Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤4👍1
حضرت شیخ محمد طاہر بندگی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 948ھ، بمطابق 1576ء کو اکبر کے بادشاہ کے زمانے میں لاہور میں ہوئی، آپ کی رہائش اندرون شہر محلہ شیخ اسحاق میں تھی ۔ جہاں آج کل موتی بازار ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد سادہ لوح اور نیک انسان تھے آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت لاہور کے علمی ماحول میں ہوئی ۔ جب آپ پڑھنے لکھنے کے قابل ہوئے تو آپ کے والد ماجد نے ایک قریبی مسجد میں قرآن پاک پڑھنے کے لئے بٹھایا آپ نے تھوڑی ہی عرصہ میں قرآن پاک پڑھ لیا اس کے بعد مختلف علماء سے دینی علوم حاصل کیے حتٰی کہ جو ان ہونے تک آپ ایک متبحر عالم دین بن گئے ۔ آپ مغلیہ دور کے شہرہ آفاق مبلغ اور قابل مدرس تھے ۔
بیعت و خلافت:
دینی علم کے حصول کے بعد آپ تلاش حق میں نکلے پہلے ادھر ادھر گھومتے رہے لیکن کوئی کامل رہنما نہ ملا آخر ایک دن شاہ سکندر بن شاہ کمال کیتھلی کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہو گئے اور ان کی صحبت سے اطمینان قلب حاصل ہوا ۔ پھر کچھ عرصہ حضرت شیخ عبد الاحد سرہندی (والد ماجد حضرت مجدد الفِ ثانی) کی خدمت میں گزارا حضرت شاہ سکندر بن کمال آپ کو "طاہر بندگی" کے نام سے پکارا کرتے چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہوئے ۔ بعد میں آپ نے حضرت مجدد الف ثانی کی مریدی اختیار کی اور ان کی راہنمائی میں سلوک و معرفت کی اعلیٰ ترین منازل طے کیں،اور حضرت مجد نے آپ کو خلافت سے بھی نوازا تھا ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ پنجاب، عالمِ ربانی، شیخِ کامل حضرت علامہ شیخ محمد طاہر بندگی لاہوری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ جامع عبادات و ریاضت اور علوم دینی و دنیاوی میں یکتائے زمانہ تھے ۔ آپ تمام عمر کسی دولت مند کے پاس نہ گئے ۔ اور نہ ہی ان کو اپنے دربار میں حاضر ہونے کا موقع دیا ۔ ساری ساری رات خدام کی تلقین اور عبادت الہٰی میں گزارتے ۔ آپ بڑے صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے آپ اپنے دور میں لاہور کے علماء صلحاء اور عوام میں آپ بے حد مقبول ہوئے ۔ آپ کے علم و فضل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے، کہ صاحبزادگان حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ محمد معصوم اور شیخ احمد سعید کی تعلیم و تربیت آپ کے سپرد ہوئی ۔
آپ کی زندگی کا ایک عجیب و غریب واقعہ: ایک دن سالکین کے اجتماع میں حضرت مجدد نے فرمایا: میں ایک شخص کی پیشانی پر " ھو الکافر " لکھا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔ یہ سن کر حاضرین لرزہ بر اندام ہو گئے ۔ پانچ چھ ماہ بعد دیکھا گیا کہ شیخ طاہر ایک کافرہ عورت کے عشق میں مبتلا ہو گئے، زنارِ ارتداد گردن میں ہے، اور پھر رہے ہیں، اور کبھی کبھی مندر میں بھی جا بیٹھتے تھے ۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت مجدد کے صاحبزادگان اور جملہ متوسلین کو بہت افسوس ہوا ۔ دعاء کے لئے استدعا کی گئی ۔ حضرت نے فرمایا: شیخ طاہر کا کفر " قضاء مبرم " ہے، یعنی اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ لیکن صاحبزادگان بار بار اصرار کرتے رہے ۔ چنانچہ حضرت مجدد نے دعاء فرمائی، اور اپنی دعا میں حضرت غوث الاعظم کی دعا کا حوالہ دیا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے حضرت مجدد کی دعا کو شرفِ قبولیت عطاء فرمائی ۔ فوراً دعاءِ مجددی کا اثر ہوا، زنار پھینکا، فوراً حضرت مجد دکی خدمت میں پہنچے اور ان کے دست پر تائب ہوئے، اور کچھ عرصے کے بعد آپ نے شیخ طاہر کو " قطبِ پنجاب " بنا کر لاہور بھیج دیا ۔
؏: نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی ۔
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی ۔
ہم بیعت کیوں ہوتے ہیں:
محترم قارئین: اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وقت کا ایک بہت بڑا عالم جس کے ایمان پہ شیطان نے کس طرح ڈاکہ ڈالا، وہ مسجد سے مندر میں جا بیٹھا، اگر حضرت مجدد کا دستِ کرم دستگیری نہ کرتا تو سب علم و عمل برباد ہو گئے تھے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم تھی ۔ ہم اسی لیے اولیاء کرام کی عقیدت کا دم بھرتے ہیں، اور ان سے اپنی نسبت قائم کرتے ہیں، ان کی برکت سے دنیا میں ایمان کی سلامتی، قبر میں آسانی، حشر میں شفاعت اور جنت ملے گی ۔
وصال:
آپ بروز جمعرات 8 محرم الحرام 1040ھ بمطابق 1630ء فوت ہوئے اور اس جگہ دفن ہوئے جہاں آپ کی درس گاہ تھی ۔ بوقتِ وصال آپ کی عمر 56 سال تھی ۔ آپ کا مزار قبرستان میانی صاحب (لاہور) میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے لاہور ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-tahir-bandagi-lahori
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 948ھ، بمطابق 1576ء کو اکبر کے بادشاہ کے زمانے میں لاہور میں ہوئی، آپ کی رہائش اندرون شہر محلہ شیخ اسحاق میں تھی ۔ جہاں آج کل موتی بازار ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد سادہ لوح اور نیک انسان تھے آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت لاہور کے علمی ماحول میں ہوئی ۔ جب آپ پڑھنے لکھنے کے قابل ہوئے تو آپ کے والد ماجد نے ایک قریبی مسجد میں قرآن پاک پڑھنے کے لئے بٹھایا آپ نے تھوڑی ہی عرصہ میں قرآن پاک پڑھ لیا اس کے بعد مختلف علماء سے دینی علوم حاصل کیے حتٰی کہ جو ان ہونے تک آپ ایک متبحر عالم دین بن گئے ۔ آپ مغلیہ دور کے شہرہ آفاق مبلغ اور قابل مدرس تھے ۔
بیعت و خلافت:
دینی علم کے حصول کے بعد آپ تلاش حق میں نکلے پہلے ادھر ادھر گھومتے رہے لیکن کوئی کامل رہنما نہ ملا آخر ایک دن شاہ سکندر بن شاہ کمال کیتھلی کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہو گئے اور ان کی صحبت سے اطمینان قلب حاصل ہوا ۔ پھر کچھ عرصہ حضرت شیخ عبد الاحد سرہندی (والد ماجد حضرت مجدد الفِ ثانی) کی خدمت میں گزارا حضرت شاہ سکندر بن کمال آپ کو "طاہر بندگی" کے نام سے پکارا کرتے چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہوئے ۔ بعد میں آپ نے حضرت مجدد الف ثانی کی مریدی اختیار کی اور ان کی راہنمائی میں سلوک و معرفت کی اعلیٰ ترین منازل طے کیں،اور حضرت مجد نے آپ کو خلافت سے بھی نوازا تھا ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ پنجاب، عالمِ ربانی، شیخِ کامل حضرت علامہ شیخ محمد طاہر بندگی لاہوری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ جامع عبادات و ریاضت اور علوم دینی و دنیاوی میں یکتائے زمانہ تھے ۔ آپ تمام عمر کسی دولت مند کے پاس نہ گئے ۔ اور نہ ہی ان کو اپنے دربار میں حاضر ہونے کا موقع دیا ۔ ساری ساری رات خدام کی تلقین اور عبادت الہٰی میں گزارتے ۔ آپ بڑے صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے آپ اپنے دور میں لاہور کے علماء صلحاء اور عوام میں آپ بے حد مقبول ہوئے ۔ آپ کے علم و فضل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے، کہ صاحبزادگان حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ محمد معصوم اور شیخ احمد سعید کی تعلیم و تربیت آپ کے سپرد ہوئی ۔
آپ کی زندگی کا ایک عجیب و غریب واقعہ: ایک دن سالکین کے اجتماع میں حضرت مجدد نے فرمایا: میں ایک شخص کی پیشانی پر " ھو الکافر " لکھا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔ یہ سن کر حاضرین لرزہ بر اندام ہو گئے ۔ پانچ چھ ماہ بعد دیکھا گیا کہ شیخ طاہر ایک کافرہ عورت کے عشق میں مبتلا ہو گئے، زنارِ ارتداد گردن میں ہے، اور پھر رہے ہیں، اور کبھی کبھی مندر میں بھی جا بیٹھتے تھے ۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت مجدد کے صاحبزادگان اور جملہ متوسلین کو بہت افسوس ہوا ۔ دعاء کے لئے استدعا کی گئی ۔ حضرت نے فرمایا: شیخ طاہر کا کفر " قضاء مبرم " ہے، یعنی اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ لیکن صاحبزادگان بار بار اصرار کرتے رہے ۔ چنانچہ حضرت مجدد نے دعاء فرمائی، اور اپنی دعا میں حضرت غوث الاعظم کی دعا کا حوالہ دیا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے حضرت مجدد کی دعا کو شرفِ قبولیت عطاء فرمائی ۔ فوراً دعاءِ مجددی کا اثر ہوا، زنار پھینکا، فوراً حضرت مجد دکی خدمت میں پہنچے اور ان کے دست پر تائب ہوئے، اور کچھ عرصے کے بعد آپ نے شیخ طاہر کو " قطبِ پنجاب " بنا کر لاہور بھیج دیا ۔
؏: نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی ۔
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی ۔
ہم بیعت کیوں ہوتے ہیں:
محترم قارئین: اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وقت کا ایک بہت بڑا عالم جس کے ایمان پہ شیطان نے کس طرح ڈاکہ ڈالا، وہ مسجد سے مندر میں جا بیٹھا، اگر حضرت مجدد کا دستِ کرم دستگیری نہ کرتا تو سب علم و عمل برباد ہو گئے تھے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم تھی ۔ ہم اسی لیے اولیاء کرام کی عقیدت کا دم بھرتے ہیں، اور ان سے اپنی نسبت قائم کرتے ہیں، ان کی برکت سے دنیا میں ایمان کی سلامتی، قبر میں آسانی، حشر میں شفاعت اور جنت ملے گی ۔
وصال:
آپ بروز جمعرات 8 محرم الحرام 1040ھ بمطابق 1630ء فوت ہوئے اور اس جگہ دفن ہوئے جہاں آپ کی درس گاہ تھی ۔ بوقتِ وصال آپ کی عمر 56 سال تھی ۔ آپ کا مزار قبرستان میانی صاحب (لاہور) میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے لاہور ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-tahir-bandagi-lahori
scholars.pk
Hazrat Khawaja Tahir Bandagi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
❤1👍1
شاہ حبیب الرحمن اڑیسوی قادری
یوم وصال 06 جمادى الأولى 1401
یوم پیدائش 08 محرم الحرام 1322
خلیفۂ حضور اشرفی میاں و خلیفۂ حضور حجۃ الاسلام، رئیس التارکین، حضور مجاہدِ ملت، حضرت علامہ حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ـ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حبیب الرحمٰن قادری ہے ۔ اور آپ کا سلسلۂ نسب عمِ رسول ﷺ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ بتاریخ 8 محرم الحرام 1322ھ بروز شنبہ بوقتِ صبحِ صادق، قصبہ دھام نگر، صوبۂ اڑیسہ (موجودہ نام اوڈیشا) انڈیا میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتداءً لوگوں نےحضرت مجاہد ملت کو انگریزی تعلیم پڑھانا شروع کر دیا جس کو حضرت مجاہد ملت نے بادل ناخواستہ قبول کر لیا ۔ مگر چند دنوں بعد آپ نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے انکار کر دیا ۔
پھر حضرت مجاہد ملت علیہ الرحمہ کے والد ماجد کی خواہش کے مطابق دینی تعلیم کے لیے مامور کیا گیا ۔ اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ گھر پر ہی جاری رہا ۔ مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں داخلہ لیا، چند سال وہاں تعلیم حاصل کی، مدرسہ سبحانیہ کے اساتذہ اور مہتمم مدرسہ سے علوم و فنون حاصل کیے ۔ لیکن وہاں کے اساتذۂ کرام مجاہد ملت کے ذہن و صلاحیت کے مطابق زیادہ با فیض ثابت نہ ہو سکے ۔
اس بناء پر حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ زیادہ دِنوں تک وہاں نہ رہ کر اجمیر شریف جامعہ عثمانیہ میں حضور صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اساتذۂ دار العلوم جامعہ عثمانیہ سے اکتساب کیا ۔
اور یہاں سے اپنی علمی پیاس بجھا کر جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں حضور صدر الافاضل حضرت مولانا الشاہ نعیم الدین رضوی مراد آبادی کی خدمت گرامی میں حاضری دی اور اکتسابِ علوم کیا، پھر مراد آباد سے ہی سلسلۂ تعلیم ختم کیا ـ
بیعت و خلافت:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ کو شرف بیعت و اجازت حضرت شیخ مخدوم الشاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے حاصل ہوئی ۔ اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلافت و اجازت سے سر فراز فرمایا ـ
سیرت و خصائص:
رئیس التارکین، مجاہد ملت، حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ایک عرصہ دراز تک مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد کے صدر مدرس رہے ۔ بعدہٗ آپ نے تبلیغِ حق اختیار کی، مختلف دینی خدمات انجام دیں ۔
اسلامی تحریکات سے وابسگتی اور گمراہ فرقوں کی سر کو بی مجاہد ملت کا محبوب مشغلہ تھا ۔ ملک بھر میں آپ نے دینی ادارے اور انجمنیں قائم کرنے کا ایک عظیم سلسلہ شروع کیا ۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے مجاہد ملت کو دولتِ علم و عمل سے نوازا تھا وہی دنیوی مال و متاع سے بھی مالا مال کیا تھا ۔ آپ کو دیکھ کر ان متقدمین اولیاء کی یاد تازہ ہوتی ہے، جنہوں نے رئیسانہ زندگی ترک کر کے فقیرانہ زندگی کو پسند فرمایا اور نفس کو اپنے اوپر غالب نہیں ہونے دیا ۔
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے کئی دیوبندیوں سے مناظرہ بھی کیا اور اس میں فتح و کامرانی ہوئی ۔ حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے ریاست و امارت، علم و فضل دونوں طرح کی نعمتوں سے حصہ پایا تھا ۔ مگر علم و فضل اور عشق و عرفان کو دنیاوی امارت وریاست پر ہمیشہ غالب رکھا۔
آپ کی زندگی کا سر سری مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحائف و نذر کی صورت میں جو کچھ مجاہد ملت کے پاس آیا اُن سب کو اللہ کے راستے میں بے دریغ خرچ فرما دیا کرتے تھے بلکہ مزید گھر سے بھی خرچ فرماتے ۔ اسی وجہ سے مجاہد ملت کو زمانے کا رئیس التارکین اور رئیس اعظم اُڑیسہ کہا جانے لگا ۔
جو صرف ایک تعریفی خطاب نہ تھا بلکہ آپ اس کے صحیح مصداق تھے ۔ ایک مرتبہ آپ نے پٹنہ میں ہونے والی کانفرنس میں اپنی اہلیہ محترمہ کے تمام زیورات کو لاکر پیش کر دیا ۔ منتظمینِ کانفرنس نے جب ان زیورات کو قبول نہ کیا تو ارشاد فرمایا کہ "اب تو یہ گھر سے نکل چکا ہے واپس نہیں جا سکتا ہے" ـ
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نہایت ذہین، دقیقہ رس، دور اندیش اور معاملہ فہم تھے ۔ درس نظامی کے جملہ فنون میں ماہر کامل اور فائق الاقران تھے ۔ علم و فضل کا چرچہ پورے ملک ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا ۔ تشنگانِ علوم کو تشفی بخش درس دیتےتھے ۔
تاریخِ وصال:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کا انتقال 6 جمادی الاولیٰ 1401ھ / بمطابق مارچ 1981ء بروز جمعہ، شام، اسمٰعیل ہوٹل، بمبئی میں ہوا ۔ وہاں سے نعش مبارک بذریعہ طیارہ کلکتہ لائی گئی ۔ پھر وہاں سے آپ کے وطن مالوف کٹک اُڑیسہ لے جائی گئی ۔ اور تیسرے دن اتوار کی شام تقریباً 5 بجے دھام نگر خانقاہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-millat-hazrat-shah-habib-ul-rehman-qadri
یوم وصال 06 جمادى الأولى 1401
یوم پیدائش 08 محرم الحرام 1322
خلیفۂ حضور اشرفی میاں و خلیفۂ حضور حجۃ الاسلام، رئیس التارکین، حضور مجاہدِ ملت، حضرت علامہ حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ـ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حبیب الرحمٰن قادری ہے ۔ اور آپ کا سلسلۂ نسب عمِ رسول ﷺ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ بتاریخ 8 محرم الحرام 1322ھ بروز شنبہ بوقتِ صبحِ صادق، قصبہ دھام نگر، صوبۂ اڑیسہ (موجودہ نام اوڈیشا) انڈیا میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتداءً لوگوں نےحضرت مجاہد ملت کو انگریزی تعلیم پڑھانا شروع کر دیا جس کو حضرت مجاہد ملت نے بادل ناخواستہ قبول کر لیا ۔ مگر چند دنوں بعد آپ نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے انکار کر دیا ۔
پھر حضرت مجاہد ملت علیہ الرحمہ کے والد ماجد کی خواہش کے مطابق دینی تعلیم کے لیے مامور کیا گیا ۔ اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ گھر پر ہی جاری رہا ۔ مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں داخلہ لیا، چند سال وہاں تعلیم حاصل کی، مدرسہ سبحانیہ کے اساتذہ اور مہتمم مدرسہ سے علوم و فنون حاصل کیے ۔ لیکن وہاں کے اساتذۂ کرام مجاہد ملت کے ذہن و صلاحیت کے مطابق زیادہ با فیض ثابت نہ ہو سکے ۔
اس بناء پر حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ زیادہ دِنوں تک وہاں نہ رہ کر اجمیر شریف جامعہ عثمانیہ میں حضور صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اساتذۂ دار العلوم جامعہ عثمانیہ سے اکتساب کیا ۔
اور یہاں سے اپنی علمی پیاس بجھا کر جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں حضور صدر الافاضل حضرت مولانا الشاہ نعیم الدین رضوی مراد آبادی کی خدمت گرامی میں حاضری دی اور اکتسابِ علوم کیا، پھر مراد آباد سے ہی سلسلۂ تعلیم ختم کیا ـ
بیعت و خلافت:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ کو شرف بیعت و اجازت حضرت شیخ مخدوم الشاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے حاصل ہوئی ۔ اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلافت و اجازت سے سر فراز فرمایا ـ
سیرت و خصائص:
رئیس التارکین، مجاہد ملت، حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ایک عرصہ دراز تک مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد کے صدر مدرس رہے ۔ بعدہٗ آپ نے تبلیغِ حق اختیار کی، مختلف دینی خدمات انجام دیں ۔
اسلامی تحریکات سے وابسگتی اور گمراہ فرقوں کی سر کو بی مجاہد ملت کا محبوب مشغلہ تھا ۔ ملک بھر میں آپ نے دینی ادارے اور انجمنیں قائم کرنے کا ایک عظیم سلسلہ شروع کیا ۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے مجاہد ملت کو دولتِ علم و عمل سے نوازا تھا وہی دنیوی مال و متاع سے بھی مالا مال کیا تھا ۔ آپ کو دیکھ کر ان متقدمین اولیاء کی یاد تازہ ہوتی ہے، جنہوں نے رئیسانہ زندگی ترک کر کے فقیرانہ زندگی کو پسند فرمایا اور نفس کو اپنے اوپر غالب نہیں ہونے دیا ۔
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے کئی دیوبندیوں سے مناظرہ بھی کیا اور اس میں فتح و کامرانی ہوئی ۔ حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے ریاست و امارت، علم و فضل دونوں طرح کی نعمتوں سے حصہ پایا تھا ۔ مگر علم و فضل اور عشق و عرفان کو دنیاوی امارت وریاست پر ہمیشہ غالب رکھا۔
آپ کی زندگی کا سر سری مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحائف و نذر کی صورت میں جو کچھ مجاہد ملت کے پاس آیا اُن سب کو اللہ کے راستے میں بے دریغ خرچ فرما دیا کرتے تھے بلکہ مزید گھر سے بھی خرچ فرماتے ۔ اسی وجہ سے مجاہد ملت کو زمانے کا رئیس التارکین اور رئیس اعظم اُڑیسہ کہا جانے لگا ۔
جو صرف ایک تعریفی خطاب نہ تھا بلکہ آپ اس کے صحیح مصداق تھے ۔ ایک مرتبہ آپ نے پٹنہ میں ہونے والی کانفرنس میں اپنی اہلیہ محترمہ کے تمام زیورات کو لاکر پیش کر دیا ۔ منتظمینِ کانفرنس نے جب ان زیورات کو قبول نہ کیا تو ارشاد فرمایا کہ "اب تو یہ گھر سے نکل چکا ہے واپس نہیں جا سکتا ہے" ـ
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نہایت ذہین، دقیقہ رس، دور اندیش اور معاملہ فہم تھے ۔ درس نظامی کے جملہ فنون میں ماہر کامل اور فائق الاقران تھے ۔ علم و فضل کا چرچہ پورے ملک ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا ۔ تشنگانِ علوم کو تشفی بخش درس دیتےتھے ۔
تاریخِ وصال:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کا انتقال 6 جمادی الاولیٰ 1401ھ / بمطابق مارچ 1981ء بروز جمعہ، شام، اسمٰعیل ہوٹل، بمبئی میں ہوا ۔ وہاں سے نعش مبارک بذریعہ طیارہ کلکتہ لائی گئی ۔ پھر وہاں سے آپ کے وطن مالوف کٹک اُڑیسہ لے جائی گئی ۔ اور تیسرے دن اتوار کی شام تقریباً 5 بجے دھام نگر خانقاہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-millat-hazrat-shah-habib-ul-rehman-qadri
❤1👍1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، شیرِ بیشۂ اہل سنت، حضرت علامہ حشمت علی خان لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حشمت علی خان ۔ کنیت: ابو الفتح ۔القاب: شیر بیشہ اہلسنت، غیظ المنافقین، مناظرِ اعظم ہند، سلطان المناظرین، معراج الواعظین ۔ لکھنؤ کی نسبت سے "لکھنوی" کہلاتے تھے۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا حشمت علی خان بن ابو الحفاظ نواب علی خان بن محمد حیات خان بن محمد سعادت خان بن محمد خاں ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کے والدِ گرامی، حضرت مولانا ہدایت رسول رامپوری (خلیفہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ) کے مرید تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1319ھ، مطابق 1901 کو لکھنؤ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآنِ کریم "مدرسہ فرقانیہ" کے اساتذہ سے دس برس کی عمر شریف میں مکمل کیا، اور تجوید کی سند بروایت حفص بارہ برس کی عمر میں حاصل کی، اور تیرہ برس کی عمر میں سند قرأت سبعہ اور چودھویں سال سند عشرہ حاصل فرمائی۔
ابتداءً یہ مدرسہ اہلسنت کا تھا لیکن بعد میں مدرسین دیوبندی وغیرہ آ گئے تھے، اس لئے یہ مدرسہ ان کے قبضے میں چلا گیا۔ آپ پر بھی آہستہ آہستہ ان کا رنگ چڑھنا شروع ہوا تھا کہ والدین اور مولانا ہدایت رسول علیہ الرحمہ کی دعائیں اور امام اہلسنت کے رسالہ بنام " تمہید ایمان " کے مطالعے سے ایمان محفوظ ہوا ۔ اس کے بعد بریلی کے "مدرسہ منظرِ اسلام "میں داخل ہوئے اور مستقل تعلیم حاصل کرنے لگے۔ 1340ھ میں حضرت حجۃ الاسلام نے دستار بندی فرمائی۔
اساتذۂ کرام:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا ۔ صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی ۔مولانا رحم الٰہی منگلوری ۔ تاجدار اہلسنت حضور مفتئ اعظم نوری ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
بیعت و خلافت:
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی سے ارادت حاصل تھی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اجازت و خلافت سے سر فراز فرمایا ۔
پھر 1340ھ کے جلسۂ دستار بندی میں حجۃ الاسلام نے اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا ۔جب شیر بیشہ اہلسنت حج و زیارت کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے وہاں قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مدنی نے بھی خلافت و اجازت سے نوازا۔
حضور مفتی اعظم ہند نے خلافت عطا فرمائی ۔ ابو المساکین حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی سے بھی اجازت حاصل تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
سیرت و خصائص:
شیر بیشہ اہلسنت، اسد الملت، ناصرِ اہلسنت، کاسر البدعت، مظہرِ اعلیٰ حضرت ، غیظ المنافقین، مناظرِ اعظم ہند، سلطان المناظرین، معراج الواعظین حضرت علامہ مولانا حشمت علی خان لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کی شخصیت دنیائے اسلام میں محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ آپ ایک امتیازی شان کے مالک تھے۔ یہ امام اہلسنت کا فیضان تھا کہ آپ کے انگ انگ میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کاجلوہ موجزن تھا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ نے گلستانِ وہابیت و دیوبندیت کو خاکستر کر دیا۔ نجدی قلعوں میں زلزلزہ برپا کر دیا۔ بڑے بڑے سورماؤں کو آپ سے مقابلے کی تاب نہ تھی۔ اس شیرِ اہل سنت نے جس طرف رخ کیا حق و صداقت کے ڈنکے بجا دِیے اور باطل کے پرخچے اُڑا دیے۔
امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ نے آپ کو جب "ہلدوانی " مناظرہ کے لئے روانہ فرمایا تو اس وقت آپ کی عمر انیس سال تھی ۔ جس میں دوسری جانب مخالف مولوی یٰسین خام سرائی تھے۔ اس ننھی سے عمر کے نوجوان نے اسی سال کے بوڑھے ماہر مشاق کو شکست فاش دی اور فتح و نصرت کا سہرا شیرِ اہلسنت کے سر رہا۔
بریلی شریف آ کر مناظرہ کی ساری روداد جب امام اہلِ سنت علیہ الرحمہ کو سُنائی۔ تو امامِ اہلسنت اپنے شیر کی اس فتحِ مبین سے بہت خوش ہوئے۔ خوشی میں اپنی دستار عنایت فرمائی ، غیظ المنافقین، ولد المرافق، ابو الفتح کے عظیم القاب اور پانچ روپے بطور انعام عطاء فرمائے۔ نیز اپنی طرف سے پانچ روپے ماہانہ وظیفہ مقرر فرمایا۔
اور مدرسہ منظر اسلام کا رجسٹر منگا کر خود امام اہلسنت نے اپنے دست فیض سے تحریر فرمایا کہ: " مولانا حشمت علی خاں سلمہ میرا روحانی بیٹا ہے، ان کو پانچ روپے ماہانہ وظیفہ میری طرف سے ہمیشہ دیا جائے " ۔ امام اہلسنت کے وصال کے بعد حضرت حجۃ الاسلام قدس سرہ اور مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی علیہ الرحمۃ شیر بیشۂ اہلسنت کو زندگی بھر پوری پابندی کے ساتھ یہ وظیفہ ادا فرماتے رہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 8 محرم الحرام 1380ھ، مطابق جون 1960ء کو ہوا۔ آپ کا مزار پیلی بھیت (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ تحقیقی مقالہ مولانا حشمت علی خان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hashmat-ali-khan-rizvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حشمت علی خان ۔ کنیت: ابو الفتح ۔القاب: شیر بیشہ اہلسنت، غیظ المنافقین، مناظرِ اعظم ہند، سلطان المناظرین، معراج الواعظین ۔ لکھنؤ کی نسبت سے "لکھنوی" کہلاتے تھے۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا حشمت علی خان بن ابو الحفاظ نواب علی خان بن محمد حیات خان بن محمد سعادت خان بن محمد خاں ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کے والدِ گرامی، حضرت مولانا ہدایت رسول رامپوری (خلیفہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ) کے مرید تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1319ھ، مطابق 1901 کو لکھنؤ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآنِ کریم "مدرسہ فرقانیہ" کے اساتذہ سے دس برس کی عمر شریف میں مکمل کیا، اور تجوید کی سند بروایت حفص بارہ برس کی عمر میں حاصل کی، اور تیرہ برس کی عمر میں سند قرأت سبعہ اور چودھویں سال سند عشرہ حاصل فرمائی۔
ابتداءً یہ مدرسہ اہلسنت کا تھا لیکن بعد میں مدرسین دیوبندی وغیرہ آ گئے تھے، اس لئے یہ مدرسہ ان کے قبضے میں چلا گیا۔ آپ پر بھی آہستہ آہستہ ان کا رنگ چڑھنا شروع ہوا تھا کہ والدین اور مولانا ہدایت رسول علیہ الرحمہ کی دعائیں اور امام اہلسنت کے رسالہ بنام " تمہید ایمان " کے مطالعے سے ایمان محفوظ ہوا ۔ اس کے بعد بریلی کے "مدرسہ منظرِ اسلام "میں داخل ہوئے اور مستقل تعلیم حاصل کرنے لگے۔ 1340ھ میں حضرت حجۃ الاسلام نے دستار بندی فرمائی۔
اساتذۂ کرام:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا ۔ صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی ۔مولانا رحم الٰہی منگلوری ۔ تاجدار اہلسنت حضور مفتئ اعظم نوری ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
بیعت و خلافت:
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی سے ارادت حاصل تھی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اجازت و خلافت سے سر فراز فرمایا ۔
پھر 1340ھ کے جلسۂ دستار بندی میں حجۃ الاسلام نے اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا ۔جب شیر بیشہ اہلسنت حج و زیارت کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے وہاں قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مدنی نے بھی خلافت و اجازت سے نوازا۔
حضور مفتی اعظم ہند نے خلافت عطا فرمائی ۔ ابو المساکین حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی سے بھی اجازت حاصل تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
سیرت و خصائص:
شیر بیشہ اہلسنت، اسد الملت، ناصرِ اہلسنت، کاسر البدعت، مظہرِ اعلیٰ حضرت ، غیظ المنافقین، مناظرِ اعظم ہند، سلطان المناظرین، معراج الواعظین حضرت علامہ مولانا حشمت علی خان لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کی شخصیت دنیائے اسلام میں محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ آپ ایک امتیازی شان کے مالک تھے۔ یہ امام اہلسنت کا فیضان تھا کہ آپ کے انگ انگ میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کاجلوہ موجزن تھا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ نے گلستانِ وہابیت و دیوبندیت کو خاکستر کر دیا۔ نجدی قلعوں میں زلزلزہ برپا کر دیا۔ بڑے بڑے سورماؤں کو آپ سے مقابلے کی تاب نہ تھی۔ اس شیرِ اہل سنت نے جس طرف رخ کیا حق و صداقت کے ڈنکے بجا دِیے اور باطل کے پرخچے اُڑا دیے۔
امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ نے آپ کو جب "ہلدوانی " مناظرہ کے لئے روانہ فرمایا تو اس وقت آپ کی عمر انیس سال تھی ۔ جس میں دوسری جانب مخالف مولوی یٰسین خام سرائی تھے۔ اس ننھی سے عمر کے نوجوان نے اسی سال کے بوڑھے ماہر مشاق کو شکست فاش دی اور فتح و نصرت کا سہرا شیرِ اہلسنت کے سر رہا۔
بریلی شریف آ کر مناظرہ کی ساری روداد جب امام اہلِ سنت علیہ الرحمہ کو سُنائی۔ تو امامِ اہلسنت اپنے شیر کی اس فتحِ مبین سے بہت خوش ہوئے۔ خوشی میں اپنی دستار عنایت فرمائی ، غیظ المنافقین، ولد المرافق، ابو الفتح کے عظیم القاب اور پانچ روپے بطور انعام عطاء فرمائے۔ نیز اپنی طرف سے پانچ روپے ماہانہ وظیفہ مقرر فرمایا۔
اور مدرسہ منظر اسلام کا رجسٹر منگا کر خود امام اہلسنت نے اپنے دست فیض سے تحریر فرمایا کہ: " مولانا حشمت علی خاں سلمہ میرا روحانی بیٹا ہے، ان کو پانچ روپے ماہانہ وظیفہ میری طرف سے ہمیشہ دیا جائے " ۔ امام اہلسنت کے وصال کے بعد حضرت حجۃ الاسلام قدس سرہ اور مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی علیہ الرحمۃ شیر بیشۂ اہلسنت کو زندگی بھر پوری پابندی کے ساتھ یہ وظیفہ ادا فرماتے رہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 8 محرم الحرام 1380ھ، مطابق جون 1960ء کو ہوا۔ آپ کا مزار پیلی بھیت (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ تحقیقی مقالہ مولانا حشمت علی خان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hashmat-ali-khan-rizvi
scholars.pk
Ustad Hashmat Ali Khan Pilibhit
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1👍1
قطب لاہور، حضرت علامہ حافظ محمد طاہر بندگی قادری مجددی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت موتی بازار اندرون لاہور 984ھ میں ہوئی۔ آپ شاہ سکندر کیھتلی کے مرید، حضرت مجدد الف ثانی کے خلیفہ، ان کے صاحبزادگان کے استاذ، شہرۂ آفاق مبلغ و مدرس، بہترین کاتب اور صاحب کرامت ولی کامل تھے۔ 8 محرم 1040ھ بروز جمعرات وصال فرمایا، مزار میانی صاحب قبرستان میں معروف ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری وفات کے بعد جو میرے احاطۂ مزار میں مدفون ہوگا، میں نے خدا سے مانگا ہے کہ وہ جنتی ہو۔ (تذکرۂ اولیائے پاکستان، حدیقۃ الاولیاء)
The Qutb of Lahore, Allamah Hafiz Muhammad Tahir Bandagi Qadiri Mujaddidi Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born in 984 AH in Moti Bazaar in the inner region of Lahore. He was a disciple of Shah Sikandar Keehtli, Khalifah of Sayyiduna Mujaddid Alf Saani and the teacher of his sons, great preacher, excellent writer, and saintly figure who performed saintly marvels. He passed away on Thursday, 8th Muharram 1040 AH. His blessed mausoleum is famous and is located in Miyani Sahib Cemetery, Lahore, Pakistan. He stated that whoever is buried in the precincts of my shrine after my demise, I have asked Allah Almighty to make him enter paradise. [Tazkirah Awliya-e-Pakistan, Hadiqat al-Awliya]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/604873081212340/
The Qutb of Lahore, Allamah Hafiz Muhammad Tahir Bandagi Qadiri Mujaddidi Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born in 984 AH in Moti Bazaar in the inner region of Lahore. He was a disciple of Shah Sikandar Keehtli, Khalifah of Sayyiduna Mujaddid Alf Saani and the teacher of his sons, great preacher, excellent writer, and saintly figure who performed saintly marvels. He passed away on Thursday, 8th Muharram 1040 AH. His blessed mausoleum is famous and is located in Miyani Sahib Cemetery, Lahore, Pakistan. He stated that whoever is buried in the precincts of my shrine after my demise, I have asked Allah Almighty to make him enter paradise. [Tazkirah Awliya-e-Pakistan, Hadiqat al-Awliya]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/604873081212340/
❤1👍1
شیر بیشۂ اہلسنت، مظہر اعلی حضرت، ناصر الاسلام والمسلمین، حضرت علامہ ابو الفتح عبید الرضا محمد حشمت علی خان قادری رضوی لکھنوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 1319ھ میں لکھنو، یو پی، ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ مرید اعلی حضرت، حافظ قرآن، فاضل دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف، مناظر اہل سنت، مفتی اسلام، مصنف، مدرس، شاعر، شیخ طریقت اور بہترین واعظ تھے۔ آپ کے اساتذہ میں صدر الشریعہ، صدر الافاضل، حجۃ الاسلام اور مفتی اعظم جیسے عبقری مدرسین شامل ہیں اور آپ کے نامور تلامذہ میں مفسر قرآن ابراہیم رضا خان جیلانی میاں، احسن العلماء سید حسن میاں مارہروی اور سید آل مصطفی مارہروی (علیہم الرحمہ) سر فہرست ہیں۔ چالیس تصانیف میں ”الصوارم الھندیہ“ اور ”فتاوی شیر بیشۂ سنت“ زیادہ مشہور ہیں۔ 8 محرم الحرام 1380ھ بروز اتوار کلمہ طیبہ پڑھتے بحالت تبسم وصال فرمایا۔ مزار مبارک بھورے خاں پیلی بھیت، یو پی، ہندستان میں ہے۔ (مولانا حشمت علی لکھنوی ایک تحقیقی مطالعہ)
Lion of Ahl as-Sunnah, Manifestation of AlaHazrat, Allamah Abu al-Fatah Ubayd al-Rida Muhammad Hashmat Ali Khan Qadiri Ridawi Lucknowi (Alayhir Rahmah) was born in 1319 AH in Lucknow, U.P., India. He was a murid of AlaHazrat, memorizer of the Holy Quran, Graduate of Dar al-Uloom Manzar-e-Islam Bareilly Sharif, debater of Ahl as-Sunnah, Mufti of Islam, author, teacher, poet, orator, and spiritual guide. His teachers include luminaries like Sadr al-Shariah, Sadr al-Afazil, Hujjat-ul-Islam, and Mufti-e-Azam; and his famous students include geniuses like Mufassir-e-Azam, Ahsan al-Ulama, and Sayyid Aal-e-Mustafa Marehrawi (Alayhim ar-Rahmah). Among his 40 books, Al-Sawarim Al-Hindiyyah and Fatawa Sher-e Besha-e Sunnat are quite famous. He passed away on Sunday, 8 Muharram 1380 AH while reciting the Kalima Tayyabah with a smile. His blessed mausoleum Pilibhit, U.P., India is frequently visited by the devotees. [Mawlana Hashmat Ali Lucknowi Aik Tahqeeqi Mutala’ah]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=604265481273100&id=100050689590519
Lion of Ahl as-Sunnah, Manifestation of AlaHazrat, Allamah Abu al-Fatah Ubayd al-Rida Muhammad Hashmat Ali Khan Qadiri Ridawi Lucknowi (Alayhir Rahmah) was born in 1319 AH in Lucknow, U.P., India. He was a murid of AlaHazrat, memorizer of the Holy Quran, Graduate of Dar al-Uloom Manzar-e-Islam Bareilly Sharif, debater of Ahl as-Sunnah, Mufti of Islam, author, teacher, poet, orator, and spiritual guide. His teachers include luminaries like Sadr al-Shariah, Sadr al-Afazil, Hujjat-ul-Islam, and Mufti-e-Azam; and his famous students include geniuses like Mufassir-e-Azam, Ahsan al-Ulama, and Sayyid Aal-e-Mustafa Marehrawi (Alayhim ar-Rahmah). Among his 40 books, Al-Sawarim Al-Hindiyyah and Fatawa Sher-e Besha-e Sunnat are quite famous. He passed away on Sunday, 8 Muharram 1380 AH while reciting the Kalima Tayyabah with a smile. His blessed mausoleum Pilibhit, U.P., India is frequently visited by the devotees. [Mawlana Hashmat Ali Lucknowi Aik Tahqeeqi Mutala’ah]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=604265481273100&id=100050689590519
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-01-1444 ᴴ | 06-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-01-1444 ᴴ | 07-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1