے واپس بریلی شریف آئے- خان بہادر کی مجلس مشاورت کے علاوہ میدان کارزار میں بھی شریک رہے- لیکن آخر کار انگریزی تسلط قائم ہوگیا- مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب بھی گرفتار کر لیے گیے اور ١٨٥٨/ عیسوی میں کالا پانی روانہ کر دیے گیے -وہاں پہلے حضرتِ مولانا فضل حق خیرآبادی اور مولانا مفتی مظہر کریم دریابادی موجود تھے- آپ سختیوں کے باوجود بھی تصنیف وتالیف میں مشغول رہے- اسیری کے دوران میں ،،تقویم البلدان،، کا ترجمہ کیا اور آپ نے قرآن مجید حفظ کیا- اور سیرت مصطفٰی صلی الله تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر مشہور کتاب ،، تواریخ حبیب الہ،، لکھ ڈالی- اور یہ کارنامہ آپ نے اس حالت میں انجا دیا کہ مطالعہ کے لئے دوسری کتابیں موجود نہ تھیں-
١٢٧٧/ہجری میں حافظ وزیر علی داروغہ کی کوششوں سے رہائی پائی- کاکوری میں مختصر قیام کر کے کانپور آئے اور مدرسہ فیض عام قائم کیا- مولانا لطف الله علی گڑھ اس مدرسے کے پہلے فارغ ہونے والے عالم دین تھے- ١٢٧٩/ہجری میں زیارتِ بیت الله شریف کے لئے روانہ ہوئے- ١٧/شوال المکرم ١٣٧٩/ہجری کو مطابق اپریل ١٨٦٣/عیسوی جہاز سمندر میں پہاڑ سے ٹکراکر ڈوب گیا مفتی عنایت احمد کاکوروی بہ حالت احرام خدا کو پیارے ہوگئے- آپ کی تصنیفات ٢٠/ سے زائد ہیں-
مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی:
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*🕯جنگ آزادی میں علمائے کرام کی سرگرمیاں🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اس وقت وطن عزیز ہندوستان میں 75/ واں یومِ آزادی بڑی تزک واحتشام کے ساتھ منایا جارہا ہے- لیکن یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج کے دن لوگ تحریک آزادی میں پسینہ بہانے والوں کو تو خوب یاد کرتے ہیں لیکن خون بہانے والوں کو فراموش کر دیا جاتاہے، یہ ایک مسلم الثبوت اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہندوستان کی آزادی علمائے کرام ہی کے دم قدم سے متصور ہے- آج ہم آزادی کی جس خوشگوار فضا میں زندگی کے لمحات بسر کر رہے ہیں یہ علمائے حق ہی کے سرفروشانہ جذبات اور مجاہدانہ کردار کا ثمرہ ہے- انہیں کے مقدس لہو سے شجر آزادی کی آبیاری و آبپاشی ہوئی ہے، اگر انہوں نے بروقت حالات کے طوفانی رخ کا تدارک نہ کیا ہوتا تو آج مسلمان یہاں کس حال میں ہوتے وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے- مگر اندازہ یہ لگایا جاتاہے کہ اولاً ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو ان کے اندر اسلامی روح، ایمانی جذبہ اور دینی غیرت و حمیت مفقود ہوتی-
جنگ آزادی کے چند نامور قائدین :
مفتی عنایت احمد کاکوروی:
آپ ٩/ شوال المکرم ١٢٢٨/ہجری مطابق ٥/اکتوبر ١٨١٣/ عیسوی کو مقام دیوی میں پیدا ہوئے- تحصیل علم کے لئے رامپور تشریف لے گئے- پھر علی گڑھ جاکر منقول و معقول کی سند حاصل کی، مولانا بزرگ علی مارہروی سے ریاض پڑھی- علی گڑھ ہی میں سرکاری ملازمت اختیار کرلی اور مفتی و منصف کے عہدے پر فائز ہوئے- ایک سال کے بعد بریلی شریف تبادلہ ہوگیا- اسی دوران میں ١٨٥٧/ عیسوی کی آزادی کے شعلے بھڑکنے لگے آپ نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا- بریلی شریف کے انقلابی گروہ کی مشاورتی مجالس میں برابر شریک ہوتے رہے- نواب خان بہادر کی قیادت میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے – اس وقت بریلی شریف مجاہدینِ آزادی کا مرکز تھا- یہاں مجاہدین آزادی کی ہر قسم کی امداد و اعانت مولانا رضا علی خان اور مولانا نقی علی خان فرما رہے تھے- آپ نے ان کے ساتھ مل کر بڑی خدمات سر انجام دیں- جب جنرل بخت خان بریلی شریف پہنچے تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب آپ کے ساتھ ہوگئے- جب یہ لشکر رام پور پہنچا تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب اس کے ساتھ ہی تھے- وائی رام پور نے جب مجاہدین آزادی کی اعانت سے انکار کیا اور جنرل بخت نے اس کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا- جنرل بخت نے وائی رام پور سے صلح کرلی تو اس وقت مفتی عنایت احمد کاکوروی مولانا سرفراز علی کے مشورے سے واپس بریلی شریف آئے- خان بہادر کی مجلس مشاورت کے علاوہ میدان کارزار میں بھی شریک رہے- لیکن آخر کار انگریزی تسلط قائم ہوگیا- مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحب بھی گرفتار کر لیے گیے اور ١٨٥٨/ عیسوی میں کالا پانی روانہ کر دیے گیے -وہاں پہلے حضرتِ مولانا فضل حق خیرآبادی اور مولانا مفتی مظہر کریم دریابادی موجود تھے- آپ سختیوں کے باوجود بھی تصنیف وتالیف میں مشغول رہے- اسیری کے دوران میں ،،تقویم البلدان،، کا ترجمہ کیا اور آپ نے قرآن مجید حفظ کیا- اور سیرت مصطفٰی صلی الله تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر مشہور کتاب ،، تواریخ حبیب الہ،، لکھ ڈالی- اور یہ کارنامہ آپ نے اس حالت میں انجا دیا کہ مطالعہ کے لئے دوسری کتابیں موجود نہ تھیں-
١٢٧٧/ہجری میں حافظ وزیر علی داروغہ کی کوششوں سے رہائی پائی- کاکوری میں مختصر قیام کر کے کانپور آئے اور مدرسہ فیض عام قائم کیا- مولانا لطف الله علی گڑھ اس مدرسے کے پہلے فارغ ہونے والے عالم دین تھے- ١٢٧٩/ہجری میں زیارتِ بیت الله شریف کے لئے روانہ ہوئے- ١٧/شوال المکرم ١٣٧٩/ہجری کو مطابق اپریل ١٨٦٣/عیسوی جہاز سمندر میں پہاڑ سے ٹکراکر ڈوب گیا مفتی عنایت احمد کاکوروی بہ حالت احرام خدا کو پیارے ہوگئے- آپ کی تصنیفات ٢٠/ سے زائد ہیں-
مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی:
❤2👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
مفتی صدر الدین صاحب کے آباء واجداد کشمیر کے رہنے والے تھے- آپ دہلی میں ١٩٠٤/ہجری مطابق ١٧٧٩/عیسوی کو پیدا ہوئے- علوم کی تکمیل و تحصیل شاہ عبد العزیز، شاہ عبد القادر، اور شاہ محمد اسحاق سے کی اور علوم عقلیہ علامہ فضل امام صاحب خیرآبادی سے حاصل کئے- آپ بڑے پائے کے عام دین، ادیب اور شاعر تھے- اُردو، فارسی، عربی تینوں زبانوں کے فاضل اور دہلی کے روئوسا میں سے تھے- دہلی میں آپ صدر الصدور کے عہدے پر فائز رہے- جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی تو علمائے اہلسنت نے جو فتویٰ دیا اس پر آپ نے بھی دستخط کئے تھے اور اس کی تشہیر میں بھی نمایاں حصہ لیا تھا- اس جرم کی پاداش میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا- چند ماہ بعد خود تو رہا ہو گئے- مگر جائداد نیلام ہو گئی- صرف نیلام شدہ کتب خانہ کی قیمت مالیت تین لاکھ روپے تھی اس کے حصول کے لئے بڑی دوڑ بھاگ کی مگر کچھ حاصل نہ ہوا- آپ دوسال فالج میں مبتلاء رہنے کے بعد ٨١/سال کی عمر میں ٢٤/ ربیع الاوّل ١٢٨٥/ہجری مطابق ١٨٥٨/عیسوی میں اس عالمِ فانی سے تشریف لے گئے-
علامہ فضلِ حق خیرآبادی:
آپ جنگ آزادی کے سب سے عظیم ہیرو ہیں- انقلابی سرگرمیوں کی پاداش میں آپ باغی قرار دئے گئے- ١٨٥٩/ عیسوی میں لکھنؤ میں مقدمہ چلا آپ کی شہرت و مقبولیت کے پیشِ نظر امید یہی تھی کہ بری کردیے جائیں گے- مگر آپ نے اپنی جان کی پروہ کئے بغیر بھرے مجمع میں١٨٥٧/ عیسوی کی جنگ میں شرکت کا اعتراف کیا- جس کی وجہ آپ کی رہائی منسوخ ہوگئی اور آپ کو کالا پانی روانہ کردیا گیا- جس دن آپ کے معتقدین رہائی کا پروانہ لے کر کالا پانی پہنچے اس دن آپ اس دنیا کو الوداع کہہ چکے تھے- حضرتِ علامہ فضلِ حق خیرآبادی، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی 1212/ ہجری مطابق 1797/ عیسوی میں پیدا ہوئے- اپنے والد گرامی مولوی فضل امام کے شاگرد تھے، آپ نے حدیث کی تعلیم مولانا عبد القادر دہلوی سے حاصل کی، قرآن مجید چار ماہ میں حفظ کرلیا، تیرہ سال کی عمر میں آپ فارغ التحصیل ہوگیے، آپ شاہ دھومن دہلوی کے مرید تھے، علم منطق، حکمت و فلسفہ، ادب، کلام، اصول اور شاعری میں اپنے ہم عصروں میں ممتاز اور اعلیٰ قابلیت رکھتے تھے، آپ کی تصنیفات میں الحسن الغالی فی شرح الجواھر العالی، حاشیہ شرح مسلم قاضی مبارک، حاشیہ افق المبین، حاشیہ تلخیص الشفاء، الہدایتہ السعیدیہ ( حکمت طبعی) رسالہ تحقیق العلم و العلوم، الروض جیسی کتابیں ہیں- حضرتِ مولانا فضل حق خیرآبادی علوم معقول کے امام تھے، کمشنر دہلی کے دفتر میں پیش کار تھے- مولانا فضلِ حق خیرآبادی اور شاہ محمد اسماعیل دہلوی سے بعض اصولی مسائل میں اختلافات ہویے، طرفین سے رسائل لکھے گیے، آپ ایک عرصے تک رئیس جھنجھر، راجہ الور، نواب ٹوٹک اور ریاست رامپور میں ملازم رہے، اخیر میں واجد علی شاہ کے زمانے میں لکھنؤ میں رہے، جب ہنومان گڑھی کا واقعہ جہاد پیش آیا جس میں امیر الدین علی، امیر المجاہدین تھے، اس میں حسب روایت مولوی حکیم نجم الغنی) مؤلف تاریخ اودھ) مفتی سعد الله رامپوری اور مفتی محمد یوسف فرنگی محلی کے ساتھ مولانا فضلِ حق خیرآبادی نے بھی مولوی امیر الدین اور جہاد ہنومان گڑھی کے خلاف فتویٰ دیا، مگر کس کو معلوم تھا کہ مولانا فضلِ حق خیرآبادی 1857/ عیسوی میں اس کی پوری پوری تلافی کریں گے، جنگ آزادی 1857/ عیسوی میں مولانا فضل حق خیرآبادی نے مردانہ دار حصہ لیا، دہلی میں جنرل بخت خان کے شریک رہے- لکھنؤ میں حضرت محل کی کورٹ کے ممبر رہے، اخیر میں گرفتار ہوئے- مقدمہ چلا، بہ عبور دریائے شور کی سزا پائی- جزیرہ انڈمان بھیجے گیے اور وہیں 12/صفر المظفر 1278، ہجری/مطابق 1861/ عیسوی میں انتقال ہوا- جزیرہ انڈمان میں ہی آپ کا مزار مبارک ہے، مولانا فضلِ حق خیرآبادی نے تیں صاحب زادے، شمس العلماء، مولوی عبد الحئی، مولوی شمس الحق یاد گار چھوڑے-
مولانا کفایت علی کافی:
علامہ فضلِ حق خیرآبادی:
آپ جنگ آزادی کے سب سے عظیم ہیرو ہیں- انقلابی سرگرمیوں کی پاداش میں آپ باغی قرار دئے گئے- ١٨٥٩/ عیسوی میں لکھنؤ میں مقدمہ چلا آپ کی شہرت و مقبولیت کے پیشِ نظر امید یہی تھی کہ بری کردیے جائیں گے- مگر آپ نے اپنی جان کی پروہ کئے بغیر بھرے مجمع میں١٨٥٧/ عیسوی کی جنگ میں شرکت کا اعتراف کیا- جس کی وجہ آپ کی رہائی منسوخ ہوگئی اور آپ کو کالا پانی روانہ کردیا گیا- جس دن آپ کے معتقدین رہائی کا پروانہ لے کر کالا پانی پہنچے اس دن آپ اس دنیا کو الوداع کہہ چکے تھے- حضرتِ علامہ فضلِ حق خیرآبادی، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی 1212/ ہجری مطابق 1797/ عیسوی میں پیدا ہوئے- اپنے والد گرامی مولوی فضل امام کے شاگرد تھے، آپ نے حدیث کی تعلیم مولانا عبد القادر دہلوی سے حاصل کی، قرآن مجید چار ماہ میں حفظ کرلیا، تیرہ سال کی عمر میں آپ فارغ التحصیل ہوگیے، آپ شاہ دھومن دہلوی کے مرید تھے، علم منطق، حکمت و فلسفہ، ادب، کلام، اصول اور شاعری میں اپنے ہم عصروں میں ممتاز اور اعلیٰ قابلیت رکھتے تھے، آپ کی تصنیفات میں الحسن الغالی فی شرح الجواھر العالی، حاشیہ شرح مسلم قاضی مبارک، حاشیہ افق المبین، حاشیہ تلخیص الشفاء، الہدایتہ السعیدیہ ( حکمت طبعی) رسالہ تحقیق العلم و العلوم، الروض جیسی کتابیں ہیں- حضرتِ مولانا فضل حق خیرآبادی علوم معقول کے امام تھے، کمشنر دہلی کے دفتر میں پیش کار تھے- مولانا فضلِ حق خیرآبادی اور شاہ محمد اسماعیل دہلوی سے بعض اصولی مسائل میں اختلافات ہویے، طرفین سے رسائل لکھے گیے، آپ ایک عرصے تک رئیس جھنجھر، راجہ الور، نواب ٹوٹک اور ریاست رامپور میں ملازم رہے، اخیر میں واجد علی شاہ کے زمانے میں لکھنؤ میں رہے، جب ہنومان گڑھی کا واقعہ جہاد پیش آیا جس میں امیر الدین علی، امیر المجاہدین تھے، اس میں حسب روایت مولوی حکیم نجم الغنی) مؤلف تاریخ اودھ) مفتی سعد الله رامپوری اور مفتی محمد یوسف فرنگی محلی کے ساتھ مولانا فضلِ حق خیرآبادی نے بھی مولوی امیر الدین اور جہاد ہنومان گڑھی کے خلاف فتویٰ دیا، مگر کس کو معلوم تھا کہ مولانا فضلِ حق خیرآبادی 1857/ عیسوی میں اس کی پوری پوری تلافی کریں گے، جنگ آزادی 1857/ عیسوی میں مولانا فضل حق خیرآبادی نے مردانہ دار حصہ لیا، دہلی میں جنرل بخت خان کے شریک رہے- لکھنؤ میں حضرت محل کی کورٹ کے ممبر رہے، اخیر میں گرفتار ہوئے- مقدمہ چلا، بہ عبور دریائے شور کی سزا پائی- جزیرہ انڈمان بھیجے گیے اور وہیں 12/صفر المظفر 1278، ہجری/مطابق 1861/ عیسوی میں انتقال ہوا- جزیرہ انڈمان میں ہی آپ کا مزار مبارک ہے، مولانا فضلِ حق خیرآبادی نے تیں صاحب زادے، شمس العلماء، مولوی عبد الحئی، مولوی شمس الحق یاد گار چھوڑے-
مولانا کفایت علی کافی:
❤1👍1