🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-01-1444 ᴴ | 11-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-01-1444 ᴴ | 12-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-01-1444 ᴴ | 12-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-01-1444 ᴴ | 12-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍1
کتب شان حضور مفتئ اعظم ہند ↓
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶حیات مفتئ اعظم ہند کے تابندہ نقوش
✍ مولانا شاکر علی نوری صاحب
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3944
❷ مفتئ اعظم ہند کی کرامات 📖
✍ شاعر اسلام جناب راز الہ آبادی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3947
❸ آفتاب و ماہتاب امام احمد رضا
و مفتئ اعظم ہند قدس سرهما
✍ علامہ یاسین اختر مصباحی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3950
❹ النظامِیہ لاہور مفتئ اعظم نمبر
ماه ستمبر اکتوبر ۲۰۰۳ - 2003
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3955
❺ سیرت حضور مفتئ اعظم ہند 📖
✍ حضرت سید ریاست علی رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3957
❻ سفر آخرت 📖
✍ حضرت مولانا ابو فراز صاحب
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3961
❼مفتئ اعظم کے آخری ایام کی جھلکیاں
✍ حضرت مولانا عبدالمبین نعمانی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3964
❽ حضور مفتئ اعظم ہند علیہالرحمہ
کی نماز جنازہ کا امام کون ؟ 📖
✍ حضرت آل رسول احمد الاشرفی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3967
❾مفتئ اعظم اور مقتدر علماء و مشائخ
✍مفتی سید شاہد علی حسنی رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3970
❿ فن اسماء الرجال میں حضور
مفتئ اعظم ہند کی مہارت 📖
✍ حضرت مفتی ناظم علی رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3973
⑪ مفتئ اعظم کا زہد و تقویٰ 📖
✍مفتی عبدالمنان اعظمی علیہالرحمہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3976
⑫ منقبت مناقب مفتئ اعظم 📖
✍ حضرت مولانا انور علی رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3983
⑬ جہان مفتئ اعظم ہند 📖
✍ : مولانا محمد احمد مصباحی
مولانا عبد المبین نعمانی مصباحی
مولانا مقبول احمد سالک مصباحی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3986
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فہرست کتب شان حضور مفتئ اعظم ہند
🔍 #شان_حضور_مفتئ_اعظم_ہند
فہرست فھرست #فہرست
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Bᴏᴏᴋs Lɪʙʀᴀʀʏ
Jᴏɪɴ & Sʜᴀʀᴇ @Aalaa_Hazrat_Library
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶حیات مفتئ اعظم ہند کے تابندہ نقوش
✍ مولانا شاکر علی نوری صاحب
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3944
❷ مفتئ اعظم ہند کی کرامات 📖
✍ شاعر اسلام جناب راز الہ آبادی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3947
❸ آفتاب و ماہتاب امام احمد رضا
و مفتئ اعظم ہند قدس سرهما
✍ علامہ یاسین اختر مصباحی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3950
❹ النظامِیہ لاہور مفتئ اعظم نمبر
ماه ستمبر اکتوبر ۲۰۰۳ - 2003
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3955
❺ سیرت حضور مفتئ اعظم ہند 📖
✍ حضرت سید ریاست علی رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3957
❻ سفر آخرت 📖
✍ حضرت مولانا ابو فراز صاحب
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3961
❼مفتئ اعظم کے آخری ایام کی جھلکیاں
✍ حضرت مولانا عبدالمبین نعمانی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3964
❽ حضور مفتئ اعظم ہند علیہالرحمہ
کی نماز جنازہ کا امام کون ؟ 📖
✍ حضرت آل رسول احمد الاشرفی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3967
❾مفتئ اعظم اور مقتدر علماء و مشائخ
✍مفتی سید شاہد علی حسنی رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3970
❿ فن اسماء الرجال میں حضور
مفتئ اعظم ہند کی مہارت 📖
✍ حضرت مفتی ناظم علی رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3973
⑪ مفتئ اعظم کا زہد و تقویٰ 📖
✍مفتی عبدالمنان اعظمی علیہالرحمہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3976
⑫ منقبت مناقب مفتئ اعظم 📖
✍ حضرت مولانا انور علی رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3983
⑬ جہان مفتئ اعظم ہند 📖
✍ : مولانا محمد احمد مصباحی
مولانا عبد المبین نعمانی مصباحی
مولانا مقبول احمد سالک مصباحی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3986
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فہرست کتب شان حضور مفتئ اعظم ہند
🔍 #شان_حضور_مفتئ_اعظم_ہند
فہرست فھرست #فہرست
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Bᴏᴏᴋs Lɪʙʀᴀʀʏ
Jᴏɪɴ & Sʜᴀʀᴇ @Aalaa_Hazrat_Library
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2
حضرت شاہ حمزہ عینی قادری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید شاہ حمزہ عینی قادری مارہروی ۔ لقب: اسد العارفین، قطب الکاملین ۔ تخلص: عینی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ حمزہ مارہروی بن سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ مارہروی بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبدالواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ علیہم الرحمہ ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 ربیع الثانی 1131ھ مطابق مارچ 1719ء کو مارہرہ مطہرہ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے والدِ گرامی کی خدمت میں جملہ علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کی ۔ والد گرامی کے علاوہ شمس العلماء حضرت مولانا محمد باقر علیہ الرحمہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل فرمائی، فنِ طب حکیم عطاء اللہ صاحب مرحوم، اور شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات کتب حاصل فرمائی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ:351)
بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی حضرت سید شاہ آلِ محمد علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور منازلِ سلوک طے کرنےکے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
اسد العارفین، قطب الکاملین، حجۃ الواصلین، سند الصالحین، مجمع البحرین، نجیب الطریقین، حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے پینتیسویں 35 امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔
آپ علم و فضل میں یکتا، مایہ ناز مصنف، عدیم النظیر صوفی، اور باکرامت اولیاء اللہ میں سے تھے ۔ آپ نہایت ہی ذہین و فطین تھے ۔ گیارہ سال کی مدت میں اپنے جدِ امجد حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کی تربیت میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کیے ۔ حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی کلاہ مبارک آپ کے سر پر چار سال کی عمر ہی میں رکھ دیا تھا ۔ اسی طرح آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا ۔ بِالخصوص حضرت شیخِ اکبر کی کتب سے تو خصوصی شغف تھا ۔ خاص خدام کو ان کا درس دیتے ۔
آپ کی جلالتِ شانِ آپ کی تصنیفات و تالیفات خصوصاً ” فص الکلمات ‘‘ سے بآسانی مِل سکتا ہے ۔ اس کتاب کی شان نرالی ہے ۔ دیگر تمام کتب سے بے نیاز کر دیتی ہے ۔ اللہ ﷻ نے آپ کو خصوصی کمالات عطاء فرمائے تھے ۔ جو ایک شخصیت میں بہت کم موجود ہوتے ہیں۔جب مسائل پر گفتگو فرماتے، تو معلوم ہوتا فقیہ العصر ہیں، اور کبھی ایک شیخ عارف ہیں کہ ہزاروں بندگانِ خدا آپ سے فیض یاب ہو رہے ہیں ۔
کبھی ایک مسیحا طبیب ہیں کہ صدہا مریض شفاء یاب ہو رہے ہیں ۔ کبھی ایک کریم دریا دل سخی کہ سائلوں کی تلاش میں مستغرق ہیں، کبھی ایک مدبر شجاع کہ بڑے بڑے عقلاء و سیاست دان امورِ مشکلہ میں حضور والا سے تدابیر پوچھ رہے ہیں ۔ بادشاہ و وزراء درِ دولت پر حاضر ہیں، اور امورِ سلطنت حل فرما رہے ہیں ۔ پھر ہر شان میں وحدت و عینیت ہویدا تھی ۔ حضرت کی ذات شریف دنیا و دین، فقر و شہنشاہی، شریعت و طریقت ، معرفت و حقیقت کی جامع تھی ۔
نمازِ تہجد:
دس سال کی عمر شریف سے نمازِ تہجد شروع فرمائی تو وصال شریف تک کبھی قضاء نہ ہوئی ۔ اشاعتِ اسلام اور اصلاحِ مسلمین آپ کا خاص وصف تھا ۔ آپ کی زندگی اسلام اور مسلمین کے لئے وقف تھی ۔ ہمہ وقت عبادت و ریاضت میں مصروف نظر آتے، یا وعظ و تلقین، یا امورِ مسلمین میں ۔
مولا علی کی زیارت:
آپ نہایت ہی منکسر المزاج اور با اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ تکبر، تصنع، ریاء، عالی نسب و منصب کا شائبہ تک کبھی نہیں گزرا ۔
آپ فرماتے ہیں: ’’ایک روز فقیر کو خیال آیا کہ نسبتِ ظنی سے سیادت ساداتِ بلگرام مشہور و مسلم ہے، لیکن یقین و وثوق نہیں، جیسے ہی یہ خیال آیا کہ فوراً دیکھتا ہوں کہ حضور مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں، اور دونوں بازو چوکھٹ سنگی کے جو خانقاہ برکاتیہ میں نصب ہے، تھامے کھڑے ہیں، اور اِرشاد فرماتے ہیں کہ ’’تم ہمارے بیٹے ہو، اور پیارے بیٹے ہو ‘‘ ۔ (ایضا: 352) ـ
جود و سخا:
آپ جود و سخا، بخشش و عطاء میں یگانہ روزگار تھے ۔ اپنے والد ماجد کے عرس شریف میں مہمانوں کی خاطر داری کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ اپنے وقت کا شہنشاہ بھی ایسی پر تکلف دعوت شاید ہی کر سکے ۔ عرس مبارک میں مہمانوں کے لئے سو سے زیادہ انواع کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع فرماتے، اور پھر اس میں تخفیف کر دی تھی، پھر بھی مہمانوں کو پچیس اقسام کے کھانے ہر سال برابر تقسیم ہوتے تھے ـ اس میں شاہ و گدا کی کوئی تخصیص نہیں تھی ۔
شانِ بے نیازی:
حضرت قطب الکاملین سید شاہ حمزہ کی ذات اپنے اسلاف کی آئینہ دار تھی، اور بڑے بڑے امراء و سلاطینِ وقت اپنے خدام و فوج کے ساتھ آپ کی خدمت میں مارہرہ شریف حاضر ہوتے، کئی دن خانقاہ میں قیام کرتے، اور انواع و اقسام کے کھانوں سےان لوگوں کی مہمان نوازی کی جاتی ۔ مگر حضرت کبھی بھی ان لوگوں کو باریابی کی اجازت نہیں دیتے تھے، اور آپ کے معمولات میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا تھا ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: سید شاہ حمزہ عینی قادری مارہروی ۔ لقب: اسد العارفین، قطب الکاملین ۔ تخلص: عینی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ حمزہ مارہروی بن سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ مارہروی بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبدالواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ علیہم الرحمہ ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 ربیع الثانی 1131ھ مطابق مارچ 1719ء کو مارہرہ مطہرہ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے والدِ گرامی کی خدمت میں جملہ علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کی ۔ والد گرامی کے علاوہ شمس العلماء حضرت مولانا محمد باقر علیہ الرحمہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل فرمائی، فنِ طب حکیم عطاء اللہ صاحب مرحوم، اور شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات کتب حاصل فرمائی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ:351)
بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی حضرت سید شاہ آلِ محمد علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور منازلِ سلوک طے کرنےکے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
اسد العارفین، قطب الکاملین، حجۃ الواصلین، سند الصالحین، مجمع البحرین، نجیب الطریقین، حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے پینتیسویں 35 امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔
آپ علم و فضل میں یکتا، مایہ ناز مصنف، عدیم النظیر صوفی، اور باکرامت اولیاء اللہ میں سے تھے ۔ آپ نہایت ہی ذہین و فطین تھے ۔ گیارہ سال کی مدت میں اپنے جدِ امجد حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کی تربیت میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کیے ۔ حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی کلاہ مبارک آپ کے سر پر چار سال کی عمر ہی میں رکھ دیا تھا ۔ اسی طرح آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا ۔ بِالخصوص حضرت شیخِ اکبر کی کتب سے تو خصوصی شغف تھا ۔ خاص خدام کو ان کا درس دیتے ۔
آپ کی جلالتِ شانِ آپ کی تصنیفات و تالیفات خصوصاً ” فص الکلمات ‘‘ سے بآسانی مِل سکتا ہے ۔ اس کتاب کی شان نرالی ہے ۔ دیگر تمام کتب سے بے نیاز کر دیتی ہے ۔ اللہ ﷻ نے آپ کو خصوصی کمالات عطاء فرمائے تھے ۔ جو ایک شخصیت میں بہت کم موجود ہوتے ہیں۔جب مسائل پر گفتگو فرماتے، تو معلوم ہوتا فقیہ العصر ہیں، اور کبھی ایک شیخ عارف ہیں کہ ہزاروں بندگانِ خدا آپ سے فیض یاب ہو رہے ہیں ۔
کبھی ایک مسیحا طبیب ہیں کہ صدہا مریض شفاء یاب ہو رہے ہیں ۔ کبھی ایک کریم دریا دل سخی کہ سائلوں کی تلاش میں مستغرق ہیں، کبھی ایک مدبر شجاع کہ بڑے بڑے عقلاء و سیاست دان امورِ مشکلہ میں حضور والا سے تدابیر پوچھ رہے ہیں ۔ بادشاہ و وزراء درِ دولت پر حاضر ہیں، اور امورِ سلطنت حل فرما رہے ہیں ۔ پھر ہر شان میں وحدت و عینیت ہویدا تھی ۔ حضرت کی ذات شریف دنیا و دین، فقر و شہنشاہی، شریعت و طریقت ، معرفت و حقیقت کی جامع تھی ۔
نمازِ تہجد:
دس سال کی عمر شریف سے نمازِ تہجد شروع فرمائی تو وصال شریف تک کبھی قضاء نہ ہوئی ۔ اشاعتِ اسلام اور اصلاحِ مسلمین آپ کا خاص وصف تھا ۔ آپ کی زندگی اسلام اور مسلمین کے لئے وقف تھی ۔ ہمہ وقت عبادت و ریاضت میں مصروف نظر آتے، یا وعظ و تلقین، یا امورِ مسلمین میں ۔
مولا علی کی زیارت:
آپ نہایت ہی منکسر المزاج اور با اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ تکبر، تصنع، ریاء، عالی نسب و منصب کا شائبہ تک کبھی نہیں گزرا ۔
آپ فرماتے ہیں: ’’ایک روز فقیر کو خیال آیا کہ نسبتِ ظنی سے سیادت ساداتِ بلگرام مشہور و مسلم ہے، لیکن یقین و وثوق نہیں، جیسے ہی یہ خیال آیا کہ فوراً دیکھتا ہوں کہ حضور مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں، اور دونوں بازو چوکھٹ سنگی کے جو خانقاہ برکاتیہ میں نصب ہے، تھامے کھڑے ہیں، اور اِرشاد فرماتے ہیں کہ ’’تم ہمارے بیٹے ہو، اور پیارے بیٹے ہو ‘‘ ۔ (ایضا: 352) ـ
جود و سخا:
آپ جود و سخا، بخشش و عطاء میں یگانہ روزگار تھے ۔ اپنے والد ماجد کے عرس شریف میں مہمانوں کی خاطر داری کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ اپنے وقت کا شہنشاہ بھی ایسی پر تکلف دعوت شاید ہی کر سکے ۔ عرس مبارک میں مہمانوں کے لئے سو سے زیادہ انواع کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع فرماتے، اور پھر اس میں تخفیف کر دی تھی، پھر بھی مہمانوں کو پچیس اقسام کے کھانے ہر سال برابر تقسیم ہوتے تھے ـ اس میں شاہ و گدا کی کوئی تخصیص نہیں تھی ۔
شانِ بے نیازی:
حضرت قطب الکاملین سید شاہ حمزہ کی ذات اپنے اسلاف کی آئینہ دار تھی، اور بڑے بڑے امراء و سلاطینِ وقت اپنے خدام و فوج کے ساتھ آپ کی خدمت میں مارہرہ شریف حاضر ہوتے، کئی دن خانقاہ میں قیام کرتے، اور انواع و اقسام کے کھانوں سےان لوگوں کی مہمان نوازی کی جاتی ۔ مگر حضرت کبھی بھی ان لوگوں کو باریابی کی اجازت نہیں دیتے تھے، اور آپ کے معمولات میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا تھا ۔
👍1
زیارتِ سرکارِ دو عالم ﷺ:
ایک باکمال درویش نے آپ کی خدمت مبارکہ میں ایک درود شریف نذر کیا ۔ حضرت نے اسے پسند فرما کر رکھ لیا ۔ اِسی شب میں حضورِ اقدس ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صاحبزادے اٹھو! اور درود شریف پڑھو ‘‘ ۔ آپ بیدار ہوئے، غسل فرمایا، عطر لگایا، بخور وغیرہ روشن کئے اور اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا ۔ ابھی درود شریف ختم بھی نہ کیا تھا کہ زیارتِ سرور کونین ﷺ سے مشرف ہوئے اور آپ علیہ الرحمہ نے سر کی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کا دیدار کیا ۔ آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور درود شریف کے بقیہ اعداد پورے کئے ۔ درود شریف تمام ہونے تک آقا ئے دو عالم ﷺ آپ کے پاس تشریف فرما رہے ۔ مذکورہ درویش کا نام مولانا محمد مکرم مرید شاہ پشاوری علیہ الرحمہ ہے جو 1174ھ کو احمد شاہ درانی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے ۔ (ایضا: 353) ـ
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا، اور جو کتابیں مطالعہ فرماتے اول سے آخر تک دیکھتے، اور پسندیدہ فوائد اس کے اول یا آخر یا اس پر حاشیہ تحریر فرما دیتے ۔ آپ کے کتب خانہ میں مختلف علوم و فنون کی کتب جمع تھیں ۔ جن کی تعداد سولہ ہزار کے قریب تھی ۔ نادر و نایاب کتب کی کتابت خود کرتے، یا کسی کاتب سے کروا کر کتب خانہ میں داخل کر دیتے ۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوقِ شاعری بھی عمدہ عطاء فرمایا تھا ۔ آپ کے اکثر اشعار فارسی اور اردو میں ملتے ہیں ۔ مشہور زمانہ منقبت
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے ‘‘
یہ منقبت آپ علیہ الرحمہ ہی کی ہے ۔
تصنیفات:
آپ کو تصنیف و تالیف سے خاص شغف تھا
1 کاشف الاستار ۔
2 فص الکلمات ۔
یہ کتاب تمام علوم و فنون کی جامع ہے ـ
3 مثنوی اتفاقیہ ۔
4 قصیدہ گوہربار ۔
5 رسالہ عقائد ۔
وہابیوں نے ایک کتاب ’’خزینۃ الاولیاء‘‘ گھڑ کر آپ کی طرف منسوب کر دی ۔ اس سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ کتاب آپ کی ہرگز نہیں ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ؛جلد 29،ص، 68) ـ
اولاد و خلفاء:
آپ علیہ الرحمہ کی پانچ اولادیں ہوئیں:
۱ شاہ آل احمد اچھے میاں ـ
۲ شاہ برکات ستھرے میاں ـ
۳ شاہ آل حسین سچے میاں ـ
۴ سید علی ـ
ان کا وصال بچپن میں ہی ہو گیا تھا،
۵ اور ایک صاحبزادی تھی ۔ علیہم الرحمہ
آپ کے خلفاءِ کرام کی تعداد اکتیس ہے،
اکثر خلفاءِ کرام سے سلسلہ جاری ہے ۔
تاریخِ وصال:
14 محرم الحرام 1198ھ مطابق 10 دسمبر 1783ء، بروز بدھ، بعد نماز مغرب واصل باللہ ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/asad-ul-aarifeen-hazrat-syed-shah-hamza-barkati-qadri-marehravi
ایک باکمال درویش نے آپ کی خدمت مبارکہ میں ایک درود شریف نذر کیا ۔ حضرت نے اسے پسند فرما کر رکھ لیا ۔ اِسی شب میں حضورِ اقدس ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صاحبزادے اٹھو! اور درود شریف پڑھو ‘‘ ۔ آپ بیدار ہوئے، غسل فرمایا، عطر لگایا، بخور وغیرہ روشن کئے اور اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا ۔ ابھی درود شریف ختم بھی نہ کیا تھا کہ زیارتِ سرور کونین ﷺ سے مشرف ہوئے اور آپ علیہ الرحمہ نے سر کی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کا دیدار کیا ۔ آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور درود شریف کے بقیہ اعداد پورے کئے ۔ درود شریف تمام ہونے تک آقا ئے دو عالم ﷺ آپ کے پاس تشریف فرما رہے ۔ مذکورہ درویش کا نام مولانا محمد مکرم مرید شاہ پشاوری علیہ الرحمہ ہے جو 1174ھ کو احمد شاہ درانی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے ۔ (ایضا: 353) ـ
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا، اور جو کتابیں مطالعہ فرماتے اول سے آخر تک دیکھتے، اور پسندیدہ فوائد اس کے اول یا آخر یا اس پر حاشیہ تحریر فرما دیتے ۔ آپ کے کتب خانہ میں مختلف علوم و فنون کی کتب جمع تھیں ۔ جن کی تعداد سولہ ہزار کے قریب تھی ۔ نادر و نایاب کتب کی کتابت خود کرتے، یا کسی کاتب سے کروا کر کتب خانہ میں داخل کر دیتے ۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوقِ شاعری بھی عمدہ عطاء فرمایا تھا ۔ آپ کے اکثر اشعار فارسی اور اردو میں ملتے ہیں ۔ مشہور زمانہ منقبت
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے ‘‘
یہ منقبت آپ علیہ الرحمہ ہی کی ہے ۔
تصنیفات:
آپ کو تصنیف و تالیف سے خاص شغف تھا
1 کاشف الاستار ۔
2 فص الکلمات ۔
یہ کتاب تمام علوم و فنون کی جامع ہے ـ
3 مثنوی اتفاقیہ ۔
4 قصیدہ گوہربار ۔
5 رسالہ عقائد ۔
وہابیوں نے ایک کتاب ’’خزینۃ الاولیاء‘‘ گھڑ کر آپ کی طرف منسوب کر دی ۔ اس سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ کتاب آپ کی ہرگز نہیں ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ؛جلد 29،ص، 68) ـ
اولاد و خلفاء:
آپ علیہ الرحمہ کی پانچ اولادیں ہوئیں:
۱ شاہ آل احمد اچھے میاں ـ
۲ شاہ برکات ستھرے میاں ـ
۳ شاہ آل حسین سچے میاں ـ
۴ سید علی ـ
ان کا وصال بچپن میں ہی ہو گیا تھا،
۵ اور ایک صاحبزادی تھی ۔ علیہم الرحمہ
آپ کے خلفاءِ کرام کی تعداد اکتیس ہے،
اکثر خلفاءِ کرام سے سلسلہ جاری ہے ۔
تاریخِ وصال:
14 محرم الحرام 1198ھ مطابق 10 دسمبر 1783ء، بروز بدھ، بعد نماز مغرب واصل باللہ ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/asad-ul-aarifeen-hazrat-syed-shah-hamza-barkati-qadri-marehravi
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
کتب شان حضور مفتئ اعظم ہند ↓ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ❶حیات مفتئ اعظم ہند کے تابندہ نقوش ✍ مولانا شاکر علی نوری صاحب https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3944 ❷ مفتئ اعظم ہند کی کرامات 📖 ✍ شاعر اسلام جناب راز الہ آبادی https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3947 ❸ آفتاب و…
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظم ہند، حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے ۔ والد ماجد نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا ۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص " نوری " فرماتے تھے ۔ لقب: مفتیِ اعظم ہند ہے ۔
آپ امامِ اہلسنت، مجدد دین و ملت، شیخ الاسلام، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے صاحبزادے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ 22 ذی الحجہ 1310ھ 7 جولائی 1893ء بروز جمعہ بوقتِ صبح صادق دنیا میں تشریف لائے ۔ آپ کی جائے ولادت محلہ رضا نگر ، سودا گران شہر بریلی شریف ، یوپی انڈیا ہے ۔
تحصیلِ علم:
حضور مفتئ اعظم ہند قدس سرہٗ نے اصل تربیت تو اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ سے پائی ۔ علوم دینیہ کی تکمیل بھی اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے کی ۔
فراغت:
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ۱۳۲۸ھ / ۱۹۱۰ء میں بہ عمر اٹھارہ سال خدا داد ذہانت ، ذوقِ مطالعہ، لگن اور محنت اساتذہ کرام کی شفقت ورافت ، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہٗ کی توجہ کامل اور شیخ مکرم سید المشائخ قدس سرہٗ کی عنایات کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہل سنت دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی ۔
بیعت و خلافت:
25 جمادی الثانی 1311ھ چھ ماہ تین یوم کی عمر شریف میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
مرشد کامل کی بشارت:
سید المشائخ نے حضرت مفتیِ اعظم کو بیعت کرتے وقت ارشاد فرمایا: " یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گا ۔ اور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا ۔ یہ بچہ ولی ہے ۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گمراہ انسان دین حق پر قائم ہوں گے ۔ یہ فیض کا دریا بہائےگا " ۔
سیرتِ مبارکہ:
اسلام کا وہ بطل جلیل اور استقامت کا جبل عظیم جس کے جہاد بالقلم نے دینِ مصطفٰی ﷺ کی آبیاری فرمائی ۔ جس کی نگاہ کیمیاء اثر نے لاکھوں گم گشتگان راہ کو جادۂ حق سے ہم کنار کیا ۔ جس کے در کی جبیں سائی وقت کے بڑے بڑے مسند نشینوں نے کی ۔ جس کے ناخنِ ادراک میں لا ینحل مسائل کا حل تھا ۔
جو بیک وقت علم ظاہر و باطن کا ایسا سنگم تھا جہاں ہر تشنہ لب کو سیرابی و آسودگی کی دولتِ گراں مایہ ملتی تھی ۔ جو رسول پاک ﷺ کا سچا نائب ، تصدیق حق میں صدیقِ اکبر کا پرتو ، باطل کو چھانٹنے میں فاروق اعظم کا مظہر، رحم و کرم میں ذوالنورین کی تصویر، باطل شکنی میں حیدری شمشیر ۔ جس میں امام اعظم ابو حنیفہ کی فکر ، امام رازی کی حکمت ، امام غزالی کا تصوف اور مولائے روم کا سوزو گداز تھا ۔
جو علم و فضل میں شہرۂ آفاق، معقولات میں بحر ذخار، منقولات میں دریاے ناپیدار کنار، فقہ روایت میں امیر المومنین اور سلطنت قرآن و حدیث کا مسلم الثبوت وزیر المجتہدین، اعلم العلما عند العلماء، افقہ الفقہا عند الفقہا، قطب عالم علی لسان الاولیاء، فانی فی اللہ ، باقی باللہ عاشقِ کاملِ رسول اللہ ﷺ مولانا الشاہ الحاج محمد ابو البرکات محی الدین جیلانی محمد مصطفی رضا قادری قدس سرہ جسے دنیا تاجدار اہل سنت حضور مفتئ اعظم ہند کے نام نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے ۔
وصال:
اکانوے 91 سال اکیس دن کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 14 محرم الحرام 1402ھ ، بمطابق 12 نومبر 1981ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔
ماخذ و مراجع: جہانِ مفتیِ اعظم ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-azam-hind-muhammad-mustafa-raza-khan-noori
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے ۔ والد ماجد نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا ۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص " نوری " فرماتے تھے ۔ لقب: مفتیِ اعظم ہند ہے ۔
آپ امامِ اہلسنت، مجدد دین و ملت، شیخ الاسلام، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے صاحبزادے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ 22 ذی الحجہ 1310ھ 7 جولائی 1893ء بروز جمعہ بوقتِ صبح صادق دنیا میں تشریف لائے ۔ آپ کی جائے ولادت محلہ رضا نگر ، سودا گران شہر بریلی شریف ، یوپی انڈیا ہے ۔
تحصیلِ علم:
حضور مفتئ اعظم ہند قدس سرہٗ نے اصل تربیت تو اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ سے پائی ۔ علوم دینیہ کی تکمیل بھی اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے کی ۔
فراغت:
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ۱۳۲۸ھ / ۱۹۱۰ء میں بہ عمر اٹھارہ سال خدا داد ذہانت ، ذوقِ مطالعہ، لگن اور محنت اساتذہ کرام کی شفقت ورافت ، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہٗ کی توجہ کامل اور شیخ مکرم سید المشائخ قدس سرہٗ کی عنایات کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہل سنت دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی ۔
بیعت و خلافت:
25 جمادی الثانی 1311ھ چھ ماہ تین یوم کی عمر شریف میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
مرشد کامل کی بشارت:
سید المشائخ نے حضرت مفتیِ اعظم کو بیعت کرتے وقت ارشاد فرمایا: " یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گا ۔ اور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا ۔ یہ بچہ ولی ہے ۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گمراہ انسان دین حق پر قائم ہوں گے ۔ یہ فیض کا دریا بہائےگا " ۔
سیرتِ مبارکہ:
اسلام کا وہ بطل جلیل اور استقامت کا جبل عظیم جس کے جہاد بالقلم نے دینِ مصطفٰی ﷺ کی آبیاری فرمائی ۔ جس کی نگاہ کیمیاء اثر نے لاکھوں گم گشتگان راہ کو جادۂ حق سے ہم کنار کیا ۔ جس کے در کی جبیں سائی وقت کے بڑے بڑے مسند نشینوں نے کی ۔ جس کے ناخنِ ادراک میں لا ینحل مسائل کا حل تھا ۔
جو بیک وقت علم ظاہر و باطن کا ایسا سنگم تھا جہاں ہر تشنہ لب کو سیرابی و آسودگی کی دولتِ گراں مایہ ملتی تھی ۔ جو رسول پاک ﷺ کا سچا نائب ، تصدیق حق میں صدیقِ اکبر کا پرتو ، باطل کو چھانٹنے میں فاروق اعظم کا مظہر، رحم و کرم میں ذوالنورین کی تصویر، باطل شکنی میں حیدری شمشیر ۔ جس میں امام اعظم ابو حنیفہ کی فکر ، امام رازی کی حکمت ، امام غزالی کا تصوف اور مولائے روم کا سوزو گداز تھا ۔
جو علم و فضل میں شہرۂ آفاق، معقولات میں بحر ذخار، منقولات میں دریاے ناپیدار کنار، فقہ روایت میں امیر المومنین اور سلطنت قرآن و حدیث کا مسلم الثبوت وزیر المجتہدین، اعلم العلما عند العلماء، افقہ الفقہا عند الفقہا، قطب عالم علی لسان الاولیاء، فانی فی اللہ ، باقی باللہ عاشقِ کاملِ رسول اللہ ﷺ مولانا الشاہ الحاج محمد ابو البرکات محی الدین جیلانی محمد مصطفی رضا قادری قدس سرہ جسے دنیا تاجدار اہل سنت حضور مفتئ اعظم ہند کے نام نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے ۔
وصال:
اکانوے 91 سال اکیس دن کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 14 محرم الحرام 1402ھ ، بمطابق 12 نومبر 1981ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔
ماخذ و مراجع: جہانِ مفتیِ اعظم ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-azam-hind-muhammad-mustafa-raza-khan-noori
scholars.pk
Mufti Azam Hind Muhammad Mustafa Raza Khan Noori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1