🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-01-1444 ᴴ | 06-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-01-1444 ᴴ | 06-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-01-1444 ᴴ | 06-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-01-1444 ᴴ | 06-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
4👍1
حضرت شیخ محمد طاہر بندگی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 948ھ، بمطابق 1576ء کو اکبر کے بادشاہ کے زمانے میں لاہور میں ہوئی، آپ کی رہائش اندرون شہر محلہ شیخ اسحاق میں تھی ۔ جہاں آج کل موتی بازار ہے ۔

تحصیلِ علم:
آپ کے والد سادہ لوح اور نیک انسان تھے آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت لاہور کے علمی ماحول میں ہوئی ۔ جب آپ پڑھنے لکھنے کے قابل ہوئے تو آپ کے والد ماجد نے ایک قریبی مسجد میں قرآن پاک پڑھنے کے لئے بٹھایا آپ نے تھوڑی ہی عرصہ میں قرآن پاک پڑھ لیا اس کے بعد مختلف علماء سے دینی علوم حاصل کیے حتٰی کہ جو ان ہونے تک آپ ایک متبحر  عالم دین بن گئے ۔ آپ مغلیہ دور کے شہرہ آفاق مبلغ اور قابل مدرس تھے ۔

بیعت و خلافت:
دینی علم کے حصول کے بعد آپ تلاش حق میں نکلے پہلے ادھر ادھر گھومتے رہے لیکن کوئی کامل رہنما نہ ملا آخر ایک دن شاہ سکندر بن شاہ کمال کیتھلی کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہو گئے اور ان کی صحبت سے اطمینان قلب حاصل ہوا ۔ پھر کچھ عرصہ حضرت شیخ عبد الاحد سرہندی (والد ماجد حضرت مجدد الفِ ثانی) کی خدمت میں گزارا حضرت شاہ سکندر بن کمال آپ کو "طاہر بندگی" کے نام سے پکارا کرتے چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہوئے ۔ بعد میں آپ نے حضرت مجدد الف ثانی کی مریدی اختیار کی اور ان کی راہنمائی میں سلوک و معرفت کی اعلیٰ ترین منازل طے کیں،اور حضرت مجد نے آپ کو خلافت سے بھی نوازا تھا ۔

سیرت و خصائص:
قطبِ پنجاب، عالمِ ربانی، شیخِ کامل حضرت علامہ شیخ محمد طاہر بندگی لاہوری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ جامع عبادات و ریاضت اور علوم دینی و دنیاوی میں یکتائے زمانہ تھے ۔ آپ تمام عمر کسی دولت مند کے پاس نہ گئے ۔ اور نہ ہی ان کو اپنے دربار میں حاضر ہونے کا موقع دیا ۔ ساری ساری رات خدام کی تلقین اور عبادت الہٰی میں گزارتے ۔ آپ بڑے صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے آپ اپنے دور میں لاہور کے علماء صلحاء اور عوام میں آپ بے حد مقبول ہوئے ۔ آپ کے علم و فضل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے، کہ صاحبزادگان حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ محمد معصوم اور شیخ احمد سعید کی تعلیم و تربیت آپ کے سپرد ہوئی ۔

آپ کی زندگی کا ایک عجیب و غریب واقعہ: ایک دن سالکین کے اجتماع میں حضرت مجدد نے فرمایا: میں ایک شخص کی پیشانی پر " ھو الکافر " لکھا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔ یہ سن کر حاضرین لرزہ بر اندام ہو گئے ۔ پانچ چھ ماہ بعد دیکھا گیا کہ شیخ طاہر ایک کافرہ عورت کے عشق میں مبتلا ہو گئے، زنارِ ارتداد گردن میں ہے، اور پھر رہے ہیں، اور کبھی کبھی مندر میں بھی جا بیٹھتے تھے ۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت مجدد کے صاحبزادگان اور جملہ متوسلین کو بہت افسوس ہوا ۔ دعاء کے لئے استدعا کی گئی ۔ حضرت نے فرمایا: شیخ طاہر کا کفر " قضاء مبرم " ہے، یعنی اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ لیکن صاحبزادگان بار بار اصرار کرتے رہے ۔ چنانچہ حضرت مجدد نے دعاء فرمائی، اور اپنی دعا میں حضرت غوث الاعظم کی دعا کا حوالہ دیا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے حضرت مجدد کی دعا کو شرفِ قبولیت عطاء فرمائی ۔ فوراً دعاءِ مجددی کا اثر ہوا، زنار پھینکا، فوراً حضرت مجد دکی خدمت میں پہنچے اور ان کے دست پر تائب ہوئے، اور کچھ عرصے کے بعد آپ نے شیخ طاہر کو " قطبِ پنجاب " بنا کر لاہور بھیج دیا ۔

؏: نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی ۔
  بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی ۔

ہم بیعت کیوں ہوتے ہیں:
محترم قارئین: اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وقت کا ایک بہت بڑا عالم جس کے ایمان پہ شیطان نے کس طرح ڈاکہ ڈالا، وہ مسجد سے مندر میں جا بیٹھا، اگر حضرت مجدد کا دستِ کرم دستگیری نہ کرتا تو سب علم و عمل برباد ہو گئے تھے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم تھی ۔ ہم اسی لیے اولیاء کرام کی عقیدت کا دم بھرتے ہیں، اور ان سے اپنی نسبت قائم کرتے ہیں، ان کی برکت سے دنیا میں ایمان کی سلامتی، قبر میں آسانی، حشر میں شفاعت اور جنت ملے گی ۔

وصال:
آپ بروز جمعرات 8 محرم الحرام 1040ھ بمطابق 1630ء فوت ہوئے اور اس جگہ دفن ہوئے جہاں آپ کی درس گاہ تھی ۔ بوقتِ وصال آپ کی عمر 56 سال تھی ۔ آپ کا مزار قبرستان میانی صاحب (لاہور) میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے لاہور ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-tahir-bandagi-lahori
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شاہ حبیب الرحمن اڑیسوی قادری
یوم وصال 06 جمادى الأولى 1401
یوم پیدائش 08 محرم الحرام 1322

خلیفۂ حضور اشرفی میاں و خلیفۂ حضور حجۃ الاسلام، رئیس التارکین، حضور مجاہدِ ملت، حضرت علامہ حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ـ

نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حبیب الرحمٰن قادری ہے ۔ اور آپ کا سلسلۂ نسب عمِ رسول ﷺ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ملتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ بتاریخ 8 محرم الحرام 1322ھ بروز شنبہ بوقتِ صبحِ صادق، قصبہ دھام نگر، صوبۂ اڑیسہ (موجودہ نام اوڈیشا) انڈیا میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتداءً لوگوں نےحضرت مجاہد ملت کو انگریزی تعلیم پڑھانا شروع کر دیا جس کو حضرت مجاہد ملت نے بادل ناخواستہ قبول کر لیا ۔ مگر چند دنوں بعد آپ نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے انکار کر دیا ۔

پھر حضرت مجاہد ملت علیہ الرحمہ کے والد ماجد کی خواہش کے مطابق دینی تعلیم کے لیے مامور کیا گیا ۔ اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ گھر پر ہی جاری رہا ۔ مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں داخلہ لیا، چند سال وہاں تعلیم حاصل کی، مدرسہ سبحانیہ کے اساتذہ اور مہتمم مدرسہ سے علوم و فنون حاصل کیے ۔ لیکن وہاں کے اساتذۂ کرام مجاہد ملت کے ذہن و صلاحیت کے مطابق زیادہ با فیض ثابت نہ ہو سکے ۔

اس بناء پر حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ زیادہ دِنوں تک وہاں نہ رہ کر اجمیر شریف جامعہ عثمانیہ میں حضور صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اساتذۂ دار العلوم جامعہ عثمانیہ سے اکتساب کیا ۔

اور یہاں سے اپنی علمی پیاس بجھا کر جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں حضور صدر الافاضل حضرت مولانا الشاہ نعیم الدین رضوی مراد آبادی کی خدمت گرامی میں حاضری دی اور اکتسابِ علوم کیا، پھر مراد آباد سے ہی سلسلۂ تعلیم ختم کیا ـ

بیعت و خلافت:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ کو شرف بیعت و اجازت حضرت شیخ مخدوم الشاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے حاصل ہوئی ۔ اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلافت و اجازت سے سر فراز فرمایا ـ

سیرت و خصائص:
رئیس التارکین، مجاہد ملت، حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ایک عرصہ دراز تک مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد کے صدر مدرس رہے ۔ بعدہٗ آپ نے تبلیغِ حق اختیار کی، مختلف دینی خدمات انجام دیں ۔

اسلامی تحریکات سے وابسگتی اور گمراہ فرقوں کی سر کو بی مجاہد ملت کا محبوب مشغلہ تھا ۔ ملک بھر میں آپ نے دینی ادارے اور انجمنیں قائم کرنے کا ایک عظیم سلسلہ شروع کیا ۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے مجاہد ملت کو دولتِ علم و عمل سے نوازا تھا وہی دنیوی مال و متاع سے بھی مالا مال کیا تھا ۔ آپ کو دیکھ کر ان متقدمین اولیاء کی یاد تازہ ہوتی ہے، جنہوں نے رئیسانہ زندگی ترک کر کے فقیرانہ زندگی کو پسند فرمایا اور نفس کو اپنے اوپر غالب نہیں ہونے دیا ۔

حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے کئی دیوبندیوں سے مناظرہ بھی کیا اور اس میں فتح و کامرانی ہوئی ۔ حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے ریاست و امارت، علم و فضل دونوں طرح کی نعمتوں سے حصہ پایا تھا ۔ مگر علم و فضل اور عشق و عرفان کو دنیاوی امارت وریاست پر ہمیشہ غالب رکھا۔

آپ کی زندگی کا سر سری مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحائف و نذر کی صورت میں جو کچھ مجاہد ملت کے پاس آیا اُن سب کو اللہ کے راستے میں بے دریغ خرچ فرما دیا کرتے تھے بلکہ مزید گھر سے بھی خرچ فرماتے ۔ اسی وجہ سے مجاہد ملت کو زمانے کا رئیس التارکین اور رئیس اعظم اُڑیسہ کہا جانے لگا ۔

جو صرف ایک تعریفی خطاب نہ تھا بلکہ آپ اس کے صحیح مصداق تھے ۔ ایک مرتبہ آپ نے پٹنہ میں ہونے والی کانفرنس میں اپنی اہلیہ محترمہ کے تمام زیورات کو لاکر پیش کر دیا ۔ منتظمینِ کانفرنس نے جب ان زیورات کو قبول نہ کیا تو ارشاد فرمایا کہ "اب تو یہ گھر سے نکل چکا ہے واپس نہیں جا سکتا ہے" ـ

حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نہایت ذہین، دقیقہ رس، دور اندیش اور معاملہ فہم تھے ۔ درس نظامی کے جملہ فنون میں ماہر کامل اور فائق الاقران تھے ۔ علم و فضل کا چرچہ پورے ملک ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا ۔ تشنگانِ علوم کو تشفی بخش درس دیتےتھے ۔

تاریخِ وصال:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کا انتقال 6 جمادی الاولیٰ 1401ھ / بمطابق مارچ 1981ء بروز جمعہ، شام، اسمٰعیل ہوٹل، بمبئی میں ہوا ۔ وہاں سے نعش مبارک بذریعہ طیارہ کلکتہ لائی گئی ۔ پھر وہاں سے آپ کے وطن مالوف کٹک اُڑیسہ لے جائی گئی ۔ اور تیسرے دن اتوار کی شام تقریباً 5 بجے دھام نگر خانقاہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-millat-hazrat-shah-habib-ul-rehman-qadri
1👍1