امام مہدی بن حسن عسکری
رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
یوم وصال 7 محرم الحرام 266
پیدائش 13 رمضان المبارک 258
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔کنیت: ابوالقاسم۔
سلسلہ نسب اِس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حجرت مولاعلی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔
خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد ان کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔
سیرت وخصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے۔ عبادت وریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے،کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیرمعمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اوراس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کررہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہوکر بہت بلند مقام ومرتبہ پائے گا۔ اورہواایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح وبلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے۔آپ کاکلام وبیان،وعظ ونصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب توپیدا کرہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہوجاتا۔ اسلام کی نشرواشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی واخلاقی وروحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔
اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماںﷺ نے دی ۔
حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دوعالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اورعیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی،جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیداہوچکے اور ان کی وفات بھی ہوچکی ہے ۔لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)
وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
Copyright © Zia-e-Taiba
رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
یوم وصال 7 محرم الحرام 266
پیدائش 13 رمضان المبارک 258
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔کنیت: ابوالقاسم۔
سلسلہ نسب اِس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حجرت مولاعلی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔
خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد ان کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔
سیرت وخصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے۔ عبادت وریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے،کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیرمعمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اوراس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کررہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہوکر بہت بلند مقام ومرتبہ پائے گا۔ اورہواایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح وبلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے۔آپ کاکلام وبیان،وعظ ونصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب توپیدا کرہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہوجاتا۔ اسلام کی نشرواشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی واخلاقی وروحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔
اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماںﷺ نے دی ۔
حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دوعالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اورعیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی،جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیداہوچکے اور ان کی وفات بھی ہوچکی ہے ۔لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)
وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
Copyright © Zia-e-Taiba
👍2❤1
قطب العارفین، امام المجاہدین, حضرتِ سوات، شیخ الاسلام، حضرت اخوند عبد الغفور قادری المعروف سیدو بابا رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 1184ھ کو موضع جبڑی سوات میں ہوئی۔ آپ سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، ہر دلعزیز شخصیت اور شیخ المشائخ ہیں۔ ایک عرصے تک دریائے کابل اور دریائے سوات کے جنگلوں میں محو عبادت و ریاضت رہے۔ تمام زندگی اشاعت دین اور اعلاء کلمۃ الحق میں صرف کر دی۔ 7 محرم الحرام 1295ھ بروز پیر وصال فرمایا۔ مزار پر انوار سیدو شریف خیبر پختونخواہ پاکستان میں مرجع انام ہے۔ (تذکرہ اکابر اہلسنت)
Qutb al-Arifeen, Imam al-Mujahideen, Hazrat-e-Sawat, Shaykh-ul-Islam, Akhoond Abdul Ghafoor Qadiri alias Saidu Baba (Alayhir Rahmah) was born in 1184 AH in the village of Jabri Swat. He was a spiritual guide of Qadiriyah Sufi Order, an admirable personality, and shaykh of shaykhs. He spent many years in the jungles of Kabul and Sawat rivers performing worship and dedicated all his life to the propagation of Islam and upholding the truth. He passed away on Monday, 7th Muharram 1295 AH. His blessed mausoleum in Saidu Sharif is the center of spiritual blessings and upliftment. [Tazkirah Akabir-e-AhleSunnat]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=603550058011309&id=100050689590519
Qutb al-Arifeen, Imam al-Mujahideen, Hazrat-e-Sawat, Shaykh-ul-Islam, Akhoond Abdul Ghafoor Qadiri alias Saidu Baba (Alayhir Rahmah) was born in 1184 AH in the village of Jabri Swat. He was a spiritual guide of Qadiriyah Sufi Order, an admirable personality, and shaykh of shaykhs. He spent many years in the jungles of Kabul and Sawat rivers performing worship and dedicated all his life to the propagation of Islam and upholding the truth. He passed away on Monday, 7th Muharram 1295 AH. His blessed mausoleum in Saidu Sharif is the center of spiritual blessings and upliftment. [Tazkirah Akabir-e-AhleSunnat]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=603550058011309&id=100050689590519
❤1👍1
شارح بخاری، صاحب مواہب لدنیہ، امام شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد قسطلانی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 12 ذو القعدہ 851ھ کو مصر میں ہوئی۔ آپ تلمیذ امام ابن حجر عسقلانی، حافظ قرآن، ماہر فن قرأت، علم و فن میں حجت، ثقہ عالم دین، فقیہ وقت، جلیل القدر امام، حافظ الحدیث اور سند المحدثین تھے۔ آپ کی 25 تصانیف میں ’’المواهب اللدنيه‘‘ اور ’’ارشاد الساري في شرح صحيح البخاري‘‘ بہت مشہور ہیں۔ 7 محرم 923ھ شب جمعہ کو قاہرہ مصر میں وصال فرمایا۔ مزار شریف جامعہ ازہر کے قرب میں امام بدر الدین عینی کے مدرسہ میں ہے۔ (الضوء اللامع، شذرات الذهب، النور السافر)
Commentator of Sahih al-Bukhari, Author of Mawahib al-Ladunniyah, Imam Shihab al-Din Abu al-Abbas Ahmad bin Muhammad Qastallani Shafi’i (Alayhir Rahmah) was born on 12 Dhu al-Qa’dah 851 AH in Egypt. He was a student of Imam Ibn Hajar Asqalani, memorizer of the Holy Qur'an and expert in its recitation, authority in Islamic sciences, prominent scholar, great jurist of his time, glorious Imam, memorizer of hadith, and leader of Hadith experts. Among his 25 books, Al-Mawahib al-Ludunniyah and Irshad al-Sari are quite famous. He passed away on Friday night, 7th Muharram 923 AH in Cairo, Egypt. His blessed resting place is next to Imam Badruddin al-Aeyni in Al-Aeyni Seminary near al-Azhar University. [Al-Daw al-Lami‘, Shadhrat al-Dhahab, Al-Nur al-Safir]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=603133541386294&id=100050689590519
Commentator of Sahih al-Bukhari, Author of Mawahib al-Ladunniyah, Imam Shihab al-Din Abu al-Abbas Ahmad bin Muhammad Qastallani Shafi’i (Alayhir Rahmah) was born on 12 Dhu al-Qa’dah 851 AH in Egypt. He was a student of Imam Ibn Hajar Asqalani, memorizer of the Holy Qur'an and expert in its recitation, authority in Islamic sciences, prominent scholar, great jurist of his time, glorious Imam, memorizer of hadith, and leader of Hadith experts. Among his 25 books, Al-Mawahib al-Ludunniyah and Irshad al-Sari are quite famous. He passed away on Friday night, 7th Muharram 923 AH in Cairo, Egypt. His blessed resting place is next to Imam Badruddin al-Aeyni in Al-Aeyni Seminary near al-Azhar University. [Al-Daw al-Lami‘, Shadhrat al-Dhahab, Al-Nur al-Safir]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=603133541386294&id=100050689590519
❤1👍1
فخر خاندان قادریہ، حضرت مخدوم سید ابو عبد اللہ محمد غوث بندگی گیلانی حسنی حلبی اوچی قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت باسعادت 833ھ میں حلب شام میں ہوئی۔ آپ ولی کامل، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، فضائل حسبی و نسبی سے معمور، نعمائے ظاہری و باطنی سے پھرپور، کریم النفس، صاحب زہد و تقوی اور ہندستان میں خاندان گیلانیہ کے جد امجد تھے۔ حاکم سندھ اور شاہ ہند آپ کے عقیدت مند تھے۔ 7 محرم الحرام 923ھ بروز اتوار وصال فرمایا، مزار پر انوار اوچ شریف، ضلع بہاولپور، جنوبی پنجاب، پاکستان میں مرجع خلائق ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء، شریف التواریخ، اخبار الاخیار)
Pride of the Qadiriyah Dynasty, Makhdoom Sayyid Abul Abdullah Muhammad Ghaus Bandagi Gilani Hasani Halabi Uchi Qadiri (Alayhir Rahmah) was born in 833 AH in Halab, Syria. He was an accomplished Wali, possessor of the knowledge related to reasoning (i.e. logic, philosophy, etc.) and Quran and Sunnah, embodiment of piety and asceticism, and the distinguished ancestor of the Gilani family in India. The Ruler of Sindh and Emperor of India held him devotionally reverend. He passed away on Sunday, 7th Muharram 923 AH. His blessed mausoleum situated in Uch Sharif, Bahawalpur district, South Punjab, Pakistan is visited by people from all walks of life. [Khazinat al-Asfiya, Sharif al-Tawarikh, Akhbar al-Akhyar]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=602408468125468&id=100050689590519
Pride of the Qadiriyah Dynasty, Makhdoom Sayyid Abul Abdullah Muhammad Ghaus Bandagi Gilani Hasani Halabi Uchi Qadiri (Alayhir Rahmah) was born in 833 AH in Halab, Syria. He was an accomplished Wali, possessor of the knowledge related to reasoning (i.e. logic, philosophy, etc.) and Quran and Sunnah, embodiment of piety and asceticism, and the distinguished ancestor of the Gilani family in India. The Ruler of Sindh and Emperor of India held him devotionally reverend. He passed away on Sunday, 7th Muharram 923 AH. His blessed mausoleum situated in Uch Sharif, Bahawalpur district, South Punjab, Pakistan is visited by people from all walks of life. [Khazinat al-Asfiya, Sharif al-Tawarikh, Akhbar al-Akhyar]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=602408468125468&id=100050689590519
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-01-1444 ᴴ | 05-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-01-1444 ᴴ | 06-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1