🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
عاشورہ کے دن پانیوں میں زم زم شریف آنے کی تحقیق
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Dua e Aashoorah ¹¹Languages
🆔
@Ahlesunnat_HindiBooks
Muhammad Aslam Razvi

@Al_Ashhar_Academy_Urdu
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
دعائے عاشورہ 📖 ¹¹زبان میں
محترم محمد اسلم رضوی

@Al_Ashhar_Academy_English
@Al_Ashhar_Academy_Gujarati
1👍1
Dua_e_Ashura_in_11_Languages.pdf
1.6 MB
दुआ़ ए आ़शूरा ¹¹भाषा की लिपि में
@Ahlesunnat_HindiBooks
मोह़तरम मुह़म्मद असलम रज़़वी
👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
یوم وصال 10 محرم الحرام 0060
یوم پیدائش 04 شعبان المعظم 0004

نواسۂ رسول، سید الشہدا، حضرت سیدنا ابو عبد اللہ امام حسین بن علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ  عنہما

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ القاب: ولی، زکی، طیب، مبارک، ریحانۃ الرسول ﷺ ، سبط الرسول ﷺ ۔ شہید، سید، التابع المرضات اللہ ۔

سلسلہ نسب :
امام حسین بن امیر المؤمنین علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم۔

والدہ کی طرف سے امام حسین بن سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت پانچ شعبان المعظم /4 ھ، بمطابق 8/ جنوری 626ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

سیرتِ مبارکہ:
علم و عمل، زہد و تقوٰے، جود و سخا، شجاعت و قوت، اخلاق و مروّت، صبر و شکر، حلم و حیا وغیرہ صفات کمال میں بوجہ اکمل اور مہمان نوازی، غرباء پروری اعانتِ مظلوم، صلۂ رحم، محبتِ فقراء و مساکین میں شہرہ آفاق تھے ۔ پچیس حج پا پیادہ کیے، دن رات میں تین ہزار رکعت پڑھا کرتے تھے، اور کثرت سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے۔ آپ اتنے با جمال تھے کہ جب تاریکی میں بیٹھتے تو آپ کی پیشانی اور رخساروں کی روشنی سے راستے منور ہو جاتے تھے۔ آپ سینہ سے لے کر پاؤں تک مشابہ بہ جسم رسول پاک ﷺ تھے۔ (خزینۃ الاصفیاء:73)

فضائل و مناقب:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"حسین منی  وانا من الحسین احب اللہ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط" ۔

ترجمہ:
حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص کو محبوب رکھتا ہے، جو حسین سے محبت رکھے، حسین (میری) اولاد میں سے ایک فرزند ارجمند ہے۔ (جامع ترمذی: 3774)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہم انی احبہ فاحبہ یعنی الحسین"۔
اے اللہ میں اس حسین سے محبت کرتاہوں ،تو بھی حسین سے محبت فرما۔ (مسند امام احمد بن حنبل: ج،5:105)

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hussain-bin-ali-al-murtaza
Copyright © Zia-e-Taiba
2👍2
کون حسین:
سید الشہداء، راکب دوشِ مصطفٰی ﷺ، شہسوارِ کرب و بلا، شہزادہ گلگوں قبا، نواسہ امام الانبیاء، نورِ جانِ خیر النساء۔ پرتو شجاعت مرتضیٰ برادر حسنِ مجتبٰی امام عالی مقام حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ۔

آپ بلا شبہ سرخیل عابداں ہیں، اور ایسے عبادت گزار اور شب زندہ دار تھے۔ جو انتہائی بے کسی کے عالم میں بھی شبِ عاشورہ اپنے خیمہ میں خدائے لا یزال کی عبادت میں اس طرح گزاردی کہ دل میں خیال سو دو زیاں نہ تھا۔

حسین وہ عابد باکمال ہے جو اپنے جسم پر تیروں، تلواروں اور نیزوں کے ان گنت زخم کھانے کے باوجود بارگاہِ ایزد ی میں تپتی ہوئی ریت پر اپنی جبین کو سجدے میں رکھ کر نہایت پر سکوں دکھائی دے رہا تھا۔

ابن زہراء وہ محسن اسلام و انسانیت ہے جو بے سرو سامانی کے عالم میں کئی دن کی بھوک اور پیاس کے باوجود ہزاروں دشمنوں کے مقابلے میں تن تنہا ڈٹ گیا۔ اور تیروں کی بارش، تلواروں کے طوفانی وار اور نیزوں کی چمکتی ہوئی ہزاروں نوکیں، جس کے پائے استقامت میں لغزش نہ لاسکیں۔

نواسۂ رسول ﷺ، وہ قاری قرآن ہے، جس نے کوفے کے ستم کیش بازاروں میں، جفا کاروں کے جھر مٹ میں، اسلام کی شان و شوکت اور عظمت و وقار کا علم بلند کرتے ہوئے، جاں نثاروں کی طمانیت کی خاطر قرآن کی بڑائی اور آبرو کےلیے خون سے وضو کئے ہوئے، قرآن مجید کی اس طرح تلاوت فرمائی کہ مذہب کے چہرے پر نکھار آ گیا، شیطانوں کے دل بجھ گئے، بے ایمانوں کی دنیا اجڑ گئی، دنیاوی سلطانوں کے منصوبے خاک میں مل گئے۔۔۔۔

سر ترا نیزے پہ، جاری لب پہ قرآں واہ حسین
رو پڑے نوری یہ اندازِ تلاوت دیکھ کر

حسینیت و یزیدیت:
حضرت امام عالی مقام کی شہادت کا پہلا پیغام عملی جد و جہد کا پیغام ہے۔ محبت حسین رضی اللہ عنہ کو فقط رسمی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اپنے عمل و حال و قال میں شامل کر لیا جائے اور اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے، یعنی معلوم کیا جائے کہ یزیدی کردار کیا ہے اور حسینی کردار کیا ہے۔یزید نے کھلم کھلا اسلام کا انکار نہیں کیا تھا اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی تھی، مسجدیں بھی مسمار نہیں کی تھیں۔ وہ بھی اسلام کا نام لیتا تھا۔یزیدی کردار یہ ہے کہ مسلمان بھی ہو اور اسلام سے دھوکہ بھی کرے۔ نام اسلام کا لے اورعمل کافروں والاہو۔ اسلام اور مسلمانوں سے دھوکہ و فریب یزیدیت کا نام ہے۔ یزید ہر دور میں میں ہوتا ہے۔ صرف چہرے بدلتے ہیں، کردار ایک ہی ہوتا ہے۔

حقیقت ِابدی ہے مقام شبیری بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی پہلے حسینی کردار کی تجلی اپنے اندر پیدا کرو، سیرت حسین کو اپنے سینے پہ سجالو، پھر اس قوت حسینی سے یزیدی کردار کی مخالفت اور اس کا مقابلہ کرو۔ یزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کردو۔ اس کے لیے اگرچہ تمہیں مال، جان، اور اپنی اولاد کی قربانی ہی کیوں دینا پڑے۔ یزیدیت کامقدرشکست ہے،اس کیلئے صرف جذبۂ صادق چاہیے۔

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تاریخِ شہادت:
بروز جمعۃ المبارک، 10/محرم الحرام 60ھ، بعض مؤرخین نے 61ھ بھی لکھی ہے، بمطابق اکتوبر/679ء کو مقامِ کربلا پر سجدے کی حالت میں جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کا مزار پرانوار "کربلا" عراق میں ہے۔

(آپ کے ساتھ بہتر 72 دوسرے جاں نثار بھی شہید ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ آپ کے بھائی، بھتیجے، اور دوسرے عزیز بھی تھے جو بھوکے پیاسے اور بے سروسامانی میں آپ کے ساتھ ہی شہید ہوئے۔)

ماخذ و مراجع:
تاریخ الخلفاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ آل رسول ﷺ ۔ مسندِ امام احمد ۔ جامع ترمذی ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hussain-bin-ali-al-murtaza
Copyright © Zia-e-Taiba
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1