🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-12-1443 ᴴ | 20-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عبد اللہ شاہ غازی علیہالرحمہ
وصال : 20 ذو الحجہ ۱۵۱ ھ
وصال : 20 ذو الحجہ ۱۵۱ ھ
❤2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-12-1443 ᴴ | 20-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی سید عبد اللہ، کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے۔
آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت سیدنا امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاکر ملتا ہے۔
پورا سلسلہ نسب یوں ہے:
سید عبد اللہ بن سید محمد ذو النفس الذکیہ بن سید عبد اللہ المحض بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن علی (رضی اللہ تعالٰی عنہم)
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 98 ھ مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم حضرت سید محمد نفس ذکیہ کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ علمِ حدیث میں ملکہ تام رکھتے تھے ۔ بعض مصنفین نے آپ کو محدثین میں شمار کیا ۔
سیرت و خصائص:
سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پیکرِ علم و عمل تھے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا پر آپ کی خاص توجہ مرکوز تھی ۔ مخلوق کی رہنمائی کرنے میں بھی آپ نے کامل توجہ دی، اور خدا کے خدائی کی ایک تعداد تھی جو آپ کے فیض سے مستفیض ہوئی ۔
آپ ہی کی ذاتِ گرامی وادی سندھ میں سادات کی وہ قدیم ترین شخصیت ہیں کہ جنہوں نے وادی سندھ میں اسلام کو متعارف کرایا ۔ آپ نے کئی لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کرا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا ـ
آج سندہ میں جو اسلام کا جھنڈا لہرا رہا ہے وہ آپ ہی کی مرہونِ منت ہے ۔ آپ کو خلافت سے زیادہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت عزیز تھی جس کے خاطر آپ سر زمین سندھ میں وارد ہوئے ۔
عموماً پورا سندھ اور خصوصاً کراچی کی شہرت بھی در حقیقت آپ کی ذاتِ گرامی کا صدقہ ہے ۔ (یہ انہیں بزرگانِ دین کا فیضان ہے آج ہم سرکارِ دو عالم ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھنے والے ہیں ۔ اگر یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اولیاء یہاں تشریف نہیں لاتے تو ہم نہ جانے کس باطل مذہب کی پیروی کر رہے ہوتے ۔
آج انہیں کی بدولت ہم نے اللہ تعالی کو پہچانا اس کے حبیب ﷺ کی معرفت حاصل کی، ابدی جہنم کے عذاب سے نجات پائی ۔ اللہ کے اولیاء کے اس احسان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہما وقت اس بات کو اپنے ذہنوں میں رکھنا چاہئے۔
اور ان کے مزار پر انوار پر عقیدت و احترام اور شریعت کے دائرے میں رہ کر حاضری دینا چاہئے اور جتنا ہو سکے ان کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کرنا چاہئے۔
وصال:
آپ کا وصال 20 ذو الحجہ 151 ھ / بمطابق جنوری 769 ء کو ہوا۔
عرس مبارک:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا عرس بڑے شاندار طریقے سے بڑے اہتمام اور بہت نظم و ضبط کے ساتھ 20,21,22 ذو الحجہ کو عقیدت و احترام کے ساتھ کراچی کلفٹن میں منایا جاتا ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاء سندھ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-shah-ghazi
Copyright © Zia-e-Taiba
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی سید عبد اللہ، کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے۔
آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت سیدنا امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاکر ملتا ہے۔
پورا سلسلہ نسب یوں ہے:
سید عبد اللہ بن سید محمد ذو النفس الذکیہ بن سید عبد اللہ المحض بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن علی (رضی اللہ تعالٰی عنہم)
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 98 ھ مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم حضرت سید محمد نفس ذکیہ کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ علمِ حدیث میں ملکہ تام رکھتے تھے ۔ بعض مصنفین نے آپ کو محدثین میں شمار کیا ۔
سیرت و خصائص:
سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پیکرِ علم و عمل تھے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا پر آپ کی خاص توجہ مرکوز تھی ۔ مخلوق کی رہنمائی کرنے میں بھی آپ نے کامل توجہ دی، اور خدا کے خدائی کی ایک تعداد تھی جو آپ کے فیض سے مستفیض ہوئی ۔
آپ ہی کی ذاتِ گرامی وادی سندھ میں سادات کی وہ قدیم ترین شخصیت ہیں کہ جنہوں نے وادی سندھ میں اسلام کو متعارف کرایا ۔ آپ نے کئی لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کرا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا ـ
آج سندہ میں جو اسلام کا جھنڈا لہرا رہا ہے وہ آپ ہی کی مرہونِ منت ہے ۔ آپ کو خلافت سے زیادہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت عزیز تھی جس کے خاطر آپ سر زمین سندھ میں وارد ہوئے ۔
عموماً پورا سندھ اور خصوصاً کراچی کی شہرت بھی در حقیقت آپ کی ذاتِ گرامی کا صدقہ ہے ۔ (یہ انہیں بزرگانِ دین کا فیضان ہے آج ہم سرکارِ دو عالم ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھنے والے ہیں ۔ اگر یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اولیاء یہاں تشریف نہیں لاتے تو ہم نہ جانے کس باطل مذہب کی پیروی کر رہے ہوتے ۔
آج انہیں کی بدولت ہم نے اللہ تعالی کو پہچانا اس کے حبیب ﷺ کی معرفت حاصل کی، ابدی جہنم کے عذاب سے نجات پائی ۔ اللہ کے اولیاء کے اس احسان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہما وقت اس بات کو اپنے ذہنوں میں رکھنا چاہئے۔
اور ان کے مزار پر انوار پر عقیدت و احترام اور شریعت کے دائرے میں رہ کر حاضری دینا چاہئے اور جتنا ہو سکے ان کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کرنا چاہئے۔
وصال:
آپ کا وصال 20 ذو الحجہ 151 ھ / بمطابق جنوری 769 ء کو ہوا۔
عرس مبارک:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا عرس بڑے شاندار طریقے سے بڑے اہتمام اور بہت نظم و ضبط کے ساتھ 20,21,22 ذو الحجہ کو عقیدت و احترام کے ساتھ کراچی کلفٹن میں منایا جاتا ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاء سندھ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-shah-ghazi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
عظیم صوفی بزرگ، شہزادۂ نفس زکیہ، حضرت سید ابو محمد عبد الله شاہ غازی اشتر حسنی رحمۃ الله تعالی علیہ کی ولادت 98ھ مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کا شمار تابعین یا تبع تابعین میں ہوتا ہے۔ والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی سید ہیں۔ آپ جید عالم دین، معلم، محدث، مجاہد اور ولیٔ کامل تھے۔ آپ ہی کی ذات گرامی سندھ میں سادات کی وہ قدیم ترین شخصیت ہیں کہ جنہوں نے سندھ میں اسلام کو متعارف کرایا۔ آج سندہ میں جو اسلام کا جھنڈا لہرا رہا ہے وہ آپ ہی کے مرہونِ منت ہے۔ 151ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ عرس شریف 20، 21، 22 ذو الحجہ کو ہوتا ہے۔ مزار مبارک ساحل سمندر سے قریب کلفٹن، کراچی، پاکستان میں واقع ہے جہاں روزانہ عوام و خواص کی کثیر تعداد زیارت و اکتساب فیض کے لیے حاضر ہوتی ہے۔ (مقاتل الطالبین، الاعلام للزرکلی، تحفۃ الزائرین، تذکرہ اولیائے سندھ)
The great Sufi sage, blessed son of Sayyiduna Nafs Zakiyyah, Sayyid Abu Muhammad Abdullah Shah Ghazi Ashtar Hasani (Alayhir Rahmah) was born in 98 AH in Madinah Munawwarah. He is regarded as a Tabi’i or Tabi’ Tabi’i. He is a Hasani descendent from his father and Husayni from his mother. He was a great religious scholar, educator, hadith master, warrior, and a perfect saint. He is the first person from the exalted Ahl Bayt to arrive and introduce Islam in Sindh. The flag of Islam that is flying high in Sindh today is due to him. He embraced martyrdom in 151 AH. His annual URS ceremony takes place on 20, 21, 22 Dhu al-Hijjah at his blessed mausoleum located near the beach in Clifton, Karachi, Pakistan, where people from all walks of life visit daily in large numbers to attain peace and blessings. [Maqatil at-Talibeen, Al-A’laam li az-Zirikli, Tuhfat al-Za’ireen, Tazkirah Awliya-e-Sindh]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid023vhHZBXZUb9pRkMmX9fdiU45rv19b7VLLyre6R9fvRsPAFDJU1WCndXhjs3CUoFPl&id=100050689590519
The great Sufi sage, blessed son of Sayyiduna Nafs Zakiyyah, Sayyid Abu Muhammad Abdullah Shah Ghazi Ashtar Hasani (Alayhir Rahmah) was born in 98 AH in Madinah Munawwarah. He is regarded as a Tabi’i or Tabi’ Tabi’i. He is a Hasani descendent from his father and Husayni from his mother. He was a great religious scholar, educator, hadith master, warrior, and a perfect saint. He is the first person from the exalted Ahl Bayt to arrive and introduce Islam in Sindh. The flag of Islam that is flying high in Sindh today is due to him. He embraced martyrdom in 151 AH. His annual URS ceremony takes place on 20, 21, 22 Dhu al-Hijjah at his blessed mausoleum located near the beach in Clifton, Karachi, Pakistan, where people from all walks of life visit daily in large numbers to attain peace and blessings. [Maqatil at-Talibeen, Al-A’laam li az-Zirikli, Tuhfat al-Za’ireen, Tazkirah Awliya-e-Sindh]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid023vhHZBXZUb9pRkMmX9fdiU45rv19b7VLLyre6R9fvRsPAFDJU1WCndXhjs3CUoFPl&id=100050689590519
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-12-1443 ᴴ | 20-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-12-1443 ᴴ | 21-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1