🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-01-1444 ᴴ | 31-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اِسلامی نیا سال مبارک ہو 💐
عمر بهر برائیوں سے حفاظت کا نسخہ
یکم محرم الحرام کا خاص وظیفہ
उ़म्र भर बुराइयों से ह़िफ़ाज़त का नुस्ख़ा
मुह़र्रम की एक तारीख़ का ख़ास़ वज़ीफ़ा
عمر بهر برائیوں سے حفاظت کا نسخہ
یکم محرم الحرام کا خاص وظیفہ 🌹
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
محمد جلال الدین قادری رضوی
یوم وصال 02 محرم الحرام 1429
یوم پیدائش 01 جمادى الآخر 1357

محقق دوراں حضرت مولانا محمد جلال الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد جلال الدین ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: محقق دوراں، مفسر قرآن ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد جلال الدین قادری بن حضرت مولانا خواج دین بن خدا بخش بن شرف دین ۔ (رحمۃ اللہ علیہم)

آپ کے والدِ گرامی باعمل عالمِ دین تھے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم جمادی الثانی1357ھ / 29 جولائی 1938ء ، بروز جمعۃ المبارک اپنے آبائی گاؤں موضع "چوہدو" تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات (پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
حضرت مولانا محمد جلال الدین نے ناظرہ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے تایا مولانا فضل دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں۔ شعبان المعظم 1377ھ؍ مارچ 1958ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد درس نظامی پڑھنے کے لیے پہلے جامعہ غوثیہ نظامیہ وزیر آباد میں داخلہ لیا اور وہیں کتبِ متداولہ کی تعلیم حاصل کی۔ پھر محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ سے دورۂ حدیث پڑھ کر شعبان المعظم ۱۳۸۰ھ؍فروری ۱۹۶۱ء کو سندِ فراغت حاصل کی۔

آپ بے حد ذہین و فتین تھے، ڈھائی سال کے قلیل عرصے میں مکمل درسِ نظامی سبقاًٍ پڑھ لی۔ حالانکہ یہی نصاب عموماً طلباء آٹھ سال میں پڑھتے ہیں۔

اساتذۂ کرام:
محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ، حضرت مولانا غلام رسول قادری، مولانا یوسف گجراتی، حضرت مولانا محب النبی شیخ الحدیث دارالعلوم غوثیہ نظامیہ وزیر آباد۔ شیخ القرآن حضرت مولانا عبد الغفور ہزاروی (رحمہم اللہ تعالیٰ )

بیعت و خلافت:
مولانا محمد جلال الدین 8 محرم الحرام 22 جون 1961ء کو محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے۔

رمضان المبارک 1384ھ؍ اپریل 1965ء میں حضرت مفتئ اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اوراد و اشغال، تمام سلاسل اور حدیث کی سند عطا فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
مفسرِ قرآں، محقق دوراں، یادگارِ اسلاف، عالمِ باعمل، متبعِ شریعت، استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جلال الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ۔

شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند حضرت شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ نے آپ کو بایں الفاظ یاد فرمایا: ہم بطورِ تبرک وہ متبرک الفاظ نقل کر رہے ہیں!

" برادرِ دینی و یقینی مولانا المکرم زید لطفہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ طالبِ خیر بخیر و عافیت، محبت نامہ تشریف لایا ۔ مولیٰ تعالیٰ آپ کو دین پر مستقیم رکھے، علم نافع عمل صالح سے نوازے اور برکات دینی و دنیاوی سے مالا مال فرمائے ۔ (آمین) علیٰ برکۃ اللہ تعالیٰ آپکو دلائل الخیرات شریف، و مجموعۂ اعمال کی اجازت ہے، مولیٰ تعالیٰ آپ کو اور آپ سے دوسرے اہل سنت کو اس سے نفع بخشے آمین۔ ماہِ مبارک سے کچھ پہلے سفر سے آیا ہوں۔ ڈاک بہت جمع ہے، جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں آپ کو علیٰ برکتہ المولیٰ تعالیٰ اجازتِ قرآن و اجازتِ حدیث و اجازتِ سلاسل و مجموعۂ اعمال و اذکار و اشغال دیتا ہوں ۔ فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہ شب 3 رمضان 1384ھ۔

قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمہ ساری زندگی دین متین کی خدمت کرتے رہے ۔ آپ نے امت کو ایسی مفید کتب عطا کی ہیں جن سے ان شاء اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ مستفید ہوتی رہےگی، اور قیامت تک آپ کو صدقۂ جاریہ کی صورت میں ثواب ملتا رہےگا ۔

آپ کے صاحبزادے مفتی محمد محمود احمد لکھتے ہیں: کہ قبلہ مفتی صاحب اپنے وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اور ہر چھوٹا بڑا واقعہ اپنی ڈائری میں ضرور تحریر فرماتے تھے، ہر کام کا ایک وقت مقرر تھا، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خصوصی خیال رکھتے تھے۔ آپ خود محقق تھے اس لئے محققین علماء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اور ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون فرماتے تھے۔ آپ کی زیرِ نگرانی بہت سے تحقیقی مضامین ، مقالے ، اور کتب تحریر کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے (آمین)

وصال:
بارہ 12 جنوری 2008 عیسوی 2 محرم الحرام 1429ھ، بروز ہفتہ بعد نماز مغرب 6 بج کر 35 منٹ پر انتقال فرمایا۔

ماخذ و مراجع:
مقدمہ محدث اعظم پاکستان ۔ مولانا جلال الدین قادری -

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-jalaluddin-qadri-rizvi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللّٰه علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
معروف ۔ کنیت: ابو المحفوظ ۔ لقب: اسد الدین ۔

والد کا نام:
فیروز تھا، پہلے مذہب نصاریٰ رکھتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کا نام ’’علی‘‘ رکھا گیا، دادا کا نام مرزبان کرخی تھا۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 135ھ/752ء کو ’’کرخ‘‘ عراق میں ہوئی۔

تحصیل علم:
آپ کا والد نصرانی تھا۔ جب اس نے آپ کو معلم کے پاس بھیجا اور معلم نے آپ کو کہا کہ کہو ’’ثالث ثلاثہ‘‘ تو آپ نے اس وقت انکار کر کے کہا کہ میں ’’ھواللہ احد‘‘ کہتا ہوں، ہر چند اس نے آپ کو بڑی فہمائش کی مگر بے سود اور آپ اس کے پاس سے بھاگ کر حضرت امام علی رضا رضی اللّٰه عنہ کے پاس آگئے اور ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے، چند روز کے بعد جب اپنے گھر میں واپس آئے تو باپ نے پوچھا کہ تم نے کون سا دین اختیار کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ’’دینِ اسلام‘‘ آپ کے والدین سنتے ہی مسلمان ہو گئے۔

پھر حضرت داؤد طائی رحمۃ اللّٰه علیہ (شاگرد حضرت امام اعظم رحمۃ اللّٰه علیہ) کی خدمت میں رہ کر ان سے علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل فرمائی۔ اسی طرح شہزادۂ رسولﷺ حضرت امام علی رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں ایک عرصے تک رہے، ان سے علوم ِ نبوت کا کثیر حصہ لیا۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللّٰہ علیہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰه کے شاگرد رشید ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت امام علی رضی اللّٰه عنہ سے خرقہ خلافت حاصل کیا، شیخ فرقد سنجی، ابو العباس محمد سماک، شیخ شیران المانی، خواجہ شمس الدین سجاوندی سے بھی بہرہ مند ہوئے۔ رحمہ اللّٰه علیہم اجمعین۔

سیرت و خصائص:
آپ امام الصدیقین، شمس العارفین، سلطان المتعبّدین، رئیس السّالکین، سیّد الاولیا، عمدۃ الاتقیا، مقتدائے صدرِ طریقت، رہنمائے راہِ حقیقت، مہبطِ انوارِ الٰہی، مصدرِ اسرارِ نا متناہی، کرامات و ریاضات میں مشہور، اور فتوٰے و تقوٰے میں آیتِ عظیم تھے، مقامِ شوق و اُنس میں درجہ اعلیٰ رکھتے تھے، آپ حضرت خواجہ شیخ داوٗد طائی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مرید و خلیفہ اکبر و جانشینِ اعظم تھے۔ آپ اہل سنت و جماعت کے عظیم شیخِ طریقت اور سلسلہ عالیہ قادریہ کے ’’نویں‘‘ امام ہیں۔

شیخ ابو الحسن قرشی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں: میں چار شخصوں کو مشائخ کرام میں سے جانتا ہوں کہ وہ اپنی قبروں میں زندوں کی طرح تصرّف کرتے ہیں۔ شیخ معروف کرخی، شیخ عبد القادِر جیلانی، سوم شیخ عقیل منبجی، شیخ حیات بن قیس۔ رحمۃ اللّٰه علیہم اجمعین۔

شیخ عبد الرحمن بن محمد زہری رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں: حضرت معروف کرخی رحمۃ اللّٰه علیہ کے مزار کی حاضری قضائے حاجات کے لئے مجرب ہے اور جو کوئی ان کے مزار کے پاس سو مرتبہ سورہ ٔاِخلاص کی تلاوت کرے پھر اللہ تعالیٰ سے سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا فرمادے گا ۔ (مناقب معروف الکرخی و اخبارہ ،ص۲۰۰)

حضرت امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین محدث، آپ کی خدمت میں آیا جایا کرتے اور آپ سے روحانی حاصل کرتے تھے، اور حضرت سری سقطی آپ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ رحمہ اللہ علیہم اجمعین۔

خاتم المحدثین، امام المحققین، علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللّٰه ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’وَمَعْرُوفِ الْكَرْخِي بْنِ فَيْرُوزَ، مِنْ الْمَشَايِخِ الْكِبَارِ، مُجَابِ الدَّعْوَةِ، يُسْتَسْقَى بِقَبْرِهِ وَهُوَ أُسْتَاذُ السِّرِّيِّ السَّقَطِيِّ مَاتَ سَنَةَ (200)۔

ترجمہ: اور شیخ معروف کرخی بن فیروز اولیاء کبار، اور مستجاب الدعوات، آپ کی قبر (کی برکت) سے بارش طلب کی جاتی ہے۔ آپ شیخ سری سقطی رحمہ اللّٰه کے استاد ہیں، سن 200ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔ (فتاویٰ الشامی، جز1،ص،58، دار الفکر بیروت)

مشہور کرامت:
حضرت شیخ یحیی بن سلیمان فرماتے ہیں: کہ مجھے ایک حاجت تھی اور میں کافی تنگدست تھا۔ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللّٰه علیہ کی قبرِ اَنور پر میری حاضری ہوئی، میں نے تین بار سورۂ اخلاص کی تلاوت کی اور اس کا ثواب آپ اور تمام مسلمانوں کی ارواح کو پہنچایا، پھر اپنی حاجت بیان کی۔ جوں ہی میں وہاں سے واپس گیا میری حاجت پوری ہو چکی تھی۔ (الروض الفائق فی المواعظ والرقائق، ذکر معروف کرخی)

تلامذہ:
حضرت امام احمد بن حنبل، امام یحی بن معین محدث، شیخ قاسم بغدادی(رحمہ اللّٰه علیہم اجمعین)

خلفاء:
حضرت شیخ سری سقطی، شیخ عثمان مغربی، شیخ حمزہ خراسانی، شیخ علی رودباری(رحمہ اللّٰه علیہم اجمعین)

حضرت خطیب بغدادی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں: ’’آپ کی قبر مبارک حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے مجرب ہے‘‘۔ (شریف التواریخ، جلد اول)

وصال:
بروز جمعۃ المبارک 2 محرم الحرام 200ھ 14 اگست 815ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بغدادِ معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-maroof-karkhi
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
نبیرۂ شاہ برکت اللہ عشقی، چشم و چراغ خاندان مارہرہ مطہرہ، حضرت سید شاہ صاحب عالم قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 26 ربیع الآخر 1211ھ بمطابق اکتوبر 1796ء کو مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔ آپ عالم باعمل؛ علوم متداولہ کے ماہر؛ عربی، فارسی، اردو، اور ہندی کے زبردست شاعر و ادیب؛ بلند پایہ شیخِ کامل؛ اور اپنے آباء و اجداد کے علمی و روحانی وارث تھے۔ سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کی ترویج و ترقی کے لیے بہت کوشاں رہے؛ لوگوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے؛ خلاف شریعت کاموں کو ناپسند کرتے؛ اور خلاف شرع کام کرنے پر ایسی زجر و توبیخ کرتے کہ لوگ فوراً آپ کے ہاتھ پر توبہ کر لیا کرتے۔ 2 محرم 1288ھ بمطابق مارچ 1871ء بروز جمعہ وصال فرمایا اور درگاہ معلی مارہرہ، ضلع ایٹہ، یو پی، ہندستان میں اپنے جد کریم شاہ برکت اللہ عشقی علیہ الرحمہ کے پہلو میں آرام فرما ہوئے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، خاندان برکات)

Grandson of Shah Barkatullah Ishqi, Beacon of Light from Marehra, Sayyid Shah Sahib-e-Alam Qadiri Barakati Marehrawi (Alayhir Rahmah) was born in Marehra on 26 Rabi’ al-Akhir 1211 AH (October 1796 CE). He was a pious practicing scholar; an expert in conventional sciences; an excellent writer and poet of Arabic, Persian, Urdu, and Hindi languages; a paramount spiritual guide, and the intellectual and spiritual heir of his exalted ancestors. He worked hard to promote and develop the Qadiriyah Barakatiyah Sufi order; educated people mentally and ethically; rectified impermissible acts, and would reprimand so much for doing something against the divine law that people would immediately repent. He passed away on Friday, 2 Muharram 1288 AH (March 1871 CE) and was laid to rest beside his blessed grandfather Shah Barakatullah Ishqi (Alayhir Rahmah) at Dargah-e-Marehra, Eta district, U.P., India. [Tazkirah Ulama-e-AhleSunnat, Khandan-e-Barakaat]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02ebhLcQAxENZwXQjBnAdL5V2jzE6NbQPGazgFeqaLob43sYiDUMZ7TeMSdrxBYLYnl&id=100050689590519
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
محدث شام، خاتمۃ المحدثین، صاحب کشف الخفاء، حضرت علامہ ابو الفداء اسماعیل بن محمد عجلونی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 1087ھ عجلون اردن میں ہوئی۔ آپ کا شجرۂ نسب عشرۂ مبشرہ میں شامل سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح تک پہنچتا ہے۔ آپ حافظ قرآن، علوم و فنون کے ماہر، استاذ العلماء، مصنف کتب، سلسلۂ خلوتیہ کے شیخ طریقت اور مرجع عوام و خواص تھے۔ 2 محرم 1162ھ بروز پیر وصال فرمایا۔ نماز جنازہ میں اس قدر اژدہام ہوا جیسے پورا دمشق نماز جنازہ میں حاضر ہو۔ مزار مبارک دمشق، شام میں شیخ ارسلان دمشقی کے مزار پرانوار کے قرب میں ہے۔ (کشف الخفاء، حوادث دمشق الیومیہ، اعلام للزرکلی)

Muhaddith of Shaam, Author of Kashf al-Khafa, Allamah Abu al-Fida Ismail bin Muhammad Ajluni Shafi’i (Alayhir Rahmah) was born in 1087 AH in Ajlun, Jordan. His ancestral tree reaches Sayyiduna Abu Ubaydah al-Jarrah, who is included in Ashara al-Mubashsharah. He was a memorizer of the Holy Quran, an expert in various sciences, teacher of scholars, author, spiritual guide of Khalwatiyah Sufi Order, and popular among people from all walks of life. He passed away on Monday, 2nd Muharram 1162 AH. His funeral prayer was so crowded as if the whole of Damascus was present. His blessed resting place is near the mausoleum of Shaykh Arsalan Dimashqi in Damascus, Syria. [Kashf al-Khafa, Hawatih Dimashq al-Yawmiyah, Al-A’laam li az-Zirikli]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0zaCUJkwTeKcJrqCmJABjy4BjMaE5WtseAJvRaqQy4CqehTepWg2ZtKJ47kzMy58fl&id=100050689590519
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مقتدائے اہل طریقت، رہنمائے راہ حقیقت، عارف اسرار معرفت، قطب وقت، حضرت سیدنا شیخ ابو محفوظ اسد الدین معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت بغداد شریف سے قریب مقام کرخ میں ہوئی۔ آپ خلیفۂ امام علی رضا، تلمیذ سیدنا حبیب راعی، صحبت یافتہ حضرت داود طائی، مرشد حضرت سری سقطی، عالم باعمل، ولی کامل، تارک الدنیا، عابد و زاہد اور سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے نویں امام و شیخ طریقت ہیں۔ 2 محرم الحرام 200ھ بروز جمعہ یا اتوار وصال فرمایا۔ مزار پرانوار بغداد شریف میں کرخ کی جانب ”قبرستان معروف کرخی“ میں زیارت گاہ خلائق ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ آپ کی قبر مبارک دعاؤں کی قبولیت کا مقام اور آپ کا وسیلہ حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لیے مجرب ہے۔ (تاریخ بغداد، مرآۃ الجنان، سفینۃ الاولیاء، تذکرہ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ)

Leader of Gnostics, Knower of the Divine Secrets, Qutb of Era, Sayyiduna Shaykh Abu Mahfuz Asaduddin Ma’roof Karkhi (Alayhir Rahmah) was born in Karkh near Baghdad. He was the spiritual successor of Imam Ali Rida, disciple of Sayyiduna Habib Ra’ee, companion of Imam Dawood Tai, mentor of Imam Sari Saqati, learned scholar, perfect Sufi sage, pious ascetic, devout worshiper, and the 9th Imam and Shaykh of the Qadriyah Baraktiyah Ridawiyah Sufi Order. He passed away on Friday or Sunday, 2nd Muharram 200 AH. His blessed mausoleum in Karkh, Baghdad, Iraq is frequently by the devotees. The Noble Scholars say that his blessed shrine is the place of acceptance of prayers and his waseelah in the court of Allah is a means unto the fulfillment of needs. [Tarikh Baghdad, Mirat al-Jinan, Safinat al-Awliya, Tazkirah Mashaikh Qadiriyah Barakatiyah Razawiyah]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0KPRim39hLxHrgQkp9psRmZK8RFeALz2FJ2kjDDroevynrGwNurR3xzyxUiSWiSgPl&id=100050689590519
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-01-1444 ᴴ | 31-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-01-1444 ᴴ | 01-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1