🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک جھوٹی حکایت*

مولانا اسد الرحمن چشتی کی تحریر اور اس پر نثار مصباحی کی دو تعلیقات :

مولانا اسد الرحمن چشتی (پیر محل، پاک) Asad Ur Rehman لکھتے ہیں:

"سیدنا امام حسن و حسین اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کھیل رہے تھے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
*اے ہمارے غلام کے بیٹے!*
ان الفاظ کی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رنجیدہ ہوئے تو اپنے والد محترم کی بارگاہ میں بطورِ شکایت عرض کی کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے مجھے غلام کا بیٹا کہا ہے۔
سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
*امام حسین رضی اللہ عنہ سےیہ بات لکھوا کر لے آؤ تاکہ جب میں فوت ہو جاؤں تو اس کاغذ کو میرے کفن میں رکھ دینا۔*

*اس روایت کوکئی خطباء نے بیان کیا ہے جبکہ اس کا کوئی بھی مستند حوالہ موجود نہیں ہے۔*
*جھوٹی روایت میں اگرچہ کتنی ہی محبت کا درس کیوں نہ ہو لیکن ہے تو من گھڑت۔ اس لیے علماے کرام و خطباے عظام کا حق بنتا ہے کہ مستند روایات ہی عوام الناس تک پہنچائیں۔*"

یہ واقعہ اہل تشیع کی کتاب "چودہ ستارے" از نجم الحسن کراروی کے صفحہ 226 پر موجود ہے۔۔۔ اس واقعہ کا کوئی مستند حوالہ ملے تو ضرور راہنمائی کی جائے تاکہ اپنی اصلاح ممکن ہو۔

_اسدالرحمٰن
5جنوری 2020ء

تعلیقِ اوّل :

حدیثِ صحیح سے ثابت ہے کہ جنگِ بدر کے موقعے پر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما ۱۳ یا ۱۴ سال کے تھے۔ اور اسی وجہ سے جنگ میں شرکت کی انھیں اجازت نہیں ملی۔ اگلے سال جنگِ اُحد میں آپ نے شریک ہونا چاہا۔ مگر بعض روایات میں ہے کہ اس میں بھی جنگ کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ مگر اس وقت آپ کی عمر مکمل ۱۴ سال تھی۔(تقریب التہذیب لابن حجر)
۳ ھ میں جنگِ احد ہوئی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ۳ھ میں اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ۴ ھ میں پیدا ہوئے۔ اس وقت یعنی ۴ھ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی عمر ۱۶ سال تھی۔ ظاہر ہے امام حسین کی جب کھیلنے کی عمر ہوئی ہوگی تب تک سیدنا عبد اللہ بن عمر ۱۹-۲۰ سال کے جوان مجاہد ہو چکے تھے۔ امام ابن عبد البر "الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب" میں معروف تابعی امام مجاہد کا بیان نقل فرماتے ہیں:
*وعن مجاهد ، قال : عبد الله بن عمر شارك يوم فتح مكة وكان عمره عشرين سنة.*
*حضرت عبد اللہ بن عمر فتحِ مکہ میں شریک رہے۔ اس وقت ان کی عمر ۲۰ سال تھی۔*
سب جانتے ہیں کہ فتحِ مکہ ۸ھ میں ہوئی۔ فتحِ مکہ کے وقت امام مجاہد کے بقول: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی عمر ۲۰ سال تھی۔ یعنی ۴ ھ میں ان کی عمر ۱۶ سال تھی، اور ۳ ھ میں ۱۵ سال۔ !((بہر حال معمولی اختلاف کے باوجود یہ طے ہے کہ امام حسین کی ولادت یعنی ۴ھ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی عمر ۱۴-۱۵ سال سے کم نہیں تھی۔ اور جب امام حسین کی عمر مبارک ۴ سال ہوئی یعنی ۸ ھ میں، اس وقت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر امام مجاہد کے بقول ۲۰ سال، اور باختلافِ روایت کم از کم ۱۸-۱۹ سال ضرور تھی۔))

عمر کے اس تفاوت کے بعد یہ کہنا کہ دونوں ایک ساتھ کھیل رہے تھے، یہ کہنا ہی غیر معقول ہے۔ اور ہماری بیان کردہ یہ تفصیل اس فرضی واقعے کی بنیاد ڈھا دینے کے لیے کافی ہے۔

#نثارمصباحی
۳۰ جنوری ۲۰۲۱ء

تعلیقِ دوم :

صحیح البخاری شریف کی حدیث ہے :

2521 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللہ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي..........الحديث

((صحيح البخاري، كتاب الشهادات، باب بلوغ الصبيان و شهادتهم. حديث نمبر : 2521)

بخاری شریف کی اس حدیث میں صراحت ہے کہ جنگِ احد کے وقت (یعنی ۳ ھ میں) حضرت عبد اللہ بن عمر کی عمر شریف ۱۴ سال تھی۔
اسی حدیث میں آگے ہے :
ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي.۔ ((یعنی جنگِ خندق کے وقت ان کی عمر ۱۵ سال تھی))

اس پر ایک اشکال ہے کہ جنگِ خندق ۵ ھ میں ہوئی۔ جب جنگ احد کے وقت وہ ۱۴ سال کے تھے تو خندق کے وقت ۱۶ سال ہونا چاہیے کیوں کہ جنگِ خندق ۵ ھ میں ہوئی۔ پھر اس میں کیسے کہا گیا کہ خندق کے وقت مَیں ۱۵ سال کا تھا ؟
اس اشکال کے ۲ جواب دیے گئے ہیں:
۱- جنگِ خندق ۵ھ میں نہیں بلکہ ۴ ھ میں ہوئی۔ جیسا کہ امامِ مغازی موسی بن عقبہ نے کہا ہے۔ (مگر یہ جواب کمزور ہے۔ کیوں کہ تحقیقی قول وہی ہے جو امام ابن اسحاق نے بیان فرمایا ہے کہ جنگ خندق ۵ھ میں ہوئی۔)
1👍1
پھر اس اشکال کا دوسرا جواب دیا گیا ہے کہ:
۲- جنگِ احد کے وقت وہ تیرہ سال کے تھے اور چودہواں سال چل رہا تھا۔ اس لیے ۱۴ سال کہا۔ اور خندق کے وقت ۱۵ سال مکمل تھے، سولہواں چل رہا تھا، مگر سولہویں کے مہینوں کو نہ گنتے ہوئے صرف ۱۵ سال کہنے پر انھوں نے اکتفا کیا۔ (دیکھیے : فتح الباری شرح بخاری۔ اسی حدیث کی شرح)

بہر حال اتنا طے ہے کہ جنگِ احد کے وقت ان کی عمر ۱۳-۱۴ سال ضرور تھی۔ اس سے کم نہیں تھی۔ اس سے بھی ہمارا مدعا حاصل ہے۔

البتہ یہاں ایک اشکال ہوگا کہ اس حساب سے فتحِ مکہ کے وقت ان کی عمر ۱۸ سال بن رہی ہے۔ پھر "الاستیعاب" کے حوالے سے مذکور قول میں امام مجاہد نے فتحِ مکہ کے وقت ان کی عمر ۲۰ سال کیسے بتائی ؟
اس اشکال کے ۲ جواب ہیں:
۱- پہلا جواب یہ ہے کہ فتحِ مکہ کے وقت ان کی عمر ۱۸ سال تھی، انیسواں سال چل رہا تھا۔ امام مجاہد نے انیس کی جگہ بیس کہہ کر ۲۰ کی تعیین نہیں کی ہے بلکہ ایک تقریبی قول بیان فرمایا ہے یعنی لگ بھگ ۲۰ سال تھی۔ اور ایسا بہت ہوتا ہے کہ ۱۹ سال والے کو موٹے طور پر بیس سال کا کہہ دیا جاتا ہے۔
۲- دوسرا جواب یہ ہے کہ امام مجاہد تک یہی قول پہنچا ہوگا کہ اس وقت ان کی عمر ۲۰ سال تھی۔ اس لیے انھوں نے ۲۰ سال بیان کی۔

بہر حال ان معمولی اختلافات سے ہمارے مدعا پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
چاہے آپ فتحِ مکہ کے وقت ان کی عمر ۱۸ سال مانیں، یا ۱۹ مانیں یا ۲۰ مانیں۔ بہر حال امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر شریف فتحِ مکہ والے سال جب ۴ سال تھی اس وقت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی عمر ۱۸-۱۹ سال ہو چکی تھی۔ اور دونوں کی عمر میں اس تفاوت کے ہوتے ہوئے ساتھ ساتھ کھیلنا متصور نہیں۔

#نثارمصباحی
۳۰ جنوری ۲۰۲۱ء
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*عاشورہ کے دن پانیوں میں زم زم شریف کی آمد ــ ایک تحقیق*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سوال: کیا ایسی کوئی روایت ہے کہ دس محرم الحرام کو غسل کرے تو تمام سال بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ اس دن آب زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔؟
سائل :
{فیضان سرور مصباحی ـ انڈیا }
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب: عاشورہ کی رات آب زم زم شریف کے تمام پانیوں میں پہنچنے کی بات پر کوئی مستند روایت میرے علم میں نہیں ہے۔ البتہ تین کتابوں بلا سند یہ بات صیغۂ تمریض کے ساتھ مذکور ہے۔

(1) چنانچہ علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
نقل ان اللہ عزوجل یخرق ليلة عاشوراء زمزم الي سائر المياه فمن اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة كما في "الروض الفائق"
(تفسير روح البيان ٤ صفحة ١٥٢ دار الكتب العلمية)

(2) صاحبِ روح البیان کی آخری عبارت "" كما في الروض الفائق"" سے واضح ہے کہ انھوں نے اس کو "الروض الفائق" سے نقل کیا ہے، الروض الفائق کی طرف رجوع کیا تو وہاں مجھے یہ عبارت ملی :
و قد ذكر ان الله تعالي يخرق في تلك الليلة ''يعني ليلة عاشوراء'' زمزم الي سائر المياه فمن اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة.
(الروض الفائق في المواعظ والرقائق المجلس الثاني والأربعين صفحة ١٧٧)

[نوٹ: اصل نسخہ دعوت اسلامی کے ویب سائٹ پر موجود ہے۔ حوالہ وہیں سے ماخوذ ہے۔]

(3) علامہ عبد الرحمن ابن الجوزی علیہ الرحمہ نے بھی اس کو بیان فرمایا ہے۔ مگر آپ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ سے مروی نہیں، وہ لکھتے ہیں :
و قد ذکر ان اللہ تعالی يخرق فی تلك الليلة زم زم الي سائر المياه فمن استعمل او اغتسل يومئذ امن من المرض في جميع السنة. و هذا ليس بحديث بل يروي عن علي بن ابن ابي طالب رضي الله عنه.
(سلوة الاخزان بما روي عن ذوي العرفان صفحة ٧٣ دار الكتب العلمية بيروت لبنان)

معنوی اعتبار سے غور کیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ مذکورہ کتب میں "یخرق" کا لفظ آیا ہے جو کہ 'خرق' سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے شگاف کرنا، پھاڑنا، سوراخ کرنا، روشن دان کھولنا وغیرہ۔ ان معانی کی روشنی میں مذکورہ عبارات کا مطلب ہے اللہ تعالی عاشورہ کی شب چاہ زمزم کی حاجز اور اس کی تہہ کو پھاڑ کر آب زمزم کا رشتہ زمین کے اندر موجود تمام پانیوں سے جوڑ دیتا ہے۔ اس طرح زمزم کا پانی زمین میں موجود تمام پانیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا جو پانی شب عاشورہ سے قبل ہی سطح زمین سے نکل کر کسی برتن میں آجائیں، اس کو یہ فضیلت شامل نہیں ۔
خلاصۂ کلام : عاشور کے دن آب زمزم تمام پانیوں میں پہنچنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ اس کا تعلق بزرگانِ دین کے مجربات سے ہوسکتا ہے؛ علامہ ابن الجوزی نے اس کا انتساب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی ہے، گویا وہ اپنی تحقیق میں اس کو موقوفاً ثابت مانتے ہیں. واللہ تعالٰی اعلم

ـــــــ تحریر :
ابو الحسن محمد شعیب خان
١٠/محرم الحرام ١٤٤٢ھ
1👍1
عاشورہ کے دن پانیوں میں زم زم شریف آنے کی تحقیق
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Dua e Aashoorah ¹¹Languages
🆔
@Ahlesunnat_HindiBooks
Muhammad Aslam Razvi

@Al_Ashhar_Academy_Urdu
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
دعائے عاشورہ 📖 ¹¹زبان میں
محترم محمد اسلم رضوی

@Al_Ashhar_Academy_English
@Al_Ashhar_Academy_Gujarati
1👍1
Dua_e_Ashura_in_11_Languages.pdf
1.6 MB
दुआ़ ए आ़शूरा ¹¹भाषा की लिपि में
@Ahlesunnat_HindiBooks
मोह़तरम मुह़म्मद असलम रज़़वी
👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1