🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-12-1443 ᴴ | 26-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-12-1443 ᴴ | 26-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰه عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔
کنیت: ابوالحفص۔
لقب: فاروق اعظم۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے:
عمر بن خطاب ، بن فضیل ، بن عبدالغریٰ ، بن ریاح ، بن عبداللہ ، بن فرط ، بن زراح ، بن عدی ، بن کعب ، بن لوی ۔

آپ کی والدہ کا نام:
حنتمہ بنت ہشام ، بن مغیرہ ، بن عبداللہ ، بن عمرو بن مخزوم ، بن یقظہ ، بن مرہ ، بن کعب ۔ یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی چچا زاد بہن تھیں ۔ آپ کا نسب والد کی طرف سے حضور ﷺ کے نسب نامہ کعب پر ملتا ہے ۔ ( شریف التواریخ ۔ الفاروق )

تاریخِ ولادت:
آپ واقعہ فیل کے 13 سال بعد پیدا ہوئے ۔ ( تاریخ الخلفاء : 265 ، خزینۃ الاصفیا : 522 )

قبولِ اسلام:
رسول اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: " اللھم اعز الاسلام بعمر ابن الخطاب " (الصواعق المحرقہ ،ص،331) تو اس اعتبار سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مرادِ مصطفیٰ ﷺ ہیں ۔ بعثتِ رسول پا ک ﷺ کے چھٹے سال اور حضرت امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے تین دن بعد ایمان لائے۔

آپ چالیسویں مسلمان تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبول اسلام کی خوشی میں مسلمانوں نے بآواز بلند نعرۂ تکبیر لگایا جس سے پوری وادی گونج اٹھی۔ اور حضرت جبریل امین باگاہ رسالت پناہ ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آج آسمان والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کی خوشی منا رہے ہیں اور آپکو مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔

جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: ” یا ایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین “ ترجمٔہ کنز الایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے ۔ (سورۃ الانفال ، آیت 63)

فضائل و مناقب:
حضور ﷺ نے فرمایا: کہ پہلی اُمتوں میں " محدَّثین " ( اللہ تعالیٰ انکو حق بات کا الہام کرتا ہے اور انکی زبان پر حق جاری فرماتا ہے) ہوا کرتے تھے اور میری امت میں عمر رضی اللہ عنہ ایسے شخص ہیں جن کی زبان سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے ۔ (الصواعق المحرقہ:335)

جس معاملہ میں صحابہ گفتگو کرتے تھے، حکمِ الٰہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوا کرتا تھا ۔ قرآن مجید کی متعدد آیات مبارکہ اس پر شاہد ہیں۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
" اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے " ۔ (جامع ترمذی ، ج:2 ، ص:563) ـ یعنی جو اوصاف اللہ کے نبی میں ہوتے ہیں وہ تمام کے تمام حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں موجود تھے ، سبحان اللہ ، ایسی عظیم اور عبقری شخصیت۔

خلافتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے: سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ڈول میں نے کنویں میں ڈالا اور اس سے پانی کھینچنے لگا اور اس وقت تک پانی کے ڈول کھینچتا رہا جب تک اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پانی کھینچنے لگے۔ ابھی آپ نے دو ایک ڈول کھینچے تھے کہ تھک گئے۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ڈول کھینچنے لگے۔ میں نے آپ سے زیادہ طاقت وَر کوئی نہیں دیکھا تھا۔ آپ نے تمام حوض کو پانی سے بھر دیا اور خلقِ خدا کو سیراب کر دیا ۔ (صحیح بخاری،حدیث ،۳۶۸۲)

یہ عہدِ خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ تھا۔ آپ نے فارس کے ہزاروں شہر اور قصبے فتح کیے اور بے پناہ لوگ دامنِ اسلام میں آئے۔

مدتِ خلافت:
بروز منگل 27 جمادی الآخر 13ھ کو آپ مسندِ خلافت پر بیٹھے۔ آپ کی مدتِ خلافت دس سال آٹھ ماہ تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دس سالوں میں 22 لاکھ مربع میل کا علاقہ بغیر آرگنائزڈ آرمی کے فتح کیا۔ آپ کی ان فتوحات میں اس وقت کی دو سُپر پاور طاقتیں روم اور ایران بھی شامل ہیں۔ آج سیٹلائٹس میزائلز اور آبدوزوں کے دور میں دنیا کے کسی حکمراں کے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دنیا کو ایسے سسٹم دئیے جو آج تک دنیا میں موجود ہے۔

آپ کی شہادت:
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ دعا مانگا کرتے تھے .... اللھم ارزقنی شھادۃفی سبیلک واجعل موتی ببلدِ رسولک ﷺ ۔ (مؤطا امام مالک ،حدیث ،۹۳۴) ـ یعنی اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب فرما اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر فرما۔

اللہ تعالیٰ نے مدینے میں ہی شہادت عطا کر کے نبی ﷺ کے قدموں میں جگہ بھی عطا فرما دی۔ آپ ان تین زخموں سے واصلِ بحق ہوئے جو ایک بد نہاد ابو لولؤ فیروز مجوسی نے دھوکے سے لگائے تھے۔

تاریخِ شہادت:
آپ کی تاریخِ شہادت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔
امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں: ابو عبیدہ بن جراح کا بیان ہے کہ حضرت عمر بدھ کے دن 26 ذی الحجہ 23 ہجری کو شہید ہوئے اور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 310 )
3👍1
اور ان کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت 29 ذی الحجہ سنہ 23 ہجری کو ہوئی، اور محرم الحرام 24ھ کی یکم کو آپکی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اسی طرح 28 ، 29 ذو الحجہ اور 1 محرم کی روایات بھی ملتی ہیں۔

ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ الفاروق ۔ ابن کثیر ۔ طبقاتِ ابنِ سعد ۔

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/2nd-caliph-of-islam-hazrat-umar-farooq
Copyright © Zia-e-Taiba
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍1
سیدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ
...
سوال : کس صحابی کی رائے کے موافق قرآنِ پاک کی کئی آیتیں نازل ہوئیں؟

جواب: وہ صحابی حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں جن کی رائے کے موافق تقریباً20آیاتِ طیّبہ نازل ہوئیں۔حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: بے شک قرآنِ کریم میں حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رائے کے موافق احکام موجود ہیں۔

سوال : حدیثِ پاک میں شانِ فاروق اعظم کس طرح بیان کی گئی ہے ؟

جواب : احادیثِ طیّبہ میں حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کثیرفضائل وارد ہیں جن میں ایک عظیم فضیلت حضور نبی کریم ، رءُوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں بیان فرمائی: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔“([2])

سوال : حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت و لقب کیا ہے اور آپ کب پیدا ہوئے؟

جواب : آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت ”ابو حفص“ اور لقب ”فاروق“ ہے۔آپ عامُ الفیل کے تیرہ سال بعد مطابق ۵۸۳عیسوی پیدا ہوئے۔([3])

سوال : حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مُرادِ رسول کیوں کہتے ہیں؟

جواب : حضوررَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عزتِ اسلام کے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہِ الہٰی سے مانگا تھااور یوں دعا فرمائی تھی: ”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! خصوصاً عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔“([4])

سوال : حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسلام اور مسلمانوں کو کیسے تقویت پہنچائی؟

جواب : حضرت سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اسلام لانے کے بعدحضورنبیِّ مکرم، شفیعِ معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر حرمِ مکہ میں عَلانیہ نماز ادا فرمائی، یوں آپ کے قبولِ اسلام سے اسلام ومسلمانوں کو تقویت حاصل ہوئی۔([5])

سوال : حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکومُتَمِّمُ الْاَرْبَعِینکیوں کہتے ہیں؟

جواب : مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِین کا مطلب ہے کہ40 کا عدد پورا کرنے والےچونکہ حضرت سیدناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چالیسویں مسلمان تھے لہٰذا آپ کو اس لقب سے بھی یاد کیا جاتاہے۔([6])

سوال : حضرت سیدنا عمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخلیفہ کب بنے اور کتناعرصہ خلیفہ رہے؟

جواب : امیرالمومنین حضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۲۲جمادی الاُخریٰ 13سنِ ہجری بروز منگل منصبِ خلافت پر فائز ہوئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خلافت دس سال، پانچ ماہ اور اکیس دن رہی۔([7])

سوال : سب سے پہلے ”امیر المومنین “کس خلیفہ کو کہا گیا؟

جواب : سب سے پہلےحضرت سیدناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو امیر المومنین کہا گیا۔([8])

سوال : حضرت سیدنا عمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرعایا کے ساتھ کیسا برتاؤ فرماتے؟

جواب : آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی عادتِ مبارَکہ تھی کہ اپنی رعایا کی ہروقت خبر گیری فرماتے رہتے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرات کے وقت مدینہ منورہ کا دورہ فرماتے اگر کوئی حاجت مند دکھائی دیتا تو اس کی مدد کرتے۔([9])

سوال : دورِ فاروقی میں کتنے شہر فتح ہوئے اورکتنی مساجد تعمیر ہوئیں ؟

جواب : روضۃ الاحباب میں ہے کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دور میں ایک ہزارچھتیس(1036) شہر مع مَضافات فتح ہوئے، چار ہزار(4000) مساجد کی تعمیر ہوئی۔([10])

سوال دورِ فاروقی کی کثیر فتوحات کا اندازہ کس چیز سے لگایا جاسکتا ہے؟

جواب حضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مبارک دور میں مسلمانوں کی کثیر فتوحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے عہد ِخلافت میں سلطنتِ اسلامیہ میں 13لاکھ نو ہزار پانچ سو ایک مربع میل کا اضافہ ہوا۔([11])

سوال : حضرت سیدناعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کب ہوئی اور آپ کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی؟

جواب: نمازِ فجر میں ابولؤ لؤ فیروز مجوسی کے حملے کے نتیجہ میں 63 سال کی عمر میں یکم محرم الحرام ۲۴سنِ ہجری کوحضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت ہوئی اور آپ کی نمازَجنازہ حضرت سیدناصہیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پڑھائی۔

پیشکش : نعت اکیڈمی

1 سیرۃ حلبیۃ، باب الھجرۃ الاولی الی ارض الحبشۃ الخ، ۱/۴۷۴۔
1👍1
2 ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص الخ، ۵/ ۳۸۵، حدیث:۳۸۰۶۔
3 تاریخ الخلفاء، ص۱۰۸- ۱۱۴۔
1 ابن ماجہ، کتاب السنۃ، فضل عمر بن الخطاب، ۱/ ۷۷ ، حدیث:۱۰۵۔
2 طبقات ابن سعد، ومن بنی عدی بن کعب بن لؤی، عمر بن الخطاب، ۳/۲۰۴۔
3 نوادر الاصول، الاصل الحادی والاربعون والمائتان، ۲/۹۱۵، تحت رقم:۱۲۰۹۔
4 طبقات ابن سعد، عمر بن الخطاب، ۳/۲۰۸- ۲۷۸، رقم:۵۶۔
1 الادب المفرد ، باب التسلیم علی الامیر، ص۲۶۴، رقم:۱۰۲۳۔
2 فیضان فاروق اعظم ، ۲/ ۱۲۰-۱۲۴۔
3 فتاوی رضویہ ، ۵/۵۶۰۔
4 فیضان فاروق اعظم، ۲/۶۸۶۔
1 طبقات ابن سعد، عمر بن الخطاب، ۳/۲۷۸- ۲۸۰، رقم:۵۶۔

#NaatAcademy

https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/3249151232017327/
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ

یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ

جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔

ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔

ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔

تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔ صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دارالعلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔

۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔

آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔

بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔

عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔

سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔

اندازِ مُطالعۂ کتب:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کا مطالعۂ کتب بھی جدا گانہ ہے جب مطالعہ فرماتے تو پنسل یا قلم پاس ہوتا تھا۔ اخبارات ، جرائد ، درسی کتابوں یا اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں، کسی جگہ کوئی اہم عبارت مل جاتی تو آپ اسے اپنی بیاض میں نقل فرمالیتے۔ قاضی شمس الدین احمد کا یہ انداز تا عمر باقی رہا۔ قطرہ قطرہ دریامی شود کے مصداق وہ بیاض اچھی خاصی ضخیم ہوگئی، جو کشکول جعفری کے نام سے ان کے شاگردوں کےدرمیان
2👍1
مشہور ہے۔ یقیناً وہ کشکول حقیقت و معلومات اور حقائق ومعارف کا خزانہ ہے۔

علم و فضل:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو علم کے ہر میدان میں دسترس حاصل تھی۔ فقہ ہو یا حدیث، منطق ہو یا فلسفہ، علمِ کلام ہو یا اصولِ فقہ، تاریخ ہو یا تنقید، تفسیر ہو یا علمِ تکسیر، ہر فن میں آپ سیر حاصل گفتگو فرماتے، اور معلومات کا دریا بہاتے۔ جس طرف آپکی نگاہ اٹھتی، مضامین کا تانتا بندھ جاتا اوروہ الفاظ وعبارت کا رُوپ دھار لیتے۔ صرف اتنا ہی ہیں بلکہ فصاحت وبلاغت کے سانچے میں ڈھل جاتے۔ اور قاضی شمس الدین احمد کی زبان سے جو الفاظ نکلتے وہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پھول ہوتے، اور اپنی بوئے عنبریں سے ہر طالب علم کی مشامِ جاں کو معطر کرتے۔

حدیث اس انداز سے پڑھاتے کہ "امام بخاری ومسلم" کی یاد تازہ ہوجاتی۔ اسماء الرجال پر گفتگو فرماتے تو راویوں کے حالات زندگی، ان کے علمی کمالات، طرزِ معاشرت اس طرح واضح فرماتے کہ" تہذیب التہذیب" کا جلوہ نگاہوں میں پھر جاتا۔ فقہ پر لب کشاہوتے تحقیقات وتدقیقات کا جلوۂ رنگیں بکھیرتے۔ ائمہ کے اختلافات پر ہر ایک کی سندیں اور مسائل کی ترجیحات بڑے ہی اچھوتے انداز میں بیان فرماتے فقہی حزئیات مفتی قاضی شمس الدین احمد کی نگاہوں میں روشن تھیں۔

تنقیدی نظریہ:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کی کیسی ذہانت وفطانت تھی؟ اللہ اللہ۔ جرأت و بے باکی آپ کےمزاج میں کوٹ کوٹ کر بھردی گئی تھی، ہر کسی کے سامنے اس کی غلطیوں کی نشان دہی فرمادیا کرتےتھے۔ تنقید آپ کی اچھی تھی اور بر ملا تنقید کیا کرتے تھے۔ کلام کے تجزیہ پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ ہرکسی کی اور ہر قسم کی بات تسلیم کرنےکے عادی نہ تھے جب تک کہ اس کی دلیل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ سعدی شیرازی کا یہ قول "ہرچہ گفتنی دلیلش بیار"

بار بار دہرایا کرتے اور جب دلیل سامنے آتی تو اس کے مقدمات کو پرکھتے۔ اس کے بعد کسی کو تسلیم کرنے کی باری آتی۔ اس اعتبار سے قاضی شمس الدین احمد کا تنقیدی شعور بلند وبالامعیاری تھا۔ آپ کی تنقید میں تعمیر زیادہ ہوتی۔ اس میں کہیں کہیں ظفر و مزاح سے کام لیتے جس سے تنقید کا رنگ و روغن دوبالا ہوجاتا اور سامعین کےلیے لطف و مزہ۔

امام احمد رضا کے متعلق تنقید:
مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی اس تنقیدی صلاحیت کے باوجود آپ کی نگاہ میں ایک ایسی شخصیت تھی جنہیں آپ تنقید سےالگ تھلگ تصور کرتےتھے، اور وہ ذات تھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ کی۔ آپ امام احمد رضا بریلوی کےمتعلق باربار فرمایا کرتےکہ:

‘‘میں اعلیٰ حضرت کو آنکھ بند کر کےجانتا ہوں اس لیے کہ انہوں نے جو مسائل کی تحقیق و تنفیح کی، بالکل صحیح  کی۔ اس میں چوں چرا کی کوئی  گنجائش نہیں ہے۔

آپ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا بے حد احترام کرتے، اس مرکزِ علم وفن کی بارگاہ میں علمی گفتگو فرماتے، لب کشا ہوتے تو ادب واحترام کے دائرہ میں، اور ادب واحترام کا یہ عالم ہوتا کہ کہیں ادب سے بات کرنے میں جھجکتے اور کہیں رُکتے۔ یہ تھا کمالِ ادب مرشدِ اعظم شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی باگاہ میں۔

تصانیف:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد تا حیات رشد وہدایت کا پیغام دیتے رہے، اور اپنی یادوں کےنقوش چھوڑے جن میں مندرجہ ذیل تصانیف یادگار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ❶ قانونِ شریعت حصہ اول، دوم ❷ قواعد النظر ❸ قواعد الاعراب ❹ کشکولِ جعفری

چند مشہور تلامذہ:
قاضی شمس الدین احمد کے شاگردوں میں کثیر تعداد، جو اب علمی درس گاہوں میں بیٹھ کر اُن سے حاصل کیے ہوئے جواہر ریزوں کو بکھیر رہے ہیں، اور صحیح علم وفن کو آباد کر رہے ہیں۔ چند تلامذہ کے اسماء گرامی درجِ ذیل ہیں:

❶ مولانا مفتی محمد اعظم رضوی ٹانڈوی شیخ الحدیث دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ❷ مولانا شمس الدین صدیقی رضوی صدر المدرسین مسعود العلوم چھوٹی تکیہ بہرائچ ❸ مولانا حسام الدین احمد ہشام صاحبزادہ وجانشین (جونپور) ❹ مولانا شمشاد حسین رضوی بھاگلپوری

انتقال پُر ملال:
یکم محرم الحرام ۱۴۱۰ھ کی وہ صبح کس قدر دل خراش اور روح فرسا ہوگی جس میں قاضی شمس الدین احمد کی جان جاں آفریں کے جوارِ رحمت میں گہری اور ابدی نیند سوگئی، اور جامِ وصال محبوب حقیقی نوش فرمایا۔۔۔۔ وقت وصال سینۂ مبارک پر حضرت امام غزالی قدس سرہٗ کی معرکۃ الآراء تصنیف کیمیائے سعادت کھلی رکھی تھی اور وہ بھی موت کا باب تھا [4] ۔

▬▬▬▬▬▬ حاشیہ ▬▬▬▬▬▬

[1] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴

[2] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴

[3] ۔قلمی یاد داشت مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی استاذ دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف

[4] ۔(الف) سہ ماہی دامنِ مصطفیٰ بریلی (مضمون مولانا شمشاد حسین رضوی) ص ۳۸ تا ۴۲ بابت محرم، صفر، ربیع الاول ؍اگست، ستمبر ،اکتوبر ۱۹۸۸؁ء ۱۴۰۸؁ھ

(ب) شمس الدین احمد رضوی، قاضی مفتی: قانونِ شریعت۔

نوٹ: تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے قانونِ شریعت جدید ایڈیشن۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ
1👍1