🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-01-1444 ᴴ | 13-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-01-1444 ᴴ | 13-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚فاتحہ کرتے وقت جو نذرانہ رکھا جاتا جسے لوگ چراغی کہتے ہیں اس کا لینا کیسا؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع مسئلہ ذیل میں کہ فاتحہ کے وقت جو نذر رکھا جاتا جس کو لوگ چراغی کہتے ہیں اس کا لینا کیسا ہے درست ہے یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کے روشنی میں حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں فقط و السلام
*المستفتی :* غلام محی الدین جیلانی خادم التدریس الجامعۃ السبحانیۃ علاء الدین پور گلرہوا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب:* فاتحہ کرتے وقت جو نذرانہ رکھا جاتا جسے لوگ چراغی کہتے ہیں اس کا لینا جائز ہے جب کہ صاحب خانہ بطور ہدیہ دے مگر مانگ کر لینا جائز نہیں جیسا کہ صاحب فتاوی بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " ایصال ثواب ایک کار خیر ہے اس پر اجرت طلب کرنا ناجائز ہے " اھ
( فتاوی بحر العلوم ج 5 ص 258 )
اور امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ " اصل یہ ہے کہ طاعت و عبادات پر اجرت لینا دینا ( سوائے تعلیم قرآن عظیم و علوم دین و اذان و امامت وغیرہا معدودے چند اشیاء کہ جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بناچاری و مجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا ) مطلقاً حرام ہے اور تلاوتِ قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب ۔۔۔ ضرور منجملہ عبادات و طاعت ہیں تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام و محذور اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتا ہے ، عرفاً شرط معروف و معہود سے بھی ہو جاتا ہے ۔ مثلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملے گا انہوں نے اس طور پر پڑھا ، انہوں نے اس نیت سے پڑھوایا اجارہ ہوگیا اور اب دو وجہ سے حرام ہوا : ایک تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرام دوسرے اجرت اگر عرفاً معین نہیں ، تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسد ، یہ دوسرا حرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس اگر قرار داد کچھ نہ ہو ،نہ وہاں لین دین معہود ہوتا ہو تو بعد کو بطور صلہ و حسن سلوک کچھ دے دینا جائز بلکہ حسن ہوتا ، مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے،تو صورت ثانیہ میں داخل ہوکر حرام محض ہے ملخصاً " اھ
( فتاوی رضویہ ج 19 ص 486/ 487 : رضا فاؤنڈیشن لاھور )
اور فتاوی اجملیہ میں ہے کہ " اھ تلاوتِ قرآن کریم پر اجرت لینا اور دینا بالکل ناجائز ہے ۔ اسی طرح جس مقام کے عرف میں اس پر لیا دیا جاتا ہے تو حسبِ دستور تلاوت پر لینا اور دینا بھی ناجائز ہے ، ہاں جہاں نہ ایسا عرف و رواج ہو نہ دینے والا اور نہ لینے والا بہ نیتِ اجرت لیتے دیتے ہوں تو وہاں صدقہ و صلہ ہے اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں " اھ
(فتاوی اجملیہ ج 2 ص 620 : مطبوعہ شبیر برادرز لاھور )
مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ اگر صاحب خانہ اپنی خوشی سے بطور نذرانہ دیتا ہے تو لینے میں کوئی حرج نہیں مگر مانگ کر لینا جائز نہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــه:*
*کریم اللہ رضوی، خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313*
*✅الجواب صحیح والمجیب مصیب واللہ اعلم بالصواب : محمد اختر رضا خان مصباحی مجددی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی 400102 موبائل نمبر 9773497935*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*📚فاتحہ کرتے وقت جو نذرانہ رکھا جاتا جسے لوگ چراغی کہتے ہیں اس کا لینا کیسا؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع مسئلہ ذیل میں کہ فاتحہ کے وقت جو نذر رکھا جاتا جس کو لوگ چراغی کہتے ہیں اس کا لینا کیسا ہے درست ہے یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کے روشنی میں حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں فقط و السلام
*المستفتی :* غلام محی الدین جیلانی خادم التدریس الجامعۃ السبحانیۃ علاء الدین پور گلرہوا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب:* فاتحہ کرتے وقت جو نذرانہ رکھا جاتا جسے لوگ چراغی کہتے ہیں اس کا لینا جائز ہے جب کہ صاحب خانہ بطور ہدیہ دے مگر مانگ کر لینا جائز نہیں جیسا کہ صاحب فتاوی بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " ایصال ثواب ایک کار خیر ہے اس پر اجرت طلب کرنا ناجائز ہے " اھ
( فتاوی بحر العلوم ج 5 ص 258 )
اور امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ " اصل یہ ہے کہ طاعت و عبادات پر اجرت لینا دینا ( سوائے تعلیم قرآن عظیم و علوم دین و اذان و امامت وغیرہا معدودے چند اشیاء کہ جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بناچاری و مجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا ) مطلقاً حرام ہے اور تلاوتِ قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب ۔۔۔ ضرور منجملہ عبادات و طاعت ہیں تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام و محذور اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتا ہے ، عرفاً شرط معروف و معہود سے بھی ہو جاتا ہے ۔ مثلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملے گا انہوں نے اس طور پر پڑھا ، انہوں نے اس نیت سے پڑھوایا اجارہ ہوگیا اور اب دو وجہ سے حرام ہوا : ایک تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرام دوسرے اجرت اگر عرفاً معین نہیں ، تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسد ، یہ دوسرا حرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس اگر قرار داد کچھ نہ ہو ،نہ وہاں لین دین معہود ہوتا ہو تو بعد کو بطور صلہ و حسن سلوک کچھ دے دینا جائز بلکہ حسن ہوتا ، مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے،تو صورت ثانیہ میں داخل ہوکر حرام محض ہے ملخصاً " اھ
( فتاوی رضویہ ج 19 ص 486/ 487 : رضا فاؤنڈیشن لاھور )
اور فتاوی اجملیہ میں ہے کہ " اھ تلاوتِ قرآن کریم پر اجرت لینا اور دینا بالکل ناجائز ہے ۔ اسی طرح جس مقام کے عرف میں اس پر لیا دیا جاتا ہے تو حسبِ دستور تلاوت پر لینا اور دینا بھی ناجائز ہے ، ہاں جہاں نہ ایسا عرف و رواج ہو نہ دینے والا اور نہ لینے والا بہ نیتِ اجرت لیتے دیتے ہوں تو وہاں صدقہ و صلہ ہے اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں " اھ
(فتاوی اجملیہ ج 2 ص 620 : مطبوعہ شبیر برادرز لاھور )
مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ اگر صاحب خانہ اپنی خوشی سے بطور نذرانہ دیتا ہے تو لینے میں کوئی حرج نہیں مگر مانگ کر لینا جائز نہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــه:*
*کریم اللہ رضوی، خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313*
*✅الجواب صحیح والمجیب مصیب واللہ اعلم بالصواب : محمد اختر رضا خان مصباحی مجددی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی 400102 موبائل نمبر 9773497935*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤2👍1
مرید و تلمیذ حافظ ملت، خلیفۂ احسن العلماء، استاذ محدث کبیر، بحر العلوم، علامہ مفتی عبد المنان اعظمی حنفی قادری رضوی مصباحی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 7 ربیع الآخر 1344ھ بروز اتوار مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ، یو پی، ہندستان میں ہوئی۔ آپ شیخ الحدیث، صدر المدرسین، مفتی اسلام، ماہر محدث و فقیہ، بے مثال مصنف، قادر الکلام شاعر، عمدہ خطیب، مجاز طریقت اور استاذ الاساتذہ تھے۔ 20 تصانیف میں سے فتاوی بحر العلوم (6 جلدیں) آپ کی محنتوں کا ثمر ہے۔ فتاوی رضویہ شریف کی تحقیق و اشاعت میں بھی قدم بقدم شریک رہے۔ 15 محرم 1434ھ مطابق 29 نومبر 2012ء شب جمعہ 09:30 بجے مبارکپور میں وصال فرمایا۔ مزار مبارک اشرفیہ انٹر کالج اور بڑی ارجنٹی اسلامیہ ہسپتال کے قرب میں ہے۔ (فتاوی بحر العلوم، سوانح بحر العلوم خود نوشت)
Murid and Student of Hafiz-e-Millat, Khalifah of Ahsan al-Ulama, Teacher of Muhaddith Kabeer, Bahr al-Uloom, Allamah Mufti Abdul Mannaan Azami Qadiri Ridawi Misbahi (Alayhir Rahmah) was born on Sunday, 7 Rabi’ al-Akhir 1344 AH in Mubarakpur, Azamgarh District, U.P., India. He was a Shaykh al-Hadith, Head of Teachers, Mufti of Islam, an expert in the fields of Hadith and Jurisprudence, paramount author, excellent poet, eloquent orator, spiritual guide, and teacher of teachers. Of his 20 works, the pinnacle of his efforts is his Fatawa Bahr al-Uloom (6 Volumes). He also played a vital role in the research and publication of Fatawa Ridawiyyah. He passed away on Friday night, 15 Muharram 1434 AH at 09:30 pm in Mubarakpur. His blessed resting place is located near Ashrafiyah Inter College and Badi Arjenti Islamiyah Hospital. [Fatawa Bahr al-Uloom, Autobiography of Bahr al-Uloom]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02ZnZbzcapRnRdA6cVFwgkhienYiWzYuMefTu8zBNrFs2WN7zc2EwLeMKKfBmR7QRsl&id=100050689590519
Murid and Student of Hafiz-e-Millat, Khalifah of Ahsan al-Ulama, Teacher of Muhaddith Kabeer, Bahr al-Uloom, Allamah Mufti Abdul Mannaan Azami Qadiri Ridawi Misbahi (Alayhir Rahmah) was born on Sunday, 7 Rabi’ al-Akhir 1344 AH in Mubarakpur, Azamgarh District, U.P., India. He was a Shaykh al-Hadith, Head of Teachers, Mufti of Islam, an expert in the fields of Hadith and Jurisprudence, paramount author, excellent poet, eloquent orator, spiritual guide, and teacher of teachers. Of his 20 works, the pinnacle of his efforts is his Fatawa Bahr al-Uloom (6 Volumes). He also played a vital role in the research and publication of Fatawa Ridawiyyah. He passed away on Friday night, 15 Muharram 1434 AH at 09:30 pm in Mubarakpur. His blessed resting place is located near Ashrafiyah Inter College and Badi Arjenti Islamiyah Hospital. [Fatawa Bahr al-Uloom, Autobiography of Bahr al-Uloom]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02ZnZbzcapRnRdA6cVFwgkhienYiWzYuMefTu8zBNrFs2WN7zc2EwLeMKKfBmR7QRsl&id=100050689590519
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-01-1444 ᴴ | 13-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-01-1444 ᴴ | 14-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1