🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-01-1444 ᴴ | 05-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-01-1444 ᴴ | 05-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-01-1444 ᴴ | 05-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-01-1444 ᴴ | 05-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، خلیفۂ امام احمد رضا، مبلغِ اسلام شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علیہ الرحمۃ

نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھم۔

والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا۔

ولادت:
بروز پیر 7 محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲ جنوری ۱۸۷۷ء کو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی ، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق  صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء)  کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔

بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے۔

آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔

بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی (۱۲۱۹ھ / ۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ / ۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔

حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی۔ بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔

حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف(۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے۔

وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

مزار مقدس:
آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
Copyright © Zia-e-Taiba
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
امام احمد بن محمد غزالی علیہ‌الرحمہ
یومِ وصال 07 محرم الحرام 0517

حضرت شیخ ابو الفتاح امام احمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام یافعی اپنی تصنیف

" مرآۃ الجنان میں فرماتے ہیں "

کہ الشیخ ، الامام العالم ، العلامۃ عمدۃ الفہامۃ، شیخ الحقیقۃ والطریقۃ، شیخ شہاب الدین، ابو الفتاح احمد ، بن محمد ،بن محمد، طوسی غزالی حجۃ الاسلام امام محمد غزالی صاحبِ "احیاء العلوم" کے برادرِ اصغر تھے ۔

اپنے وقت کے عظیم محدث فقہ شافعی کے مشہور فقیہ تھے ۔ ایک عرصہ تک مدرسہ نظامیہ بغداد میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ پھر تصوف کا غلبہ ہوا تو سب چھوڑ چھاڑ کر اپنے بڑے بھائی کی تحریک میں شامل ہو گئے۔

ان کے وصال کے بعد ان کے مشن کو کامیابی سے چلاتے رہے ۔ وعظ و نصیحت تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا آپکے وعظ میں بیحد تأثیر تھی۔ آپکے وعظ کی برکت سے ہزاروں لوگ راہِ راست پر آئے۔ آپ فصیح اللسان اور صاحبِ کرامت تھے ۔

تصنیفات:
آپ نے امت مسلمہ کو مفید کتب سے نوازا ہے، ان میں سے چند کتب یہ ہیں!    

الذخيرة في علم البصيرة» فيالتصوف.     «لباب الإحياء» اختصر فيه كتاب «إحياء علوم الدين»، وقد نسبه آخرون إلى أخيه أبي حامد. «سوانح العشاق» بالفارسية، ذكر المستشر قفستنفلد وجود نسخة مخطوطة في المكتبة الأهلية بباريس. وذكر صاحب الذريعة أنه «الفه لتلميذه ومريده عين القضاة الهمداني «بوارق الإلماع في الرد على من يحرِّم السماع»، طُبع في الهند ،سنة ١٣١٧ هـ «تفسير سورة يوسف و قصة يوسف عليه السلام» وذكرهبر وكلمان بإسم «سر العالمين في تفسير سورة يوسف». طُبع في بومباي سنة ١٨٩٤ م بإسم «بحر المحبة في اسرار المودة في تفسير سورة يوسف» وفي دهلي سنة ١٩٠٠ م بإسم «أحسن القصص»، كما طبع بطهران سنة ١٣١٢ هـ «التجريد في كلمة التوحيد»، طُبع مؤخرا بتحقيق أحمد مجاهد «كتاب الحق والحقيقة».     «مدخل السلوك إلى منازل الملوك».     «لطائف الفكر وجوامع الدرر»، والكتابين الأخيرين ذكرهماالبغدادي۔ وذكر صاحب الأعلام أن «صاعد بن فارس اللباني» دوّن مجالس وعظه في بغداد فبلغت ٨٣ مجلساً كتبها صاعد في مجلدين۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fataah-imam-ahmad-bin-muhammad-ghazali
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1