🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Taziya : Murawwaja Taziyadari Najayezo Haraam Hai, Hawale Mulahiza Farmayein : تعزیہ : مروجہ تعزیہ داری ناجائز و حرام ہے، حوالے ملاحظہ فرمائیں: ताज़िया : मुरव्वजा ताज़ियादारी ना जाइज़ो हराम है, हवाले मुलाहिज़ा फरमायें। (1) فتاوی عزیزی، ص184 (2) ایضاً، ص186 (3)…
*مروجہ تعزیہ داری پر فرضی دلائل اور امام اہلسنت کا جواب*
تعزیہ داروں کی سب سے مضبوط دلیل کا حال
---------قسط اول - - - - - - - - - - - - -
امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت سے سوال ہوا کہ
▪ *ملفوظات حضرت سیدعبدالرزاق ہانسوی قدس سرہ میں یہ حکایتیں ہیں یانہیں؟*
*(۱) محرم کی دس تھی کہ حضرت مولاناممدوح ایک تعزیہ کے ساتھ ہولئے جو جلاہوں کاتھا اور مصنوعی کربلا میں دفن ہونے کے لئے لوگ لئے جاتے تھے آپ کی وجہ سے اورخدام ومریدین بھی ساتھ ہولیے کربلا تک ساتھ ساتھ رہے بلکہ دیر تک قیام فرمایا کچھ دنوں بعد بعض خاص مریدین نے پوچھا تو فرمایا کہ مجھے تعزیوں سے کچھ مطلب نہیں ہم تو امام عالی مقام کو دیکھ کر ساتھ ہولئے تھے کہ ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا*
۔(۲) انہیں بزرگ کاقصہ ہے کہ ایک دن عاشورہ کومسجد میں بیٹھے وضوکررہے تھے ٹوپی مبارک فصیل پر رکھی تھی کہ یکایک اسی طرح سربرہنہ نیچے تشریف لے آئے اور ایک تعزیہ کے ساتھ ہولئے اس دفعہ لوگوں نے دریافت کیا توفرمایا کہ حضرت سیدۃ النساء تشریف فرماتھیں۔
*دونوں کہاں تک صحیح ہیں؟*
*اب اہلسنت کی جان امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کا جواب ملاحظہ فرمائیں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
*الجواب: دونوں حکایتیں محض غلط وبے اصل ہیں،*
*تعزیہ دار واقعہ کیوں بناتے ہیں؟*
اعلی حضرت فرماتے ہیں کہ
*تعزیہ داروں کو نہ کوئی دلیل شرعی ملتی ہے نہ کسی معتمد کاقول، مجبورانہ حکایت بناتے ہیں،*
*واقعہ بزرگوں کے نام سے ہی بناتے ہیں دیکھو امام اہلسنت فرماتے ہیں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
*اسی ساخت کی حکایت کوئی شاہ عبدالعزیز صاحب سے نقل کرتاہے، کوئی مولانا شاہ عبدالمجیدصاحب سے، کوئی حضرت مولانا فضل رسول صاحب سے، کوئی مولوی فضل الرحمن سے، کوئی میرے حضرت جدامجد سے، رحمۃ ﷲ علیہم، اور سب باطل ومصنوع ہیں۔*
*خود امام اہلسنت کی جانب آپ کی حیات طیبہ ہی میں جھوٹ منسوب کردیا گیا*
دیکھو آپ فرماتے ہیں
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
میں توابھی زندہ ہوں میری نسبت کہہ دیا کہ ہم نے اسے تعزیہ شاید عَلَم بتائے کہ ان کے ساتھ جاتے دیکھا اور اس حکایت کاکذب تو خود اسی سے روشن کہ فرمایا: ''مجھے تعزیوں سے کچھ مطلب نہیں ہم توامام عالی مقام کودیکھ کر ساتھ ہولئے تھے کہ ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا''۔
سبحان ﷲ! جب تعزیے ایسے معظم ومقبول ومحبوب بارگاہ ہیں کہ خود حضور پرنورامام انام علٰی جدہ الکریم ثم علیہ الصلوٰۃ والسلام بنفس نفیس ان کی مشایعت فرماتے ہیں، ان کے ساتھ چلتے ہیں تو ان سے کچھ مطلب نہ ہونا ﷲ عزوجل کے محبوب ومعظم سے مطلب نہ ہوناہے جوولی تو ولی کسی مسلمان کی شان نہیں۔ پھرآگے تتمہ کلام ملاحظہ ہو کہ ''اُن کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا'' یہ کاف بیانیہ توہونہیں سکتا ضرور تعلیلیہ ہے یعنی حضرت امام کے ساتھ ہونے پربھی کچھ توجہ نہ ہوتی مگر کیاکیجیے ان کے ساتھ مجمع اولیاء تھا لہٰذا شامل ہوناپڑا۔ عیب بھی کرنے کوہنرچاہئے
*اعلی حضرت کے متعلق یہ افواہ تعزیہ داروں نے آپ کی حیات ہی میں اڑائی اڑائی کہ آپ نے تعزیہ کو جائز کردیا ہے*
فرماتے ہیں
، ہاں خوب یاد آیا ۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۷ھ کوتلہر سے ایک سوال آیاتھا کہ تُونے تعزیہ داری کوجائزکردیاہے اس خبرکی کیاحقیقت ہے؟
ایک رافضی بڑے فخر سے اس روایت کونقل کرتاہے
*اور دوسری افواہ یہ*
کہ
ایضاً تیرا اوردیگر چندعلمائے بریلی کافتوٰی تیارہوا ہے کہ آیت تطہیر کے تحت میں ازواج مطہرات داخل نہیں، اس فتوٰی کی نقل اس رافضی کے پاس دیکھنے میں آئی ہے فقط، اب فرمائیے اس سے بڑھ کر اورکیاثبوت درکار، جب زندوں کے ساتھ یہ برتاؤ ہے تواحیائے عالم برزخ کی نسبت جوہوکم ہے۔ وﷲ تعالٰی اعلم
📚 فتاوی رضویہ جلد 24 ص 105
جاری ہے......... موبائل اپلیکیشن
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
*نوٹ. مضمون مِن و عَن عام کریں کسی بھی قسم کی کمی بیشی کی اجازت نہیں*
--------------------------------------
رد فرقہائے باطلہ(وہابی دیوبندی. رافضی وغیرہ) اور تحفظ عقائد و معمولات اہلسنت کے لئے جوائن کریں *صدائے حق*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02xuYakUBT686iNG8GFamTTCdgMiWdSRPWBD2wrsczXYi3g3ryipjfe6abb4bArw9Fl&id=100005157704773
تعزیہ داروں کی سب سے مضبوط دلیل کا حال
---------قسط اول - - - - - - - - - - - - -
امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت سے سوال ہوا کہ
▪ *ملفوظات حضرت سیدعبدالرزاق ہانسوی قدس سرہ میں یہ حکایتیں ہیں یانہیں؟*
*(۱) محرم کی دس تھی کہ حضرت مولاناممدوح ایک تعزیہ کے ساتھ ہولئے جو جلاہوں کاتھا اور مصنوعی کربلا میں دفن ہونے کے لئے لوگ لئے جاتے تھے آپ کی وجہ سے اورخدام ومریدین بھی ساتھ ہولیے کربلا تک ساتھ ساتھ رہے بلکہ دیر تک قیام فرمایا کچھ دنوں بعد بعض خاص مریدین نے پوچھا تو فرمایا کہ مجھے تعزیوں سے کچھ مطلب نہیں ہم تو امام عالی مقام کو دیکھ کر ساتھ ہولئے تھے کہ ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا*
۔(۲) انہیں بزرگ کاقصہ ہے کہ ایک دن عاشورہ کومسجد میں بیٹھے وضوکررہے تھے ٹوپی مبارک فصیل پر رکھی تھی کہ یکایک اسی طرح سربرہنہ نیچے تشریف لے آئے اور ایک تعزیہ کے ساتھ ہولئے اس دفعہ لوگوں نے دریافت کیا توفرمایا کہ حضرت سیدۃ النساء تشریف فرماتھیں۔
*دونوں کہاں تک صحیح ہیں؟*
*اب اہلسنت کی جان امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کا جواب ملاحظہ فرمائیں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
*الجواب: دونوں حکایتیں محض غلط وبے اصل ہیں،*
*تعزیہ دار واقعہ کیوں بناتے ہیں؟*
اعلی حضرت فرماتے ہیں کہ
*تعزیہ داروں کو نہ کوئی دلیل شرعی ملتی ہے نہ کسی معتمد کاقول، مجبورانہ حکایت بناتے ہیں،*
*واقعہ بزرگوں کے نام سے ہی بناتے ہیں دیکھو امام اہلسنت فرماتے ہیں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
*اسی ساخت کی حکایت کوئی شاہ عبدالعزیز صاحب سے نقل کرتاہے، کوئی مولانا شاہ عبدالمجیدصاحب سے، کوئی حضرت مولانا فضل رسول صاحب سے، کوئی مولوی فضل الرحمن سے، کوئی میرے حضرت جدامجد سے، رحمۃ ﷲ علیہم، اور سب باطل ومصنوع ہیں۔*
*خود امام اہلسنت کی جانب آپ کی حیات طیبہ ہی میں جھوٹ منسوب کردیا گیا*
دیکھو آپ فرماتے ہیں
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
میں توابھی زندہ ہوں میری نسبت کہہ دیا کہ ہم نے اسے تعزیہ شاید عَلَم بتائے کہ ان کے ساتھ جاتے دیکھا اور اس حکایت کاکذب تو خود اسی سے روشن کہ فرمایا: ''مجھے تعزیوں سے کچھ مطلب نہیں ہم توامام عالی مقام کودیکھ کر ساتھ ہولئے تھے کہ ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا''۔
سبحان ﷲ! جب تعزیے ایسے معظم ومقبول ومحبوب بارگاہ ہیں کہ خود حضور پرنورامام انام علٰی جدہ الکریم ثم علیہ الصلوٰۃ والسلام بنفس نفیس ان کی مشایعت فرماتے ہیں، ان کے ساتھ چلتے ہیں تو ان سے کچھ مطلب نہ ہونا ﷲ عزوجل کے محبوب ومعظم سے مطلب نہ ہوناہے جوولی تو ولی کسی مسلمان کی شان نہیں۔ پھرآگے تتمہ کلام ملاحظہ ہو کہ ''اُن کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا'' یہ کاف بیانیہ توہونہیں سکتا ضرور تعلیلیہ ہے یعنی حضرت امام کے ساتھ ہونے پربھی کچھ توجہ نہ ہوتی مگر کیاکیجیے ان کے ساتھ مجمع اولیاء تھا لہٰذا شامل ہوناپڑا۔ عیب بھی کرنے کوہنرچاہئے
*اعلی حضرت کے متعلق یہ افواہ تعزیہ داروں نے آپ کی حیات ہی میں اڑائی اڑائی کہ آپ نے تعزیہ کو جائز کردیا ہے*
فرماتے ہیں
، ہاں خوب یاد آیا ۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۷ھ کوتلہر سے ایک سوال آیاتھا کہ تُونے تعزیہ داری کوجائزکردیاہے اس خبرکی کیاحقیقت ہے؟
ایک رافضی بڑے فخر سے اس روایت کونقل کرتاہے
*اور دوسری افواہ یہ*
کہ
ایضاً تیرا اوردیگر چندعلمائے بریلی کافتوٰی تیارہوا ہے کہ آیت تطہیر کے تحت میں ازواج مطہرات داخل نہیں، اس فتوٰی کی نقل اس رافضی کے پاس دیکھنے میں آئی ہے فقط، اب فرمائیے اس سے بڑھ کر اورکیاثبوت درکار، جب زندوں کے ساتھ یہ برتاؤ ہے تواحیائے عالم برزخ کی نسبت جوہوکم ہے۔ وﷲ تعالٰی اعلم
📚 فتاوی رضویہ جلد 24 ص 105
جاری ہے......... موبائل اپلیکیشن
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
*نوٹ. مضمون مِن و عَن عام کریں کسی بھی قسم کی کمی بیشی کی اجازت نہیں*
--------------------------------------
رد فرقہائے باطلہ(وہابی دیوبندی. رافضی وغیرہ) اور تحفظ عقائد و معمولات اہلسنت کے لئے جوائن کریں *صدائے حق*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02xuYakUBT686iNG8GFamTTCdgMiWdSRPWBD2wrsczXYi3g3ryipjfe6abb4bArw9Fl&id=100005157704773
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-12-1443 ᴴ | 29-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-12-1443 ᴴ | 30-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍3❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مفتی
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ
یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ
جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔
ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔
صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔
۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔
آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔
عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔
سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ
یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ
جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔
ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔
صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔
۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔
آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔
عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔
سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔
❤2👍1