🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-01-1444 ᴴ | 02-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-01-1444 ᴴ | 02-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
خواجہ حسن بصری علیہ الرحمہ
یوم وصال 04 محرم الحرام 111ھ
یوم پیدائش 0021
نام و نسب:
آپ کا نام مبارک حسن، کنیت: ابو محمد، ابو علی، ابو سعید، ابو نصر۔
آپ کے والد بزرگوار کا نام:
حسبِ روایت طبقات حسامیہ یسار تھا، اور وہ موالی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے تھے۔ اور بقولِ صاحب سیر الاقطاب والد ماجد کا نام موسیٰ راعی بن خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھا،
والدہ ماجدہ کا نام:
آپ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی خیرہ رضی اللہ عنہا تھا، اور وہ خادمہ حضرت امّ المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہ کی تھیں۔
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت مدینہ طیبہ میں بعہدِ خلافت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 21ھ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حضور میں لائیں ۔ حضرت عمر آپ کو خرما چبا کر تحنیک لگائی، اور آپ کو نہایت خوش رو و خوب صورت دیکھ کر فرمایا ! سمّوہ حسنًا فانّہٗ احسن الوجہ یعنی یہ خوب صورت ہے اس کا نام حسن رکھو، پس آپ کا نام حسن رکھا گیا۔ ( خزینۃ الاصفیا جلد اوٓل۔ تحفۃ الابرار )
تربیت:
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ص ۲۷۱ )
تحصیلِ علوم:
آپ تفسیر و حدیث میں امام تسلیم کیے جاتے ہیں، اگر کتب تفسیر میں مطلق حسن بولا جائے تو اُس سے آپ یعنی امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مراد ہوتے ہیں، اور علم حدیث میں آپ کا یہ رتبہ ہے کہ آپ کی مراسیل بھی حجت ہیں۔
مرتبۂ تابعیت:
آپ نے ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے، جن میں ستر (۷۰) اصحاب بدری تھے، علم ظاہر آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہ کی صحبت سے حاصل ہوا، آپ اکابر تابعین سے تھے۔
خدمتِ قرآن:
صحابہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو قرآن مجید لکھا گیا تھا اُس میں صورتوں کے نام پاروں کے نشانات، اور نقطے وغیرہ کچھ نہ تھے، حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اس میں نقطے بنائے، اعراب دئیے، خمس و عشر وغیرہ بنائے، پاروں اور سورتوں کے نام لکھے۔ (کتاب الاسلام ص ۲۸۳ )
بیعت و خلافت:
آپ امام المشارق و المغارب ابو الحسن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے، اور خرقہ ولایت پایا۔ حضرت شاہِ ولایت رضی اللہ عنہ نے آپ کو وہ خرقہ خاص جو ان کو رسول اکرم ﷺ سے عطا ہوا مرحمت فرمایا، اور نعمت ظاہری و باطنی و اسرار مخفیہ الٰہیہ سے مشرف فرما کر خلافت کبریٰ سے نوازا۔ [۱۔ سیر الاولیا۔ سیر الاقطاب ص ۱۱]
اگرچہ آپ نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی صحبتوں سے فیض اٹھایا ہے، لیکن خصوصًا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ، اور حضرت محمد حنفیہ رضی اللہ عنہ سے بھی فیضِ کامل پایا۔
خلفائے عظام:
صاحب ارشاد الطالبین نے لکھا ہے کہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے تین سو ساٹھ مرید تھے جو کہ علوم ظاہر و باطن میں آپ کا پر تو تھے۔
وصال:
بقولِ صاحبِ سیر الاقطاب و سفینۃ الاولیا بتاریخ 4 محرم الحرام111ھ ( 8-اپریل 729ء) بروز جمعتہ المبارک کو ہوا۔ آپ کا مزار پُر انوار بصرہ (عراق) سے نو میل مغرب کی طرف مقام زبیر پر واقع ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syeduna-khawaja-hasan-basri
یوم وصال 04 محرم الحرام 111ھ
یوم پیدائش 0021
نام و نسب:
آپ کا نام مبارک حسن، کنیت: ابو محمد، ابو علی، ابو سعید، ابو نصر۔
آپ کے والد بزرگوار کا نام:
حسبِ روایت طبقات حسامیہ یسار تھا، اور وہ موالی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے تھے۔ اور بقولِ صاحب سیر الاقطاب والد ماجد کا نام موسیٰ راعی بن خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھا،
والدہ ماجدہ کا نام:
آپ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی خیرہ رضی اللہ عنہا تھا، اور وہ خادمہ حضرت امّ المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہ کی تھیں۔
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت مدینہ طیبہ میں بعہدِ خلافت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 21ھ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حضور میں لائیں ۔ حضرت عمر آپ کو خرما چبا کر تحنیک لگائی، اور آپ کو نہایت خوش رو و خوب صورت دیکھ کر فرمایا ! سمّوہ حسنًا فانّہٗ احسن الوجہ یعنی یہ خوب صورت ہے اس کا نام حسن رکھو، پس آپ کا نام حسن رکھا گیا۔ ( خزینۃ الاصفیا جلد اوٓل۔ تحفۃ الابرار )
تربیت:
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ص ۲۷۱ )
تحصیلِ علوم:
آپ تفسیر و حدیث میں امام تسلیم کیے جاتے ہیں، اگر کتب تفسیر میں مطلق حسن بولا جائے تو اُس سے آپ یعنی امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مراد ہوتے ہیں، اور علم حدیث میں آپ کا یہ رتبہ ہے کہ آپ کی مراسیل بھی حجت ہیں۔
مرتبۂ تابعیت:
آپ نے ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے، جن میں ستر (۷۰) اصحاب بدری تھے، علم ظاہر آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہ کی صحبت سے حاصل ہوا، آپ اکابر تابعین سے تھے۔
خدمتِ قرآن:
صحابہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو قرآن مجید لکھا گیا تھا اُس میں صورتوں کے نام پاروں کے نشانات، اور نقطے وغیرہ کچھ نہ تھے، حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اس میں نقطے بنائے، اعراب دئیے، خمس و عشر وغیرہ بنائے، پاروں اور سورتوں کے نام لکھے۔ (کتاب الاسلام ص ۲۸۳ )
بیعت و خلافت:
آپ امام المشارق و المغارب ابو الحسن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے، اور خرقہ ولایت پایا۔ حضرت شاہِ ولایت رضی اللہ عنہ نے آپ کو وہ خرقہ خاص جو ان کو رسول اکرم ﷺ سے عطا ہوا مرحمت فرمایا، اور نعمت ظاہری و باطنی و اسرار مخفیہ الٰہیہ سے مشرف فرما کر خلافت کبریٰ سے نوازا۔ [۱۔ سیر الاولیا۔ سیر الاقطاب ص ۱۱]
اگرچہ آپ نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی صحبتوں سے فیض اٹھایا ہے، لیکن خصوصًا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ، اور حضرت محمد حنفیہ رضی اللہ عنہ سے بھی فیضِ کامل پایا۔
خلفائے عظام:
صاحب ارشاد الطالبین نے لکھا ہے کہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے تین سو ساٹھ مرید تھے جو کہ علوم ظاہر و باطن میں آپ کا پر تو تھے۔
وصال:
بقولِ صاحبِ سیر الاقطاب و سفینۃ الاولیا بتاریخ 4 محرم الحرام111ھ ( 8-اپریل 729ء) بروز جمعتہ المبارک کو ہوا۔ آپ کا مزار پُر انوار بصرہ (عراق) سے نو میل مغرب کی طرف مقام زبیر پر واقع ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syeduna-khawaja-hasan-basri
❤1👍1
علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
یوم وصال 04 محرم الحرام 1438
یوم پیدائش 27 رمضان المبارک 1366
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ تراب الحق ۔ آپ کا نام ایک عظیم بزرگ حضرت ’’شاہ تراب الحق‘‘ علیہ الرحمۃ کے نام پر رکھا گیا، جن کا مزار حید آباد دکن ہندوستان میں ہے۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سیّد شاہ تراب الحق قادری بن حضرت سیّد شاہ حسین قادری بن سیّد شاہ محی الدین قادری بن سیّد شاہ عبد اللہ قادری بن سیّد شاہ میراں قادری
اور والدۂ ماجد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب فضیلت جنگ، بانیِ جامعہ نظامیہ حیدر آباد دکن، شیخ الاسلام حضرت امام انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے واسطے سے امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جا کر ملتا ہے۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 27 رمضان المبارک 1363ھ/15 ستمبر 1944ء کو موضع کلمبر شہر ناندھیڑ (ریاست حیدر آباد دکن، انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم مدرسۂ تحتانیہ دودھ بولی بیرون دروازہ نزد جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن ہندوستان سے حاصل کی۔ پاکستان تشریف آوری کے بعد پی آئی بی کالونی کراچی میں فیضِ عام ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے رشتے کے خالو اور سسر پیر ِطریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدّیقی علیہ الرحمۃ سے گھر پر کتابیں پڑھیں ـ
اور پھر دار العلوم امجدیہ کراچی میں داخلہ لیا؛ لیکن زیادہ تر اَسباق شیخِِ طریقت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدّیقی رضوی علیہ الرحمۃ سے پڑھے۔
سندِ حدیث صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کے صاحبزادے حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری علیہ الرحمۃ، جو اُس وقت دارالعلوم امجدیہ کراچی کے شیخ الحدیث تھے، سےحاصل کی، جب کہ اعزازی سند وقارِ ملّت، سرمایۂ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی علیہ الرحمۃ (مفتیِ اعظم پاکستان) سے حاصل کی۔
بیعت وخلافت:
1962ء میں بذریعۂ خط اور 1968ء میں بریلی شریف جاکر مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا ـ
حضرت مفتیِ اعظم ہند، حضرت قاری محمد مصلح الدین صدّیقی ،حضرت شیخ فضل الرحمٰن مدنی (علیھم الرحمۃ) نے اجازت و خلافت سے نوازا۔
سیرت و خصائص:
بقیۃ السلف،حجۃ الخلف، شیخِ طریقت ،امیرِ جماعتِ اہلِ سنّت،مردِ مومن مردِ حق حضرت علامہ سیّد شاہ تراب الحق قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔
آپ علیہ الرحمۃ کا نام جیسے ہی ذہن میں آتا ہے، توایک جامعِ شریعت و طریقت شخصیت کا خاکہ ہمارے سامنے آ جاتا ہے، جن کی زندگی کو تامل کیے بغیر ایک مردِ مجاہد اور مردِ مومن کی زندگی قرار دیا جا سکتا ہے۔ آپ علیہ الرحمۃ اِن حالات میں اہلِ سنّت کے لیے ایک شجرِ سایہ دار اور عظیم نعمت تھے۔
آپ بلاشبہ مسلکِ حق اہلِ سنّت وجماعت کےسچے ترجمان، اور تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کے پاسبان تھے۔ دینی خدمات، تنظیماتِ اہلِ سنّت اور مساجد و مدارسِ اہلِ سنّت کی سرپرستی، متوسّلین کا تزکیۂ نفس، عوامِ اہلِ سنّت کے ایمان کی حفاظت کے لیے درس و بیان، دُکھیاری اُمّت کا روحانی و جسمانی علاج اور ان کے مسائل کا حل، اندرون و بیرونِ ملک تبلیغی دورے، پھر مصروفیات میں سے وقت نکال کر تالیف و تصنیف، بدمذہبوں کا اخبارات و جرائد میں علمی تعاقب، یہ سب کچھ، اِس پُر فتن اور نفسا نفسی کے دور میں قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی ذاتِ مبارکہ کا خاصّہ تھا، جو اتنے کام فی سبیل اللہ سر انجام دیتے تھے۔
آپ ’’ عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنۡۢبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْل ‘‘ کا مِصداق اور ’’ اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ‘‘ کی تعبیر اور ’’ اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ‘‘ کی تفسیر تھے۔
یوم وصال 04 محرم الحرام 1438
یوم پیدائش 27 رمضان المبارک 1366
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ تراب الحق ۔ آپ کا نام ایک عظیم بزرگ حضرت ’’شاہ تراب الحق‘‘ علیہ الرحمۃ کے نام پر رکھا گیا، جن کا مزار حید آباد دکن ہندوستان میں ہے۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سیّد شاہ تراب الحق قادری بن حضرت سیّد شاہ حسین قادری بن سیّد شاہ محی الدین قادری بن سیّد شاہ عبد اللہ قادری بن سیّد شاہ میراں قادری
اور والدۂ ماجد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب فضیلت جنگ، بانیِ جامعہ نظامیہ حیدر آباد دکن، شیخ الاسلام حضرت امام انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے واسطے سے امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جا کر ملتا ہے۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 27 رمضان المبارک 1363ھ/15 ستمبر 1944ء کو موضع کلمبر شہر ناندھیڑ (ریاست حیدر آباد دکن، انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم مدرسۂ تحتانیہ دودھ بولی بیرون دروازہ نزد جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن ہندوستان سے حاصل کی۔ پاکستان تشریف آوری کے بعد پی آئی بی کالونی کراچی میں فیضِ عام ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے رشتے کے خالو اور سسر پیر ِطریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدّیقی علیہ الرحمۃ سے گھر پر کتابیں پڑھیں ـ
اور پھر دار العلوم امجدیہ کراچی میں داخلہ لیا؛ لیکن زیادہ تر اَسباق شیخِِ طریقت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدّیقی رضوی علیہ الرحمۃ سے پڑھے۔
سندِ حدیث صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کے صاحبزادے حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری علیہ الرحمۃ، جو اُس وقت دارالعلوم امجدیہ کراچی کے شیخ الحدیث تھے، سےحاصل کی، جب کہ اعزازی سند وقارِ ملّت، سرمایۂ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی علیہ الرحمۃ (مفتیِ اعظم پاکستان) سے حاصل کی۔
بیعت وخلافت:
1962ء میں بذریعۂ خط اور 1968ء میں بریلی شریف جاکر مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا ـ
حضرت مفتیِ اعظم ہند، حضرت قاری محمد مصلح الدین صدّیقی ،حضرت شیخ فضل الرحمٰن مدنی (علیھم الرحمۃ) نے اجازت و خلافت سے نوازا۔
سیرت و خصائص:
بقیۃ السلف،حجۃ الخلف، شیخِ طریقت ،امیرِ جماعتِ اہلِ سنّت،مردِ مومن مردِ حق حضرت علامہ سیّد شاہ تراب الحق قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔
آپ علیہ الرحمۃ کا نام جیسے ہی ذہن میں آتا ہے، توایک جامعِ شریعت و طریقت شخصیت کا خاکہ ہمارے سامنے آ جاتا ہے، جن کی زندگی کو تامل کیے بغیر ایک مردِ مجاہد اور مردِ مومن کی زندگی قرار دیا جا سکتا ہے۔ آپ علیہ الرحمۃ اِن حالات میں اہلِ سنّت کے لیے ایک شجرِ سایہ دار اور عظیم نعمت تھے۔
آپ بلاشبہ مسلکِ حق اہلِ سنّت وجماعت کےسچے ترجمان، اور تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کے پاسبان تھے۔ دینی خدمات، تنظیماتِ اہلِ سنّت اور مساجد و مدارسِ اہلِ سنّت کی سرپرستی، متوسّلین کا تزکیۂ نفس، عوامِ اہلِ سنّت کے ایمان کی حفاظت کے لیے درس و بیان، دُکھیاری اُمّت کا روحانی و جسمانی علاج اور ان کے مسائل کا حل، اندرون و بیرونِ ملک تبلیغی دورے، پھر مصروفیات میں سے وقت نکال کر تالیف و تصنیف، بدمذہبوں کا اخبارات و جرائد میں علمی تعاقب، یہ سب کچھ، اِس پُر فتن اور نفسا نفسی کے دور میں قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی ذاتِ مبارکہ کا خاصّہ تھا، جو اتنے کام فی سبیل اللہ سر انجام دیتے تھے۔
آپ ’’ عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنۡۢبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْل ‘‘ کا مِصداق اور ’’ اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ‘‘ کی تعبیر اور ’’ اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ‘‘ کی تفسیر تھے۔
❤1👍1
خطابت:
حضرت خطابت میں اپنی مثال آپ تھے۔ مخصوص انداز و لہجے میں جب بیان فرماتے تو دل و دماغ منوّر ہو جاتے تھے۔ آپ کی دینی و سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بالخصوص “C-295” کے تحت گستاخِ رسول ﷺ کی سزائے موت آپ کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔
(ویسے تو ہمارے کرپٹ حکمران ’’قانون‘‘، ’’قانون‘‘ کہتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں؛ لیکن اس قانون پر ابھی تک عمل در آمد نہیں ہوا ہے، اِس وقت (2016ء) تک تقریباً 1400 کیسز توہینِ رسالت کے درج کیے گئے، عدالتوں کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں، لیکن کسی کو سزائے موت نہیں ملی۔ اگر معاملات ایسے ہی چلتے رہے، تو حکمرانوں کے ذہن میں غازیِ ملّت ملک ممتازحسین قادری شہید علیہ الرحمۃ کا ضرور تصور ہونا چاہیے کہ ناموسِ رسالت کے مسئلے پر ہر سنّی ممتاز قادری ہے) ـ
اِس فقیر (تونسوی غُفِرَلَہٗ) نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب جامع مسجد اقصیٰ نزد عوامی مرکز میں تحفّظِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے سلسلے میں ’’علما کنونشن‘‘ منعقد ہوا، اُس وقت شاہ صاحب نہایت علیل تھے، لیکن شاہ صاحب نے علالت کے باوجود شرکت فرمائی، اور خطاب فرمایا، اور آپ کی جرأت و شجاعت اور دینِ متین کے لیے کُڑھن دیکھ کر سب حیران ہو گئے۔
آپ کا جسم تو عمر اور علالت کی وجہ سے نہایت ہی کمزور ہو گیا تھا، لیکن عشق جوان اور توانا تھا۔ یہی عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی ہمارا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ ساری زندگی اتحاد اور فروغِ اہلِ سنّت کے لیے کوشاں رہے، اور اتحادِ اہلِ سنّت کے ارمان لیے شہرِِ خموشاں کی طرف روانہ ہوئے۔
ہمیں بھی اپنے اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ متین کی خدمت اور اتحادِ اہلِ سنّت کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
وصال:
آپ کا وصال بروز جمعرات، 4 محرم الحرام 1438ھ مطابق 6 اکتوبر 2016ء کو ہوا ۔
نمازِ جنازہ:
آپ کے نمازِ جنازہ میں کثیر افراد شریک ہوئے۔ کراچی کی تاریخ کا ایک بہت بڑا نمازِ جنازہ تھا ۔
تدفین:
آپ کی تدفین پیرِ طریقت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین علیہ الرحمۃ کے مزار (واقع مصلح ا لدین گارڈن، کراچی) میں ہوئی۔
ماخذ و مراجع:
سیّد شاہ تراب الحق قادری کی شخصیت وخدمات ، ماہ نامہ مصلح الدین کراچی (خصوصی شمارہ، عرفانِ منزل ۲)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-shah-turab-ul-haq-qadri
حضرت خطابت میں اپنی مثال آپ تھے۔ مخصوص انداز و لہجے میں جب بیان فرماتے تو دل و دماغ منوّر ہو جاتے تھے۔ آپ کی دینی و سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بالخصوص “C-295” کے تحت گستاخِ رسول ﷺ کی سزائے موت آپ کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔
(ویسے تو ہمارے کرپٹ حکمران ’’قانون‘‘، ’’قانون‘‘ کہتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں؛ لیکن اس قانون پر ابھی تک عمل در آمد نہیں ہوا ہے، اِس وقت (2016ء) تک تقریباً 1400 کیسز توہینِ رسالت کے درج کیے گئے، عدالتوں کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں، لیکن کسی کو سزائے موت نہیں ملی۔ اگر معاملات ایسے ہی چلتے رہے، تو حکمرانوں کے ذہن میں غازیِ ملّت ملک ممتازحسین قادری شہید علیہ الرحمۃ کا ضرور تصور ہونا چاہیے کہ ناموسِ رسالت کے مسئلے پر ہر سنّی ممتاز قادری ہے) ـ
اِس فقیر (تونسوی غُفِرَلَہٗ) نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب جامع مسجد اقصیٰ نزد عوامی مرکز میں تحفّظِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے سلسلے میں ’’علما کنونشن‘‘ منعقد ہوا، اُس وقت شاہ صاحب نہایت علیل تھے، لیکن شاہ صاحب نے علالت کے باوجود شرکت فرمائی، اور خطاب فرمایا، اور آپ کی جرأت و شجاعت اور دینِ متین کے لیے کُڑھن دیکھ کر سب حیران ہو گئے۔
آپ کا جسم تو عمر اور علالت کی وجہ سے نہایت ہی کمزور ہو گیا تھا، لیکن عشق جوان اور توانا تھا۔ یہی عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی ہمارا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ ساری زندگی اتحاد اور فروغِ اہلِ سنّت کے لیے کوشاں رہے، اور اتحادِ اہلِ سنّت کے ارمان لیے شہرِِ خموشاں کی طرف روانہ ہوئے۔
ہمیں بھی اپنے اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ متین کی خدمت اور اتحادِ اہلِ سنّت کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
وصال:
آپ کا وصال بروز جمعرات، 4 محرم الحرام 1438ھ مطابق 6 اکتوبر 2016ء کو ہوا ۔
نمازِ جنازہ:
آپ کے نمازِ جنازہ میں کثیر افراد شریک ہوئے۔ کراچی کی تاریخ کا ایک بہت بڑا نمازِ جنازہ تھا ۔
تدفین:
آپ کی تدفین پیرِ طریقت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین علیہ الرحمۃ کے مزار (واقع مصلح ا لدین گارڈن، کراچی) میں ہوئی۔
ماخذ و مراجع:
سیّد شاہ تراب الحق قادری کی شخصیت وخدمات ، ماہ نامہ مصلح الدین کراچی (خصوصی شمارہ، عرفانِ منزل ۲)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-shah-turab-ul-haq-qadri
scholars.pk
Hazrat Allama Syed Shah Turab-ul-Haq Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
امیر اہلسنت، نقیب مسلک اعلی حضرت، مرد مؤمن، مرد حق، حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری جیلانی نوری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 27 رمضان 1365ھ موضع کلمبر، ریاست حیدرآباد دکن، ہندستان میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفۂ مفتیٔ اعظم، معروف عالم دین، عالمی مبلغ اسلام، مایہ ناز خطیب، بہترین مصنف، پیر طریقت، رہبر شریعت، ناشر مسلک اعلی حضرت، اہلسنت وجماعت کی فعال ترین شخصیت، سینکڑوں مساجد، مدارس اور تنظیموں کے بانی و رپرست، اور محبوب علماء و عوام تھے۔ 50 سال سے زائد عرصہ تک دینی، ملی و سماجی خدمات سرانجام دیں۔ کئی سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ طویل علالت کے بعد 4 محرم 1438ھ بروز جمعرات صبح 10 بجکر 25 منٹ پر 72 سال کی عمر میں وصال فرمایا۔ نماز جنازہ میں خواص و عوام کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی، اور میمن مسجد مصلح الدین گارڈن، کراچی، پاکستان مٰیں اپنے خالو و سسر محترم علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ کے پہلو میں آرام فرما ہوئے۔
Leader of Ahl as-Sunnah, Herald of Maslak-e-AlaHazrat, Man of Faith and Truth, Allamah Sayyid Shah Turab al-Haq Qadiri Jilani Noori Ridawi (Alayhir Rahmah) was born on 27 Ramadan 1365 AH in Kalambar, Hyderabad Deccan State, India. He was a murid and khalifah Mufti-e-Azam, acclaimed religious scholar, global preacher of Islam, eloquent orator, accredited author, spiritual guide, promoter of Maslak-e-AlaHazrat, the most active personality of Ahl as-Sunnah wa al-Jama’ah, founder and president of hundreds of mosques, seminaries, and organizations, and beloved among scholars and laymen. He performed religious, national, and social services for more than 50 years, and held many official and unofficial positions. After a long illness, he passed away at the age of 72 on Thursday, 4 Muharram 1438 AH at 10:25 am. His funeral prayer was attended by a large number of dignitaries and the public and was laid to rest by the side of his uncle and father-in-law, Allamah Qari Muhammad Musalhuddin Siddiqui, at Memon Masjid Muslehuddin Garden, Karachi, Pakistan.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02GabSQ7DmPkePt9qnkrhkr4CpN9MQZJQNwNCfA8v7cjNdGVr71NrRNixcQAbLschQl&id=100050689590519
Leader of Ahl as-Sunnah, Herald of Maslak-e-AlaHazrat, Man of Faith and Truth, Allamah Sayyid Shah Turab al-Haq Qadiri Jilani Noori Ridawi (Alayhir Rahmah) was born on 27 Ramadan 1365 AH in Kalambar, Hyderabad Deccan State, India. He was a murid and khalifah Mufti-e-Azam, acclaimed religious scholar, global preacher of Islam, eloquent orator, accredited author, spiritual guide, promoter of Maslak-e-AlaHazrat, the most active personality of Ahl as-Sunnah wa al-Jama’ah, founder and president of hundreds of mosques, seminaries, and organizations, and beloved among scholars and laymen. He performed religious, national, and social services for more than 50 years, and held many official and unofficial positions. After a long illness, he passed away at the age of 72 on Thursday, 4 Muharram 1438 AH at 10:25 am. His funeral prayer was attended by a large number of dignitaries and the public and was laid to rest by the side of his uncle and father-in-law, Allamah Qari Muhammad Musalhuddin Siddiqui, at Memon Masjid Muslehuddin Garden, Karachi, Pakistan.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02GabSQ7DmPkePt9qnkrhkr4CpN9MQZJQNwNCfA8v7cjNdGVr71NrRNixcQAbLschQl&id=100050689590519
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-01-1444 ᴴ | 02-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-01-1444 ᴴ | 03-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1