Sunni Noori islamic Camp
islamic Beti ¹⁸Apr To ²²Apr
جامعہ نظامیہ صالحات کے زیرِ اہتمام خواتین اسلام کے لیے خصوصی ویکیشن کیمپ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
islamic Beti ¹⁸Apr To ²²Apr
جامعہ نظامیہ صالحات کے زیرِ اہتمام خواتین اسلام کے لیے خصوصی ویکیشن کیمپ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🚘 Driving Best Trick 🚗
Clutch Break Accelator
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Log Aksar 🅑reak , 🅒lutch Aur 🅐ccelerate Men Confuse Ho Jate Hain , To Un Ke Liye Yeh Trick Hai Ki Woh Sirf 🅐🅑🅒 Ko Dhyan Men Rakhen Right Se Left 🅒lutch - 🅑reak - 🅐ccelator Yeh Tariqa Bahut Aasan Hoga Aapke Liye
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Clutch Break Accelator
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Log Aksar 🅑reak , 🅒lutch Aur 🅐ccelerate Men Confuse Ho Jate Hain , To Un Ke Liye Yeh Trick Hai Ki Woh Sirf 🅐🅑🅒 Ko Dhyan Men Rakhen Right Se Left 🅒lutch - 🅑reak - 🅐ccelator Yeh Tariqa Bahut Aasan Hoga Aapke Liye
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
⬆️ جمعہ کے دن حضور کی دُعا ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
⬆️ جمعہ کے دن حضور کی دُعا ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
⬆️ 🌹 جمعہ کے دن کا عمل 🌹 ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
⬆️ 🌹 جمعہ کے دن کا عمل 🌹 ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
⬆️ جمعہ کے دن کرنے والے کام ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
⬆️ جمعہ کے دن کرنے والے کام ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 کیا آپ جانتے ہیں ؟ 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت عبد الوہاب نجدی علیہ الرَّحمَہ سُـنّی مسلمان اور عاشِـقِ رسُـول ﷺ تھے اور ان کے بیٹے سلیمان بن عبد الوہاب نجدی علیہ الرحمہ بھی سنی صحیح العقیدہ تھے البتہ عبد الوہاب نجدی کا بیٹا جس کا نام محمد تھا جِسے ابن عبد الوہاب نجدی لِکھا پڑھا اور بولا جاتا ہے - یہ شخص انتہائی بدباطن خبیث گستاخ تھا – مزید تفصیل کے لیے 📖 تاریخ نجد و حجاز 📖 دیکھیں .......
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍حسن نوری گونڈوی - اِمام نورانی
مسجد بیگم باغ کالونی {اُجَّین MP}
مُوۡبَائِل نَمبَر +918485880123 📱
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت عبد الوہاب نجدی علیہ الرَّحمَہ سُـنّی مسلمان اور عاشِـقِ رسُـول ﷺ تھے اور ان کے بیٹے سلیمان بن عبد الوہاب نجدی علیہ الرحمہ بھی سنی صحیح العقیدہ تھے البتہ عبد الوہاب نجدی کا بیٹا جس کا نام محمد تھا جِسے ابن عبد الوہاب نجدی لِکھا پڑھا اور بولا جاتا ہے - یہ شخص انتہائی بدباطن خبیث گستاخ تھا – مزید تفصیل کے لیے 📖 تاریخ نجد و حجاز 📖 دیکھیں .......
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍حسن نوری گونڈوی - اِمام نورانی
مسجد بیگم باغ کالونی {اُجَّین MP}
مُوۡبَائِل نَمبَر +918485880123 📱
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
👑 ताजुश् शरीअ़ः के उ़र्स में
⁵⁶देशों के उ़ल्मा करेंगे शिरकत
👑 تاج الشریعہ کے عرس میں
⁵⁶دیشوں کے علماء کرینگے شِرکت
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
⁵⁶देशों के उ़ल्मा करेंगे शिरकत
👑 تاج الشریعہ کے عرس میں
⁵⁶دیشوں کے علماء کرینگے شِرکت
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
★ حدیث پاک میں ہے اللہ پاک نے اِسے (یعنی جمعہ کو) مسلمانوں کے لئے عید کا دِن بنایا ہے ★
تو جو شخص جمعہ میں آئے وہ غسل کرے ★ اور جس کے پاس خوشبو ہو وہ خوشبو لگائے ★ اور مسواک کرے ★ ( ابن ماجہ ¹⁶/² حدیث¹⁰⁹⁸ )
جمعہ کو بروزِ قیامت روشن و حسین صورت میں اٹھایا جائے گا اور اہل جنت دُلہن کی طرح اس کا گھیرا کئے ہونگے (عمدۃ القاری شرح بخاری ¹⁵⁹/⁴ حدیث⁶⁰⁸)
اللہ پاک ہمیں اس مبارک دن کی برکتوں سے مالا مال فرمائے آمین جمعہ مبارک
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
★ حدیث پاک میں ہے اللہ پاک نے اِسے (یعنی جمعہ کو) مسلمانوں کے لئے عید کا دِن بنایا ہے ★
تو جو شخص جمعہ میں آئے وہ غسل کرے ★ اور جس کے پاس خوشبو ہو وہ خوشبو لگائے ★ اور مسواک کرے ★ ( ابن ماجہ ¹⁶/² حدیث¹⁰⁹⁸ )
جمعہ کو بروزِ قیامت روشن و حسین صورت میں اٹھایا جائے گا اور اہل جنت دُلہن کی طرح اس کا گھیرا کئے ہونگے (عمدۃ القاری شرح بخاری ¹⁵⁹/⁴ حدیث⁶⁰⁸)
اللہ پاک ہمیں اس مبارک دن کی برکتوں سے مالا مال فرمائے آمین جمعہ مبارک
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
📖 احکامِ تراویح 📖
🌹 تروایح ھر عاقل و بالغ مرد اور عورت کیلئے سنتِ مؤکدہ ھے ۔اسکا ترک جائز نہیں ،
(۔ درمختار ج 2 ص 493 ۔)
🌹 تراویح کی بیس رکعت ہیں سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعتیں ہی پڑھی جاتی تھیں ،۔
(السنن الکبرٰی للبیہقی ج2ص 299 رقم 4617 ۔)
🌹 تراویح کی جماعت سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ھے ،
(۔ ھدایہ ج 1 ص70۔)
🌹 تراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادق تک ھے ، عشاء کے فرض ادا کرنے سے پہلے ادا کر لی تو نہ ھوگی ،
( فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 115۔)
🌹 عشاء کے فرض و وتر کے بعد بھی تراویح ادا کی جا سکتی ھے ،
( در مختار ج2ص 494۔)
🌻 جیسا کہ بعض اوقات 29 کو رویتِ ھلال کی شہادت ملنے میں تاخیر کے سبب ایسا ہو جاتا ھے ،
🌹 مُستحبّ یہ ہے کہ تراویح میں تہائی رات تک تاخیر کی جائے اگر آدھی رات کے بعد بھی پڑھیں تب بھی کراہت نہیں ،
(درمختار ،ج 2 ص 495)
🌹 تراویح اگر فوت ہوئی تو اسکی قضا نہیں ،
(درمختار ،ج2 ص 494)
🌹 بہتر یہ ہے کی تراویح کی بیس رکعتیں دو دو کرکے دس سلام کے ساتھ ادا کرے ،
(درمختار،ج2 ص 495)
🌹 تراویح کی ہر دو رکعت پر الگ الگ نیت کرے ،
( درمختار ج 2 ص 494)
🌹 بِلاعذر بیٹھ کر تراویح ادا کرنا مکروہ ھے،بلکہ بعض فقہاء کرام کے نزدیک ہوتی ہی نہیں،
(درمختارج2ص499)
🌹 تراویح مسجد میں باجماعت ادا کرنا افضل ھے ،اگر گھر میں باجماعت ادا کی تو ہو جائیگی ،مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں ادا کرنے کا تھا،
(فتاویٰ عالمگیری ج1ص 116)
🌹 تراویح میں پورا کلام اللہ پڑھنا اور سننا سنتِ مؤکدہ ھے،
(فتاوی رضویہ ج7ص458،)
🌹 اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ھو جائے تو جتنا قرآن پاک اُن رکعتوں میں پڑھا تھا اُن کا اعادہ کیا جائے ،تاکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ رھے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج1 ص 118)
🌹 امام غلطی سے کوئی آیت یا سورت چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مُستحب یہ ھے کہ اُسے پڑھ کر آگے بڑھے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 118)
🌹 الگ الگ مسجد میں تراویح ادا کر سکتا ھے جبکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ ہو،
🌹 تراویح کی دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسر ی کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے آخر میں سجدۂ سہو کرلے اور اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کرلےمگر یہ دو شمار ہونگی،ہاں اگر دو پر قعدہ کیا تھا تو چار ھوئیں ،
( فتاویٰ عالمگیری ج۔1 ص 118)
🌹 تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ، ان کے بدلے کی دو رکعتیں دوبارہ ادا کرے،
(فتاویٰ عالم گیری ج۔1 ص118)
🌹سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ھے دو ھوئیں کوئی کہتا ھے تین ، تو امام کو جو یاد ہے اسکا اعتبار ھے،اگر امام خود بھی تذبذب کا شکار ہے تو جس پر اعتماد ہو اسکی بات مان لے،
(فتاویٰ عالمگیری ج1 ص 117)
🌹 اگر لوگوں کو شک ھو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ ؟ تو دو رکعت ہر بندہ تنہا تنہا ادا کرے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج2 ص 117)
🌹 افضل یہ ھے کہ ہر دو رکعت میں قِراءت برابر ہو ،اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں، (ج 1 ص 117)
🌹 امام و مقتدی ہر دو رکعت کی ابتداء میں ثناء پڑھیں امام تعوذ و تسمیہ بھی پڑھے،اور التحیات کے بعد درودِ ابراھیم اور دعا بھی،
(در مختار ج2 ص 498)
🌹 اگر 27 ویں کو یا اس سے قبل قرآن پاک ختم ھو گیا تب بھی آخر رمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنت مؤکدہ ھے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 118)
🌹 بعض مقتدی بیٹھے رہتے ہیں جب امام رکوع کرنے والا ہوتا ھے تب کھڑے ہوتے ہیں یہ مُنافقین کی علامت ھے
(بہارِ شریعت ،حصہ 4 ص 36)
🌹 رمضان المبارک میں وتر جماعت سے ادا کرنا افضل ہے،مگر جس نے عشاء کے فرض بغیر جماعت کے ادا کیےوہ وتر بھی تنہا ادا کرے،
(بہارِشریعت ،حصہ 4 ص36)
🌹 ایک امام کے پیچھے عشاء کے فرض دوسرے کے پیچھے تراویح اور تیسرے کے پیچھے وتر پڑھے اِس میں حرج نہیں ،
🌹 حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرض و وتر کی جماعت خود کرواتے اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تراویح پڑھاتے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج1 ص 116)
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 تروایح ھر عاقل و بالغ مرد اور عورت کیلئے سنتِ مؤکدہ ھے ۔اسکا ترک جائز نہیں ،
(۔ درمختار ج 2 ص 493 ۔)
🌹 تراویح کی بیس رکعت ہیں سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعتیں ہی پڑھی جاتی تھیں ،۔
(السنن الکبرٰی للبیہقی ج2ص 299 رقم 4617 ۔)
🌹 تراویح کی جماعت سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ھے ،
(۔ ھدایہ ج 1 ص70۔)
🌹 تراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادق تک ھے ، عشاء کے فرض ادا کرنے سے پہلے ادا کر لی تو نہ ھوگی ،
( فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 115۔)
🌹 عشاء کے فرض و وتر کے بعد بھی تراویح ادا کی جا سکتی ھے ،
( در مختار ج2ص 494۔)
🌻 جیسا کہ بعض اوقات 29 کو رویتِ ھلال کی شہادت ملنے میں تاخیر کے سبب ایسا ہو جاتا ھے ،
🌹 مُستحبّ یہ ہے کہ تراویح میں تہائی رات تک تاخیر کی جائے اگر آدھی رات کے بعد بھی پڑھیں تب بھی کراہت نہیں ،
(درمختار ،ج 2 ص 495)
🌹 تراویح اگر فوت ہوئی تو اسکی قضا نہیں ،
(درمختار ،ج2 ص 494)
🌹 بہتر یہ ہے کی تراویح کی بیس رکعتیں دو دو کرکے دس سلام کے ساتھ ادا کرے ،
(درمختار،ج2 ص 495)
🌹 تراویح کی ہر دو رکعت پر الگ الگ نیت کرے ،
( درمختار ج 2 ص 494)
🌹 بِلاعذر بیٹھ کر تراویح ادا کرنا مکروہ ھے،بلکہ بعض فقہاء کرام کے نزدیک ہوتی ہی نہیں،
(درمختارج2ص499)
🌹 تراویح مسجد میں باجماعت ادا کرنا افضل ھے ،اگر گھر میں باجماعت ادا کی تو ہو جائیگی ،مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں ادا کرنے کا تھا،
(فتاویٰ عالمگیری ج1ص 116)
🌹 تراویح میں پورا کلام اللہ پڑھنا اور سننا سنتِ مؤکدہ ھے،
(فتاوی رضویہ ج7ص458،)
🌹 اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ھو جائے تو جتنا قرآن پاک اُن رکعتوں میں پڑھا تھا اُن کا اعادہ کیا جائے ،تاکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ رھے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج1 ص 118)
🌹 امام غلطی سے کوئی آیت یا سورت چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مُستحب یہ ھے کہ اُسے پڑھ کر آگے بڑھے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 118)
🌹 الگ الگ مسجد میں تراویح ادا کر سکتا ھے جبکہ ختمِ قرآن میں نقصان نہ ہو،
🌹 تراویح کی دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسر ی کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے آخر میں سجدۂ سہو کرلے اور اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کرلےمگر یہ دو شمار ہونگی،ہاں اگر دو پر قعدہ کیا تھا تو چار ھوئیں ،
( فتاویٰ عالمگیری ج۔1 ص 118)
🌹 تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ، ان کے بدلے کی دو رکعتیں دوبارہ ادا کرے،
(فتاویٰ عالم گیری ج۔1 ص118)
🌹سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ھے دو ھوئیں کوئی کہتا ھے تین ، تو امام کو جو یاد ہے اسکا اعتبار ھے،اگر امام خود بھی تذبذب کا شکار ہے تو جس پر اعتماد ہو اسکی بات مان لے،
(فتاویٰ عالمگیری ج1 ص 117)
🌹 اگر لوگوں کو شک ھو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ ؟ تو دو رکعت ہر بندہ تنہا تنہا ادا کرے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج2 ص 117)
🌹 افضل یہ ھے کہ ہر دو رکعت میں قِراءت برابر ہو ،اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں، (ج 1 ص 117)
🌹 امام و مقتدی ہر دو رکعت کی ابتداء میں ثناء پڑھیں امام تعوذ و تسمیہ بھی پڑھے،اور التحیات کے بعد درودِ ابراھیم اور دعا بھی،
(در مختار ج2 ص 498)
🌹 اگر 27 ویں کو یا اس سے قبل قرآن پاک ختم ھو گیا تب بھی آخر رمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنت مؤکدہ ھے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 118)
🌹 بعض مقتدی بیٹھے رہتے ہیں جب امام رکوع کرنے والا ہوتا ھے تب کھڑے ہوتے ہیں یہ مُنافقین کی علامت ھے
(بہارِ شریعت ،حصہ 4 ص 36)
🌹 رمضان المبارک میں وتر جماعت سے ادا کرنا افضل ہے،مگر جس نے عشاء کے فرض بغیر جماعت کے ادا کیےوہ وتر بھی تنہا ادا کرے،
(بہارِشریعت ،حصہ 4 ص36)
🌹 ایک امام کے پیچھے عشاء کے فرض دوسرے کے پیچھے تراویح اور تیسرے کے پیچھے وتر پڑھے اِس میں حرج نہیں ،
🌹 حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرض و وتر کی جماعت خود کرواتے اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تراویح پڑھاتے ،
(فتاویٰ عالمگیری ج1 ص 116)
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
☎️ رمضان ہیلپ لائِن 📱
☎️ Ramzan Help Line 📱
✍مولانا معزالدین عثمانی مرکزی
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
☎️ Ramzan Help Line 📱
✍مولانا معزالدین عثمانی مرکزی
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
*تين رمضان يومِ وصال حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی الله عنہا*
____________________________
*نام و نسب*:
اسمِ گرامی: *سیدہ فاطمه*
کنیت: *ام الحسنین*
القاب: *زہراء، بتول، سیدۃ النساء، خاتونِ جنت، مخدومۂ کائنات، طیبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، وغیرہ*۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: *سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی الله عنہا بنت سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ بن عبدالله بن ہاشم بن عبدِ مناف* (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔
*آپ سیدہ خدیجۃ الکبری ٰ رضی الله عنہا کےبطن سے پیدا ہوئیں، اور رسولِ اکرم کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں*۔
*فاطمہ کی وجہ تسمیہ*:
سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: *انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالیٰ فطمھاومحبیھا عن النار*
ترجمہ: *میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کیونکہ الله تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کردیا ہے*۔
(📚کنزالعمال# جلد: ١٢ / حدیث: ٣٤٢٢٢)
*تاریخِ ولادت*:
اعلانِ نبوت سے پانچ سال یا ایک سال قبل مکۃ المکرمہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بقولِ بعض آپ کی ولادت باسعادت 20/٢٠ جمادی الثانی بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔
*فضائل و مناقب*:
تصویرِ مصطفیٰ ﷺ: *ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا* فرماتی ہیں:
*کہ میں نے چال ڈھال، شکل و صورت اور بات چیت میں سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی الله عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا*۔
(📖سننِ ابوداؤد)
*رسول الله صلی الله تعلی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین*
ترجمہ: *کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنت کی عورتوں کی سردار ہو*۔
(📖بخاری# ١:٥٣٢ 📖مسلم# جلد: ٢: ٢٩٠)
*سیدہ کی خوشی و ناراضگی الله تعالیٰ کی خوشی و ناراضگی*:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : *فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا*
يعنی *فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے* اور دوسری روایت میں ہے کہ *مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے*۔
(📖بخاری# ٥٣٢: ١)
*قیامت کے دن ندا ہوگی اہل محشر اپنی نگاہوں کو جھکالیں*
*حضور سید عالم ﷺ* نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی: *اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق*
ترجمہ: *قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکالو اور اپنے سروں کو جھکالو یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ بنت محمدﷺ گذر جائیں چنانچہ سیدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی*۔
(📖المستدرک # ١٦١ :٣)
*سیدہ کا نکاح*
سن ٢ ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان میں مولائے کائنات سے آپ کا نکاح ہوا۔ *اس وقت آپ کی عمر 15/١٥ سال ،اور مولا علی کی عمر 21/٢١ سال تھی۔ رخصتی ذوالحجہ میں ہوئی*۔
*سیدہ کا جہیز*
ایک چادر، ایک تکیہ، چمڑے کا گدّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں اور پانی کے لیے دو مشکیزے، *یہ ہے دونوں جہانوں کے سردار ﷺ کی لاڈلی بیٹی کا جہیز کہ صرف وہ اشیاء دیں جو روز مرہ استعمال میں آتی ہیں*۔
*وصال*
حضور اکرم ﷺ کے وصال کے ٦ ماہ بعد ٣ رمضان المبارک ١١ھ منگل کی رات میں آپ کا وصال ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔ *نمازِ جنازہ سیدنا صدیق ِاکبر رضی الله عنہ نے پڑھائی*۔
(📖کنزالعمال# حدیث: ٤٢٨٥٦)
(📖شرح العلامۃ الزرقانی# الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام/ جلد: ٤/ صفحه: ٣٤٢)
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
____________________________
*نام و نسب*:
اسمِ گرامی: *سیدہ فاطمه*
کنیت: *ام الحسنین*
القاب: *زہراء، بتول، سیدۃ النساء، خاتونِ جنت، مخدومۂ کائنات، طیبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، وغیرہ*۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: *سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی الله عنہا بنت سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ بن عبدالله بن ہاشم بن عبدِ مناف* (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔
*آپ سیدہ خدیجۃ الکبری ٰ رضی الله عنہا کےبطن سے پیدا ہوئیں، اور رسولِ اکرم کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں*۔
*فاطمہ کی وجہ تسمیہ*:
سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: *انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالیٰ فطمھاومحبیھا عن النار*
ترجمہ: *میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کیونکہ الله تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کردیا ہے*۔
(📚کنزالعمال# جلد: ١٢ / حدیث: ٣٤٢٢٢)
*تاریخِ ولادت*:
اعلانِ نبوت سے پانچ سال یا ایک سال قبل مکۃ المکرمہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بقولِ بعض آپ کی ولادت باسعادت 20/٢٠ جمادی الثانی بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔
*فضائل و مناقب*:
تصویرِ مصطفیٰ ﷺ: *ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا* فرماتی ہیں:
*کہ میں نے چال ڈھال، شکل و صورت اور بات چیت میں سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی الله عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا*۔
(📖سننِ ابوداؤد)
*رسول الله صلی الله تعلی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین*
ترجمہ: *کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنت کی عورتوں کی سردار ہو*۔
(📖بخاری# ١:٥٣٢ 📖مسلم# جلد: ٢: ٢٩٠)
*سیدہ کی خوشی و ناراضگی الله تعالیٰ کی خوشی و ناراضگی*:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : *فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا*
يعنی *فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے* اور دوسری روایت میں ہے کہ *مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے*۔
(📖بخاری# ٥٣٢: ١)
*قیامت کے دن ندا ہوگی اہل محشر اپنی نگاہوں کو جھکالیں*
*حضور سید عالم ﷺ* نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی: *اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق*
ترجمہ: *قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکالو اور اپنے سروں کو جھکالو یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ بنت محمدﷺ گذر جائیں چنانچہ سیدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی*۔
(📖المستدرک # ١٦١ :٣)
*سیدہ کا نکاح*
سن ٢ ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان میں مولائے کائنات سے آپ کا نکاح ہوا۔ *اس وقت آپ کی عمر 15/١٥ سال ،اور مولا علی کی عمر 21/٢١ سال تھی۔ رخصتی ذوالحجہ میں ہوئی*۔
*سیدہ کا جہیز*
ایک چادر، ایک تکیہ، چمڑے کا گدّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں اور پانی کے لیے دو مشکیزے، *یہ ہے دونوں جہانوں کے سردار ﷺ کی لاڈلی بیٹی کا جہیز کہ صرف وہ اشیاء دیں جو روز مرہ استعمال میں آتی ہیں*۔
*وصال*
حضور اکرم ﷺ کے وصال کے ٦ ماہ بعد ٣ رمضان المبارک ١١ھ منگل کی رات میں آپ کا وصال ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔ *نمازِ جنازہ سیدنا صدیق ِاکبر رضی الله عنہ نے پڑھائی*۔
(📖کنزالعمال# حدیث: ٤٢٨٥٦)
(📖شرح العلامۃ الزرقانی# الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام/ جلد: ٤/ صفحه: ٣٤٢)
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حـضـرت سیده فاطمہ کا مختصر تعارف
Hayaate Sayyidah Faatimah 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Hayaate Sayyidah Faatimah 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حـضـرت سیده فاطمہ کا مختصر تعارف
Hayaate Sayyidah Faatimah 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Hayaate Sayyidah Faatimah 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ماہِ رمضان میں اِن ایّام کو یاد رکھیں
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
❶ फ़ैज़़ाने रमज़़ान मुरम्मम
फ़ज़़ाइले रमज़़ान शरीफ़ ²¹
अह़कामे रोज़ा ⁷²
फ़ैज़़ाने तरावीह़ ¹⁵⁹
फ़ैज़़ाने लयलतुल क़द्र ¹⁸¹
अल वदाअ़् माहे रमज़़ान ²⁰⁷
फ़ैज़़ाने एअ़्तिकाफ़ ²²⁹
फ़ैज़़ाने ई़दुल फ़ित्र ²⁹⁷
नफ़्ल रोज़ों के फ़ज़़ाइल ³²⁶
रोज़दारों की 12 ह़िकायात ³⁸⁴
मुअ़्तकिफ़ीन की 40 मदनी बहारें⁴⁰⁷
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9186
❷ फ़ैज़़ाने रमज़़ान | मौलाना इलयास
फ़ज़़ाइले रमज़़ान शरीफ़ ¹
अह़कामे रोज़ा ⁸⁹
फ़ैज़़ाने तरावीह़ ²⁵⁰
फ़ैज़़ाने लयलतुल क़द्र ²⁸¹
फ़ैज़़ाने एअ़्तिकाफ़ ³²⁹
फ़ैज़़ाने ई़दुल फ़ित्र ⁴⁴¹
नफ़्ल रोज़ों के फ़ज़़ाइल ⁴⁸⁹
रोज़दारों की 12 ह़िकायात ⁵⁷⁹
मुअ़्तकिफ़ीन की ⁴¹मदनी बहारें⁶¹⁹
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9183
❸ रमज़़ान में गुनाह करने वाले की
क़बर का भयानक मन्ज़र हिन्दी
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9731
❹ रमज़़ान की बहारें / Hindi
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9734
❺ गुनाहों की नुह़ूसतें मअ़् रमज़़ान
में गुनाह करने की सज़ाएं हिन्दी
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9960
❻ मनाक़िबे रमज़़ानुल मुबारक
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/12964
❼ बहारे शरीअ़त ह़िस़्स़ः ④
वित्र सुनन सुन्नत व नफ़्ल नवाफ़िल
तरावीह़ - क़ज़़ा नमाज़ - सज्दए सह्व
नमाज़े मरीज़़ नमाज़े मुसाफ़िर नमाज़े
जुमा जुमुअ़ः सज्दए तिलावत नमाज़
व तिलावत – नमाज़े ई़द व बक़र ई़द
नमाज़े ख़ौफ़ जनाज़ा मौत मय्यित को
नहलाने कफ़नाने और ग़ुस्ल व कफ़न
क़बर व दफ़न तअ़्ज़ियत शहीद और
कअ़्बा में नमाज़ पढ़ने का बयान !!
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/17173
❽ बहारे शरीअ़त ह़िस़्स़ः ⑤
ज़कात – उश्र – कान और दफ़ीना
स़दक़ए फ़ित्र स़दक़ाते नफ़्ल - रोज़ा
चाँद - रोज़े के मकरूहात - सह़री व
इफ़तारी मिन्नत के रोज़े एअ़्तिकाफ़
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/17174
➻═══════════➻
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Lɪʙʀᴀʀʏ
🆔 @Ahlesunnat_HindiBooks
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
➻═══════════➻
फ़ज़़ाइले रमज़़ान शरीफ़ ²¹
अह़कामे रोज़ा ⁷²
फ़ैज़़ाने तरावीह़ ¹⁵⁹
फ़ैज़़ाने लयलतुल क़द्र ¹⁸¹
अल वदाअ़् माहे रमज़़ान ²⁰⁷
फ़ैज़़ाने एअ़्तिकाफ़ ²²⁹
फ़ैज़़ाने ई़दुल फ़ित्र ²⁹⁷
नफ़्ल रोज़ों के फ़ज़़ाइल ³²⁶
रोज़दारों की 12 ह़िकायात ³⁸⁴
मुअ़्तकिफ़ीन की 40 मदनी बहारें⁴⁰⁷
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9186
❷ फ़ैज़़ाने रमज़़ान | मौलाना इलयास
फ़ज़़ाइले रमज़़ान शरीफ़ ¹
अह़कामे रोज़ा ⁸⁹
फ़ैज़़ाने तरावीह़ ²⁵⁰
फ़ैज़़ाने लयलतुल क़द्र ²⁸¹
फ़ैज़़ाने एअ़्तिकाफ़ ³²⁹
फ़ैज़़ाने ई़दुल फ़ित्र ⁴⁴¹
नफ़्ल रोज़ों के फ़ज़़ाइल ⁴⁸⁹
रोज़दारों की 12 ह़िकायात ⁵⁷⁹
मुअ़्तकिफ़ीन की ⁴¹मदनी बहारें⁶¹⁹
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9183
❸ रमज़़ान में गुनाह करने वाले की
क़बर का भयानक मन्ज़र हिन्दी
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9731
❹ रमज़़ान की बहारें / Hindi
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9734
❺ गुनाहों की नुह़ूसतें मअ़् रमज़़ान
में गुनाह करने की सज़ाएं हिन्दी
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9960
❻ मनाक़िबे रमज़़ानुल मुबारक
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/12964
❼ बहारे शरीअ़त ह़िस़्स़ः ④
वित्र सुनन सुन्नत व नफ़्ल नवाफ़िल
तरावीह़ - क़ज़़ा नमाज़ - सज्दए सह्व
नमाज़े मरीज़़ नमाज़े मुसाफ़िर नमाज़े
जुमा जुमुअ़ः सज्दए तिलावत नमाज़
व तिलावत – नमाज़े ई़द व बक़र ई़द
नमाज़े ख़ौफ़ जनाज़ा मौत मय्यित को
नहलाने कफ़नाने और ग़ुस्ल व कफ़न
क़बर व दफ़न तअ़्ज़ियत शहीद और
कअ़्बा में नमाज़ पढ़ने का बयान !!
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/17173
❽ बहारे शरीअ़त ह़िस़्स़ः ⑤
ज़कात – उश्र – कान और दफ़ीना
स़दक़ए फ़ित्र स़दक़ाते नफ़्ल - रोज़ा
चाँद - रोज़े के मकरूहात - सह़री व
इफ़तारी मिन्नत के रोज़े एअ़्तिकाफ़
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/17174
➻═══════════➻
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Lɪʙʀᴀʀʏ
🆔 @Ahlesunnat_HindiBooks
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
➻═══════════➻
Telegram
محمد جمال الدين خان قادری in अल अश्हर अकादमी 📚 ᴴⁱⁿᵈⁱ
@Ahlesunnat_HindiBooks
📖 روزے کے تین اہم مسائل 📖
روزے کی حالت میں انجکشن کا حکم
روزے کی حالت میں گل منجن پیسٹ
روزے کی حالت میں قَے پَلٹی کا حکم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ مفتی عبدالرحمٰن قادِری رَضوی
مِصباحی اُستاذ جامعہ اشرفیہ مسعود
العلوم چھوٹی تکیہ بہرائِچ شریف UP
وَ صدر تعلیماتِ رَضا فاؤنڈیشن.T.R.F
📇اراکینِ تعلیماتِ رَضا فاؤنڈیشن 📇
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
روزے کی حالت میں انجکشن کا حکم
روزے کی حالت میں گل منجن پیسٹ
روزے کی حالت میں قَے پَلٹی کا حکم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ مفتی عبدالرحمٰن قادِری رَضوی
مِصباحی اُستاذ جامعہ اشرفیہ مسعود
العلوم چھوٹی تکیہ بہرائِچ شریف UP
وَ صدر تعلیماتِ رَضا فاؤنڈیشن.T.R.F
📇اراکینِ تعلیماتِ رَضا فاؤنڈیشن 📇
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
📖 रोज़े के तीन अहम मसाइल 📖
रोज़े की ह़ालत में इन्जेक्शन इंजक्शन
रोज़े की ह़ालत में गुल मन्जन & पेस्ट
रोज़े की ह़ालत में क़ै पल्टी का ह़ुक्म
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ मुफ़्ती अ़ब्दुर्रह़मान मिस़्बाह़ी स़ाह़ब
उस्ताज़ जामिअ़ः अशरफ़ियः मस्ऊ़दुल
उ़लूम छोटी तकिया बहराइच शरीफ़UP
📇 तअ़्लीमाते रज़़ा फ़उन्डेशन T.R.F.
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
रोज़े की ह़ालत में इन्जेक्शन इंजक्शन
रोज़े की ह़ालत में गुल मन्जन & पेस्ट
रोज़े की ह़ालत में क़ै पल्टी का ह़ुक्म
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ मुफ़्ती अ़ब्दुर्रह़मान मिस़्बाह़ी स़ाह़ब
उस्ताज़ जामिअ़ः अशरफ़ियः मस्ऊ़दुल
उ़लूम छोटी तकिया बहराइच शरीफ़UP
📇 तअ़्लीमाते रज़़ा फ़उन्डेशन T.R.F.
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا داؤد علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک سو سال عمر پائی، آپ موسیٰ علیہ السلام سے پانچ سو ننانوے(۵۹۹) سال بعد تشریف لائے۔ (اس کے دیگر اقوال بھی منقول ہیں) حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے ہیں آپ نے انسٹھ سال عمر پائی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سات سو سال پہلے تشریف لائے۔ (التخبیر للسیوطی، حاشیہ جلالین، ص۲۷۵) وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاؤدَ ذَالْاَیْدِ اِنَّہٗ اَوَّابٌ (پ۲۳ سورۃ ص ۱۷) اور ہمارے بندے داؤد، نعمتوں والے کو یاد کر وبے شک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے۔ ذا الاید: کا معنی نعمتوں والا بھی ہے اور طاقت و قوت والا بھی ہے۔ یعنی آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عبادات کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کی طاقت کی تعریف فرمائی تو اس سے وہی مراد ہوسکتی ہے، جو قابل تعریف ہو اور قابل تعریف وہی طاقت ہے جس کی وجہ سے انسان عبادات پر عمل کرسکے اور گناہوں سے بچ سکے۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ داؤد علیہ السلام کی عبادت: آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، یہ دراصل آپ علیہ السلام کا نفس کے خلاف جہاد تھا؛ کیونکہ انسان کا ’’نفس‘‘ بچے کے طرح ہوتا ہے۔ بچے کو ایک دن دودھ پلایا جائے اور دوسرے دن نہ پلایا جائے یہ بہت مشکل ہے، اسی طرح داؤد علیہ السلام نے اپنے نفس سے ایسا جہاد کیا جو عام آدمی کے لیے بہت مشکل تھا؛ کیونکہ ایک دن نفس کو خواہشات سے روکنا اور دوسرے دن خواہشات کی اجازت دینا عظیم کام تھا۔ آپ علیہ السلام نصف رات اللہ تعالیٰ کے حضور قیام فرماتے، یعنی نوافل ادا کرتے، پھر رات کا تہائی حصہ سوتے، پھر رات کا چھٹا حصہ جاگ کر عبادت میں مشغول رہتے۔ داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی نبوت کا ذکر: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ (پ۱۹ سورۃ نمل ۱۵) اور بے شک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو بڑا علم عطا کیا تھا، اور دونوں نے کہا؛ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی۔ علم سے مراد لوگوں کے درمیان قضاء (فیصلہ) کا علم، پرندوں کی بولیاں جاننے کا علم وغیرہ ’’ہمیں فضیلت دی‘‘ اس سے مراد نبوت اور جنوں شیطانوں کو آپ کے تابع بنانا ہے۔ ’’علم‘‘ سے انسان کو فضیلت حاصل ہوتی ہے، انسان کو چاہیے کہ نعمتوں کے حاصل ہونے پر ان کا شکریہ ادا کرے، کسی نعمت کا اظہار بطور تکبر ناجائز ہے، بطور شکر ذکر کرنا مستحب ہے۔ سنت انبیائے کرام ہے ۔ (از روح البیان، جلالین شریف) داؤد علیہ السلام کی بادشاہت کا ذکر: یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ (پ۲۳ سورۃ ص۲۶) اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا، تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکادے گی، بے شک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ عذاب کے دن کو بھول بیٹھے۔ ’’فقد جمع لداؤد بین النبوۃ والسلطنۃ‘‘ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲) حضرت داؤد علیہ السلام کو نبوت اور بادشاہت دونوں حاصل تھیں۔ ’’ولا تتبع الھوی المقصود من نھیہ اعلام امتہ لانہ معصوم ولتتبعہ فیما امر بہ لانہ اذا کان ھذا الخطاب للمعصوم فغیرہ اولی‘‘ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲) آپ علیہ السلام کو رب نے جو فرمایا: ’’خواہش کے پیچھے نہ جانا‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خواہش کے پیچھے چلنے سے امت کی تعلیم کے لیے روکا گیا ہے، کہ وہ غور و فکر کریں۔ اور آپ علیہ السلام کو جو حکم دیے گئے ہیں وہ ان کی تابعداری کریں۔ جب یہ خطاب معصوم کو ہوسکتا ہے تو دوسروں کو تو یقیناً یہ حکم ہونا ہی ہے۔ روایت کیا گیا ہے کہ بنی مروان میں سے کسی خلیفہ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ کہا کہ کیا تم نے سنا ہے؟ جو ہمیں خبر دی گئی ہے کہ خلیفہ پر کوئی قلم نہیں چلے گی اور اس پر کوئی معصیت نہیں لکھی جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیرالمومنین خلفاء افضل ہیں یا انبیاء علیہم السلام؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تعلیم امت کے لیے خواہشات کے پیچھے چلنے سے منع کیا ہے تو خلیفہ کیا چیز ہوسکتا ہے؟ (از تفسیر کبیر) فائدہ: ایک انسان دنیامیں زندگی گزارنے کی جمیع ضروریات پر عمل نہیں کرسکتا، کوئی کھیتی باڑی کرتا ہے کوئی دانے پیستا ہے، کوئی روٹی پکاتا ہے، کوئی کپڑا بنتا ہے اور کوئی سلاتی کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ہر ایک اپنے ا
پنے کام میں مشغول ہوتا ہے۔ تمام کام مل کر تمام کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ جب سب لوگوں نے ایک ہی علاقہ ایک ہی سرزمین میں مجتمع ہوکر رہنا ہے اور مختلف کام سر انجام دینے ہیں تو ان میں اختلافات، جھگڑے ہونا بھی قدرتی امر ہے۔ اس لیے ان میں کوئی ایک ایسا شخص بھی ہونا چاہیے جسے طاقت اور دبدبہ حاصل ہو جو ان کے اختلافات دور کراسکے، ان کے جھگڑوں میں فیصلہ کراسکے، یہ وہ بادشاہ ہی ہوسکتا ہے جس کا حکم کل پر نافذ ہوتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مخلوق کی مصلحت کے لیے بادشاہ، سیاستدان کا ہونا ضروری ہے۔ پھر اگر بادشاہ اپنی خواہش کے مطابق احکام نافذ کرے، اپنے دنیاوی منافع حاصل کرے مخلوق کو عظیم ضرر پہنچائے، رعیت کو اپنی ذات پر قربان کردے، یعنی اپنی بادشاہت کو بچانے کے لیے رعیت کی تباہی کا لحاظ نہ کرے، رعیت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے تو دنیا تباہی و بربادی پر پہنچ جاتی ہے، مخلوق میں قتل و غارت کا وقوع عام ہوتا ہے، آخر کار اس بادشاہ کی تباہی کا وقت بھی آجاتا ہے اس طرح بادشاہ کے مظالم سے ملک کی بربادی کے ساتھ بادشاہ کی اپنی بربادی بھی ہوجاتی ہے۔ اگر بادشاہ شرعی احکام کے مطابق فیصلے کرے تو نظام عالم درست ہوجاتا ہے، بھلائی کے دروازے اچھے طریقے سے کھل جاتے ہیں، ان مقاصد کے پیش نظر قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کو یہ حکم دیا۔ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد علیہ السلام کے تابع: اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً کُلٌّ لَّہٗ اَوَّابٌ (پ۲۳ سورۃ ص۱۸، ۱۹) بے شک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ کو مسخر کردیے کہ تسبیح کرتے شام کو اور سورج چمکتے اور پرندے جمع کیے ہوتے، اور سب اس کے فرمانبردار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو آپ کے ساتھ مسخر کردیا، یعنی پہاڑ آپ کے تابع تھے، آپ جہاں چلتے پہاڑ آپ کے ساتھ چلتے یا آپ جس جگہ پہاڑوں کے لے جانے کا ارادہ فرماتے پہاڑ وہاں چلے جاتے۔ آپ علیہ السلام کا یہ معجزہ اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت و قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ آپ علیہ السلام کی آواز بہت حسین تھی، آواز میں رعب اور دبدبہ بھی تھا۔ جب آپ خوش الحانی سے ’’زبور شریف‘‘ پڑھا کرتے تو پہاڑوں سے بھی تسبیحات کی حسین و جمیل گنگناہٹ سنائی دیتی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کئی کارنامے موجود ہیں، یعنی پہاڑوں کے جسم میں زندگی پیدا فرماتا ہے، پھر انہیں شعور عطا فرماتا ہے، پھر انہیں قدرت نوازتا ہے پھر انہیں بولنے کی طاقت دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیحات پڑھتے ہیں، اس کی مثال قرآن پاک میں ایک اور بھی ہے۔ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبَّہٗ لِلْجَبَلِ جب اس (موسیٰ) کے رب نے اپنی تجلیات کا ظہور پہاڑ پر فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پہاڑ میں عقل و فہم پیدا کیے، پھر اسے اپنے صفاتی نور کو دیکھنے کے لیے دیکھنے کی طاقت و سمجھ عطا کیے، دیکھنے پر وہ پہاڑ برداشت نہ کرسکا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے خوش آوازی سے زبور پڑھنے اور تسبیحات پڑھنے کے ساتھ ساتھ پرندے بھی تسبیحات پڑھتے تھے، آپ علیہ السلام کے قریب آکر کان لگاکر سنتے تھے، اتنے قریب ہوجاتے تھے کہ آپ پرندوں کو گردن سے پکڑ کر ان سے پیار کرتے۔ (تفسیر کبیر) بلکہ بعض حضرات نے بیان کیا ہے کہ آپ علیہ السلام کی آواز میں رب نے ایسا عجیب اثر رکھا تھا کہ آپ جب زبور پڑھتے تو چلتا پانی رک جاتا، درختوں پر یہ اثر ہوتا کہ گویا وہ بھی زبان حال سے آپ کے ساتھ تسبیحات پڑھ رہے ہیں، اور ان کے پتے جھڑے شروع ہوجاتے۔ (واللہ اعلم بالصواب) فائدہ: علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب یہ پتہ چلا کہ پہاڑ آپ کے ساتھ چلتے اور تسبیحات پڑھتے اور پرندے آپ کے پاس جمع ہوجاتے تھے۔ ’’واجتمعاعھا الیہ ھو حشرھا فیکون علی ھذا التقدیر حاشرھا ھو اللہ‘‘ ان پرندوں کا آپ کے پاس اجتماع وہ حشر ہے ان کا ’’حاشر‘‘ یعنی جمع کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جس ذات نے یہاں غیر ذوی العقول کو عقل عطا کرکے اور غیر ذی روح کو روح عطا کرکے آپ کے تابع بنادیا وہ ذات قیامت میں ذی روح کی روح کیونکر نہیں لوٹا سکتا۔ (تفسیر کبیر بزیادۃ) تنبیہ: عام طور پر اہل عرب لفظ بولتے ہیں: [شرقت الشمس] ’’سورج طلوع ہوگیا‘‘ اور [اشرقت الشمس] کا معنی لیتے ہیں ’’سورج روشن ہوگیا‘‘۔ آیت کریمہ میں لفظ ’’اشراق‘‘ استعمال ہوا ہے اس سے صلوۃ ضحیٰ پر دلیل پکڑی گئی ہے۔ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے آپ نے وضو کے لیے پانی طلب کیا اور وضو کرکے’’صلوٰۃ ضحیٰ‘‘ (چاشت کی نماز) ادا فرمائی اور ارشاد فرمائی: اے ام ہانی! ’’ھذہ صلوۃ الاشراق‘‘ یہ نماز اشراق ہے۔ حضرت طاؤس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم چاشت کی نماز کا ذکر قرآن پاک میں پاتے ہو؟ تو حاضرین نے جواب دیا، نہیں۔ تو آپ نے یہی آیت کریمہ تلاوت کی: اِنَّا سَخَّرْنَا ا
لْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ (پ۲۳ ص۱۸) یعنی یہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام ادا فرماتے ہیں، آپ علیہ السلام نے کہا کہ میرے دل میں ہمیشہ صلوٰۃ ضحیٰ کے متعلق خیال آتا رہتا تھا کہ اس کا ذکر قرآن پاک میں ہے یانہیں؟ تو میں نے اسے..... یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ میں پالیا۔ (تفسیر کبیر) ’’ویلوح من ھٰھنا ان الاشراق والضحیٰ واحد یعنی ھو فی الحقیقۃ وقت واحد و صلوۃ واحدۃ اولھا وقت الاشراق وآخرھا الی قبیل نصف النھار ولما صلی فی بعض الاحیان فی الوقتین ظنوا ان ھھنا وقتین وصلوتین‘‘ (کمالین حاشیہ جلالین ص ۳۸۱) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشراق اور ضحیٰ ایک ہی ہیں یعنی ایک ہی وقت ہے اور ایک ہی نماز ہے اول وقت کو اشراق کہا جاتا ہے اورآخر کو ضحیٰ کہا گیا ہے آخر وقت زوال سے تھوڑا پہلے تک ہے، جب بعض اوقات یہ نماز اول وقت میں پڑھی گئی اور بعض اوقات آخر میں تو یہ گمان ہوا کہ دو وقت علیحدہ علیحدہ ہیں اور علیحدہ علیحدہ نمازیں ہیں۔ (حالانکہ نماز ایک ہی ہے) اشراق یا چاشت کی رکعات: ’’اقلھا رکعتان وادنی کمالھا اربع ویزید ماشاء فھو ثمان رکعات واکثرھا اثنتا عشرۃ رکعۃ‘‘ (ماخوذ از روح المعانی) کم از کم دو رکعتیں اور کمال کا ادنیٰ درجہ چا ررکعتیں ہے، اس سے زائد جتنی چاہے پڑھے۔ اور آٹھ رکعتیں اور اس سے بھی زائد بارہ رکعتیں ہیں۔ تمام تعداد کی صورتوں پر احادیث مبارکہ دال ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے: اوصاہ بھما وان لا یدعھا آپ نے دو رکعتیں ادا کرنے اور ان کو نہ چھوڑنے کا حکم فرمایا۔ مسلم مسند احمد ابن ماجہ میں حضرت ام ھانی سے مروی ہے۔ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی الضحیٰ اربعا ویزید ما شاء اللہ تعالٰی. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلوٰۃ ضحیٰ چار رکعت پڑھتے تھے اور زیادہ فرماتے جتنا رب تعالیٰ چاہتا۔ ابن عبد البر نے تمہید میں عکرمہ رضی اللہ عنہ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کی روایت کو بیان کیا۔ ’’قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثمان رکعات فقلت ما ھذہ الصلوۃ قال ھذہ صلوۃ الضحی‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں ادا کیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون سی نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ چاشت کی نماز ہے۔ ایک ضعیف روایت میں بارہ رکعت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ (از روح المعانی) خیال رہے کہ راقم کا مطلب صرف مسئلہ کی تحقیق تھی، جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہوئی ہے اور وہ اشراق کے وقت علیحدہ نوافل پڑھتے ہیں اور چاشت کے وقت علیحدہ۔ انہیں اس مستحسن فعل سے منع کرنا مقصود نہیں۔ یہ جاہلانہ طرز عمل ہے کہ: فلاں وقت دعاء نہ کرو، فرض کے بعد دعاء ثابت نہیں، سنتوں اور نوافل کے بعد دعاء ثابت نہیں، جنازہ کے بعد دعاء نہیں، جمعرات کو دعاء نہیں، چالیسواں پر دعاء تھی، نہ جانے کیوں خدا سے مانگنے میں بھی جاہلوں کو شرم آتی ہے؟ خدا سے نہ مانگنےو الے متکبر جہنم کا ایندھن ہیں اس مسئلہ پر میری کتاب ’’شمع ہدایت‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔ آپ کی بادشاہی کا دبدبہ اور اثر خطاب: وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ اور ہم نے اس کو اس کی سلطنت کو مضبوط کیا اور اسے حکمت اور قول فیصل دیا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ چھتیس ہزار آدمی رات کو آپ کی حفاظت کرنے والے ہوتے صبح ہوتی تو آپ ان کو فرماتے کہ تم لوٹ جاؤ تم پر اللہ کا نبی راضی ہے، بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ آپ کی حفاظت کرنے والے چالیس ہزار کی تعداد میں ہوتے، (کبیر) اتنی تعداد میں لوگ اپنے شوق و محبت کی وجہ سے آپ کی حفاظت کے لیے آتے تھے، اس میں اپنی سعادت سمجھتے اور باعث برکت سمجھتے۔ علامہ آلوسی کا یہ کہنا: کہ یہ عقلاً بعید ہے؛ کیونکہ اتنے آدمیوں کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ قول مجھے درست نظر نہیں آرہا ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نبی کو ضرورت نہیں تھی لیکن آپ کے غلاموں کو آپ کی خدمت کی ضرورت تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس ایک شخص پر گائے کا دعویٰ کیا، اس نے انکار کیا، حضرت داؤد علیہ السلام نے مدعی سے گواہ طلب کیے اس کے پاس گواہ نہیں تھے۔ آپ علیہ السلام نے ان دونوں کو کہا: تم دونوں جاؤ میں اس معاملہ میں غو و فکر کروں گا۔ وہ دونوں آپ کی محفل سے چلے گئے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو نیند آگئی تھی، آپ کو خواب میں کہا گیا کہ مدعی کو قتل کردو۔ آپ علیہ السلام نے خیال کیا، یہ خواب ہے، مجھے اس معاملہ میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، دوسری رات پھر خواب میں آپ کو یہی کہا گیا کہ اس شخص کو قتل کردو آپ نے پھر بھی اس پر عمل نہ کیا۔ تیسری رات پھر آپ کو یہ کہا گیا کہ اس شخص کو قتل کردو یا تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت آئے گی۔ آپ علیہ السلام نے اس شخص کی طرف پیغام بھیج کر اسے بلوالیا۔ آپ نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ ن
ے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قتل کرادوں اس نے کہا آپ مجھے بغیر گواہوں اور بغیر کسی ثبوت کے قتل کرائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! قسم ہے اللہ تعالیٰ کی، میں اللہ تعالیٰ کا حکم تم پر ضرور جاری کروں گا۔ اس شخص نے کہا کہ آپ جلدی نہ کریں کیونکہ میں آپ کو اصل بات بتاتا ہوں میں اس (گائے کے ) جرم کی وجہ سے اس گرفت میں نہیں آیا، بلکہ میں نے اس شخص کے باپ کو دھوکے سے قتل کردیا تھا اور اسے ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔ میں اس گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگیا ہوں۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس واقعہ کے بعد بنی اسرائیل پر آپ کی بہت بڑی ہیبت اور عظیم رعب طاری ہوگیا۔ اس طرح آپ کی بادشاہت کا دبدبہ ہر شخص کے دل میں بیٹھ گیا۔ (روح المعانی) اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت عطا کی۔ دوسرے مقام پر فرمای: وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا (پ۳ سوۃ بقرۃ ۲۶۹) جسے حکمت عطا کی جائے اسے خیر کثیر عطا کیا جاتا ہے۔ یعنی علم اور ایسے اعمال جو دین و دنیا میں اچھے اور نیک ہوں، اور درست اعتقادات کا عطاء ہونا، یہ سب حکمت میں داخل ہیں۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر) پُر اثر خطابِ فیصل: اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے ’’خطابِ فیصل‘‘ سے نوازا جس کی وجہ سے آپ لوگوں کو کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے کی قدرت رکھتے تھے، جو بہت زیادہ اثر انداز ہوتا تھا، خیال رہے کہ جمادات یعنی پتھروں وغیرہ کو تو ادراک و شعور ہی حاصل نہیں اور انسان کے بغیر دوسرے حیوانوں کو ادراک و شعور حاصل ہے، لیکن وہ کسی چیز کو کچھ نہ کچھ سمجھ کر دوسروں کو سمجھانے کے قابل نہیں۔ اپنے دل کی بات کسی تک پہنچاسکیں، یہ ان سے نہیں ہوسکتا۔ صرف انسان ہی ہے کہ کسی چیز کا ادراک کرکے دوسرے تک بھی پہنچاسکتا ہے۔ پھر بعض انسان اس انداز سے کلام کرتے ہیں کہ اس میں مضامین خلط ملط ہوتے ہیں، دوسروں کو سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ اور بعض اپنی بات کو کامل طور پر سمجھانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے علم و عملِ صالح، اعتقادِ صالح عطاء کرکے جس طرح قوت باطنیہ کو کمال بخشا اسی طرح ’’خطاب فیصل‘‘ عطاء کرکے آپ کی قوت گویائی (بولنے کی قوت) کو کمال عطا کیا۔ لوہے کا آپ کے ہاتھ میں نرم ہوجانا: وَ اَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ (پ۲۲ سورۃ السبا ۱۰، ۱۱) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا کہ وسیع زر ہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ۔ آ پ کے ہاتھ میں لوہا موم اور گوندھے ہوئے آتے کی طرح نرم ہوجاتا تھا آگ میں نرم کرنے اور ہتھوڑے سے کوٹنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی، آپ علیہ لسلام جیسے چاہتے اسی طرح لوہے کو ہاتھ سے ادھر ادھر پھیر کر زرہ بنالیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ بہت خوبصورت اور معتدل زرہ بناتے، نہ بہت بڑی نہ بہت چھوٹی۔ اس میں کیل بھی ایک خاص مقدار کے لگاتے، بہت بڑے یا چھوے نہیں ہوتے تھے۔ تاہم بعض مفسرین کرام نے کہا آپ کو کیل لگانے کی ضرورت ہی درپیش نہیں آتی تھی۔ لوہا نرم ہوجاتا جیسے چاہتے اس کو اسی طرح پھیرلیتے۔ حضرت مقاتل سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام جب سے بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے تو آپ نے یہ عمل شروع کیا کہ رات کو عام آدمی کی حیثیت سے باہر تشریف لے جاتے، جو شخص ملتا اس سے پوچھتے: داؤد بادشاہ کیسا ہے؟ ایک مرتبہ آپ کی ملاقات ایک فرشتہ سے ہوئی جو انسانی شکل میں تھا جب اپ نے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا: آدمی تو بہت اچھا ہے صرف ایک بات اس میں نہ پائی جائے تو وہ بہت ہی کامل انسان ہے۔ آپ نے پوچھا وہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ وہ بیت المال سے رزق کھاتے ہیں۔ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائیں تو ان کے فضائل میں تکمیل پائی جائے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: اے اللہ مجھے زرہ بنانے کا علم عطاء فرمادے اور مجھ پر زرہ بنانی آسان فرمادے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ بنانے کا علم عطاء فرمادیا اور لوہے کو آپ کے ہاتھ میں نرم فرمادیا۔ آپ اس کی آمدنی کا تہائی حصہ مسلمانوں کی مصلحت میں خرچ فرماتے۔ ایک زرہ ہر روز تیار فرماتے تھے، ایک ہزار، چار ہزار اور چھ ہزار درہم تک آپ کی بنائی ہوئی زرہیں فروخت ہوئیں۔ اس کی آمدنی میں سے آپ اپنی ذات پر خرچ کرتے اور اپنے اہل و اعیال کا خرچ اسی سے پورا فرماتے۔ فقراء اور مساکین کو بیھ اس مال سے دیے۔ تین سو ساٹھ زرہیں آپ نے تیار فرمائی تھیں، ان کو فروخت کرکے آپ نے اتنے دراہم حاصل کرلیے تھے کہ آپ بیت المال کے محتاج نہ رہے، بلکہ اس سےکثیر رقم غرباء کو بھی دی۔ (ماخوذ از روح المعانی) انبیائے کرام کا مقام بہت بلند ہے: کچھ آیات کریمہ کی تشریح میں حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف ایسے قصے منسوب کردیے گئے ہیں جو سراسر باطل ہیں۔ میں نے جب ان آیات کریمہ کی تفسیر علامہ رازی رحمہ اللہ تعالی کی تفسیر کبیر میں دیکھی تو ارادہ ہوا کہ آپ کے عظیم دلائل کو ذکر کیا جائے۔ا س کے بعد تفسیر ضیاء القرآن کو دیکھا تو خیال