ین و شہزادۂ اکبر حضور قمر ملت ، مولاناعمر رضا خاں صاحب مدظلہٗ: ایک بار ’’بلیا‘‘گاؤں مظفر پور ضلع بہار سے حضرت کا گزر ہوا جہاں سے ایک دریا گزرتا تھا جس کا رخ مسلمانوں کے علاقے کی طرف تھا ، حضرت نے اپنی چھڑی مبارکہ سے اس دریا کی طرف اشارہ کیا اور زیر لب کچھ پڑھا جس پر دریا کا رخ تبدیل ہو کر غیر مسلموں کے علاقے کی طرف ہوگیا جو کہ اب تک اسی طرح موجود ہے، حضرت کی اس زندہ کرامت کو دیکھ کر بے شمار غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔۱۲
قریب تین سال سے سینے میں پانی بھی بھر گیا تھا ،ان تمام بیماریوں کے باوجود زندگی کا اکثر حصہ سفر فرمایااور وصال سے قبل بھی سفر ہی میں تھے کہ طبیعت خراب ہوئی اور بریلی شریف تشریف لے آئے۔۱۲ لہٰذا جس ڈاکٹر کے آپ زیر علاج تھے اس کے مطب میں لے جاکر دکھایا گیا۔۱۲
حضور تاج الشریعہ کی عادت مبارک کہ موبائل فون رات میں بند رکھتے اور بعد فجر بھی مگر اس دن فجر کے فوری بعد اپنا فون آن کرلیا اور فرمانے لگے کہ طبیعت کچھ بے چین سی ہورہی ہے اتنے میں فون پر اطلاع موصول ہوئی ۔۱۲ ۱
سجادہ نشین درگاہ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی سبحان رضا خان سبحانی میاں۔ ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012 ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۶۰۔ نماز جنازہ میں اجتماع کثیر تھا ، ایسا معلوم ہوتا جیسا کہ عرس اعلیٰ حضرت پر لوگوں کا ہجوم ہو ، دُور دَراز سے لوگ جنازے میں شریک ہوئے یہاں تک کہ بہار سے بریلی تک ٹرین کا سفر 18 گھنٹے ہے، لوگ موٹر سائیکل پر چلے آئے۔۱۲ جنازہ کے بعد تاج الشریعہ بڑے افسردہ تھے اور لیٹ گئے اور اپنے بھائی کی جدائی کا گہرا اثر آپ پر ہوا، حضور قمرِ ملّت ، حضور تاج الشریعہ کا خوب ادب فرماتے یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی خوب تاکید فرماتے۔۱۲ آپ کے شہزادگان کی گزارش پر حضور صاحب سجادہ نے آپ کی تدفین کے لئے جس جگہ کا انتخاب فرمایا وہ یقیناً ایک فرزند کیلئے بے حد خوش نصیبی اور خوش بختی کی بات ہے کہ آپ کی آرام گاہ والد اور والدہ کے بالکل درمیان اور وسط میں ہے، داہنی اور مغربی جانب حضور مفسر اعظم ہند کی تُربت ہے اور بائیں اور مشرقی جانب آپ کی والدہ کی تُربت ہے۔ ۱۲ بحوالہ : ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433، صفحہ ۵۹۔ [1]۔ ماہنامہ رضائے مصطفی ، گوجرانوالہ، شوال المکرم1433ھ، اگست 2012ء ۱
حیات مفسر اعظم ہند:۱۳، مفتی عبدالواجد قادری بحوالہ: حضرت مولانا محمد ابراہم خوشتر صدیقی، تذکرۂ جمیل صفحہ ۲۰۶۔ المرجع السابق۔ ۱ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، (ایٹمی سائنسدان) ’’سحر ہونے تک‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں شائع ہونے والے کالم کا حوالہ۔ ۱ شمائل الرسول صفحہ۱۴۴، بحوالہ ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جلد:۵، صفحہ ۷۱۰۔ پارہ:۲۷، القمر: ۱ تا ۳۔ کنزالایمان۔
رانا محمد سرور خاں، سیرت سرور کونین، جلد:۱۰، صفحہ:۴۹۳۔ امام ابن جریر الطبری، تفسیر جامع البیان فی تاویل القرآن، جلد یاز دھم:۵۴۴ تا ۵۴۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت 1426ھ/ 2005ء۔ تفسیر روح البیان، جلد۹: ۳۱۳، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت۔ مسلم شریف جلد دوم:۳۷۳، ترمذی، دوم: ۶۳۶۔ علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی، نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد ہفتم، صفحہ۷۷۔ تفسیر روح المعانی، ۲۷: ۷۵۔ ۱ ابی محمدحسین الفرأ البغوی (متوفی516ھ/ 1122ء) تفسیر معالم التنزیل، جلد:۶، صفحہ: ۲۲۶۔ حضرت صوفی علاء الدین علی بن محمد بغدادی المعروف خازن (متوفی 725ھ/ 1325ء) تفسیر لباب التأویل فی معانی التنزیل جلد:۶، صفحہ ۲۲۶۔ حضرت شاہ رؤف احمد رافت مجددی آل مجدد الف ثانی (متوفی 1249ھ/ 1833ء) تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹۔ ۲ تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹ میں ہے کہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا تھا۔ نیز ایک عبارت میں علمی نکتہ یہ ہے کہ ’’جب خوب سب نے دیکھ لیا تو پھر سرکار علیہ السلام نے جب تک دوبارہ انگشت شہادت کا اشارہ نہیں دیا، اس وقت تک شگافتہ قمر کامل نہیں ہوا‘‘۔ ۱
حضرت علامہ علی بن برہان الدین الحلبی شافعی (متوفی 1044ھ/ 1634ء) انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون، اول: ۳۰۷۔ اس کتاب کو ’’سیرۃ حلبی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی کتاب میں ہے کہ، بابا رتن الھندی کے لیے بعض علماء کہتے ہیں: ’’یہ شخص طویل العمر یعنی 600 سال کے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا، کہ میں نے رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت بھی کی تھی اور آپﷺ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام بھی ہوا تھا‘‘۔ اگرچہ امام ذھبی، امام عسقلانی نے اپنی کتب اسماء الرجال بالترتیب، ’’میزان الاعتدال‘‘، ’’لسان المیزان‘‘ میں متذکرہ شخص کے لیے کذاب کا قول بیان کیا ہے۔ ۲
راجہ بھوجپال یا بھوج پانڈے اپنے محل کی چھت پر تھا، جب اُس نے چودھویں شب میں ’’معجزہ شق القمر‘‘ دیکھا تھا، یہ راجہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس نے اپنے بیٹے کو عرب بھیجا تھا،
جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں اپنے باپ کی جانب سے تحائف پیش کیے۔ اس کا اسلامی نام حضور اقدس ع
قریب تین سال سے سینے میں پانی بھی بھر گیا تھا ،ان تمام بیماریوں کے باوجود زندگی کا اکثر حصہ سفر فرمایااور وصال سے قبل بھی سفر ہی میں تھے کہ طبیعت خراب ہوئی اور بریلی شریف تشریف لے آئے۔۱۲ لہٰذا جس ڈاکٹر کے آپ زیر علاج تھے اس کے مطب میں لے جاکر دکھایا گیا۔۱۲
حضور تاج الشریعہ کی عادت مبارک کہ موبائل فون رات میں بند رکھتے اور بعد فجر بھی مگر اس دن فجر کے فوری بعد اپنا فون آن کرلیا اور فرمانے لگے کہ طبیعت کچھ بے چین سی ہورہی ہے اتنے میں فون پر اطلاع موصول ہوئی ۔۱۲ ۱
سجادہ نشین درگاہ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی سبحان رضا خان سبحانی میاں۔ ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012 ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۶۰۔ نماز جنازہ میں اجتماع کثیر تھا ، ایسا معلوم ہوتا جیسا کہ عرس اعلیٰ حضرت پر لوگوں کا ہجوم ہو ، دُور دَراز سے لوگ جنازے میں شریک ہوئے یہاں تک کہ بہار سے بریلی تک ٹرین کا سفر 18 گھنٹے ہے، لوگ موٹر سائیکل پر چلے آئے۔۱۲ جنازہ کے بعد تاج الشریعہ بڑے افسردہ تھے اور لیٹ گئے اور اپنے بھائی کی جدائی کا گہرا اثر آپ پر ہوا، حضور قمرِ ملّت ، حضور تاج الشریعہ کا خوب ادب فرماتے یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی خوب تاکید فرماتے۔۱۲ آپ کے شہزادگان کی گزارش پر حضور صاحب سجادہ نے آپ کی تدفین کے لئے جس جگہ کا انتخاب فرمایا وہ یقیناً ایک فرزند کیلئے بے حد خوش نصیبی اور خوش بختی کی بات ہے کہ آپ کی آرام گاہ والد اور والدہ کے بالکل درمیان اور وسط میں ہے، داہنی اور مغربی جانب حضور مفسر اعظم ہند کی تُربت ہے اور بائیں اور مشرقی جانب آپ کی والدہ کی تُربت ہے۔ ۱۲ بحوالہ : ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433، صفحہ ۵۹۔ [1]۔ ماہنامہ رضائے مصطفی ، گوجرانوالہ، شوال المکرم1433ھ، اگست 2012ء ۱
حیات مفسر اعظم ہند:۱۳، مفتی عبدالواجد قادری بحوالہ: حضرت مولانا محمد ابراہم خوشتر صدیقی، تذکرۂ جمیل صفحہ ۲۰۶۔ المرجع السابق۔ ۱ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، (ایٹمی سائنسدان) ’’سحر ہونے تک‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں شائع ہونے والے کالم کا حوالہ۔ ۱ شمائل الرسول صفحہ۱۴۴، بحوالہ ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جلد:۵، صفحہ ۷۱۰۔ پارہ:۲۷، القمر: ۱ تا ۳۔ کنزالایمان۔
رانا محمد سرور خاں، سیرت سرور کونین، جلد:۱۰، صفحہ:۴۹۳۔ امام ابن جریر الطبری، تفسیر جامع البیان فی تاویل القرآن، جلد یاز دھم:۵۴۴ تا ۵۴۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت 1426ھ/ 2005ء۔ تفسیر روح البیان، جلد۹: ۳۱۳، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت۔ مسلم شریف جلد دوم:۳۷۳، ترمذی، دوم: ۶۳۶۔ علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی، نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد ہفتم، صفحہ۷۷۔ تفسیر روح المعانی، ۲۷: ۷۵۔ ۱ ابی محمدحسین الفرأ البغوی (متوفی516ھ/ 1122ء) تفسیر معالم التنزیل، جلد:۶، صفحہ: ۲۲۶۔ حضرت صوفی علاء الدین علی بن محمد بغدادی المعروف خازن (متوفی 725ھ/ 1325ء) تفسیر لباب التأویل فی معانی التنزیل جلد:۶، صفحہ ۲۲۶۔ حضرت شاہ رؤف احمد رافت مجددی آل مجدد الف ثانی (متوفی 1249ھ/ 1833ء) تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹۔ ۲ تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹ میں ہے کہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا تھا۔ نیز ایک عبارت میں علمی نکتہ یہ ہے کہ ’’جب خوب سب نے دیکھ لیا تو پھر سرکار علیہ السلام نے جب تک دوبارہ انگشت شہادت کا اشارہ نہیں دیا، اس وقت تک شگافتہ قمر کامل نہیں ہوا‘‘۔ ۱
حضرت علامہ علی بن برہان الدین الحلبی شافعی (متوفی 1044ھ/ 1634ء) انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون، اول: ۳۰۷۔ اس کتاب کو ’’سیرۃ حلبی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی کتاب میں ہے کہ، بابا رتن الھندی کے لیے بعض علماء کہتے ہیں: ’’یہ شخص طویل العمر یعنی 600 سال کے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا، کہ میں نے رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت بھی کی تھی اور آپﷺ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام بھی ہوا تھا‘‘۔ اگرچہ امام ذھبی، امام عسقلانی نے اپنی کتب اسماء الرجال بالترتیب، ’’میزان الاعتدال‘‘، ’’لسان المیزان‘‘ میں متذکرہ شخص کے لیے کذاب کا قول بیان کیا ہے۔ ۲
راجہ بھوجپال یا بھوج پانڈے اپنے محل کی چھت پر تھا، جب اُس نے چودھویں شب میں ’’معجزہ شق القمر‘‘ دیکھا تھا، یہ راجہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس نے اپنے بیٹے کو عرب بھیجا تھا،
جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں اپنے باپ کی جانب سے تحائف پیش کیے۔ اس کا اسلامی نام حضور اقدس ع
لیہ الصلوٰۃ والسلام نے محی الدین یا کمال الدین رکھا اور بطور معلم حضرت عبداللہ کو بھیجا تھا۔ ان سب کے مزارات دھار /دحار میں ہے، جو مراٹھی راجاؤں (Marhathia Princely State) کا دارالخلافہ تھا اور دریائے چنبل کے کنارے آباد تھا۔ یہیں حضرت عبداللہ چنگال اور شیخ کمال الدین مالوی کے مزارات ہیں۔ حوالہ کے لیے: ’’تاریخ فرشتہ‘‘ بک ٹاک، چہارم:۱۳۹۔ وکی پیڈیا عنوان راجہ بھوج۔ دحار۔ صفحہ ۳، ۴۔ نواب شاہجہاں بیگم شیریں: تاج الاقبال، تاریخ ریاست بھوپال بحوالہ: اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، جلد:۵، صفحہ ۳۴۴۔ یہ حوالہ محض بیگم بھوپال کی لکھی ہوئی کتاب کے لیے لکھا گیا ہے جس کی نشاندہی ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے مضمون شائع شدہ جنگ کراچی میں کی تھی۔ سوانح الحرمین کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ جلد دہم صفحہ۴۹۶ اور ’’سوانح الحرمین‘‘ ہی کے حوالہ سے حضرت علامہ عبدالحلیم حنفی لکھنوی (متوفی1285ھ/ 1868ء) نے ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے صفحہ ۶۹ پر مدھیہ پردیش یعنی وسط ہندوستان میں مالوہ کی ریاست (بھوپال) کے راجہ کے اسلام لانےا ور اسلامی نام عبداللہ رکھنے کا ذکر کیا ہے۔ جنوبی ہند کی ریاست پلاوا (مالا بار) کے راجہ چیرومان پیرومل نے چودھویں شب 617ء بمطابق 8 نبوی، ’’معجزہ شق القمر‘‘ اپنے محل کے اندر تالاب میں نہاتے ہوئے تالاب کے پانی میں دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہندو مت اور بدھ مت میں چودھویں شب (بدر کامل کی رات) ’’پویاڈے‘‘ مناتے ہیں۔ یہ فقیر نسیم صدیقی کی تحقیق اور مشاہدہ بھی ہے۔ اس ضمن میں کولمبو، کیرالہ اور مدراس کے اہل علم نے راہنمائی کی۔ کیرالہ کے حضرت علامہ محمد فاضل قادری مدظلہ العالی نے خصوصاً راہنمائی فرمائی۔ راجہ چیرومان پیرومل کا اسلامی نام رسول اکرمﷺ نے عبدالرحمٰن رکھا تھا۔ انھوں نے کرناٹکہ کے صدر مقام منگلور کے قریب ’’کڈنگلور‘‘ اور ’’کاسرگوڈ‘‘ پر (بیرون عرب) دنیا کی پہلی مسجد 629ء/ 8ھجری میں قائم کی۔ پھر اس کے بعد اسی مقام کے قریب ہند کی دوسری مسجد ’’مالک بن دینار‘‘ قائم ہوئی۔ یہ راجہ چیرومان پہلے مسلمان ہوگئے تھے۔
پھر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی بارگاہ عظمت پناہ میں حاضر ہوئے تھے، صحابیت کا شرف حاصل ہوا۔ اپنی ریاست واپسی کے لیے آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے ہندوستان آ رہے تھے کہ اثنائے راہ ’’یمن‘‘ کی بندرگاہ (اب ’’عمّان‘‘ کی بندرگاہ) ’’ظفار یا ضفار‘‘ کے مقام پر وصال بہ کمال فرمایا اور یہیں تدفین عمل میں آئی، اب بھی راجہ عبدالرحمان کا مزار پر انوار ’’ظفار/ ضفار‘‘ میں موجود اور مرجع خلائق بھی ہے۔ مالابار (جنوبی ہند کے پلاوا شاہی خاندان) کے تمام حکمران اپنے راجہ (چیرومان) کے مسلمان ہونے کے بعد اس کے انتظار میں ’’راجہ عبدالرحمٰن‘‘ کے نائب السلطنت کے منصب کا حلف 1947ء تقسیم ہند تک اُٹھاتے رہے ہیں۔ اور یہ اقرار لازمی کرتے تھے کہ ہم راجہ عبدالرحمٰن کے نائب ہیں، راجہ صاحب کے عرب سے واپس آتے ہی ہم حکمرانی ان کے سپرد کردیں گے۔ رانا سرور خاں صاحب نے ’’مذاہب عالم‘‘ کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ کی جلد دہم صفحہ ۴۹۳ پر لکھا ہے۔ مزید ’’کیرالہ میگزین 1948ء‘‘ اور ’’تاریخ ازبکستان‘‘ مؤلف سیّد کمال الدین احمد سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ۲ محمد قاسم فرشتہ مؤرخ، تاریخ فرشتہ مترجم عبدالحئی خواجہ، ڈاکٹر عبدالرحمٰن دوست ایسوسی ایٹس پبلشرز فقیر راقم الحروف کے زیر استعمال ’’ضیائی ریسرچ لائبریری‘‘ میں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے دو نسخے موجود ہیں، ایک نسخہ دو جلدوں میں شیخ غلام علی اینڈ سنز کا شائع کردہ ہے جبکہ دوسرا نسخہ بک ٹاک لاہور نے چار جلدوں میں شائع کیا ہوا ہے۔ دونوں نسخوں میں اجمالاً واقعہ کا ذکر ہے۔ قیاس ہے کہ جدید نسخوں میں تحریف کی گئی ہے۔
ہم نے جو تفصیل رقم کی ہے وہ محترم فاضل جلیل حضرت حامد علی علیمی زید مجدہٗ نے اپنے تحقیقی و علمی مواد میں پیش کی ہے، یہ تفصیل، علامہ عبدالحلیم بن امین اللہ لکھنوی کی تصنیف ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے ترجمہ و تخریج و حواشی کے تحت درج کی ہے۔ البتہ تاریخ فرشتہ جلد چہارم (بک ٹاک) کے صفحہ ۵۶۲ پر راجہ سراندیپ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذکر ہے۔ ۱ واضح رہے کہ ہم کسی شخصیت کو نامزد کرکے تکفیر نہیں کر رہے بلکہ اجماع اُمت بیان کر رہے ہیں کہ نص قرآنی کا انکار کرنے والا ’’ کافر‘‘ ہوتا ہے۔ ۱ امام شیخ محمد طاہر بن عاشور (المتوفی1393ھ/ 1973ء)، تفسیر التحریر والتنویر، جز۲۷: ۱۶۸/ ۱۷۰، مطبوعہ تیونس۔ ۲ المرجع السابق۔ نابغۂ فلسطین علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی، حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سیّد المرسلین ص۶۵۵۔ ۱ سلیمان ندوی، خطبات مدراس۔ سیّد محمد قاسم محمود، اسلامی انسائیکلوپیڈیا جلد دوم صفحہ۱۰۶۸، مطبوعہ لاہور۔ خالد عرفان، نعتیہ مجموعہ ’’الہام‘‘۔ جس میں ’’نیل آرمسٹرانگ‘‘ بھی شامل تھا۔ جو قاہرہ، مصر میں مسلمان ہوگیا تھا، کہ اُس نے چاند پر ایک آواز سنی تھی ’’ا
پھر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی بارگاہ عظمت پناہ میں حاضر ہوئے تھے، صحابیت کا شرف حاصل ہوا۔ اپنی ریاست واپسی کے لیے آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے ہندوستان آ رہے تھے کہ اثنائے راہ ’’یمن‘‘ کی بندرگاہ (اب ’’عمّان‘‘ کی بندرگاہ) ’’ظفار یا ضفار‘‘ کے مقام پر وصال بہ کمال فرمایا اور یہیں تدفین عمل میں آئی، اب بھی راجہ عبدالرحمان کا مزار پر انوار ’’ظفار/ ضفار‘‘ میں موجود اور مرجع خلائق بھی ہے۔ مالابار (جنوبی ہند کے پلاوا شاہی خاندان) کے تمام حکمران اپنے راجہ (چیرومان) کے مسلمان ہونے کے بعد اس کے انتظار میں ’’راجہ عبدالرحمٰن‘‘ کے نائب السلطنت کے منصب کا حلف 1947ء تقسیم ہند تک اُٹھاتے رہے ہیں۔ اور یہ اقرار لازمی کرتے تھے کہ ہم راجہ عبدالرحمٰن کے نائب ہیں، راجہ صاحب کے عرب سے واپس آتے ہی ہم حکمرانی ان کے سپرد کردیں گے۔ رانا سرور خاں صاحب نے ’’مذاہب عالم‘‘ کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ کی جلد دہم صفحہ ۴۹۳ پر لکھا ہے۔ مزید ’’کیرالہ میگزین 1948ء‘‘ اور ’’تاریخ ازبکستان‘‘ مؤلف سیّد کمال الدین احمد سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ۲ محمد قاسم فرشتہ مؤرخ، تاریخ فرشتہ مترجم عبدالحئی خواجہ، ڈاکٹر عبدالرحمٰن دوست ایسوسی ایٹس پبلشرز فقیر راقم الحروف کے زیر استعمال ’’ضیائی ریسرچ لائبریری‘‘ میں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے دو نسخے موجود ہیں، ایک نسخہ دو جلدوں میں شیخ غلام علی اینڈ سنز کا شائع کردہ ہے جبکہ دوسرا نسخہ بک ٹاک لاہور نے چار جلدوں میں شائع کیا ہوا ہے۔ دونوں نسخوں میں اجمالاً واقعہ کا ذکر ہے۔ قیاس ہے کہ جدید نسخوں میں تحریف کی گئی ہے۔
ہم نے جو تفصیل رقم کی ہے وہ محترم فاضل جلیل حضرت حامد علی علیمی زید مجدہٗ نے اپنے تحقیقی و علمی مواد میں پیش کی ہے، یہ تفصیل، علامہ عبدالحلیم بن امین اللہ لکھنوی کی تصنیف ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے ترجمہ و تخریج و حواشی کے تحت درج کی ہے۔ البتہ تاریخ فرشتہ جلد چہارم (بک ٹاک) کے صفحہ ۵۶۲ پر راجہ سراندیپ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذکر ہے۔ ۱ واضح رہے کہ ہم کسی شخصیت کو نامزد کرکے تکفیر نہیں کر رہے بلکہ اجماع اُمت بیان کر رہے ہیں کہ نص قرآنی کا انکار کرنے والا ’’ کافر‘‘ ہوتا ہے۔ ۱ امام شیخ محمد طاہر بن عاشور (المتوفی1393ھ/ 1973ء)، تفسیر التحریر والتنویر، جز۲۷: ۱۶۸/ ۱۷۰، مطبوعہ تیونس۔ ۲ المرجع السابق۔ نابغۂ فلسطین علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی، حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سیّد المرسلین ص۶۵۵۔ ۱ سلیمان ندوی، خطبات مدراس۔ سیّد محمد قاسم محمود، اسلامی انسائیکلوپیڈیا جلد دوم صفحہ۱۰۶۸، مطبوعہ لاہور۔ خالد عرفان، نعتیہ مجموعہ ’’الہام‘‘۔ جس میں ’’نیل آرمسٹرانگ‘‘ بھی شامل تھا۔ جو قاہرہ، مصر میں مسلمان ہوگیا تھا، کہ اُس نے چاند پر ایک آواز سنی تھی ’’ا
َشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً الرَّسُوْلَ اللہِ‘‘... اور ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ اور جب یہی آواز قاہرہ میں مسجد سے ہونے والی اذان میں سنی، تو وہ مسلمان ہوگیا۔
حضرت سیّدنامحمد شریف المدنی مدینۃ المنورہ کے مشائخ میں تھے، ۴۰۰ سال قبل رسول اکرمﷺ نے خواب میں حکم فرمایا کہ جنوبی ہند جاؤ، حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی سمندر کے قریب آئے اور اپنا ’’مصلی‘‘ پانی میں ڈال کر بیٹھ گئے، اور پھر منگلور انڈیا پہنچ گئے۔ حضرت کے فیوضات و کرامات کا چرچا زبان زدِ عام ہے۔ آپ کے عرس میں دس لاکھ افراد شریک ہوتے ہیں، اجمیر شریف کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا عرس کا اجتماع ہوتا ہے۔ منگلور کے قریب ’’اُللّال شریف‘‘ (Ullal)، میں حضرت شریف المدنی کا مزار پُر انوار ہے۔ بحر عرب کے کنارے جنوبی ہند کے مشرقی گھاٹ (Eastern Ghots) مزار شریف سے متصل پانی کا کنواں ہے، جس کا پانی شفاف اور میٹھا ہے، بلکہ مختلف امراض میں باعث شفا بھی ہے، گونگے اور بہرے آتے ہیں شفایاب ہوکر واپس لوٹتے ہیں۔ دور دراز سے معتقدین بکریاں (دیگر حلال مویشی) لنگر شریف کے لیے کسی محافظ و راہبر کے بغیر بھیجتے ہیں، اور چوری اور نقصان سے محفوظ رہتے ہوئے بکرے، بکریاں، مزار شریف پہنچ جاتے ہیں۔ راقم الحروف کے کرم فرما دوست فاضل جلیل حضرت علامہ محمد فاضل اختری مدظلہ العالی (جو کیرالہ میں مقیم ہیں) نے فرمایا، کہ حضرت محمد قمر رضا یہاں عرس کے اجتماع میں حاضر ہوئے اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ حضرت محمد شریف المدنی کا عرس مبارک پانچ سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے۔ ۱ یہ بزرگ، اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کی خواہر نسبتی کے نبیرہ ہیں۔ محترم شہید اللہ خان صاحب مدظلہ العالی، برادر طریقت حضرت نعیم اللہ نوری مدظلہ العالی کے والد محترم ہیں۔ شہید اللہ صاحب اور سعید اللہ صاحب دونوں برادران، ڈاکٹر قمر رضا کے چچا (والد کی جانب سے) اور ماموں (والدہ کی جانب سے) ہوتے ہیں۔ حضرت تحسین رضا بن حضرت مولاناحسنین رضا بن استاذ زمن مولانا حسن رضا بن مولانا نقی علی خاں (والد گرامی اعلیٰ حضرت) جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف میں محدث کے منصب پر فائز تھے۔
علامہ تحسین رضا کی ولادت 14 شعبان 1349ھ/ 5 جنوری 1930ء یکشنبہ ہوئی، وصال بعمر 78سال 1427ھ/ 2007ء میں ہوا۔ آپ علمی حلقوں میں سیّد الاتقیا اور صدر العلماء سے معروف تھے۔ عفت مآب، نہایت صالحہ، زاہدہ و عابدہ خاتون تھی۔ امام المجاہدین و امیر المہاجرین سیّد السادات، منبع البرکات حضرت سیّدنا عبداللہ شاہ غازی بابا (جن کی شہادت 89ھ میں ہوئی) کے مزار پر انوار کے سایۂ بابرکت و احاطہ رحمت میں زوجہ حضرت شوکت حسن خان ابدی نیند آرام فرما رہی ہیں۔
۱ بشکریہ :ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۵۷۔
[ تجلیاتِ قمر ، انجمن ضیاء طیبہ ]
Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-allama-doctor-qamar-raza-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیّدنامحمد شریف المدنی مدینۃ المنورہ کے مشائخ میں تھے، ۴۰۰ سال قبل رسول اکرمﷺ نے خواب میں حکم فرمایا کہ جنوبی ہند جاؤ، حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی سمندر کے قریب آئے اور اپنا ’’مصلی‘‘ پانی میں ڈال کر بیٹھ گئے، اور پھر منگلور انڈیا پہنچ گئے۔ حضرت کے فیوضات و کرامات کا چرچا زبان زدِ عام ہے۔ آپ کے عرس میں دس لاکھ افراد شریک ہوتے ہیں، اجمیر شریف کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا عرس کا اجتماع ہوتا ہے۔ منگلور کے قریب ’’اُللّال شریف‘‘ (Ullal)، میں حضرت شریف المدنی کا مزار پُر انوار ہے۔ بحر عرب کے کنارے جنوبی ہند کے مشرقی گھاٹ (Eastern Ghots) مزار شریف سے متصل پانی کا کنواں ہے، جس کا پانی شفاف اور میٹھا ہے، بلکہ مختلف امراض میں باعث شفا بھی ہے، گونگے اور بہرے آتے ہیں شفایاب ہوکر واپس لوٹتے ہیں۔ دور دراز سے معتقدین بکریاں (دیگر حلال مویشی) لنگر شریف کے لیے کسی محافظ و راہبر کے بغیر بھیجتے ہیں، اور چوری اور نقصان سے محفوظ رہتے ہوئے بکرے، بکریاں، مزار شریف پہنچ جاتے ہیں۔ راقم الحروف کے کرم فرما دوست فاضل جلیل حضرت علامہ محمد فاضل اختری مدظلہ العالی (جو کیرالہ میں مقیم ہیں) نے فرمایا، کہ حضرت محمد قمر رضا یہاں عرس کے اجتماع میں حاضر ہوئے اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ حضرت محمد شریف المدنی کا عرس مبارک پانچ سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے۔ ۱ یہ بزرگ، اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کی خواہر نسبتی کے نبیرہ ہیں۔ محترم شہید اللہ خان صاحب مدظلہ العالی، برادر طریقت حضرت نعیم اللہ نوری مدظلہ العالی کے والد محترم ہیں۔ شہید اللہ صاحب اور سعید اللہ صاحب دونوں برادران، ڈاکٹر قمر رضا کے چچا (والد کی جانب سے) اور ماموں (والدہ کی جانب سے) ہوتے ہیں۔ حضرت تحسین رضا بن حضرت مولاناحسنین رضا بن استاذ زمن مولانا حسن رضا بن مولانا نقی علی خاں (والد گرامی اعلیٰ حضرت) جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف میں محدث کے منصب پر فائز تھے۔
علامہ تحسین رضا کی ولادت 14 شعبان 1349ھ/ 5 جنوری 1930ء یکشنبہ ہوئی، وصال بعمر 78سال 1427ھ/ 2007ء میں ہوا۔ آپ علمی حلقوں میں سیّد الاتقیا اور صدر العلماء سے معروف تھے۔ عفت مآب، نہایت صالحہ، زاہدہ و عابدہ خاتون تھی۔ امام المجاہدین و امیر المہاجرین سیّد السادات، منبع البرکات حضرت سیّدنا عبداللہ شاہ غازی بابا (جن کی شہادت 89ھ میں ہوئی) کے مزار پر انوار کے سایۂ بابرکت و احاطہ رحمت میں زوجہ حضرت شوکت حسن خان ابدی نیند آرام فرما رہی ہیں۔
۱ بشکریہ :ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۵۷۔
[ تجلیاتِ قمر ، انجمن ضیاء طیبہ ]
Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-allama-doctor-qamar-raza-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Ziaetaiba
Hazrat Allama Doctor Qamar Raza Barelvi
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہ
http://www.ziaetaiba.com/
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہ
http://www.ziaetaiba.com/
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ کے
دنیا سے رخصت پر تعزیت نامہ
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
یومِ وصال 5 شعبان المعظم
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ کے
دنیا سے رخصت پر تعزیت نامہ
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
یومِ وصال 5 شعبان المعظم
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دنیا سے رخصت پر تعزیت نامہ
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
یومِ وصال 5 شعبان المعظم
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ
امیر جماعت اہلسنّت پاکستان،
کراچی | بسم اللہ الرحمن الرحیم
نبیرۂِ اعلیٰ حضرت مولانا محمد قمر رضا خان صاحب بن مفسر اعظم ہند حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خان صاحب المعروف جیلانی میاں کے وصال کی خبر نے یہاں کراچی میں سُنّی رضوی حضرات خانوادۂ اعلیٰ حضرت سے محبت رکھنے والے اور حضور تاج الشریعہ محمد اختر رضا خان صاحب قبلہ مد ظلہٗ کے مریدین کو انتہائی غمزدہ کردیا۔
حضرت مولانا محمد قمر رضا خان صاحب، حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی کے برادر اصغر تھے ۱۹۴۶ء میں بریلی شریف میں آپ کی ولادت ہوئی،
دینی تعلیم آپ نے اپنے والد ماجد مفسر اعظم ہند اور جامعہ رضویہ منظر اسلام سے حاصل کی
جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے آپ نے دنیاوی تعلیم حاصل کی۔ عربی، فارسی، اردو، ہندی اور انگریزی زبان پر دسترس تھی
نیز ریاضی، علم الاعداد اور
تاریخ گوئی پر مہارت رکھتے تھے۔
ملک اور بیرون ملک کئی تبلیغی دَورے فرمائے او ر ایک خاص تعداد میں لوگ آپ کے دَستِ حق پَرست پر بیعت ہوئے۔
حضرت کے وصال سے جو خلاء
پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا مشکل ہے،
میری دعا ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے و طفیل حضرت کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آپ کے صاحبزادگان، جملہ اہل خانہ اور مریدین و متوسلین کو جزاء جمیل عطا فرمائے، صبر جمیل پر اجر عظیم عطا فرمائے۔
🌹 آمین بجاہ النبی الکریم 🌹
علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم
✍ فقیر سیّد شاہ تراب الحق قادری
امیر جماعت اہلسنّت پاکستان، کراچی
۱۱ ذوالقعدہ ۱۴۳۳ھ/ ۲۸ ستمبر ۲۰۱۲ء
[ تجلیات قمر،انجمن ضیاءِ طیبہ ]
Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/articles/hazrat-allama-syed-shah-turab-ul-haq-qadri
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
یومِ وصال 5 شعبان المعظم
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ
امیر جماعت اہلسنّت پاکستان،
کراچی | بسم اللہ الرحمن الرحیم
نبیرۂِ اعلیٰ حضرت مولانا محمد قمر رضا خان صاحب بن مفسر اعظم ہند حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خان صاحب المعروف جیلانی میاں کے وصال کی خبر نے یہاں کراچی میں سُنّی رضوی حضرات خانوادۂ اعلیٰ حضرت سے محبت رکھنے والے اور حضور تاج الشریعہ محمد اختر رضا خان صاحب قبلہ مد ظلہٗ کے مریدین کو انتہائی غمزدہ کردیا۔
حضرت مولانا محمد قمر رضا خان صاحب، حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی کے برادر اصغر تھے ۱۹۴۶ء میں بریلی شریف میں آپ کی ولادت ہوئی،
دینی تعلیم آپ نے اپنے والد ماجد مفسر اعظم ہند اور جامعہ رضویہ منظر اسلام سے حاصل کی
جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے آپ نے دنیاوی تعلیم حاصل کی۔ عربی، فارسی، اردو، ہندی اور انگریزی زبان پر دسترس تھی
نیز ریاضی، علم الاعداد اور
تاریخ گوئی پر مہارت رکھتے تھے۔
ملک اور بیرون ملک کئی تبلیغی دَورے فرمائے او ر ایک خاص تعداد میں لوگ آپ کے دَستِ حق پَرست پر بیعت ہوئے۔
حضرت کے وصال سے جو خلاء
پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا مشکل ہے،
میری دعا ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے و طفیل حضرت کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آپ کے صاحبزادگان، جملہ اہل خانہ اور مریدین و متوسلین کو جزاء جمیل عطا فرمائے، صبر جمیل پر اجر عظیم عطا فرمائے۔
🌹 آمین بجاہ النبی الکریم 🌹
علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم
✍ فقیر سیّد شاہ تراب الحق قادری
امیر جماعت اہلسنّت پاکستان، کراچی
۱۱ ذوالقعدہ ۱۴۳۳ھ/ ۲۸ ستمبر ۲۰۱۲ء
[ تجلیات قمر،انجمن ضیاءِ طیبہ ]
Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/articles/hazrat-allama-syed-shah-turab-ul-haq-qadri
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Ziaetaiba
Syed Shah Turab Ul Haque Qadri Speeches,Books, History, Quotes, Muslim Scholars,
Ziaetaiba.com provides you the true history of muslim scholar Biography of Hazrat Allama Syed Shah Turab-ul-Haq Qadr, Books, History, Quotes,
مشرقی جانِب تربت والدۂِ ...
علامہ قمر رَضا خان بَـریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہُما
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
علامہ قمر رَضا خان بَـریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہُما
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مشرقی جانِب تربت والدۂِ ...
علامہ قمر رَضا خان بَـریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہُما
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
علامہ قمر رَضا خان بَـریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہُما
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹🌹 مرقد مبارک 🌹🌹
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
یومِ وصال 5 شعبان المعظم
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
یومِ وصال 5 شعبان المعظم
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ
کی استعمال شدہ اشیاء ⬆️
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
یومِ وصال 5 شعبان المعظم
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ
کی استعمال شدہ اشیاء ⬆️
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
یومِ وصال 5 شعبان المعظم
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
मुबारक रातों में नवाफ़िल की जगह
कज़़ा नमाज़ अदा करें 🌹 🌹 🌹
✍🏻आमिर हुसैन मिस्बाही रसूल गंज
उ़र्फ़ कोयली - नानपुर सीतामढ़ी बिहार
●●●●●●●●●●●●●●
जिन हज़रात के जि़म्मे में फर्ज़ व वाजिब नमाज़ें क़ज़ा हैं, और वह शबे क़दर, शबे बरात की मुबारक रातों में नफि़ल नमाज़ पढ़ते हैं, उनके लिए बेहतर यह है कि वह इन नवाफ़िल की जगह क़ज़ा नमाजों को ही अदा करें ... क्योंकि उनका नफि़ल नमाज़ पढ़ना मरदूद हो जाता है -
जैसा कि अअ़्ला ह़ज़़रत इमाम अह़मद रज़़ा ख़ान रह़मतुल्लाहि तआ़ला अलैह फ़तावा रज़़विया शरीफ़ में फ़रमाते हैं "जो फ़र्ज़़ छोड़कर नफ़्ल में मशग़ूल हुआ उसकी सख़्त बुराई आई है, और उसका वह नेक काम मरदूद क़रार पाया -
इसी त़रह़ अलमलफ़ूज़ ह़िस़्स़ा अव्वल स़फ़्ह़ः 62 में है जब तक फ़र्ज़़ ज़िम्मा में बाक़ी रहता है कोई नफ़िल क़ुबूल नहीं किया जाता-
हां अगर आप नफि़ल नमाज़ पढ़ने की जगह क़ज़़ा नमाज़ों को अदा करेंगे तो अल्लाह रब्बुल इ़ज़्ज़त के फ़ज़्ल व करम से उम्मीद है कि वह नफि़ल नमाज़ों के पढ़ने का भी सवाब अ़त़ा फ़रमाएगा-
जैसा कि ख़लीले मिल्लत हज़रत अल्लामा मुफ़्ती मुह़म्मद ख़लील ख़ान क़ादिरी बरकाती रह़मतुल्लाहि तआ़ला अ़लैह फ़रमाते हैं "जो शख़्स़ नफि़ल नमाज़ और नफि़ल रोज़े की जगह क़ज़ाए उ़मरी फ़र्ज़़ व वाजिब अदा करे वह लव लगाए रखें कि मौला तआ़ला अपने करमे ख़ास से क़ज़़ा नमाज़ों के ज़िम्न में उन नवाफि़ल का सवाब भी अपने ख़ज़ानए ग़ैब से अ़त़ा फ़रमा दे - जिनके अवक़ात में यह क़ज़़ा नमाज़ें पढ़ी गईं - वल्लाहु ज़ुल फज़लिल अज़ीम
📖 सुन्नी बहिश्ती ज़ेवर 📖
नफ़्ल नमाज़ों का बयान, स़ ²⁴⁰
क़ज़़ा नमाज़ अदा करने का मअ़्मूल
जो नमाज़ें क़ज़ा हैं उनकी स़िर्फ़ फ़र्ज़़ और वाजिब नमाज़ अदा करनी है, इस त़रह़ कि फजर की क़ज़़ा इ़शा के आख़िरी दो रकात नफ़्ल की जगह पढ़ लें, ज़ुहर की क़ज़़ा चार रकअ़्त ज़ुहर के बाद में पढ़ी जाने वाली आख़िरी दो रकात नफ़्ल की जगह पढ़ लें, इसी तरह अ़स़र की क़ज़़ा अ़स़र की चार रकअ़्त सुन्नते ग़ैर मुअक्किदह की जगह पढ़ लें, मग़रिब की क़ज़़ा मग़रिब की दो रकात नफ़्ल की जगह पढ़ लें, और इ़शा की क़ज़़ा इ़शा की चार रकात पहले पढ़ी जाने वाली सुन्नते ग़ैर मुअक्किदह की जगह और वित्र की क़ज़़ा वित्र के पहले पढ़े जाने वाली नफ़्ल की जगह पढ़ लें,
इस त़रह़ का मअ़्मूल बना लेने से आसानी से रोज़ाना पांच फ़र्ज़़ नमाज़ों के साथ पांच क़ज़़ा नमाज़ें भी अदा हो जाया करेंगी -
क़ज़़ा नमाज़ अदा करने का आसान त़रीक़ा
निय्यत इस तरह करें : निय्यत की मैं ने दो रकअ़्त फ़जर की फ़र्ज़़ सबसे पहली क़ज़़ा नमाज़ अदा करने की जो मेरे ज़िम्मे थी वास्ते अल्लाह तआ़ला के मुँह मेरा कअ़्बः शरीफ़ की त़रफ़ अल्लाहु अकबर
इसी त़रह़ फ़र्ज़़ नमाज़ की जगह पर फ़र्ज़़ वाजिब की जगह वाजिब और दो रकात हो तो दो रकअ़्त चार रकअ़्त हो तो चार रकात कह कर निय्यत करें ...
पहली तख़फ़ीफ़ (आसानी)
जिस पर बकसरत नमाज़ें क़ज़़ा हैं वह आसानी के लिए यूं भी अदा करें तो जाइज़ है कि हर रुकूअ़् और सजदः में तीन-तीन बार सुब हा़ न रब्बि यल अ़ज़ीम और सुब ह़ा न रब्बि यल अअ़्ला की जगह स़िर्फ़ एक एक बार कहें, मगर यह हमेशा याद रखना चाहिए कि जब रुकूअ़् में पहुंच जाएँ उस वक़्त सुब ह़ा न का "सीन" शुरूअ़् करें और जब अज़ीम का "मीम" कह चुके उस वक़्त रुकूअ़् से सर उठाए इसी त़रह़ सजदा में भी करें ...
दूसरी तख़फ़ीफ़ (आसानी)
यह है कि फ़र्ज़़ों की तीसरी और चौथी रकअ़्त में अल ह़म्दु की जगह फ़क़त़ सुब्ह़ा नल्लाह कह कर रुकूअ़् कर लें, मगर वित्र की तीनों रकअ़्तों में अलह़म्दु शरीफ़ और सूरत ज़़रूर पढ़ें ...
तीसरी तख़फ़ीफ़ (आसानी)
यह है कि क़अ़्दए अख़ीरा में तशह्हुद यअ़्नी अ त्त ह़िय्यातु पढ़ने के बाद दुरूदे इब्राहीमी और दुआ़ ए मासूरा की जगह स़िर्फ़ अल्ला हु म्म स़ल्लि अ़ला मुह़म्मदिंव व आलिह कह कर सलाम फेर दें ...
चौथी तख़फ़ीफ़ (आसानी)
यह है कि वित्र की तीसरी रकअ़्त में दुआ़ ए क़ुनूत की जगह अल्ला हु अकबर कह कर फक़त एक बार या तीन बार रब्बिग़ फ़िरली कहें ...
[ अह़कामे शरीअ़त जि.² स़.¹⁴⁰
फ़तावा रज़़विया स़फ़्ह़ः 157 ]
यह क़ज़़ा नमाज़ों के अदा करने
का निहायत आसान त़रीक़ा है ...
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
कज़़ा नमाज़ अदा करें 🌹 🌹 🌹
✍🏻आमिर हुसैन मिस्बाही रसूल गंज
उ़र्फ़ कोयली - नानपुर सीतामढ़ी बिहार
●●●●●●●●●●●●●●
जिन हज़रात के जि़म्मे में फर्ज़ व वाजिब नमाज़ें क़ज़ा हैं, और वह शबे क़दर, शबे बरात की मुबारक रातों में नफि़ल नमाज़ पढ़ते हैं, उनके लिए बेहतर यह है कि वह इन नवाफ़िल की जगह क़ज़ा नमाजों को ही अदा करें ... क्योंकि उनका नफि़ल नमाज़ पढ़ना मरदूद हो जाता है -
जैसा कि अअ़्ला ह़ज़़रत इमाम अह़मद रज़़ा ख़ान रह़मतुल्लाहि तआ़ला अलैह फ़तावा रज़़विया शरीफ़ में फ़रमाते हैं "जो फ़र्ज़़ छोड़कर नफ़्ल में मशग़ूल हुआ उसकी सख़्त बुराई आई है, और उसका वह नेक काम मरदूद क़रार पाया -
इसी त़रह़ अलमलफ़ूज़ ह़िस़्स़ा अव्वल स़फ़्ह़ः 62 में है जब तक फ़र्ज़़ ज़िम्मा में बाक़ी रहता है कोई नफ़िल क़ुबूल नहीं किया जाता-
हां अगर आप नफि़ल नमाज़ पढ़ने की जगह क़ज़़ा नमाज़ों को अदा करेंगे तो अल्लाह रब्बुल इ़ज़्ज़त के फ़ज़्ल व करम से उम्मीद है कि वह नफि़ल नमाज़ों के पढ़ने का भी सवाब अ़त़ा फ़रमाएगा-
जैसा कि ख़लीले मिल्लत हज़रत अल्लामा मुफ़्ती मुह़म्मद ख़लील ख़ान क़ादिरी बरकाती रह़मतुल्लाहि तआ़ला अ़लैह फ़रमाते हैं "जो शख़्स़ नफि़ल नमाज़ और नफि़ल रोज़े की जगह क़ज़ाए उ़मरी फ़र्ज़़ व वाजिब अदा करे वह लव लगाए रखें कि मौला तआ़ला अपने करमे ख़ास से क़ज़़ा नमाज़ों के ज़िम्न में उन नवाफि़ल का सवाब भी अपने ख़ज़ानए ग़ैब से अ़त़ा फ़रमा दे - जिनके अवक़ात में यह क़ज़़ा नमाज़ें पढ़ी गईं - वल्लाहु ज़ुल फज़लिल अज़ीम
📖 सुन्नी बहिश्ती ज़ेवर 📖
नफ़्ल नमाज़ों का बयान, स़ ²⁴⁰
क़ज़़ा नमाज़ अदा करने का मअ़्मूल
जो नमाज़ें क़ज़ा हैं उनकी स़िर्फ़ फ़र्ज़़ और वाजिब नमाज़ अदा करनी है, इस त़रह़ कि फजर की क़ज़़ा इ़शा के आख़िरी दो रकात नफ़्ल की जगह पढ़ लें, ज़ुहर की क़ज़़ा चार रकअ़्त ज़ुहर के बाद में पढ़ी जाने वाली आख़िरी दो रकात नफ़्ल की जगह पढ़ लें, इसी तरह अ़स़र की क़ज़़ा अ़स़र की चार रकअ़्त सुन्नते ग़ैर मुअक्किदह की जगह पढ़ लें, मग़रिब की क़ज़़ा मग़रिब की दो रकात नफ़्ल की जगह पढ़ लें, और इ़शा की क़ज़़ा इ़शा की चार रकात पहले पढ़ी जाने वाली सुन्नते ग़ैर मुअक्किदह की जगह और वित्र की क़ज़़ा वित्र के पहले पढ़े जाने वाली नफ़्ल की जगह पढ़ लें,
इस त़रह़ का मअ़्मूल बना लेने से आसानी से रोज़ाना पांच फ़र्ज़़ नमाज़ों के साथ पांच क़ज़़ा नमाज़ें भी अदा हो जाया करेंगी -
क़ज़़ा नमाज़ अदा करने का आसान त़रीक़ा
निय्यत इस तरह करें : निय्यत की मैं ने दो रकअ़्त फ़जर की फ़र्ज़़ सबसे पहली क़ज़़ा नमाज़ अदा करने की जो मेरे ज़िम्मे थी वास्ते अल्लाह तआ़ला के मुँह मेरा कअ़्बः शरीफ़ की त़रफ़ अल्लाहु अकबर
इसी त़रह़ फ़र्ज़़ नमाज़ की जगह पर फ़र्ज़़ वाजिब की जगह वाजिब और दो रकात हो तो दो रकअ़्त चार रकअ़्त हो तो चार रकात कह कर निय्यत करें ...
पहली तख़फ़ीफ़ (आसानी)
जिस पर बकसरत नमाज़ें क़ज़़ा हैं वह आसानी के लिए यूं भी अदा करें तो जाइज़ है कि हर रुकूअ़् और सजदः में तीन-तीन बार सुब हा़ न रब्बि यल अ़ज़ीम और सुब ह़ा न रब्बि यल अअ़्ला की जगह स़िर्फ़ एक एक बार कहें, मगर यह हमेशा याद रखना चाहिए कि जब रुकूअ़् में पहुंच जाएँ उस वक़्त सुब ह़ा न का "सीन" शुरूअ़् करें और जब अज़ीम का "मीम" कह चुके उस वक़्त रुकूअ़् से सर उठाए इसी त़रह़ सजदा में भी करें ...
दूसरी तख़फ़ीफ़ (आसानी)
यह है कि फ़र्ज़़ों की तीसरी और चौथी रकअ़्त में अल ह़म्दु की जगह फ़क़त़ सुब्ह़ा नल्लाह कह कर रुकूअ़् कर लें, मगर वित्र की तीनों रकअ़्तों में अलह़म्दु शरीफ़ और सूरत ज़़रूर पढ़ें ...
तीसरी तख़फ़ीफ़ (आसानी)
यह है कि क़अ़्दए अख़ीरा में तशह्हुद यअ़्नी अ त्त ह़िय्यातु पढ़ने के बाद दुरूदे इब्राहीमी और दुआ़ ए मासूरा की जगह स़िर्फ़ अल्ला हु म्म स़ल्लि अ़ला मुह़म्मदिंव व आलिह कह कर सलाम फेर दें ...
चौथी तख़फ़ीफ़ (आसानी)
यह है कि वित्र की तीसरी रकअ़्त में दुआ़ ए क़ुनूत की जगह अल्ला हु अकबर कह कर फक़त एक बार या तीन बार रब्बिग़ फ़िरली कहें ...
[ अह़कामे शरीअ़त जि.² स़.¹⁴⁰
फ़तावा रज़़विया स़फ़्ह़ः 157 ]
यह क़ज़़ा नमाज़ों के अदा करने
का निहायत आसान त़रीक़ा है ...
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
📝 बख़्शिश की रात | शबे बरअत 📖
✍ मुफ़्ती अ़ब्दुर्रह़मान मिस़्बाह़ी स़ाह़ब
उस्ताज़ जामिअ़ः अशरफ़ियः मस्ऊ़दुल
उ़लूम छोटी तकिया बहराइच शरीफ़UP
📇 तअ़्लीमाते रज़़ा फ़उन्डेशन T.R.F.
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
✍ मुफ़्ती अ़ब्दुर्रह़मान मिस़्बाह़ी स़ाह़ब
उस्ताज़ जामिअ़ः अशरफ़ियः मस्ऊ़दुल
उ़लूम छोटी तकिया बहराइच शरीफ़UP
📇 तअ़्लीमाते रज़़ा फ़उन्डेशन T.R.F.
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
📝 بخشِش کی رات | شبِ برأت 📖
✍ مفتی عبدالرحمٰن قادِری رَضوی
مِصباحی اُستاذ جامعہ اشرفیہ مسعود
العلوم چھوٹی تکیہ بہرائِچ شریف UP
وَ صدر تعلیماتِ رَضا فاؤنڈیشن.T.R.F
📇اراکینِ تعلیماتِ رَضا فاؤنڈیشن 📇
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
✍ مفتی عبدالرحمٰن قادِری رَضوی
مِصباحی اُستاذ جامعہ اشرفیہ مسعود
العلوم چھوٹی تکیہ بہرائِچ شریف UP
وَ صدر تعلیماتِ رَضا فاؤنڈیشن.T.R.F
📇اراکینِ تعلیماتِ رَضا فاؤنڈیشن 📇
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
⬆️ شبِ بَرأت کی نفل نمازیں
شبِ بَرات کی نفل نمازیں ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
شبِ بَرات کی نفل نمازیں ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
शबे बराअत रह़मत मग़फ़िरत की रात
✍ सय्यिद शाह तुराबुल ह़क़ क़ादिरी
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
✍ सय्यिद शाह तुराबुल ह़क़ क़ादिरी
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 سال بھر جادو سے حفاظت 🌹
حضور حکیم الامت مفسر شہیر حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡه کی تالیف اِسلامی زِندگی صفحہ ¹³⁴ پَر ہَے ...
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اگر اس رات ( یعنی شبِ برأت ) سات پَتّے بَیری ( یعنی بَیر کے درخت ) کے پانی میں جوش دے کر ( جب پانی نہانے کے قابِل ہو جائے تو ) إِنۡ شَاءَ الله تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَزَّوَجَلَّ غُسل کرے تمام سال جادو کے اثر سے محفوظ رہےگا ...
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضور حکیم الامت مفسر شہیر حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رَضِیَ اللّٰهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡه کی تالیف اِسلامی زِندگی صفحہ ¹³⁴ پَر ہَے ...
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اگر اس رات ( یعنی شبِ برأت ) سات پَتّے بَیری ( یعنی بَیر کے درخت ) کے پانی میں جوش دے کر ( جب پانی نہانے کے قابِل ہو جائے تو ) إِنۡ شَاءَ الله تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَزَّوَجَلَّ غُسل کرے تمام سال جادو کے اثر سے محفوظ رہےگا ...
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
وہ ¹⁰⁷ شعبے جن میں دعوتِ اسلامی
کا مدنی کام عملی طور پَر جاری ہے !
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کا مدنی کام عملی طور پَر جاری ہے !
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
نماز کی پابندی نہیں تو کُچھ بهی نہیں
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اگر شہوت تنگ کرتی ہو تو گناہ
سے بچنے کے لئے کیا پڑھا جائے ؟
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
سے بچنے کے لئے کیا پڑھا جائے ؟
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جامعہ نظامیہ صالحات کے زیرِ اہتمام خواتین اسلام کے لیے خصوصی ویکیشن کیمپ
جوان لڑکیوں کا وہ طبقہ جو اسکول، کالج، یونیورسٹی سے تعلق رکھتی ہیں، جو کہیں جوب کرتی ہیں ان کے لیے چھٹیوں میں یہ تربیتی نشست رکھی جاتی ہے. جس میں خواتین کو فرض علوم سکھائے جاتے ہیں. فقہی مسائل ، تاریخ، سیرت، موجودہ زمانے میں اسلام کو درپیش چیلنجز کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے.
اس مختصر سی چند روزہ نشست سے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں.
کم از کم ہم قوم مسلم کی جوان لڑکیوں کو سوچنے پر مجبور کر پاتے ہیں کہ ان کی اصل اسلام ہے.
ہم انہیں سوچنے پر مجبور کر پاتے ہیں کہ انہیں اپنے دین کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے. کم از کم اتنا ہی کر لیں کہ ہماری ذات سے ہمارے دین پر انگلی نہ اٹھے.
کم از کم ہم اتنا کر پاتے ہیں کہ لڑکیوں کے وضو، غسل و نماز کو صحیح کر دیں. زندگی میں وہ جب بھی نماز کی طرف جائیں تمام شرعی شرائط کے ساتھ جائیں.
اس طرح کے چند روزہ کیمپ پوری چھٹیوں میں الگ الگ علاقے میں ایک کے بعد ایک منعقد ہوتے ہیں. الحمد للہ رب العالمین
اور ایسی تربیتی نشست کے نتیجے میں جو بہترین فائدہ ہمیں حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ ذہین ترین لڑکیاں دستیاب ہوتی ہیں جو کیمپ سے متاثر ہو کر مدرسے تک آتی ہیں اور علم دین حاصل کرتی ہیں. اور کچھ سالوں کے بعد جب پڑھائی مکمّل ہوتی ہے تو قوم کو ایک ایسی ذہین ترین عالمہ دستیاب ہوتی ہے جو دینی علوم میں بھی اعلی درجے کی ہوتی ہے اور دنیاوی معاملات پر بھی اپنی گرفت مضبوط رکھتی ہے.
جامعہ نظامیہ صالحات سے سند فراغت حاصل کرنے والی خوش نصیب عالمات مسلک اعلی حضرت (مسلک اہلِ سنت) کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقے میں بہترین دینی خدمات انجام دے رہی ہیں.
بڑے بڑے مدارس، دارالعلوم جن کے زیر نگرانی چلتے ہیں.
سوشل میڈیا پر جن کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے.
بیرون ملک بھی سنی خواتین کا ایک بڑا نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں.
جامعہ میں شریعت کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس، عبادت و ریاضت کے علاوہ لڑکیوں کو حقیقی لڑکی بننے کی تربیت بھی کی جاتی ہے یعنی گھرداری کی بھی تربیت کی جاتی ہے.
ہوسٹل میں رہنے والی طالبات کو ہر اس کام کی تربیت دی جاتی ہے جو ان کو گھریلو ذمہ داری اٹھانے کے قابل بنا سکے.
حرام و حلال کی تمیز خصوصی طور پر سکھائی جاتی ہے تاکہ پاکیزہ و حلال خون رگوں میں لیے ہوئے بچے قوم کو دستیاب ہو سکیں
جامعہ سے سند فراغت پانے والی ہر طالبہ اس قابل ہوتی ہے کہ اپنے گھر کو بھی بخوبی چلا سکے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے جیسی کئی لڑکیوں کو تیار کر سکے.
ہر لڑکی کو ایک مقصد دیا جاتا ہے زندگی کا.
دین نبی کی پیروی کرنا اور خود سے چلنے والی نسل کی ایسی تربیت کرنا جو دین نبی کی پیروی کرے اور سارے جہاں میں دین نبی کو پھیلائے.
ان شاء اللہ آنے والی نسل جو ہم سے چلے گی وہ بہتر ہو گی.
ہم اتنی بڑی دنیا میں چند گنی چنی لڑکیوں کو ہی تیار کر سکے پوری زندگی لگا کر تو بھی کوئی غم نہیں.
ہم پوری فوج نہیں تیار کر سکے تو کیا ہوا
کم از کم ہم تمام طالبات میں سے کوئی بھی ایک سلطان صلاح الدین ایوبی قوم کو دینے میں کامیاب ہو گئی تو ان شاء اللہ دنیا کے نقشے میں اسلامی ممالک کا جغرافیہ بدل جائے گا.
کیونکہ خود سلطان صلاح الدین ایوبی قوم کی عورتوں کو زندگی کا مقصد دئیے ہیں. سلطان فرماتے ہیں کہ
"تم مجھے بہترین مائیں دو میں تمہیں بہترین مجاہد دوں گا"
دوسری روایت میں ہے
"تم مجھے مومن مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا"
تو آج اس پُر فتن دور میں جب ایمان کے لُٹیرے قدم قدم پر موجود ہیں قوم مسلم کی لڑکیوں کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ ایمان والی رہ سکیں اور آگے جا کر جب وہ ماں بنے تو مومن بچے پیدا کرے اور ایسی نسل قوم کو دے جو مومن ہو یہ ہمارے جامعہ کا مقصد ہے.
ممبئی کی سرزمین پر خواتین کی تربیت کے لئے ایسا شاندار جامعہ جس نے قائم کیا ہے وہ میری عزیز از جان استاد "سلمی نوری" ہیں. جنہیں ہم "سلمی باجی" کہہ کر مخاطب کرتے ہیں. جنہوں نے وقت کے اکابر علمائے کرام سے (شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے) تعلیم حاصل کی ہے. حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کی مریدہ ہیں جن پر نگاہ مفتی اعظم کی ایسی جلوہ گری ہوئی کہ ایسا عظیم الشان ادارہ نہ صرف قائم کیا بلکہ تعلیم و تربیت کے نظام کو ایسا بہترین بنایا کہ ایسے پُرفتن دور میں لڑکیوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف رغبت حاصل ہو رہی ہے.
ہمیں ایسی تربیت دی کہ ہم موڈرن زمانے کے سامنے احساس کمتری کا شکار نہیں ہیں بلکہ اعتماد کی دولت سے مالا مال ہیں.
عالمی سیاست، انسانی نفسیات جیسے اہم مضامین کی طرف نہ صرف توجہ دی باجی نے بلکہ اپنی طالبات کو اس کی تعلیم بھی دی ہے.
یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہم کنویں کے مینڈک نہیں بنے بلکہ اس وسیع ترین دنیا میں ہلچل مچانے کے قابل ہوئے ہیں الحمدللہ .
جوان لڑکیوں کا وہ طبقہ جو اسکول، کالج، یونیورسٹی سے تعلق رکھتی ہیں، جو کہیں جوب کرتی ہیں ان کے لیے چھٹیوں میں یہ تربیتی نشست رکھی جاتی ہے. جس میں خواتین کو فرض علوم سکھائے جاتے ہیں. فقہی مسائل ، تاریخ، سیرت، موجودہ زمانے میں اسلام کو درپیش چیلنجز کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے.
اس مختصر سی چند روزہ نشست سے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں.
کم از کم ہم قوم مسلم کی جوان لڑکیوں کو سوچنے پر مجبور کر پاتے ہیں کہ ان کی اصل اسلام ہے.
ہم انہیں سوچنے پر مجبور کر پاتے ہیں کہ انہیں اپنے دین کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے. کم از کم اتنا ہی کر لیں کہ ہماری ذات سے ہمارے دین پر انگلی نہ اٹھے.
کم از کم ہم اتنا کر پاتے ہیں کہ لڑکیوں کے وضو، غسل و نماز کو صحیح کر دیں. زندگی میں وہ جب بھی نماز کی طرف جائیں تمام شرعی شرائط کے ساتھ جائیں.
اس طرح کے چند روزہ کیمپ پوری چھٹیوں میں الگ الگ علاقے میں ایک کے بعد ایک منعقد ہوتے ہیں. الحمد للہ رب العالمین
اور ایسی تربیتی نشست کے نتیجے میں جو بہترین فائدہ ہمیں حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ ذہین ترین لڑکیاں دستیاب ہوتی ہیں جو کیمپ سے متاثر ہو کر مدرسے تک آتی ہیں اور علم دین حاصل کرتی ہیں. اور کچھ سالوں کے بعد جب پڑھائی مکمّل ہوتی ہے تو قوم کو ایک ایسی ذہین ترین عالمہ دستیاب ہوتی ہے جو دینی علوم میں بھی اعلی درجے کی ہوتی ہے اور دنیاوی معاملات پر بھی اپنی گرفت مضبوط رکھتی ہے.
جامعہ نظامیہ صالحات سے سند فراغت حاصل کرنے والی خوش نصیب عالمات مسلک اعلی حضرت (مسلک اہلِ سنت) کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقے میں بہترین دینی خدمات انجام دے رہی ہیں.
بڑے بڑے مدارس، دارالعلوم جن کے زیر نگرانی چلتے ہیں.
سوشل میڈیا پر جن کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے.
بیرون ملک بھی سنی خواتین کا ایک بڑا نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں.
جامعہ میں شریعت کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس، عبادت و ریاضت کے علاوہ لڑکیوں کو حقیقی لڑکی بننے کی تربیت بھی کی جاتی ہے یعنی گھرداری کی بھی تربیت کی جاتی ہے.
ہوسٹل میں رہنے والی طالبات کو ہر اس کام کی تربیت دی جاتی ہے جو ان کو گھریلو ذمہ داری اٹھانے کے قابل بنا سکے.
حرام و حلال کی تمیز خصوصی طور پر سکھائی جاتی ہے تاکہ پاکیزہ و حلال خون رگوں میں لیے ہوئے بچے قوم کو دستیاب ہو سکیں
جامعہ سے سند فراغت پانے والی ہر طالبہ اس قابل ہوتی ہے کہ اپنے گھر کو بھی بخوبی چلا سکے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے جیسی کئی لڑکیوں کو تیار کر سکے.
ہر لڑکی کو ایک مقصد دیا جاتا ہے زندگی کا.
دین نبی کی پیروی کرنا اور خود سے چلنے والی نسل کی ایسی تربیت کرنا جو دین نبی کی پیروی کرے اور سارے جہاں میں دین نبی کو پھیلائے.
ان شاء اللہ آنے والی نسل جو ہم سے چلے گی وہ بہتر ہو گی.
ہم اتنی بڑی دنیا میں چند گنی چنی لڑکیوں کو ہی تیار کر سکے پوری زندگی لگا کر تو بھی کوئی غم نہیں.
ہم پوری فوج نہیں تیار کر سکے تو کیا ہوا
کم از کم ہم تمام طالبات میں سے کوئی بھی ایک سلطان صلاح الدین ایوبی قوم کو دینے میں کامیاب ہو گئی تو ان شاء اللہ دنیا کے نقشے میں اسلامی ممالک کا جغرافیہ بدل جائے گا.
کیونکہ خود سلطان صلاح الدین ایوبی قوم کی عورتوں کو زندگی کا مقصد دئیے ہیں. سلطان فرماتے ہیں کہ
"تم مجھے بہترین مائیں دو میں تمہیں بہترین مجاہد دوں گا"
دوسری روایت میں ہے
"تم مجھے مومن مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا"
تو آج اس پُر فتن دور میں جب ایمان کے لُٹیرے قدم قدم پر موجود ہیں قوم مسلم کی لڑکیوں کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ ایمان والی رہ سکیں اور آگے جا کر جب وہ ماں بنے تو مومن بچے پیدا کرے اور ایسی نسل قوم کو دے جو مومن ہو یہ ہمارے جامعہ کا مقصد ہے.
ممبئی کی سرزمین پر خواتین کی تربیت کے لئے ایسا شاندار جامعہ جس نے قائم کیا ہے وہ میری عزیز از جان استاد "سلمی نوری" ہیں. جنہیں ہم "سلمی باجی" کہہ کر مخاطب کرتے ہیں. جنہوں نے وقت کے اکابر علمائے کرام سے (شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے) تعلیم حاصل کی ہے. حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کی مریدہ ہیں جن پر نگاہ مفتی اعظم کی ایسی جلوہ گری ہوئی کہ ایسا عظیم الشان ادارہ نہ صرف قائم کیا بلکہ تعلیم و تربیت کے نظام کو ایسا بہترین بنایا کہ ایسے پُرفتن دور میں لڑکیوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف رغبت حاصل ہو رہی ہے.
ہمیں ایسی تربیت دی کہ ہم موڈرن زمانے کے سامنے احساس کمتری کا شکار نہیں ہیں بلکہ اعتماد کی دولت سے مالا مال ہیں.
عالمی سیاست، انسانی نفسیات جیسے اہم مضامین کی طرف نہ صرف توجہ دی باجی نے بلکہ اپنی طالبات کو اس کی تعلیم بھی دی ہے.
یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہم کنویں کے مینڈک نہیں بنے بلکہ اس وسیع ترین دنیا میں ہلچل مچانے کے قابل ہوئے ہیں الحمدللہ .
باجی خود بھی ایک بہترین مدرس، بہترین مقرر اور بہترین مصنف ہیں. اور ان کی طالبات میں بھی غور و فکر کر کے جو جس قابل ہوتا ہے وہ صلاحیت کو تربیت کے ذریعے اجاگر کرتے ہیں.
.
اللہ رب العزت میری استاد "سلمی باجی" کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے. انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے. ان کے تمام جائز مقاصد جو انہوں نے سوچ رکھے ہیں وہ پایہ تکمیل تک پہنچائے. ہم تمام طالبات کو تا قیامت باجی کے لیے صدقہ جاریہ بنائے. اللہ رب العزت دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں میری عزیز از جان استاد کو عطا فرمائے. ایمان و اسلام پر شہادت کی عزت والی موت عطا فرمائے اور جنت البقیع کو مدفن بنائے. آمین یا رب العالمین
ہمارے اس جامعہ نظامیہ صالحات کے لیے جانشینِ مفتی اعظم حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ بھی خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے. جامعہ کی خدمات پر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے. مہمان بن کر جامعہ کو شرف میزبانی بھی عطاء فرمایا کرتے تھے. الحمد للہ
اللہ رب العزت اس تربیتی نشست میں حصہ لینے والی تمام عالمات و طالبات و اراکین و منتظمین کو بہترین اجر عطا فرمائے
دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں ان کو عطا فرمائے
آمین یا ذالجلال والاکرام
کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نام رضا تم پہ کروڑوں درود
تحریر : عروہ فاطمہ قادری رضوی
نوٹ:
میری ان تمام بھائیوں سے گزارش ہے جن کے گھر میں لڑکیاں ہیں کہ اپنی بچیوں کو کم از کم ایک سال کے لئے ہی سہی جامعہ نظامیہ صالحات میں ضرور بھیجیں تاکہ وہ اپنے آپ کو سنبھال سکے، خود کو سدھار سکے، کم از کم اتنا علم حاصل کر لے جتنا اس پر فرض ہے. اور اگر مکمّل تعلیم حاصل کر لے تو اپنے والدین کے لئے صدقہ جاریہ بن جائے.
جامعہ کی معلومات رضا اکیڈمی ممبئی کے اراکین سے حاصل کی جا سکتی ہے. رضا اکیڈمی ممبئی کے کونٹیکٹ نمبر ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں.
اس تحریر کو
شیئر کر دیجئے سوشل میڈیا پر پلیز
( ✍ عروہ فاطمہ )
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
.
اللہ رب العزت میری استاد "سلمی باجی" کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے. انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے. ان کے تمام جائز مقاصد جو انہوں نے سوچ رکھے ہیں وہ پایہ تکمیل تک پہنچائے. ہم تمام طالبات کو تا قیامت باجی کے لیے صدقہ جاریہ بنائے. اللہ رب العزت دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں میری عزیز از جان استاد کو عطا فرمائے. ایمان و اسلام پر شہادت کی عزت والی موت عطا فرمائے اور جنت البقیع کو مدفن بنائے. آمین یا رب العالمین
ہمارے اس جامعہ نظامیہ صالحات کے لیے جانشینِ مفتی اعظم حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ بھی خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے. جامعہ کی خدمات پر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے. مہمان بن کر جامعہ کو شرف میزبانی بھی عطاء فرمایا کرتے تھے. الحمد للہ
اللہ رب العزت اس تربیتی نشست میں حصہ لینے والی تمام عالمات و طالبات و اراکین و منتظمین کو بہترین اجر عطا فرمائے
دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں ان کو عطا فرمائے
آمین یا ذالجلال والاکرام
کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نام رضا تم پہ کروڑوں درود
تحریر : عروہ فاطمہ قادری رضوی
نوٹ:
میری ان تمام بھائیوں سے گزارش ہے جن کے گھر میں لڑکیاں ہیں کہ اپنی بچیوں کو کم از کم ایک سال کے لئے ہی سہی جامعہ نظامیہ صالحات میں ضرور بھیجیں تاکہ وہ اپنے آپ کو سنبھال سکے، خود کو سدھار سکے، کم از کم اتنا علم حاصل کر لے جتنا اس پر فرض ہے. اور اگر مکمّل تعلیم حاصل کر لے تو اپنے والدین کے لئے صدقہ جاریہ بن جائے.
جامعہ کی معلومات رضا اکیڈمی ممبئی کے اراکین سے حاصل کی جا سکتی ہے. رضا اکیڈمی ممبئی کے کونٹیکٹ نمبر ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں.
اس تحریر کو
شیئر کر دیجئے سوشل میڈیا پر پلیز
( ✍ عروہ فاطمہ )
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻