🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-12-1443 ᴴ | 21-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-12-1443 ᴴ | 21-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯️حضرت شیخ مادھو لال حسین لاہوری رحمۃ اللّٰه علیہ🕯️


نام و نسب: آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا نام شیخ حسین ہے، لیکن آپ مادھو لال کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کے والد کا نام کلسن رائے تھا، انہوں نے سلطان فیروز شاہ کے عہد میں اسلام قبول کیا اور ان کا نام شیخ عثمان رکھا گیا۔

ولادت: آپ 945ھ میں لاہور میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:جب آپ سات سال کے ہوئے مکتب میں بھیجے گئے، حافظ ابوبکر سے چھ پارے حفظ کئے،آپ نے شیخ سعداللہ سے تفسیر مدارک کا کچھ حصہ پڑھا، آپ تعلیم زیادہ دن جاری نہ رکھ سکے کیونکہ ایک ولیِ کامل کی نگاہ سے آپ علومِ ظاہری و باطنی سے سرفراز ہوئے۔

بیعت و خلافت: حضرت شیخ بہلول نے آپ کو مرید کیا اور خرقہ خلافت سے سرفراز فرمایا۔

سیرت و خصا ئص: آپ بڑے صاحب عشق و محبّت اور واقفِ ذوق و شوق تھے۔ آپ علیہ الرحمہ نے چھتیس سال عبادت، ریاضت اور مجاہدے میں گزارے۔ روزانہ ایک کلامِ پاک ختم کرنا آپ کا معمول تھا۔ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر نہایت پابندی سے حاضر ہوتے۔ رات تلاوت کلامِ پاک اورعبادت میں گزارتے، دریا کے کنارے اور حضرت گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پَرسکون، یک سوئی پاتے، صبح کی نماز سے فارغ ہوکر مکتب میں تفسیر کا درس لینے جاتے، وہاں عصرتک رہتے، عصر کی نماز کے بعد ذکر و فکر میں مشغول ہوتے، مغرب کی نماز ادا کرکے عشاء کی نماز تک نفل پڑھتے، بیماری کی حالت میں آپ کے معمولات میں فرق نہیں آتا تھا۔ آپ نے بارہ برس تک نہایت پابندی سے حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی، آخر اس حاضری کا صلہ آپ کو مل ہی گیا، ایک دن آپ حسبِ معمول مزار مبارک پر حاضر تھے کہ نورانی صورت نمودار ہوئی اور آپ سے فرمایا تم جانتے ہو، میں کون ہوں؟پھر خود ہی بتایا کہ۔ "میں علی ہجویری ہوں"۔ آپ کےحال پر نہایت لطف و کرم فرمایا، آپ کو نعمتِ باطنی سےمالا مال کر دیا، آپ کو ولایت عطا فرمائی اور شرابِ وحدت سے مدہوش و سرشار کیا اور فرمایا کہ: "یہ اس خدمت کا صلہ ہے، جو تم نے بارہ سال کی ہے"۔

وصال: آپ کا وصال 22 ذو الحجہ 1008 ھ بمطابق جولائی 1600ء میں ہوا۔ آپ کا مزار لاہور میں واقع ہے جو مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اولیائے پاک و ہند، تذکرہ اولیائے لاہور۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند شاہ محمد مصطفیٰ رضا خان نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے۔ والد ماجد نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص "نوری" فرماتے تھے۔ لقب: مفتیِ اعظم ہند ہے۔

آپ امامِ اہلسنت مجدد دین و ملت شیخ الاسلام امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے چھوٹےصاحبزادے ہیں۔

تاریخِ ولادت:
حضور مفتی اعظم قدس سرہ 22 / ذی الحجہ 1310ھ 7 / جولائی 1893ء بروز جمعہ بوقتِ صبح صادق دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کی جائے ولادت محلہ رضا نگر ، سودا گران شہر بریلی شریف ، یوپی انڈیا  ہے۔

تحصیلِ علم:
حضور مفتئ اعظم ہند قدس سرہٗ نے اصل تربیت تو اپنے والد ماجد امام احمد رضا قدس سرہٗ سے پائی۔ علوم دینیہ کی تکمیل بھی اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے کی۔

فراغت:
حضرت مفتی اعظم قدس سرہٗ ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۰ء میں بہ عمر اٹھارہ سال خدا داد ذہانت ، ذوقِ مطالعہ، لگن اور محنت اساتذہ کرام کی شفقت ورافت ، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہٗ کی توجہ کامل اور شیخ مکرم سید المشائخ قدس سرہٗ کی عنایات کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہل سنت دار العلوم منظر اسلام  بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی۔

بیعت و خلافت:
25 جمادی الثانی 1311ھ چھ ماہ تین یوم کی عمر شریف میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔

مرشد کامل کی بشارت:
سید المشائخ نے حضرت مفتیِ اعظم کو بیعت کرتے وقت ارشاد فرمایا: "یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گا۔ اور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا۔ یہ بچہ ولی ہے۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گم راہ انسان دین حق پر قائم ہوں گے ۔ یہ فیض کا دریا بہائےگا"۔

سیرتِ مبارکہ:
اسلام کا وہ بطل جلیل اور استقامت کا جبل عظیم جس کے جہاد بالقلم نے دینِ مصطفٰی ﷺ کی آبیاری فرمائی۔ جس کی نگاہ کیمیا اثر نے لاکھوں گم گشتگان راہ کو جادۂ حق سے ہم کنار کیا۔ جس کے در کی جبیں سائی وقت کے بڑے بڑے مسند نشینوں نے کی۔ جس کے ناخنِ ادراک میں لا ینحل مسائل کا حل تھا۔ جو بیک وقت علم ظاہر و باطن کا ایسا سنگم تھا جہاں ہر تشنہ لب کو سیرابی و آسودگی کی دولتِ گراں مایہ ملتی تھی۔ جو رسول پاک ﷺ کا سچا نائب ، تصدیق حق میں صدیقِ اکبر کا پرتو ، باطل کو چھانٹنے میں فاروق اعظم کا مظہر، رحم و کرم میں ذوالنورین کی تصویر، باطل شکنی میں حیدری شمشیر ۔ جس میں امام اعظم ابو حنیفہ کی فکر ، امام رازی کی حکمت ، امام غزالی کا تصوف اور مولائے روم کا سوزو گداز تھا۔

جو علم و فضل میں شہرۂ آفاق، معقولات میں بحر ذخار، منقولات میں دریاے ناپیدار کنار، فقہ روایت میں امیر المومنین اور سلطنت قرآن و حدیث کا مسلم الثبوت وزیر المجتہدین، اعلم العلما عند العلماء، افقہ الفقہا عند الفقہا، قطب عالم علی لسان الاولیاء، فانی فی اللہ ، باقی باللہ عاشقِ کاملِ رسول اللہ ﷺ مولانا الشاہ الحاج محمد ابو البرکات محی الدین جیلانی محمد مصطفی رضا قادری قدس سرہ جسے دنیا تاجدار اہل سنت حضور مفتئ اعظم ہند کے نام نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے۔

وصال:
اکانوے سال اکیس دن کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 14/ محرم الحرام 1402ھ ، بمطابق 12 نومبر 1981ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

ماخذ و مراجع:
جہانِ مفتیِ اعظم۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-azam-hind-muhammad-mustafa-raza-khan-noori
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، عالمی مبلغ اسلام، علیم الرضا، حضرت علامہ شاہ محمد عبد العلیم صدیقی میرٹھی قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 15 رمضان 1310ھ مطابق 3 اپریل 1893ء کو میرٹھ ہندستان میں پیدا ہوئے۔ آپ دینی و دنیاوی علوم کے جامع، كئی زبانوں کے ماہر، درجن سے زائد کتب کے مصنف، شعلہ بیان خطیب، دنیا بھر میں متعدد مساجد اور اداروں کے بانی اور تعلیمات اسلام میں گہری نظر رکھنے والے عالم دین تھے۔ آپ نے دنیا بھر کے کئی ممالک کا تبلیغ دین کی غرض سے سفر کیا اور آپ کی کوششوں سے صاحب اقتدار حضرات سمیت تقریبا پچاس ہزار غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ 22 ذوالحجہ 1373ھ مطابق 22 اگست 1954ء کو مدینۂ منورہ میں وصال فرمایا اور جنت البقیع شریف میں ام المونین سیدہ عائشہ صدیقہ کے قدموں میں تدفین کا شرف پایا۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت، تذکرہ و تجلیات خلفائے اعلی حضرت)

Disciple and Caliph of AlaHazrat, Roving Ambassador of Islam, Allamah Shah Muhammad Abdul Aleem Siddiqui Meeruti Qadiri Ridawi (Alayhir Rahmah) was born on 15 Ramadan 1310 AH (3 April 1893 CE) in Meerut, India. He was a master in religious and worldly sciences, an expert in many languages, an author of more than a dozen books, an eloquent orator, a founder of numerous mosques and institutions around the world, and a keen scholar of Islamic teachings. He traveled to many countries around the world to preach and propagate Islamic teachings and through his efforts about 50,000 non-Muslims, including numerous dignitaries, embraced Islam. He passed away on the 22nd Dhu al-Hijjah 1373 AH (22 August 1955 CE) in Madinah Munawwarah and was fortunate to be buried under the blessed feet of Umm al-Mu’mineen Sayyidah A’ishah Siddiqah RadiyAllahu Anha. [Tazkirah Akabir AhleSunnat, Tazkira wa Tajalliyat-e Khulafa-e AlaHazrat]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02FnPgWcjVGCcPm5CwyetTS3MX8nwUqbRuYCciJrGKLjnjCGm2yf4SQ4TAmXPYYjpNl&id=100050689590519
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-12-1443 ᴴ | 21-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-12-1443 ᴴ | 22-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1