🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
عہدہ قاضی القضاۃ اور عسجد میاں²

اور آپ لوگ اس بات کو بھی نا بھولیں کہ جامعۃ الرَّضا بریلی شریف جو کہ جانشینِ حضور مُفتئ اعظمِ ہِند , حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کا لگایا ہوا پودا ہے جو اب بحمدہ تعالیٰ تناور درخت کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے جس میں ایک سے بڑھ کے ایک علماء کرام , مفتیانِ عظام دانشوران ملت بصورت ثمر موجود ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہاں سے علماء و فضلاء کی ایک جماعت ہر سال عوامِ اہلسنت کی خدمت کیلئے پیش کی جاتی ہے ...

تو جو بھی فیصلے ہونگے ان علماء و فضلاء کی نظروں سے ہوتے ہوئےآپ کی تحسینی و تنقیدی نظروں کے سامنے ہونگے ...

اللہ رب العزت ہم سب کو مرکزِ عقیدت و محبت بریلی شریف سے سَچِّی لگن عطا فرمائے اور محسنِ اہلسنت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ کے احسانوں کا بدلہ بصورت احسان ادا کرنے کی توفیق بخشے آمين

ڈال دی قلب میں عَظمتِ مصطفےٰﷺ
سَیِّدِی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سَلام


کام وہ لے لیجِئے تم کو جُو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رَضَا تم پہ کروڑوں درود


اسیرِ خاندانِ رَضا و گدائے
مُشاہدِ مِلَّت وحضور تاج الشریعہ

محمد عمار رَضا صدیقی حشمتی مصباحی 🏡دارالعلوم مخدومیہ رُدَولی شریف فیض آباد الہِند
➻═══════════➻
🅣🅣🅢 AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مفتی عسجد رَضا - عبدالمقتدر جالوی.MP3
3.6 MB
قاضی القضاۃ فی الہِند
مفتی عسجد رَضا خان
دامَت بَرکاتهم الـعَـالِـیَہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مفتی شبیر حسن رَوناہی
مفتی عاشِقُ الرّحمٰن اِلٰہ آبادی
سید اویس حسن مصطفیٰ بلگرامی
مفتی صالح رضوی صاحب بریلوی
مفتی ناظِم علی بارہ بنکوی
علامہ سید گلزار میاں مسولوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🎙مولانا عبدالمقتدر جالوی‌صاحب
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِ سُـنّت
حـضرت عـلامـہ و مولانا مفتی الشاہ
محمد عسجد رَضا خان قادِری‌رَضوی
فاضِلِ بریلوی دامَت برکاتہم الـعَـالِـیَہ

پَیدائِشی نام : محمد منور رَضا حامِد
عُرفی نام : عسجد رَضا
تاریخ پیدائِش ¹⁴شعبان ¹³⁹⁰ھ ¹⁹⁷⁰ء
زوجہ محترمہ : راشِدہ نوری صاحبہ
بنت علامہ سبطین رَضا خان بریلوی
تاریخ نکاح : ²شعبان المعظم ¹⁴¹¹ھ
اولاد : ⁴صاحبزادیاں ¹صاحبزادے
لڑکیاں : ¹اریج فاطمہ ²امرہ فاطمہ
³مزینہ فاطمہ ⁴بشریٰ فاطمہ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
تعارف : حضرت امام حسین بن علی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہ
پَیدائِش⁴شعبانۡ⁴ھ | عُمر ⁵⁶سَال⁵ماہ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
¹⁴ ویں امام احمد رَضا کانفرنس
🌹و جشنِ دستارِ فضیلت🌹🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📇دارالعلوم مسعودیہ مصباحیہ
خسیاری مسجِد محلہ سالار گنج
شہر بہرائچ شریف یُو پِی الہِند
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
نقشہ سحر و اِفتار رَمضان المبارک
Naqsha Sahar & iftar Ramzan
📇دارالعلوم مسعودیہ مصباحیہ
خسیاری مسجِد محلہ سالار گنج
شہر بہرائچ شریف یُو پِی الہِند
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
عبادت ریاضت امام اعظم ابُو حنیفہ
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہ
یَومِ وِصَال ²شعبانۡ ¹⁵⁰ھ عُمر ⁷⁰سَال
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلسل تیس سال روزے رکھے - تیس سال تک ایک رکعت میں قرآن پاک ختم کرتے رہے - چالیس (بلکہ 45) سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی
{ اشکوں کی برسات صفحہ 7 }
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
نبئ کریم ﷺ کے معجزات میں سے یہ ہے کہ اللہ پاک ﷻ نے آپ ﷺ کو غیوب پر مطلع فرمایا - اور آئندہ ہونے والے واقعات سے باخبر کیا - [شِفا شریف حِـ¹ صَـ³³⁵]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
नबी ए करीम ﷺ के मोअ़्जिजात में से यह है कि अल्लाह पाक ﷻ ने आप ﷺ को ग़ुयूब पर मुत़्त़लअ़् फ़रमाया - और आइन्दा होने वाले वाक़िआ़त से बा ख़बर किया ...
[ शिफ़ा शरीफ़ भाग¹ पेज³³⁵ ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دارالافتاء اہلسنت دعوت اسلامی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
صرف ایک نمبر پر کال 📞 کیجئے اور شرعی رہنمائی لیجیے دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی کا نیا اقدام .......
☎️ 0311-7864100 📞
🌐 Facebook 🆔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2331637816900046&id=241976285866220
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
قبر میں سوالات کِس زبان میں ہُونگے ؟
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹

⬆️ جمعہ کے دن کرنے والے کام ⬆️

➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ
مسلمانوں کو 🌹 جمعۃ المبارکہ 🌹
خٗوب خٗوب مبارک ہو 🌹 🌹 🌹 🌹

دَس ہَزار سَال کے روزوں کا ثواب ⬆️
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یومِ وفات 14 شعبان المعظم
حضرت یوسف بن حسین رازی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہ
http://www.ziaetaiba.com/
یومِ وفات 14 شعبان المعظم
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہا
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہ
http://www.ziaetaiba.com/
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
مخدوم جہانیاں جہاں گشت
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہ
http://www.ziaetaiba.com/
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یومِ ولادت 14 شعبان المعظم
علامہ قمر رَضا خان بریلوی
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہ

نبیرۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ ڈاکٹر محمد قمر رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

2015-11-01 ضیائے مشائخِ قادریہ 6428   سال مہینہ تاریخ یوم پیدائش 1365 شعبان المعظم 14 یوم وصال 1433 شعبان المعظم 05

نبیرۂ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد قمر رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  اللہ ہی کا ہے جو اس نے دیا اور جو اس نے لیا اور ہر شے کی اس کے یہاں ایک مقدار مقرر ہے، دنیا میں جو آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن فیصلہ کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت جانا ہے، ہر دن ہزاروں آتے ہیں اور ہزاروں جاتے ہیں نہ ان کا آنا کوئی بڑی خوشی کی بات ، نہ انکا جانا کوئی بڑا صدمہ شمار، پر بندگانِ خُدا میں سے کوئی فرد ایسا ہوتا ہے کہ جس کے آنے سے اَن گنت لوگوں کو خوشی ہوتی ہے اور جانے پر بےشمار آنکھیں اشکبار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی اور اپنے محبوب منزہ عن العیوب  علیہ الف الف صلوٰۃ والسلام کی الفت و محبت نقش فرمادیتا ہے، اور ان کا انتخاب دینِ مبین کی خدمت کے لئے فرماتا ہے، اب خواہ وہ خدمتِ دین بصورتِ خدمتِ خلق ہو جیسا کہ ابدالِ کرام انجام دیتے ہیں یا وہ خدمتِ دین بصورتِ استنباط مسائل شرعیہ ، تدریس و تصنیفات کتب دینیہ یا تقاریر بعنوان اصلاح عقائد و اعمال کے ہوں جیسے کہ فقہائے کرام و علماء اکرام انجام دیتے ہیں، مذکورہ ہر دو طریق پر خدمت اصلاً خدمت دین ہی ہے۔ انہی منتخب اور خوش بخت لوگوں میں سے ایک نبیرۂ اعلیٰ حضرت و حجۃالاسلام ، نواسۂ حضور مفتی اعظم عالم اسلام، شہزادۂ  مفسر اعظم ہند یعنی حضور قمر ملّت علامہ ڈاکٹر قمر رضا خاں صاحب﷫ کی ذات مسعود ہے، جن کے داغِ فراق نے جو زخم دیا ہے اس کا اندمال جلد ممکن نہیں۔ مقصد تحریر اینکہ چند سطور بطور مضمون حضور قمر ملت﷫ کے حوالے سے پیش کروں، یوں تو خانوادۂ اعلیٰ حضرت کا ہر فرد بذاتِ خود متعارف ہے اور پھر موصوف کے تو کیا کہنے؟… کیا بتاؤں کہ وہ کون تھے؟… کیا تھے؟… کیسے تھے؟ … بس شرافت نفس کا اعلیٰ کردار تھے… تواضع وانکسار کا مہکتا گلزار تھے… قرابت داروں کا مونس و غمخوار تھے…بس ایک مصرعے میں تو وہ ایسے تھے کہ  جو کچھ کہا تیرا حسن ہوگیا محدود  ان کی شخصیت کا مکمل تعارف تو اس مصرعے سے ہوگیا پر تقاضائے مضمون ہیں کچھ اور بھی… جس کے پیش نظر یہ حقیر مزید پر مجبور بھی۔

مولد و مسکن :
حضرت محلہ سوداگران رضا نگر سے متصل محلہ خواجہ قطب بریلی شریف میں بتاریخ 14جولائی1946ءاور ہجری کے اعتبار سے 14 شعبان 1365ھ پیدا ہوئے۔

نام و نسب شریف :
محمد قمر رضا بن محمد ابراہیم رضا۲ بن محمد حامد رضا۳ بن امام احمد رضا خاں۱ بن علامہ نقی علی خان۲ بن علامہ رضا علی خان۱ علیہم الرحمۃ الرضوان۔

 تعلیم و تربیت :
خاندانی دستور کے مطابق چار سال چار ماہ چار دن کی عمر مبارک میں حضرت کی رسم بسم اللہ خوانی ہوئی، اس کے بعد ابتدائی تعلیم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمۃ المنان سے ہی حاصل کی، بعد ازیں عربی فارسی اور دینیات کی تعلیم یاد گار اعلیٰ حضرت﷜ جامعہ رضویہ منظر اسلام سے حاصل کی۔  علی گڑھ روانگی: دینی تعلیم کے بعد تقریباً 1966ءمیں عصری تعلیم کیلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تشریف لےگئے۔۲  بیعت و خلافت: شعور کی منزل پر پہنچ کر تقریباً 1960ءمیں سرکار مفتیٔ اعظم عالم اسلام علیہ الرحمۃ الرضوانسے بیعت ہوئے، 1984ءمیں اہلِ سلسلہ حضرات کے پُرزَور اصرار پر بیعت و ارشاد کی طرف مائل ہوئے اور حضرت صدر العلماء بدر العرفاء﷜نے سلسلہ رضویہ کے فروغ کیلئے خلافت و اجازت سے نوازا اور تعویذات کی مشق بھی کرائی، علاوہ ازیں علوم دینیات کی تکمیل بھی ان سے ہی کی۔

عقد نکاح :
حضور قمر ملت اعلیٰ حضرت سے نسباً نجیب الطرفین ہیں، ایک تو خود عالم دین بھی ہوئے اور اعلیٰ حضرت سے ایسی قربت، ان دو فضیلتوں کا اجتماع اس بات کا متقاضی تھا کہ حضرت کا ہمسفر اور ہم راز بھی اسی شان کا مالک ہو، چنانچہ یہ تقاضہ بھی پورا ہوا اور حضرت کا نکاح 12 جنوری1975ءمیں نواسئ حضور مفتی اعظم عالم اسلام سے ہوا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی حضرت کے ساتھ نہایت ذمہ داری اور پاسداری سے گزاردی، خود حضرت بھی اس کا اظہار اکثر فرمایا کرتے تھے اس طور پر کہ کوئی بھی کام مثلاً بچوں کی تعلیم و تربیت ، شادی بیاہ اور جملہ خانگی معاملات جو حسن انجام کو پہنچتے اور اس پر کوئی انہیں مبارکباد پیش کرتا تو بطور چاہت و محبت یوں فرماتے کہ ’’یہ سب میری بیوی کی کرامت ہے‘‘، اور کیوں نہ فرماتے کہ یہ وہی نواسی ہیں کہ جنہیں ایک دفعہ حضور مفتی اعظم ہند نے گود میں اٹھا کر فرمایا ’’یہ بہت خوش نصیب بچی ہے‘‘، سونے پہ سہاگہ یہ رہا کہ یہ نکاح خود حضور مفتی اعظم ہند نے پڑھایا۔

 اولاد و امجاد :
حضرت کے تین شہزادے اور ایک شہزادی ہے چاروں ہی شادی شدہ ہیں۔  شہزادۂ اکبر:  حضرت مولانا عمر رضا خاں صاحب قبلہ دامت برکا
تہم، اردو ادب اور انگلش میں ڈبل MAہیں، حال ہی میں B.Edبھی کیا ہے، علم ریاضی میں ملکہ انہیں موروثی ہے، اس حقیر نے ان سے اس فن کو پڑھا ہے اگر مستقل پڑھتا تو یقینا ماہر ہوجاتا پر عدم معیت کی وجہ عدم مہارت بنی، علاوہ ازیں مُروّجہ درسِ نظامی میں آپ نے مشکوٰۃ المصابیح تک پڑھا ہے جو مدارس میں چھٹے درجے میں پڑھائی جاتی ہے، بقیہ تعلیم وبوجہ علالت رہ گئی لیکن مولانا اسے تکمیل کے مراحل میں لانے کا عزم رکھتے ہیں، دعا ہے کہ مولا تعالیٰ انہیں اس میں کامیابی عطا فرمائے، آپ کے دو شہزادے بنام محمد انور رضا، محمد رضا اور ایک شہزادی بنام رداء فاطمہ ہے۔  شہزادہ متوسط و اصغر: مولانا عامر رضا خان صاحب اور جناب مولاناعاصم رضا خان صاحب یہ دونوں صاحبزادگان کمپیوٹر فیلڈ میں خاص مہارت رکھتے ہیں، عامر رضا خان صاحب خوش گلو ثناء خواں ہیں آپ کا ایک شہزادہ بنام محمد مصطفی رضا ہے، اور عاصم رضا خان صاحب قرأت بہت اچھی کرتے ہیں آپ کا نکاح ہو چکا ہے رخصتی عمل میں نہیں آئی ہے۔

دختر نیک اختر :
حضرت کی ایک شہزادی ہے جو چند رپور مہاراشٹر میں سید حمیر حسن صاحب سے منسوب ہے آپ کی دوسری شہزادی بنام صوفیہ ہے۔

رشد و ہدایت و تبلیغی اسفار :
مذہب مہذب اہلسنت و جماعت کی ترویج اور نشر و اشاعت کیلئے آپ نے ملک و بیرون ملک کے سفر 1984ءسے تادم زیست فرمائے، جن میں قابل ذکر عراق، عرب، پاکستان، یوپی، سری لنکا کے علاوہ بہار، بنگال، جھارکھنڈ، آسام، گجرات، راجھستان، مہاراشٹر، ایم پی آندھرا پردیش اور کشمیر وغیرہ صوبائی اور ملکی سطح پر آپ نے بیشمار سفر کرکے سلسلہ رضویہ کو بے پناہ فروغ بخشا۔ آپ اکثر دَورے دیہاتوں اور نواحی بستیوں میں فرماتے تھے، چنانچہ آج آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔۲ فضائل و کمالات:  حضرت نہایت ذہین تھے، ذکاوت تو انہیں اپنے جَدِّ اعلیٰ امام اہلسنت﷜ سے ورثے میں ملی تھی، عربی، فارسی، اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں کے علاوہ آپ کوسائنس، ریاضی ، علم الاعداد اور تاریخ گوئی وغیرہ علوم پر یدطولی حاصل تھا، حتیٰ کہ حضور تاج الشریعہ سے بھی اگر کسی نے کہا کہ حضور کسی کتاب کا یا ادارے کا تاریخی نام تجویز فرمائیں تو حضرت بھی یہی فرماتے کہ یہ کام قمر میاں سے لو، شمسی تاریخ سے قمری تاریخ بلا تردد نکال دیا کرتے تھے۔۱ اپنے آپ میں ایک فعال اور متحرک تنظیم کی حیثیت رکھتے تھے، ہزاروں غیر مسلم آپ کے نورانی چہرے کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے،۲ ایک موقع پر آپ کسی انجان بستی یا گاؤں سے گزر رہے تھے اسی اثناء میں آپ نے گاڑی رکوائی اور فرمایا کہ یہاں کوئی تکلیف زدہ ہے، اور اتر کر خود ہی بغیر کسی رہنمائی کے اس گھر کو پہنچ گئے، اس گھر کے رہائشی بد مذہب تھے ان کا اکلوتا بچہ جو بسببِ عَلالت حالت مرگ کو جا پہنچا تھا، حضرت نے اس پر دم فرمایا وہ اسی وقت ٹھیک ہوگیا، یہ کرامت دیکھ کر سب اسی وقت سُنّی صحیح العقیدہ مسلمان ہوگئے اور حضرت سے بیعت بھی ہوگئے،

آپ مُستجابُ الدعوات تھے
اور آپ کی دعا نہایت سَریعُ الاثر ہوا کرتی تھی، جس بیمار پر بھی آپ دم فرماتے اگر مشیتِ ایزدی میں اس کی زندگی بصحت و عافیت ہے تو اسی وقت ٹھیک ہوجاتا ،

خود اس حقیر کے والدمحترم
جو بلڈ پریشر کے شکار تھے ایک دفعہ حضرت نے بذریعہ ٹیلی فون کان میں دعا پڑھی تب سے اب تک بفضلہ تعالیٰ و بحمدہٖ تعالی و بعونہ تعالیٰ بلڈ پریشر کی شکایت نہیں ہوئی، الحمد للہ! خود اس حقیر کے کئی کام انہی کی دعا سے بنے ایسے کام جو بظاہر نا ممکن نظر آتے تھے حضرت کا یہ فرمانا ہوتا تھا کہ ’’ہوجائے گا‘‘ ہو کر ہی رہتا تھا،

ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک سائل حاضرِ خدمت ہوا اور کہنا ہی چاہتا تھا کہ حضرت نے فوراً فرمایا تیرا یہ مسئلہ ہے اور اس کا حل یہ ہے، اس واقعہ کا یہ حقیر عینی شاہد ہے۔

وصال کی پیشنگوئی :
آپ اپنے وصال کی خبر یں بھی کئی بار دے چکے تھے، مثلاً جب ڈھائی تین سال قبل ہم بریلی شریف میں تھے تو واپسی پر حضرت ہمیں دہلی تک چھوڑنے آئے یہ کہہ کر کہ میں تم لوگوں کو آخری بار چھوڑ آؤں، اور پاکستان میں جب فون پر بات ہوتی تھی تو عاصم رضا خان صاحب کی شادی کے حوالے سے فرماتے تھے کہ اس کی شادی تو تم لوگ کرو گے میں تو نہیں ہونگا، ہم کبھی ان کی بات سمجھ ہی نہ سکے، ایک حافظ صاحب نے حضرت سے مُصَلّیٰ سنانے کے لئے مسجد میں جگہ مانگی حضرت نے انہیں اپنا موبائل نمبر دے دیا اور فرمایا تم بریلی آجانا میرے بچے تمہارا کام کرادیں گے میرے پاس اب وقت نہیں ہے، قبل از وصال جہاں دَور ے پرسے آئے تھے وہاں اپنے مریدین ، معتقدین اور متوسلین کو بھی اس بات سے آگاہ فرما دیا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔

آپ نہایت شفیق اور مہربان تھے، اپنے مریدین پر بھی اتنے شفیق تھے جیسے کوئی باپ اپنے حقیقی بچوں پر ہوتا ہے، کئی لوگوں کی شادیاں آپ نے اپنے خرچے پر کرائیں، خدمت خلق کو اپنی حیات کا نصب العین بنا لیا تھا، آپ ایک دارالعلوم بھی اپنی جیب خاص سے چلا رہے تھے، آپ نہایت منک
سر المزاج اور شہرت سے دور رہنے والے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے ان معاملا ت کا علم آپ کے اہل خانہ کو بعد از وصال ہوا،

المختصر آپ گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے جن کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں، چند الفاظ میں آپ ’’اشد اء علی الکفار رحماء بینھم‘‘ اور  ’’الحب فی اللہ والبغض فی اللہ‘‘ کی جیتی جاگتی تفسیر تھے یہی وجہ ہے کہ آپ اس شان سے گئے کہ ایک نے خواب میں دیکھا کہ حضور غوث اعظم﷜ کا جنازہ جارہا ہے اور حضرت تاج الشریعۃ دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ قمر میاں کو اعلیٰ حضرت﷜ لینے آئے ہیں۔

وصالِ پُر ملال :
بروایت شہزادۂ اکبر مولانا عمر رضا خان صاحب آپ کافی وقت سے ’’شوگر‘‘ اور ’’ہارٹ ‘‘ کے مریض تھے ۱ اس کے باوجود آپ تبلیغی اسفار برابر فرمارہے تھے، 24جون کو رات میں آپ کی طبیعت معمول کے مطابق کچھ ناساز تھی اور شوگر بڑھی ہوئی تھی۲ لہٰذا ڈاکٹر نے دوا دے کر آرام کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ۔ دوسرے دن 25جون، 2012ء بمطابق 5 شعبان  1433ھ کو معمول کے مطابق شوگر بڑھ گئی ایک بجے رات کا کھانا کھایا اور پھر ڈیڑھ بجے رات خلف اکبر مولانا عمر رضا خان صاحب نے دوا کھلا کر ان کے کمرے میں لٹا دیا، صبح کو جب نماز فجر کو بیدار نہ ہوئے تو خادم کو تشویش ہوئی اس نے آپ کو جگانا چاہا اس عمل سے پتہ چلا کہ آپ ابدی نیند سوگئے، ۳  اہل خانہ کے  تو پیروں تلے زمین نکل گئی، آناً فاناً میں اس حادثہ جانکاہ کی خبر وحشت اثر موبائل فون، ایس ایم ایس، اور انٹرنیٹ کے ذریعے ملک و بیرون ملک جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی،

حضور صاحب سجادہ نشین۱مدظلہٗ العالی نے اس خبر کو سن کر فوراً کلمات ترجیع پڑھ کر نمناک اور گلوگیر آواز میں جامعہ منظر اسلام کی دو روزہ تعطیل اور قرآن خوانی برائے ایصال ثواب کا حکم صادر فرمایا،

کراچی دارالعلوم امجدیہ میں بھی ایصال ثواب کی محفل منعقد کی گئی، قمرِ ملّت کا پردہ فرمانا نہ صرف خانوادۂ اعلیٰ حضرت کا نقصان بلکہ پوری سُنِّیت کا نقصان ہے، قمرِ ملّت اب ہم میں نہیں رہے، یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ جس کی تلخی نے نہ جانے کتنے دلوں کو غم و حزن میں ڈبو دیا ہے۔  نماز جنازہ و تدفین:  27جون بروز بدھ بعد نماز عصر اسلامیہ انٹر کالج میدان میں نماز جنازہ کا اعلان کیا گیا تھا،

لہٰذا اعلان کے مطابق حضور صاحب سجادہ اور خاندان کے دیگر بزرگوں کی موجودگی میں انتہائی شان و شوکت کے ساتھ جلوسِ جنازہ، کعبہ کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود کے مقدس و باعظمت نغموں کے سائے میں خواجہ قطب سے بی بی جی مسجد اور بہاری پور ہوتا ہوا اسلامیہ میدان میں پہنچا ،جہاں ہر طرف عشاق کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، ٹوپی و عمامہ اور سفید و پاکیزہ لباس میں ملبوس ایک روحانی و نورانی منظر پیش کر رہا تھا۲

قمرِ ملّت کی وصیّت کے مطابق حضرت کی نماز جنازہ حضرت کے برادر اکبر حضور تاج الشریعہ بدرالطریقہ حضرت مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری مدظلہ النورانی نے پڑھائی،۱

مغرب کے وقت قبہ رضویہ کے اندر تدفین عمل میں آئی۲ اور رات گئے مٹی دینے کا سلسلہ جاری رہا۔  قبلہ قمر رضا خاں صاحب﷫ نے اپنے پسماندگان میں اپنی اہلیہ ، ایک شہزادی اور تین شہزادوں کوچھوڑا ہے،

مولیٰ تعالیٰ سے دعا ہے کہ موصوف کے شہزادگان کو ان کا صحیح جانشین بنائے اور ان کے لواحقین، معتقدین ، مریدین، متوسلین کو صبرِ جمیل و اجرِ جزیل عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ سیّد الامین والمرسلین آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے سبزۂ نور ستہ اس گھر کی نگہبانی کرے آہ نبیرہ اعلیٰ حضرت علامہ ڈاکٹر محمد قمر رضا بریلوی﷫

از : حضرت علامہ مولانا
محمد حسن علی الرضوی میلسی[1]

یہ خبر اندوہ اثر نہایت رنج و ملال کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت یعنی سیّدنا حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خان صاحب بریلوی﷫ کے پوتے شیخ الشیوخ العالم مفتی اعظم علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا خان صاحب نوری بریلوی قدس سرہٗ کے نواسے ریحان ملت علامہ مفتی ریحان رضا خان صاحب اور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری میاں قادری رضوی کے برادر عزیزی، مفسر اعظم مولانا شاہ علامہ محمد ابراہیم رضا خان جیلانی میاں﷫ کے فرزند دلبند گذشتہ ماہ دیار علم فضل شہر عشق و محبت مرکز اہلسنّت بریلی شریف میں وصال فرماگئے۔
انا للہ ونا الیہ راجعون۔

تاج الشریعہ فقیہ الہند جانشین مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان صاحب قادری ازہری مدظلہ العالی نے نماز جنازہ پڑھائی۔

مدینہ طیبہ سے جناب محب محترم محب مسلک اعلیٰ حضرت الحاج محمد عبدالرزاق راجہ بھائی قادری رضوی زید مجدہٗ کی اطلاع کے مطابق حضرت صاحبزادہ محمد قمر رضا علیہ الرحمۃ کو خانقاۂِ عالیہ رضویہ میں اپنے عظیم المرتبت والد گرامی مفسر اعظم جیلانی میاں اور سیّدنا حضور مفتی اعظم کے مقدس مزاروں کے درمیان میں دفن کیا گیا جو بڑی نعمت و بڑی سعادت اور خوش بختی ہے۔ علامہ محمد قمر رضا﷫ اپنے جد امجد سیدنا ح
👍1
جۃ الاسلام کے خدا داد حسن و جمال کے مظہر اور حضرت تاج الشریعہ کے ہم شبیہہ ہم شکل تھے۔  آپ کا تاریخی نام قمر رضا بحساب ابجد 1433ھ جو سن وفات پر دال ہے جو آپ کے جدّ امجد کی کرامت فراست و بصیرت کا مظہر و عکاس ہے۔ آپ متبع سنت و شریعت بحساب ابجد فن تاریخ گوئی میں کمال اور ید طولیٰ رکھتے تھے۔ سیدنا اعلیٰ حضرت﷜ کی اولاد و امجاد پر یہ سرکار رسالت و سرکار غوثیت کا کرم اور فیضانِ اتم ہے کہ آج آٹھ پشتو ں سے فاضل ابن فاضل ابن فاضل محقق ابن محقق محقق ابن محقق اور متبع سنت و شریعت چلے آرہے ہیں۔علامہ مفتی محمد ریحان رضا خاں ریحانی﷫ کی اولاد میں الحاج علامہ سبحان رضا سبحانی میاں مہتمم منظر اسلام سجادہ نشین اور عالمی مبلغِ اسلام خطیبِ ایشیا و یورپ علامہ توصیف رضا خاں بریلوی اور پھر علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری میاں مدظلہ کے خلف گرامی مولانا علامہ امجد رضا خان بریلوی اور الحاج مولانا علامہ سبحان رضا سبحانی میاں مدظلہ کے صاحبزادہ والا جاہ مولانا احسن رضا نوری رضوی بھی مستند فاضل و عالم دین ہیں۔ اس طرح نو دس پشتوں تک عالم و فاضل ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ مولیٰ عزوجل آستانہ رضویہ کو سدا بہار رکھے ۔ آمین

الفقیر:
محمد حسن علی الرضوی غفرلہ                            میلسی، پنجاب

 قمر ملت، مشکبار شخصیت
علامہ نسیم احمد صدیقی نوری مدظلہ  اللہ سبحانہ تعالیٰ عزوجل نے عالمین تخلیق فرمائے، اور تمام عوالم میں مختلف النوع مخلوق تخلیق فرمائیں، عالمین میں واضح طور پر دو قسمیں ہیں،  اول.......      کائنات (غیر مادّی) دوم.......     کائنات (مادّی)  اول:  غیر مادّی کائنات میں بغیر سبب اور بلا تعین وقت تخلیقی عمل ہوتا رہتا ہے، نیز عمل تخلیق___ اکملیت کا سفر بھی بغیر جاری رہتا ہے۔  دوم:  ہماری مادّی کائنات میں ہر عمل سبب سے اور وقت سے ظہور پذیر ہوتا ہے،نیز کمال درجات کے حصول کا سفر ارتقاء کے انداز میں بتدریج طے ہوتا ہے۔  اس اجمال کی تفصیل اور وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ غیر مادّی کائنات کی مخلوق میں تقویم و توقیت اثر انداز نہیں ہوتے اور نہ ہی ان میں قوت نمو پائی جاتی ہے۔ جبکہ ہماری مادّی کائنات میں اعمال و اشغال کا مدارگردش لیل و نہار پر ہے۔ مخلوق میں نشونما کی قوت کارفرما ہوتی ہے، اسی باعث قدیم و جدید کا نظریہ رائج ہے۔ نباتات، حیوانات، اور انسان و جنات سب میں پیدائش اور اموات کا نظام قائم ہے، بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا، ان ادوار سے سب کو گزرنا پڑتا ہے۔ راقم کا موضوعِ سخن ’’انسان‘‘ہے لہٰذا صرف انسان کی خصوصیات زیر بحث ہیں ۔ انسانی زندگی مختلف ادوار سے گزرتی ہے۔ مقدار حیات میں تفاوت کے باعث بعض اجسام آغوش لحد سے قریب اور بعض بعید اور اکثر آسودۂ خاک ہوگئے ہیں۔  انسانی تاریخ میں نیکی و بدی، عدل و ظلم، ایثار و خود غرضی اور ملنساری و بے کیفی کا امتزاج لیے افراد،معاشرہ میں موجود رہے ہیں، موجود ہیں اور رہیں گے، ہاں البتہ ہر دو صفات (مثبت و منفی) سے متصف افراد کے مابین  پیمانۂ توازن میں مد و جزر کا رجحان رہتا ہے۔  قارئین محترم!  اگر ظلم و نا انصافی اور خود غرضی و انانیت کے عفریت کے مقابل انسان دوست کے مسکراتے اور غموں کے بانٹتے چہرے نہ ہوتے تو ہماری آج کی دنیا خوں آشام ڈائنوسار ہی کی آماجگاہ ہوتی۔ انسانی خرد مندی کا یہ تقاضا بھی تھا کہ انسان اپنے خالق کی عطا کردہ قوت مدرکہ کی بنیاد پر اچھائی اور برائی میں امتیاز کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔  مختلف اوصاف و خصائل کے باعث انسانوں اور جنات میں درجہ بندی ہے۔ انسیت و مؤدّت ایسے فطری اوصاف ہیں، جو انسانی جبلّت کا حصہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق میں یہ عنصر شامل رکھا ہے۔ اسی باعث بعض انسان اس مرتبہ کے حامل ہوتے ہیں جو کسی آسمانی خبر کے بغیر فطری طور پر رنگ فطرت اور تخلیقی جبلّت سے آراستہ ہوتے ہیں، ایسے انسان اپنی زندگی کو دنیا میں دوسروں سے بے نیاز ہوکر گزاردیتے ہیں۔ جبکہ بعض اہل دنیا کے لیے ا پنی زندگی کو پاکیزہ اور مثالی بنالیتے ہیں _ لیکن فقیر بندۂ بے توقیر اپنے قارئین کو ایسے عظیم اور قابل رشک انسانوں میں سے ایک ایسے مونس، محسن، انسان کی خوبصورت زندگی کے مختلف گوشوں سے متعارف کرانے کی سعادت عظمیٰ حاصل کر رہا ہے، جو ابدی و دائمی کامیابی کے لیے دنیا کو، امتحان گاہ اور آخرت کی کھیتی سمجھتے ہیں۔ ترک آسائش اور جملہ آزمائش کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ مبتلائے ظلمت کے لیے خورشید و قمربے اماں کے لیے سایہ دار شجر__ مصطفائی ملت کا فرید دہر__ پُر فتن زمانہ کا وحید عصر__ پر نور بشرہ، متبسم چہرہ__ خوش مزاج__ آشنائے سماج__ عالم علوم قدیمہ و جدیدہ__مرشد و داعئ طالبین مجاہدہ__وسیع الجہت__عظیم المرتبت__ عالی منزلت__ کثیر البرکت__ سادہ طبیعت__ نیک طینت__ یہ ہیں قمر ملت__ حضرت محمد قمر رضا﷫ کے بارے میں متذکرہ تمہیدی کلمات جو رقم کیے گئے ہیں، درحقیقت موصوف کے محاسن اس سے بھی سوا ہیں۔

قارئین محترم!
حضرت قمر مل
ت محمد قمر رضا خان﷫ کی شخصیت ہمہ صفت تھی، خوش خلق اور خوش خُلق تھے، عمدہ خصائص سے معمور، عیوب و نقائص سے دور تھے۔ حضرت قمر رضا﷫ کی مبارک زندگی کے شب و روز کا مشاہدہ کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ مرحوم کے ترتیب دیئے گئے نظام الاوقات میں بہت برکت تھی، اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ ہجوم مشتاقاں سے ملاقات کی کثرت، دور دراز کے اسفار کی کثرت، تبلیغی مشاغل کی کثرت، جس انداز و اعتبار سے آپ کی ذات سے ہویدا تھی، خانوادۂ اعلیٰ حضرت میں یہ شان حضور مفتی اعظم قدس السرہ کے بعد آپ﷫ کا ہی طرۂ امتیاز رہی ہے۔

اس مضمون کا مقصد بھی محض سوانح عمری ترتیب دینا نہیں، بلکہ  مومنانہ و عالمانہ صفات سے متصف ہوکر زندگی کے شب و روز کا ایک ایک لمحہ دین مصطفےٰﷺ کی خدمت میں مصروف ہوکر جس انداز میں گزارا ہے اور دین کے ابلاغ کے لیے کٹھن سے کٹھن اور دشوار سے دشوار جو سفر کیے ہیں، اُن اسفار کو زینت قرطاس بنایا ہے۔

حضرت قمر ملت﷫ اپنی شکل و صورت اور وجاہت و قامت میں اپنے برادر اکبر شیخ الاسلام و المسلمین، زین العلماء والدین، تاج الشریعہ، بدر الطریقہ، حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری مدظلہ العالی کے مثل و عکس تھے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی﷫ کی اولاد و امجاد میں شہزادگان: حجۃ الاسلام حضرت العلام مولانا حامد رضا خاں، مفتی اعظم عالم اسلام حضرت العلام محمد مصطفیٰ رضا خاں فقیہہ بریلوی علیہما الرحمۃ اولاد ذکور کے علاوہ اولاد اناث  تمام متبع سنت ہی رہے ہیں۔ تاہم سماج کی ناقدانہ نگاہوں میں جملہ اخلاف ذکور ہی کے معمولات ہوتے ہیں، اس اعتبار سے یہ امر لائق صد تحسین ہے کہ دور حاضرہ میں فواحشات منکرہ اور خواہشات باطلہ کے باجود میرے عالی مرتبت اعلیٰ حضرت﷫ کے پوتے، پڑ پوتے، نواسے، پڑنواسے وغیرہ سب کا شمار، مدنی تاجدارﷺ کے عاشقوں اور مطیعوں میں ہوتا ہے، نیز اپنی استعداد و قابلیت اور روحانیت کے موافق ابلاغ دین میں اور وابستگان سلسلہ (رضویہ، نوریہ و برکاتیہ) کو فیضیاب کرنے میں ہمہ تن مصروف و مشغول ہیں۔ اعلیٰ حضرت کے کنبہ کے افراد مختلف جہات میں اپنے جد کریم کے مظہر ہیں۔ راقم السطور، زیر نظر مضمون میں چمن اعلیٰ حضرت میں سے فی الوقت عدیم الفرصتی کے باعث صرف ایک مہکتے پھول کو چُن کر اُس کی مہکار کو گلدستہ بناکر وابستگان سلسلۂ رضویہ اور تمام اہلسنت و جماعت کے ابراجِ عقیدت کی زینت  بنانا چاہتا ہے۔ یعنی صرف حضرت قمر ملت محمد قمر رضا خاں﷫ کا مبارک ذکر کرنا چاہتا ہے۔ آسمان اعلیٰ حضرت کی علمی کہکشاں پر مرقومہ مضمون کی طرح اعلیٰ حضرت﷫ کی نسبی کہکشاں کا تعارف انشاء اللہ تعالیٰ باقاعدہ تحقیقی کتاب میں پیش کیا جائے گا۔

قارئین محترم!
انوار العلوم کی توانائی کا سورج ’’اعلیٰ حضرت‘‘ ہیں، اور سنی رضوی بریلوی سولر سسٹم کا چاند،’’قمر رضا‘‘ ہیں۔فقیر حقیر بندۂ بے توقیر کے ممدوح محترم متذکرہ سطور میں رقم کردہ جملہ کی مناسبت سے اس طور اعلیٰ حضرت کے مظہر ہیں کہ لاکھوں مسلمانوں کے ہاتھوں کوپکڑ کر انہیں اعلیٰ حضرت کے وسیلہ سے،سرکار ولیوں کے سردار حضور غوث الاعظم کے دامن سے وابستہ کردیا ۔ یہ امر باعث حیرت ہے کہ اعلیٰ حضرت کی عمر شریف ہی کی طرح حضرت قمر رضا کی عمر بھی ۶۸ برس ہی ہوئی۔ 1365ھ کے شعبان کی 14تاریخ تا 1433ھ شعبان کی 5تاریخ تک 68 سالہ دورانیہ میں خورشید اعلیٰ حضرت کا__’’قمر‘‘ مختلف جغرافیائے عالم کے مطلع پر طلوع ہوتا رہا ۔ شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کے ایک مطلع کے مصداق ۔۔ چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے، سارا جہاں ہمارا  1405ھ تا 1433ھ یعنی 28 سال کے طویل عرصہ پر محیط تبلیغی اسفار فرمائے حتیٰ کہ اپنے وصال بہ کمال تک سفر میں مصروف عمل رہے۔

ولادت کے موقع پر اقوام عالم اور برصغیر کا ماحول:  دوسری جنگ عظیم کے بعد جب متحدہ ہندستان کے دینی، سیاسی، معاشی، تعلیمی اور تمدنی حالات نہایت دگرگوں تھے، سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر چکا تھا، پے درپے جغرافیائے عرب کے تھوڑے تھوڑے رقبوں پر مشتمل نئی نئی اسلامی ریاستیں، برطانوی سامراج کے اشاروں پر تشکیل پا رہی تھیں۔  1365ھ کی ربیع الاول شریف بمطابق فروری 1946ء کے مہینے میں ’’لبنان‘‘ نے اور جمادی الاول بمطابق اپریل 1946ء میں’’شام‘‘ نے آزاد ریاست کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی۔ 1947ء میں ’’فلسطین‘‘ پر یہودیوں نے قبضہ کیا۔ تشکیلِ پاکستان کا عمل مکمل ہوا۔ سلطنتِ خداداد ’’حیدرآباد دکن‘‘ پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا۔ 27 دسمبر 1949ء میں ’’انڈونیشیا‘‘ آزاد ہوا۔ جب کہ ’’لیبیا‘‘ 1951ء میں فرانسیسی تسلّط سے آزاد ہوا۔  برطانوی سامراج نے یہ سازش تیار کی تھی کہ عربوں کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرکے بعض ریاستوں میں وہابیت اور بعض میں اہل تشیع کا غلبہ قائم کیاجائے۔ انگریزوں ہی نے ’’مصر‘‘ کے شاہ فاروق کو جلا وطن کردیا، اور یہاں بھی اصلاح کے نام پر وہابیت کو فروغ دینے کی کوشش کی۔  حصول پاکستان کی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ 24 تا 27جما