ر نے یا البحر المحیط نے تحریر کیا ہے اور اسی کو صحیح سمجھنے کی تاکید شیخ اکبر نے فرمائی ہے۔ داؤد علیہ السلام کی خلافت اور عدل و انصاف کا حکم: یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِO وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا بَاطِلًا ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِO اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِO کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (پ۲۳ سورت ص ۲۶، ۲۹) اے داؤد ہم نے مقرر کیا ہے آپ کو (اپنا) نائب زمین میں پس فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اور نہ پیروی کیا کرو ہوائے نفس کی وہ بہادے گی تمہیں راہ خدا سے بیشک جو لوگ بھٹک جاتے ہیں راہ خدا سے ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے بھلادیا تھا یوم حساب کو اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بے فائدہ یہ تو کفار کا گمان ہے۔ پس بربادی ہے کفار کے لیے آگ (کے عذاب) سے، کیا ہم بنادیں گے انہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں ان لوگوں کی مانند جو فساد برپا کرتے ہیں زمین میں یا ہم بنادیں گے پرہیزگاروں کو فاجروں کی طرح۔ یہ کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف بڑی بابرکت تاکہ تدبر کریں اس کی آیتوں میں اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقلمند۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو بتایا جا رہا ہے کہ تم کسی شاہی خاندان کے فرد نہیں ہو کہ تمہیں یہ حکومت اور تخت ورثہ میں ملا ہو۔ تم ایک غیر معروف چرواہے تھے، ہم نے اپنے فضل و کرم سے آپ کے لیے یہ راہ ہمورا کی اور اپنی مہربانی سے بنی اسرائیل کا تاجدار بنایا۔ اور وسیع و عریض سلطنت مرحمت فرمادی، اور مسند خلافت پر متمکن کردیا۔ اس احسان کا شکر ادا کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ ہر فیصلہ عدل و انساف کے مطابق کرو، اور اپنی پسند و ناپسند کو کسی طرح اثر انداز نہ ہونے دو۔ اگر تم نے اپنی خواہش نفس پر انصاف کو قربان کیا تو یاد رکھنا اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہک جاؤ گے۔ اس کی توفیق کا دامن تمہارے ہاتھ سے چھوٹ جائے گا۔ اور جو شخص راہِ حق سے بہک جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ نے اس آیت کے ضمن میں منہیہ تحریر فرمایا ہے، جو پیش خدمت ہے: ’’ایک روز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرات طلحہ، زبیر، کعب اور سلمان رضی اللہ عنہم سے پوچھا، ما الخلیفۃ من الملک؟ یعنی خلیفہ اور بادشاہ میں کیا فرق ہے۔ حضرات طلحہ اور زبیر نے کہا ہم نہیں جانتے۔ حضرت سلیمان نے عرض کیا: ’’الخلیفۃ الذی یعدل فی الرعیۃ ویقیم بینھم بالسویۃ ویشفق علیھم شفقۃ الرجل علی اھلہ ویقضی بکتاب اللہ‘‘ یعنی خلیفہ وہ ہے جو رعیت میں عدل کرتا ہے ان میں مال مساوی طور پر تقسیم کرتا ہے اور وہ اپنی رعایا پر یوں مہربان اور شفیق ہوتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر شفیق ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ سلیمان بن عوجا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز حضرت فاروق اعطم رضی اللہ عنہ نے حاضرین سے کہا: ’’ما ادری اخلیفۃ انا ام ملک‘‘؟ مجھے معلوم نہیں کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ۔ ایک شخص کہنے لگا اے امیرالمومنین دونوں میں بڑا فرق ہے۔ آپ نے فرمایا کہ فرق کیا ہے؟ ’’قال الخلیفۃ لا یأخذ الاحقا ولا یضعہ الا فی حق انت بحمد اللہ کذالک ولا ملک یعسف الناس فیاخذ من ھذا یعطی ھذا فسکت عمر‘‘ اس نے کہا ہے خلیفہ وہ ہے جو لیتا ہے تو حق و انصاف سے اور خرچ کرتا ہے تو صحیح جگہ پر اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ ایسا ہی کیا کرتے ہیں اور بادشاہ وہ ہوتا ہے جو لوگوں پر جور و ستم کرتا ہے اس سے لیتا ہے اُس کو دیتا ہے۔یہ سن کر حضرت عمر خاموش ہوگئے۔ (حاشیہ تفسیر مظہری) سربراہِ مملکت کے لیے اسلام نے ’’بادشاہ، سلطان، چیئرمین‘‘ وغیرہ کلمات پسند نہیں کیے کیونکہ ان میں خودسری اور انانیت کی بو آتی ہے، بلکہ ’’خلیفہ‘‘ کا لفظ تجویز کیا ہے۔ جس کا معنی خود سر اور مختار کا نہیں بلکہ نائب اور قائم مقام ہے۔ یہ لفظ ہی بتا رہا ہے کہ مملکت اسلامیہ کا سربراہ اپنے رب کا نائب ہوتا ہے اور نائب کا کام اپنے آقا کے احکام کی تعمیل کرنا ہے اور اس کے ارشادات کے مطابق اس کے دیے ہوئے اختیارات کو استعمال کرنا ہے۔ یہ وہ فرق ہے جو دنیا کے دوسروں نظاموں اور اسلام کے نظام سیاست میں بنیادی اہمیت کا مالک ہے قرآن پاک نے یہاں خلیفہ کی ذمہ داریوں کو بڑے مؤثر انداز اور پیرائے میں بیان کردیا کہ اس کا فرض اولین یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پر
ا کرے، فیصلہ کرتے وقت خارجی چیز، سفارش، کوئی طمع کوئی خوف، حتی کہ اپنے ذاتی مفاد کو بھی اس پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ جو حاکم ایسا نہیں کرتا گویا اس نے روز جزاء کو فراموش کردیا۔ قیامت کے دن پر اس کا ایمان نہ رہا۔ زبان سے وہ ہزار دعوے کرے کہ وہ وقوع قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اگر وہ فیصلہ کرتے وقت میزانِ عدل کو برابر نہیں رکھ سکتا تو اس کو یہ دعوی کرنے کا قطعا کوئی حق نہیں۔ اور جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے اسے فراموش کردیتے ہیں ان کے لیے عذاب شدید ہے۔ ’’اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ اَنْ نَضِلَّ عَنْ سَبِیْلِکَ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْحَشْرِ وَعَذَابِ النَّارِ‘‘ کفار اور ملحد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی بس یہی دنیوی زندگی ہے، اس میں خوب عیش و عشرت کرلو، خوب مزے اڑاؤ، دولت کماؤ، جتنی کماسکتے ہو۔ حلال و حرام کے چکر میں نہ پڑو، یہ تو ملاؤں کی من گھڑت باتیں ہیں۔ جاہ و منصب حاصل کرنے کے لیے کسی کی حق تلفی ہوتی ہے تو ہونے دو،مکر و فریب کی ضرورت پڑے تو ہرگز نہ گھبراؤ۔ قیامت کس نے دیکھی ہے۔ ہزارہا سال سے یہ صوفی لوگ قیامت کی دھمکیاں دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کی باتوں میں آکر اپنی زندگی کا لطف برباد نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس مغالطے کا رد فرماے ہیں کہ اگر تمہاری باتیں درست ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین و آمسان کا یہ سارا نظام عبث اور بے مقصد ہے۔ ایک نیک کار مومن اور ایک مفسد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ متقی اور پرہیزگار اور فاسق و فاجر سب یکساں ہیں۔ سن لو! اس کائنات کے خالق ہم ہیں اور ہم نے کوئی چیز بھی عبث اور بے مقصد پیدا نہیں کی۔ ہم علیم بھی ہیں حکیم بھی، ہمارا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی۔ اس روز متقی اور پرہیزگار ہمارے انعامات سے مالا مال ہوں گے اور فاسق و فاجر ذلیل ہوں گے۔ حق کا بول بالا ہوگا اور ہر قسم کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی۔ (ضیاء القرآن) حضرت داؤد علیہ السلام کے ’’جالوت‘‘ کو قتل کرنے کا واقعہ حضرت ’’طالوت‘‘ کے واقعہ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کیا جائے گا۔
Read More At :
http://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/holy-prophet-hazrat-dawood
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Read More At :
http://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/holy-prophet-hazrat-dawood
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Ziaetaiba
Holy Prophet Hazrat Dawood A.S, David in Islam, Story of Dawud (David),History,
Ziaetaiba please to share the true history of Holy Prophet Hazrat Dawood A.S, History, Family Tree, Photoes, Date of Birth, Hazrat nooh ki kashti ki kahan
ضیاء انبیاءِ کرام علیہم السَّلام
یَومِ وِصَال ❼ رمضان المبارک
حضرت سیدنا داؤد علیہ السَّلام
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یَومِ وِصَال ❼ رمضان المبارک
حضرت سیدنا داؤد علیہ السَّلام
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 ضیاءِ اکابرین علمائے اہلِ سنت 🌹
🌷 یَومِ وِصَال ❼ رمضان المبارک 🌷
🌹 #خلیفۂ_حضور_مفتئ_اعظم_ہند
رئیسُ الاتقیاء ، محبوبِ اصفیاء بدرِ ملت
بدرُ العلماء حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاه
محمد بدرالدین احمد قادری رضوی نوری
رضی الله تعالیٰ عنه بڑهیا شریف یُو پی]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌷 یَومِ وِصَال ❼ رمضان المبارک 🌷
🌹 #خلیفۂ_حضور_مفتئ_اعظم_ہند
رئیسُ الاتقیاء ، محبوبِ اصفیاء بدرِ ملت
بدرُ العلماء حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاه
محمد بدرالدین احمد قادری رضوی نوری
رضی الله تعالیٰ عنه بڑهیا شریف یُو پی]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت ام المؤمنین سیدہ خدیجہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہا 🌹 نام ونسب :
اسمِ گرامی :
ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ
کنیت : ام القاسم، امِ ہند لقب : طاہرہ
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
خدیجہ بنتِ خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی ۔ سیدہ کا نسب حضور ﷺ سے قصی پرمل جاتا ہے۔ آپکی والدہ فاطمہ بنتِ زائدہ بن الاصم بنی عامر بن لوی سے تھیں ۔
تاریخِ ولادت :
آپ رضی اللہ عنہا شرافت ،امانت ،ایفائے عہد ،سخاوت،غریب پروری ، فراخ دلی اورعفت و حیاجیسی اعلیٰ صفات اور خوبیوں کے ساتھ واقعہ فیل سے 15 سال پہلے بمطابق 555ءاس دنیا میں تشریف لائیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوبیاں آپ کی طبیعت کا لازمی جز بن گئیں اور پورے عرب میں آپ کی اعلیٰ خوبیوں کا چرچا ہونے لگا۔
اسلام کی خاتونِ اول اورنبی اکرم ﷺ کی زوجہٴ اول : حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں، بلکہ سب سے پہلے ایمان لانے والی اورنبی مکرم صلی الله علیہ وسلم کی پہلی بیوی تھیں ۔
دوسرے الفاظ میں آپ اسلام کی بھی خاتونِ اول تھیں اور نبی مکرم ﷺ کی بھی۔
شادی کے بعدحضرت خدیجہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ پچیس سال رہیں ان کی زندگی میں آپ ﷺ نے کسی عورت سے شادی نہیں کی۔
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:
"لَمْ یَتَزَوج النبِیُ صلی الله علیہ وسلم عَلٰی خَدِیْجَةَ حَتٰی مَاتَتْ" نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، یہاں تک کہ آپ فوت ہوگئیں۔
سیرت وخصائص :
حضور سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں جن عورتوں کو زوجیت کا شرف حاصل ہو احق سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی نسبت کی بنا پر ان کو "امہات المؤمنین" فرمایا ہے۔ یعنی مومنوں کی مائیں ۔
اَلنبِیُ اَوْ لیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ
اَزْوَا جُہٗ اُمھٰتُھُمَ ط (پ²¹، احزاب 4)
ترجمۂ کنز الایمان :
یہ نبی کریم ﷺ ایمان والوں کی جانوں سے بھی زیادہ نزدیک ہیں اور ان کی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں۔
آپ رسول ﷲﷺ کی سب سے پہلی بیوی اور رفیقہ حیات ہیں یہ خاندان قریش کی بہت ہی باوقار و ممتاز خاتون ہیں ۔ان کی شرافت اور پاک دامنی کی بنا پر تمام مکہ والے ان کو "طاہرہ" کے لقب سے پکارا کرتے تھے
انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے اخلاق و عادات اور جمال صورت و کمال سیرت کو دیکھ کر خود ہی آپ سے نکاح کی رغبت ظاہر کی
چنانچہ اشراف قریش کے مجمع میں باقاعدہ نکاح ہوا یہ رسول ﷺ کی بہت ہی جاں نثار اور وفا شعار بیوی ہیں اور حضور اقدس ﷺ کو ان سے بہت ہی بے پناہ محبت تھی
چنانچہ جب تک یہ زندہ رہیں آپ ﷺ نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور یہ مسلسل پچیس سال تک محبوب خدا کی جاں نثاری و خدمت گزاری کے شرف سے سرفراز رہیں
حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی ان سے اس قدر محبت تھی کہ ان کی وفات کے بعد ﷺ اپنی محبوب ترین بیوی حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی
جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شکم سے ﷲ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔
(شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ،حضرت خدیجہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا، ج۴،ص۳۶۳ والاستیعاب ،کتاب النساء ۳۳۴۷،خدیجہ بنت خویلد،ج۴،ص۳۷۹)۔
اس بات پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے حضورﷺ کی نبوت پر یہی ایمان لائیں اور ابتداءِ اسلام میں جب کہ ہر طرف آپ ﷺ کی مخالفت کا طوفان اٹھا ہوا تھا ایسے خوف ناک اور کٹھن وقت میں صرف ایک حضرت خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی ہی ذات تھی جو پروانوں کی طرح حضور ﷺ پر قربان ہورہی تھیں اور اتنے خطرناک اوقات میں جس استقلال و استقامت کے ساتھ انہوں نے خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اس خصوصیت میں تمام ازواج مطہرات پر ان کو ایک ممتاز فضیلت حاصل ہے۔
ان کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی آئی ہیں چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے زیادہ اچھی اور باکمال چار بیبیاں ہیں ایک حضرت مریم دوسری آسیہ (فرعون کی بیوی) تیسری حضرت خدیجہ چوتھی حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہن۔
ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ﷺ یہ خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا ہیں جو آپ ﷺ کے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں جب یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب عزوجل کا اور میرا سلام کہہ دیجئے اور ان کو یہ خوشخبری سنا دیجئے کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی
(صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ،رقم ۳۸۲۰،ج۲،ص۵۶۵)
رضی اللہ تعالیٰ عنہا 🌹 نام ونسب :
اسمِ گرامی :
ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ
کنیت : ام القاسم، امِ ہند لقب : طاہرہ
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
خدیجہ بنتِ خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی ۔ سیدہ کا نسب حضور ﷺ سے قصی پرمل جاتا ہے۔ آپکی والدہ فاطمہ بنتِ زائدہ بن الاصم بنی عامر بن لوی سے تھیں ۔
تاریخِ ولادت :
آپ رضی اللہ عنہا شرافت ،امانت ،ایفائے عہد ،سخاوت،غریب پروری ، فراخ دلی اورعفت و حیاجیسی اعلیٰ صفات اور خوبیوں کے ساتھ واقعہ فیل سے 15 سال پہلے بمطابق 555ءاس دنیا میں تشریف لائیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوبیاں آپ کی طبیعت کا لازمی جز بن گئیں اور پورے عرب میں آپ کی اعلیٰ خوبیوں کا چرچا ہونے لگا۔
اسلام کی خاتونِ اول اورنبی اکرم ﷺ کی زوجہٴ اول : حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں، بلکہ سب سے پہلے ایمان لانے والی اورنبی مکرم صلی الله علیہ وسلم کی پہلی بیوی تھیں ۔
دوسرے الفاظ میں آپ اسلام کی بھی خاتونِ اول تھیں اور نبی مکرم ﷺ کی بھی۔
شادی کے بعدحضرت خدیجہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ پچیس سال رہیں ان کی زندگی میں آپ ﷺ نے کسی عورت سے شادی نہیں کی۔
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:
"لَمْ یَتَزَوج النبِیُ صلی الله علیہ وسلم عَلٰی خَدِیْجَةَ حَتٰی مَاتَتْ" نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، یہاں تک کہ آپ فوت ہوگئیں۔
سیرت وخصائص :
حضور سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں جن عورتوں کو زوجیت کا شرف حاصل ہو احق سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی نسبت کی بنا پر ان کو "امہات المؤمنین" فرمایا ہے۔ یعنی مومنوں کی مائیں ۔
اَلنبِیُ اَوْ لیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ
اَزْوَا جُہٗ اُمھٰتُھُمَ ط (پ²¹، احزاب 4)
ترجمۂ کنز الایمان :
یہ نبی کریم ﷺ ایمان والوں کی جانوں سے بھی زیادہ نزدیک ہیں اور ان کی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں۔
آپ رسول ﷲﷺ کی سب سے پہلی بیوی اور رفیقہ حیات ہیں یہ خاندان قریش کی بہت ہی باوقار و ممتاز خاتون ہیں ۔ان کی شرافت اور پاک دامنی کی بنا پر تمام مکہ والے ان کو "طاہرہ" کے لقب سے پکارا کرتے تھے
انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے اخلاق و عادات اور جمال صورت و کمال سیرت کو دیکھ کر خود ہی آپ سے نکاح کی رغبت ظاہر کی
چنانچہ اشراف قریش کے مجمع میں باقاعدہ نکاح ہوا یہ رسول ﷺ کی بہت ہی جاں نثار اور وفا شعار بیوی ہیں اور حضور اقدس ﷺ کو ان سے بہت ہی بے پناہ محبت تھی
چنانچہ جب تک یہ زندہ رہیں آپ ﷺ نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور یہ مسلسل پچیس سال تک محبوب خدا کی جاں نثاری و خدمت گزاری کے شرف سے سرفراز رہیں
حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی ان سے اس قدر محبت تھی کہ ان کی وفات کے بعد ﷺ اپنی محبوب ترین بیوی حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی
جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شکم سے ﷲ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔
(شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ،حضرت خدیجہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا، ج۴،ص۳۶۳ والاستیعاب ،کتاب النساء ۳۳۴۷،خدیجہ بنت خویلد،ج۴،ص۳۷۹)۔
اس بات پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے حضورﷺ کی نبوت پر یہی ایمان لائیں اور ابتداءِ اسلام میں جب کہ ہر طرف آپ ﷺ کی مخالفت کا طوفان اٹھا ہوا تھا ایسے خوف ناک اور کٹھن وقت میں صرف ایک حضرت خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی ہی ذات تھی جو پروانوں کی طرح حضور ﷺ پر قربان ہورہی تھیں اور اتنے خطرناک اوقات میں جس استقلال و استقامت کے ساتھ انہوں نے خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اس خصوصیت میں تمام ازواج مطہرات پر ان کو ایک ممتاز فضیلت حاصل ہے۔
ان کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی آئی ہیں چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے زیادہ اچھی اور باکمال چار بیبیاں ہیں ایک حضرت مریم دوسری آسیہ (فرعون کی بیوی) تیسری حضرت خدیجہ چوتھی حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہن۔
ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ﷺ یہ خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا ہیں جو آپ ﷺ کے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں جب یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب عزوجل کا اور میرا سلام کہہ دیجئے اور ان کو یہ خوشخبری سنا دیجئے کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی
(صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ،رقم ۳۸۲۰،ج۲،ص۵۶۵)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا : وما رایتہا ولٰکن کان النبی صلی اللٰہ علیہ و الہ وسلم یکثر ذکرھا وربماذبح الشاۃ ثم یقطعہا اعضآء ثم یبعثھا فی صدائق خدیجۃ فربما قلت لہٗ کا نہٗ لم یکن فی الدنیا امرأۃ الا خدیجۃ فیقول انھا کانت وکانت وکان لی منھا ولد (بخاری جلد اول : ۵۳۹،و مسلم جلد دوم : ۲۸۴، ترمذی،۲:۴۶۵)
ترجمہ: کہ رسول اللہ ﷺ اکثر سیدۃ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر فرماتے تھے بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اعضاء کاٹتے پھر وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے تو وہ کبھی آپ سے کہہ دیتی تھیں گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں اور کوئی عورت ہی نہیں تھیں تو آپ فرماتے وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی۔
سرکار دو جہاں ﷺ نے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا لیکن حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی محبت آخرِ عمر تک ﷺکے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضور ﷺ کے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ ﷺ بار بار حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا ذکر فرماتے رہتے تھے
وفات :
ہجرت سے تین برس قبل پینسٹھ برس کی عمر پا کر ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے اندر انہوں نے وفات پائی اور مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان حجون (جنت المعلی) میں خود حضور اقدس ﷺ نے ان کی قبر انور میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپرد خاک فرمایا
نماز جنازہ :
اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے آپ ﷺ نے انکی نماز نہیں پڑھائی حضرت خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات سے تین یا پانچ دن پہلے حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوگیا تھا ابھی چچا کی وفات کے صدمہ سے حضور ﷺ گزرے ہی تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا اس سانحہ کا قلب مبارک پر اتنا زبردست صدمہ گزرا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس سال کا نام "عام الحزن" (غم کا سال) رکھ دیا۔
وصال :
آپ کی وفات 10رمضان المبارک 10 نبوی 65 برس کی عمر میں مکۃ المکرہ میں ہوئی، آپ جنت المعلیٰ کے مقبرہ حجون میں استراحت فرما ہیں ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Read more at:
http://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-khadija-bint-khuwaylid
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ترجمہ: کہ رسول اللہ ﷺ اکثر سیدۃ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر فرماتے تھے بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اعضاء کاٹتے پھر وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے تو وہ کبھی آپ سے کہہ دیتی تھیں گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں اور کوئی عورت ہی نہیں تھیں تو آپ فرماتے وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی۔
سرکار دو جہاں ﷺ نے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا لیکن حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی محبت آخرِ عمر تک ﷺکے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضور ﷺ کے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ ﷺ بار بار حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا ذکر فرماتے رہتے تھے
وفات :
ہجرت سے تین برس قبل پینسٹھ برس کی عمر پا کر ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے اندر انہوں نے وفات پائی اور مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان حجون (جنت المعلی) میں خود حضور اقدس ﷺ نے ان کی قبر انور میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپرد خاک فرمایا
نماز جنازہ :
اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے آپ ﷺ نے انکی نماز نہیں پڑھائی حضرت خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات سے تین یا پانچ دن پہلے حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوگیا تھا ابھی چچا کی وفات کے صدمہ سے حضور ﷺ گزرے ہی تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا اس سانحہ کا قلب مبارک پر اتنا زبردست صدمہ گزرا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس سال کا نام "عام الحزن" (غم کا سال) رکھ دیا۔
وصال :
آپ کی وفات 10رمضان المبارک 10 نبوی 65 برس کی عمر میں مکۃ المکرہ میں ہوئی، آپ جنت المعلیٰ کے مقبرہ حجون میں استراحت فرما ہیں ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Read more at:
http://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-khadija-bint-khuwaylid
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Ziaetaiba
Biography of Hazrat Khadija RA,Wives of the Prophet Muhammad (SAW), Ummul Momineen Hazrat Khadija (RA) Islamic Story in Urdu, Family…
Ziaetaiba sharing true history and Biography of Hazrat Khadija RA,Wives of the Prophet Muhammad (SAW), , Books, Hadees, Family Tree, Photoes, Date of Birth
ْ ام المؤمنین حضرت سیدتنا
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَـ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا : تاریخِ وِصال تدفین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وصال : آپ کی وفات ¹⁰رمضان المبارک
10 نبوی ، 65 برس کی عمر میں - مکۃ
المکرمہ میں ہوئی ، اور جنت المعلیٰ کے
مقبرہ حجون میں استراحت فرما ہیں ۔
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَـ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا : تاریخِ وِصال تدفین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وصال : آپ کی وفات ¹⁰رمضان المبارک
10 نبوی ، 65 برس کی عمر میں - مکۃ
المکرمہ میں ہوئی ، اور جنت المعلیٰ کے
مقبرہ حجون میں استراحت فرما ہیں ۔
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ْ ام المؤمنین حضرت سیدتنا
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ
والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ
اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم
کے تمام اولادِ اطہار انہیں سـے ہوئی
ولادت : عام الفیل سـے ¹⁵ سال پہلـے
عمر : 65 سال = پَینسٹھ سال
وصال-نبوت کے ¹⁰ویں سال ¹⁰رمضان
تدفین : مکہ مکرمہ میں واقع حجون
کے مقام پر جنت المعلیٰ میں کیا گیا-
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ
وَ تَعَالیٰ عَنۡہَا کا مختصر تعارف !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ وِصال 🌹 10 رمضان المبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کنیت : ام القاسم = لقب : الکبریٰ
والد : خویلد 🌹 والدہ : فاطمہ
اولادِ اطہار : سوائے حضرت ابراہیم
کے تمام اولادِ اطہار انہیں سـے ہوئی
ولادت : عام الفیل سـے ¹⁵ سال پہلـے
عمر : 65 سال = پَینسٹھ سال
وصال-نبوت کے ¹⁰ویں سال ¹⁰رمضان
تدفین : مکہ مکرمہ میں واقع حجون
کے مقام پر جنت المعلیٰ میں کیا گیا-
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ
مُسَلمانوں ڪُـو 🌹 جمعۃ المبارڪہ🌹
🌹 🌹 خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ْ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ
شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ کی ہَر گھڑی میں ایسے دَس¹⁰ دَس¹⁰ لاکھ گناہگاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دِئے جا چُکے ہُوتے ہَیں _
[ الفِردوس بماثور الخطاب جِـ³ صَـ³² ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مُسَلمانوں ڪُـو 🌹 جمعۃ المبارڪہ🌹
🌹 🌹 خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ْ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ
شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ کی ہَر گھڑی میں ایسے دَس¹⁰ دَس¹⁰ لاکھ گناہگاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دِئے جا چُکے ہُوتے ہَیں _
[ الفِردوس بماثور الخطاب جِـ³ صَـ³² ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
پُرانے اوزان کے جدید اوزان 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 اِمام حسن کے کثرتِ نِکاح
کے متعلق فیصلہ کن اور اصولی بات
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔹امام اہل سنت , مجدد دین و ملت , سیدی اعلیٰ حضرت , اِمام احمد رَضا خان قادِری محدث بریلوی رَضِیَ اللهُ تَبَارَك وَ تَعَالیٰ عَنه فرماتے ہیں :
"بعض صحابہ کرام مثلاً سیّدنا امام حسن مجتبٰی و مغیرہ بن شعبہ وغیرہما رضی ﷲ تعالیٰ عنہم سے جو کثرتِ نکاح و طلاق منقول ہے اسی حالت حاجت شرعیہ پر محمول ہے،
فی ردالمحتار : اذا وجدت الحاجۃ المذکورۃ ابیح وعلیہا یحمل ماوقع منہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ومن اصحابہ وغیرہم من الائمۃ صونالھم عن العبث والایذاء بلاسبب۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ردالمحتار میں ہے
کہ جب حاجت مذکورہ پائی جائے تو طلاق مباح ہے، اور اسی معنٰی پر محمول ہیں جو حضور ﷺ اور صحابہ کرام اور دیگر ائمہ کرام سے متعدد نکاح کے واقعات ہُوئے، تاکہ ان حضرات کی طرف عبث اور ایذاء رسانی کی نسبت نہ ہونے پائے"۔ (ت)
(ردالمحتار، کتاب الطلاق، داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۶)
(فتاوی رضویہ12،/469)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام حسن رضی اللہ عنہ کی
کثرتِ شادی کے متعلق روایات امام واقدی رحمہ اللہ نے کی ہے، جس کا تعلق سیرت و تاریخ سے ہے اور امام واقدی علیٰ سبیل التنزل کم از کم سیرت و تاریخ اور مغازی میں ناقدین کے نزدیک بھی ضرور معتبر و معتمد ہیں۔ 💯
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اس کے باوجود کسی کا بھی
اس تاریخ کو رد کرنے کے لئے :
👈واقدی کے متعلق عموماً حدیث کے ناحیہ (تعلق) سے کی گئی جرح کو پیش کرنا،
👈 اس سیرت و تاریخ کے متعلق صحیح یا حسن روایت کا مطالبہ کرنا،
👈اور اس سیرت و تاریخ سے ائمہ کرام کے استدلال کو یکسر نظر انداز کر دینا
💢 غیر علمی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر منہجی بھی ہے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔹 جب مندرجہ بالا باتیں ثابت شدہ ہیں تو اب اس سیرت و تاریخ کو ناقابل قبول قرار دینے کے لئے کم از کم مندرجہ ذیل باتوں میں سے ایک بات تو ثابت کرنی ہی ہو گی :
📍واقدی خاص سیرت و تاریخ میں بھی قابل اعتماد نہیں،
📍صحیح یا حسن روایت واقدی کی روایت کے خلاف پیش کرنا جو سیرت و تاریخ میں واقدی سے زیادہ قابل اعتماد ہو،
📍 حدیثی نہیں بلکہ معتمد علیہ اور ماہر ناقدین کا اس واقعے سے انکار۔
اس کے بغیر اس سیرت و تاریخ کے پہلو کو رد کرنا اور ایں و آں کرنا بے جا تعصب و انا کا سہارا لینا ہے، جو غیر محمود ہونے کے ساتھ مذموم بھی ہے۔❌
🔊 میرے علم کے مطابق ان میں سے کسی ایک بات کو بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا واقدی کی یہ روایت مقبول ہے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ْ طالب دعا :
✍ ازہار احمد امجدی ازہری
[ خـادم 🏠 مرکز تربیت افتاء
اوجھا گنج، بَستی یُو پی، اِنڈیا ]
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کے متعلق فیصلہ کن اور اصولی بات
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔹امام اہل سنت , مجدد دین و ملت , سیدی اعلیٰ حضرت , اِمام احمد رَضا خان قادِری محدث بریلوی رَضِیَ اللهُ تَبَارَك وَ تَعَالیٰ عَنه فرماتے ہیں :
"بعض صحابہ کرام مثلاً سیّدنا امام حسن مجتبٰی و مغیرہ بن شعبہ وغیرہما رضی ﷲ تعالیٰ عنہم سے جو کثرتِ نکاح و طلاق منقول ہے اسی حالت حاجت شرعیہ پر محمول ہے،
فی ردالمحتار : اذا وجدت الحاجۃ المذکورۃ ابیح وعلیہا یحمل ماوقع منہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ومن اصحابہ وغیرہم من الائمۃ صونالھم عن العبث والایذاء بلاسبب۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ردالمحتار میں ہے
کہ جب حاجت مذکورہ پائی جائے تو طلاق مباح ہے، اور اسی معنٰی پر محمول ہیں جو حضور ﷺ اور صحابہ کرام اور دیگر ائمہ کرام سے متعدد نکاح کے واقعات ہُوئے، تاکہ ان حضرات کی طرف عبث اور ایذاء رسانی کی نسبت نہ ہونے پائے"۔ (ت)
(ردالمحتار، کتاب الطلاق، داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۶)
(فتاوی رضویہ12،/469)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام حسن رضی اللہ عنہ کی
کثرتِ شادی کے متعلق روایات امام واقدی رحمہ اللہ نے کی ہے، جس کا تعلق سیرت و تاریخ سے ہے اور امام واقدی علیٰ سبیل التنزل کم از کم سیرت و تاریخ اور مغازی میں ناقدین کے نزدیک بھی ضرور معتبر و معتمد ہیں۔ 💯
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اس کے باوجود کسی کا بھی
اس تاریخ کو رد کرنے کے لئے :
👈واقدی کے متعلق عموماً حدیث کے ناحیہ (تعلق) سے کی گئی جرح کو پیش کرنا،
👈 اس سیرت و تاریخ کے متعلق صحیح یا حسن روایت کا مطالبہ کرنا،
👈اور اس سیرت و تاریخ سے ائمہ کرام کے استدلال کو یکسر نظر انداز کر دینا
💢 غیر علمی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر منہجی بھی ہے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔹 جب مندرجہ بالا باتیں ثابت شدہ ہیں تو اب اس سیرت و تاریخ کو ناقابل قبول قرار دینے کے لئے کم از کم مندرجہ ذیل باتوں میں سے ایک بات تو ثابت کرنی ہی ہو گی :
📍واقدی خاص سیرت و تاریخ میں بھی قابل اعتماد نہیں،
📍صحیح یا حسن روایت واقدی کی روایت کے خلاف پیش کرنا جو سیرت و تاریخ میں واقدی سے زیادہ قابل اعتماد ہو،
📍 حدیثی نہیں بلکہ معتمد علیہ اور ماہر ناقدین کا اس واقعے سے انکار۔
اس کے بغیر اس سیرت و تاریخ کے پہلو کو رد کرنا اور ایں و آں کرنا بے جا تعصب و انا کا سہارا لینا ہے، جو غیر محمود ہونے کے ساتھ مذموم بھی ہے۔❌
🔊 میرے علم کے مطابق ان میں سے کسی ایک بات کو بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا واقدی کی یہ روایت مقبول ہے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ْ طالب دعا :
✍ ازہار احمد امجدی ازہری
[ خـادم 🏠 مرکز تربیت افتاء
اوجھا گنج، بَستی یُو پی، اِنڈیا ]
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جنگ بدر = میدان بدر = जंगे बदर
یوم وقوع ⑰رمضان المبارڪ۲ھ
قبر شریف ام المؤمنین حضرت سیدہ
عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰهُ تَـعَـالیٰ عَـنہَا
یومِ وِصال ⑰ رمضان المبارڪ مَنگل
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یوم وقوع ⑰رمضان المبارڪ۲ھ
قبر شریف ام المؤمنین حضرت سیدہ
عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰهُ تَـعَـالیٰ عَـنہَا
یومِ وِصال ⑰ رمضان المبارڪ مَنگل
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ْ غزوۂ کبریٰ
غزوۂ بدر 🌹 سب سے بڑا غزوہ ہے !
یوم وقوع ⑰رمضان المبارڪ۲ھ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
غزوۂ بدر 🌹 سب سے بڑا غزوہ ہے !
یوم وقوع ⑰رمضان المبارڪ۲ھ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جنگ بدر 🌹 شہدائے بدر
جنگ بدر میں شہید ہونے والے
صحابہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنہُم کے نام
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جنگ بدر میں شہید ہونے والے
صحابہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنہُم کے نام
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یومِ بدر 🌹 یوم الفرقان
جنگ بدر میں شہید ہونے والے
صحابہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنہُم کے نام
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جنگ بدر میں شہید ہونے والے
صحابہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنہُم کے نام
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
تم جو بھی عمل کر لو
میں نے تمہیں بخش دِیا !!
🌹 فضائے بدر پیدا کر 🌹
یوم وقوع ⑰رمضان المبارڪ۲ھ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
میں نے تمہیں بخش دِیا !!
🌹 فضائے بدر پیدا کر 🌹
یوم وقوع ⑰رمضان المبارڪ۲ھ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدہ رقیہ بنت رسول اللہﷺ
یومِ وِصال ⑰ رمضان المبارڪ ۲ھ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یومِ وِصال ⑰ رمضان المبارڪ ۲ھ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدہ رقیہ بنت رسول اللہﷺ
یومِ وِصال ⑰ رمضان المبارڪ ۲ھ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یومِ وِصال ⑰ رمضان المبارڪ ۲ھ
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنـهَـا
یومِ وِصال ¹⁷ رمضان المبارڪ منگل
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنـهَـا
یومِ وِصال ¹⁷ رمضان المبارڪ منگل
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنـهَـا
یومِ وِصال ¹⁷ رمضان المبارڪ منگل
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنـهَـا
یومِ وِصال ¹⁷ رمضان المبارڪ منگل
➻═══════════➻
TTS Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻