🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، شیرِ بیشۂ اہل سنت، حضرت علامہ حشمت علی خان لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا حشمت علی خان ۔ کنیت: ابو الفتح ۔القاب: شیر بیشہ اہلسنت، غیظ المنافقین، مناظرِ اعظم ہند، سلطان المناظرین، معراج الواعظین ۔ لکھنؤ کی نسبت سے "لکھنوی" کہلاتے تھے۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا حشمت علی خان بن ابو الحفاظ نواب علی خان بن محمد حیات خان بن محمد سعادت خان بن محمد خاں ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

آپ کے والدِ گرامی، حضرت مولانا ہدایت رسول رامپوری (خلیفہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ) کے مرید تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1319ھ، مطابق 1901 کو لکھنؤ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآنِ کریم "مدرسہ فرقانیہ" کے اساتذہ سے دس برس کی عمر شریف میں مکمل کیا، اور تجوید کی سند بروایت حفص بارہ برس کی عمر میں حاصل کی، اور تیرہ برس کی عمر میں سند قرأت سبعہ اور چودھویں سال سند عشرہ حاصل فرمائی۔

ابتداءً یہ مدرسہ اہلسنت کا تھا لیکن بعد میں مدرسین دیوبندی وغیرہ آ گئے تھے، اس لئے یہ مدرسہ ان کے قبضے میں چلا گیا۔ آپ پر بھی آہستہ آہستہ ان کا رنگ چڑھنا شروع ہوا تھا کہ والدین اور مولانا ہدایت رسول علیہ الرحمہ کی دعائیں اور امام اہلسنت کے رسالہ بنام " تمہید ایمان " کے مطالعے سے ایمان محفوظ ہوا ۔ اس کے بعد بریلی کے "مدرسہ منظرِ اسلام "میں داخل ہوئے اور مستقل تعلیم حاصل کرنے لگے۔ 1340ھ میں حضرت حجۃ الاسلام نے دستار بندی فرمائی۔

اساتذۂ کرام:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا ۔ صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی ۔مولانا رحم الٰہی منگلوری ۔ تاجدار اہلسنت حضور مفتئ اعظم نوری ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

بیعت و خلافت:
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی سے ارادت حاصل تھی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اجازت و خلافت سے سر فراز فرمایا ۔

پھر 1340ھ کے جلسۂ دستار بندی میں حجۃ الاسلام نے اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا ۔جب شیر بیشہ اہلسنت حج و زیارت کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے وہاں قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مدنی نے بھی خلافت و اجازت سے نوازا۔

حضور مفتی اعظم ہند نے خلافت عطا فرمائی ۔ ابو المساکین حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی سے بھی اجازت حاصل تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

سیرت و خصائص:
شیر بیشہ اہلسنت، اسد الملت، ناصرِ اہلسنت، کاسر البدعت، مظہرِ اعلیٰ حضرت ، غیظ المنافقین، مناظرِ اعظم ہند، سلطان المناظرین، معراج الواعظین حضرت علامہ مولانا حشمت علی خان لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ کی شخصیت دنیائے اسلام میں محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ آپ ایک امتیازی شان کے مالک تھے۔ یہ امام اہلسنت کا فیضان تھا کہ آپ کے انگ انگ میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کاجلوہ موجزن تھا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ نے گلستانِ وہابیت و دیوبندیت کو خاکستر کر دیا۔ نجدی قلعوں میں زلزلزہ برپا کر دیا۔ بڑے بڑے سورماؤں کو آپ سے مقابلے کی تاب نہ تھی۔ اس شیرِ اہل سنت نے جس طرف رخ کیا حق و صداقت کے ڈنکے بجا دِیے اور باطل کے پرخچے اُڑا دیے۔

امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ نے آپ کو جب "ہلدوانی " مناظرہ کے لئے روانہ فرمایا تو اس وقت آپ کی عمر انیس سال تھی ۔ جس میں دوسری جانب مخالف مولوی یٰسین خام سرائی تھے۔ اس ننھی سے عمر کے نوجوان نے اسی سال کے بوڑھے ماہر مشاق کو شکست فاش دی اور فتح و نصرت کا سہرا شیرِ اہلسنت کے سر رہا۔

بریلی شریف آ کر مناظرہ کی ساری روداد جب امام اہلِ سنت علیہ الرحمہ کو سُنائی۔ تو امامِ اہلسنت اپنے شیر کی اس فتحِ مبین سے بہت خوش ہوئے۔ خوشی میں اپنی دستار عنایت فرمائی ، غیظ المنافقین، ولد المرافق، ابو الفتح کے عظیم القاب اور پانچ روپے بطور انعام عطاء فرمائے۔ نیز اپنی طرف سے پانچ روپے ماہانہ وظیفہ مقرر فرمایا۔

اور مدرسہ منظر اسلام کا رجسٹر منگا کر خود امام اہلسنت نے اپنے دست فیض سے تحریر فرمایا کہ: " مولانا حشمت علی خاں سلمہ میرا روحانی بیٹا ہے، ان کو پانچ روپے ماہانہ وظیفہ میری طرف سے ہمیشہ دیا جائے " ۔ امام اہلسنت کے وصال کے بعد حضرت حجۃ الاسلام قدس سرہ اور مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی علیہ الرحمۃ شیر بیشۂ اہلسنت کو زندگی بھر پوری پابندی کے ساتھ یہ وظیفہ ادا فرماتے رہے ۔

وصال:
آپ کا وصال 8 محرم الحرام 1380ھ، مطابق جون 1960ء کو ہوا۔ آپ کا مزار پیلی بھیت (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ تحقیقی مقالہ مولانا حشمت علی خان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hashmat-ali-khan-rizvi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
قطب لاہور، حضرت علامہ حافظ محمد طاہر بندگی قادری مجددی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت موتی بازار اندرون لاہور 984ھ میں ہوئی۔ آپ شاہ سکندر کیھتلی کے مرید، حضرت مجدد الف ثانی کے خلیفہ، ان کے صاحبزادگان کے استاذ، شہرۂ آفاق مبلغ و مدرس، بہترین کاتب اور صاحب کرامت ولی کامل تھے۔ 8 محرم 1040ھ بروز جمعرات وصال فرمایا، مزار میانی صاحب قبرستان میں معروف ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری وفات کے بعد جو میرے احاطۂ مزار میں مدفون ہوگا، میں نے خدا سے مانگا ہے کہ وہ جنتی ہو۔ (تذکرۂ اولیائے پاکستان، حدیقۃ الاولیاء)

The Qutb of Lahore, Allamah Hafiz Muhammad Tahir Bandagi Qadiri Mujaddidi Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born in 984 AH in Moti Bazaar in the inner region of Lahore. He was a disciple of Shah Sikandar Keehtli, Khalifah of Sayyiduna Mujaddid Alf Saani and the teacher of his sons, great preacher, excellent writer, and saintly figure who performed saintly marvels. He passed away on Thursday, 8th Muharram 1040 AH. His blessed mausoleum is famous and is located in Miyani Sahib Cemetery, Lahore, Pakistan. He stated that whoever is buried in the precincts of my shrine after my demise, I have asked Allah Almighty to make him enter paradise. [Tazkirah Awliya-e-Pakistan, Hadiqat al-Awliya]

https://www.facebook.com/100050689590519/posts/604873081212340/
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شیر بیشۂ اہلسنت، مظہر اعلی حضرت، ناصر الاسلام والمسلمین، حضرت علامہ ابو الفتح عبید الرضا محمد حشمت علی خان قادری رضوی لکھنوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 1319ھ میں لکھنو، یو پی، ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ مرید اعلی حضرت، حافظ قرآن، فاضل دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف، مناظر اہل سنت، مفتی اسلام، مصنف، مدرس، شاعر، شیخ طریقت اور بہترین واعظ تھے۔ آپ کے اساتذہ میں صدر الشریعہ، صدر الافاضل، حجۃ الاسلام اور مفتی اعظم جیسے عبقری مدرسین شامل ہیں اور آپ کے نامور تلامذہ میں مفسر قرآن ابراہیم رضا خان جیلانی میاں، احسن العلماء سید حسن میاں مارہروی اور سید آل مصطفی مارہروی (علیہم الرحمہ) سر فہرست ہیں۔ چالیس تصانیف میں ”الصوارم الھندیہ“ اور ”فتاوی شیر بیشۂ سنت“ زیادہ مشہور ہیں۔ 8 محرم الحرام 1380ھ بروز اتوار کلمہ طیبہ پڑھتے بحالت تبسم وصال فرمایا۔ مزار مبارک بھورے خاں پیلی بھیت، یو پی، ہندستان میں ہے۔ (مولانا حشمت علی لکھنوی ایک تحقیقی مطالعہ)

Lion of Ahl as-Sunnah, Manifestation of AlaHazrat, Allamah Abu al-Fatah Ubayd al-Rida Muhammad Hashmat Ali Khan Qadiri Ridawi Lucknowi (Alayhir Rahmah) was born in 1319 AH in Lucknow, U.P., India. He was a murid of AlaHazrat, memorizer of the Holy Quran, Graduate of Dar al-Uloom Manzar-e-Islam Bareilly Sharif, debater of Ahl as-Sunnah, Mufti of Islam, author, teacher, poet, orator, and spiritual guide. His teachers include luminaries like Sadr al-Shariah, Sadr al-Afazil, Hujjat-ul-Islam, and Mufti-e-Azam; and his famous students include geniuses like Mufassir-e-Azam, Ahsan al-Ulama, and Sayyid Aal-e-Mustafa Marehrawi (Alayhim ar-Rahmah). Among his 40 books, Al-Sawarim Al-Hindiyyah and Fatawa Sher-e Besha-e Sunnat are quite famous. He passed away on Sunday, 8 Muharram 1380 AH while reciting the Kalima Tayyabah with a smile. His blessed mausoleum Pilibhit, U.P., India is frequently visited by the devotees. [Mawlana Hashmat Ali Lucknowi Aik Tahqeeqi Mutala’ah]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=604265481273100&id=100050689590519
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-01-1444 ᴴ | 06-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-01-1444 ᴴ | 07-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1