Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
امام المناطقہ ، ملک المدرسین حضرت علامہ مولانا عطا محمد بندیالوی نوراللہ مرقدہ روزہ لیٹ افطار کیا کرتے تھے ، اور اس مسئلے پر آپ کی مستقل اور مدلل تحقیق تھی ۔
ایک دفعہ اپنے پیر خانے ( گولڑہ شریف ) حاضر تھے ۔۔۔۔۔۔۔ لوگ روزہ افطار کررہے تھے تو ایک بندے نے آپ سے کہا کہ روزہ افطار کرلیں ! آپ نے فرمایاابھی وقت نہیں ہوا ۔
اس نے کہا:
حضرت اعلیٰ گولڑوی ( پیر مہر علی شاہ صاحب ) بھی اسی وقت افطار کیا کرتے تھے ۔
آپ نے فرمایا:
حضرت اعلیٰ میرا شیخ ہے ، میں اوہدا مقلد ناں ، میں اوہدا مقلد ہاں حضرت اعلیٰ جیدا مقلد ہے ۔
( یعنی: اعلی حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمہ اللہ میرے پیر ہیں ۔۔۔۔۔ میں ان کا مرید ہوں ، مقلد نہیں ہوں ، کہ اِس فقہی مسئلے میں بھی اُن کی تقلید کروں ؛ میں اس امام اعظم رضی اللہ عنہ کا مقلد ہوں جن کے میرے پیر و مرشد بھی مقلد ہیں ۔ )
اُس بندے نے جب یہ بات سنی تو امام المناطقہ رحمہ اللہ کو تھپڑ دے مارا ۔
آپ رحمہ اللہ نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا اورجوابی کاروائی نہ کی ، لیکن اس بات کی اطلاع جب پیر مہر علی شاہ صاحب کے صاحبزادے پیر سید غلام محی الدین گیلانی ( قبلہ بابو جی ) رحمہ اللہ تک پہنچی تو انھوں نے اس بندے کو بلا کر دو تھپڑ مارے ، اور کہا:
وہ عالم دین ہیں تمھیں ان پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹
ایسی بہت ساری مثالیں ہیں کہ:
کاملین و صادقین مریدین باوجود کمالِ ادب اپنے شیوخ سے علمی اختلاف کرتے رہے ، اور علم دوست شیوخ ان کی حوصلہ افزائی فرماتے رہے ۔
شیخِ کامل کے ساتھ دلائل سے کسی علمی مسئلے پر اختلاف کرلینے سے نہ شیخ کے کمال میں فرق پڑتا ہے ، اور نہ مرید کی صداقت پر آنچ آتی ہے ۔
لیکن اِس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ شیخ کی جو بات سمجھ میں نہ آئے ، فوراً اختلاف شروع کردے ۔۔۔۔۔ ایسا کرنا باعث محرومی ہے ۔
اختلاف کے بھی آداب ہیں اور یہآداب ، ادب والے ہی جانتے ہیں ؛ بے ادب نہ اختلاف کے آداب سمجھتے ہیں ، نہ اختلاف کرنے والے سے آشنا ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بس " دو چار " تھپڑوں کے لائق ہوتے ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
17-7-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02H8oXdC5GURhaAXhk7bKSWAUqa9wDSQytyqsz1BqW9DMA8aTKGtMQAf678tvXN3wPl&id=100008105947430
ایک دفعہ اپنے پیر خانے ( گولڑہ شریف ) حاضر تھے ۔۔۔۔۔۔۔ لوگ روزہ افطار کررہے تھے تو ایک بندے نے آپ سے کہا کہ روزہ افطار کرلیں ! آپ نے فرمایاابھی وقت نہیں ہوا ۔
اس نے کہا:
حضرت اعلیٰ گولڑوی ( پیر مہر علی شاہ صاحب ) بھی اسی وقت افطار کیا کرتے تھے ۔
آپ نے فرمایا:
حضرت اعلیٰ میرا شیخ ہے ، میں اوہدا مقلد ناں ، میں اوہدا مقلد ہاں حضرت اعلیٰ جیدا مقلد ہے ۔
( یعنی: اعلی حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمہ اللہ میرے پیر ہیں ۔۔۔۔۔ میں ان کا مرید ہوں ، مقلد نہیں ہوں ، کہ اِس فقہی مسئلے میں بھی اُن کی تقلید کروں ؛ میں اس امام اعظم رضی اللہ عنہ کا مقلد ہوں جن کے میرے پیر و مرشد بھی مقلد ہیں ۔ )
اُس بندے نے جب یہ بات سنی تو امام المناطقہ رحمہ اللہ کو تھپڑ دے مارا ۔
آپ رحمہ اللہ نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا اورجوابی کاروائی نہ کی ، لیکن اس بات کی اطلاع جب پیر مہر علی شاہ صاحب کے صاحبزادے پیر سید غلام محی الدین گیلانی ( قبلہ بابو جی ) رحمہ اللہ تک پہنچی تو انھوں نے اس بندے کو بلا کر دو تھپڑ مارے ، اور کہا:
وہ عالم دین ہیں تمھیں ان پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹
ایسی بہت ساری مثالیں ہیں کہ:
کاملین و صادقین مریدین باوجود کمالِ ادب اپنے شیوخ سے علمی اختلاف کرتے رہے ، اور علم دوست شیوخ ان کی حوصلہ افزائی فرماتے رہے ۔
شیخِ کامل کے ساتھ دلائل سے کسی علمی مسئلے پر اختلاف کرلینے سے نہ شیخ کے کمال میں فرق پڑتا ہے ، اور نہ مرید کی صداقت پر آنچ آتی ہے ۔
لیکن اِس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ شیخ کی جو بات سمجھ میں نہ آئے ، فوراً اختلاف شروع کردے ۔۔۔۔۔ ایسا کرنا باعث محرومی ہے ۔
اختلاف کے بھی آداب ہیں اور یہآداب ، ادب والے ہی جانتے ہیں ؛ بے ادب نہ اختلاف کے آداب سمجھتے ہیں ، نہ اختلاف کرنے والے سے آشنا ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بس " دو چار " تھپڑوں کے لائق ہوتے ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
17-7-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02H8oXdC5GURhaAXhk7bKSWAUqa9wDSQytyqsz1BqW9DMA8aTKGtMQAf678tvXN3wPl&id=100008105947430
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرت_عثمان_غنی ❿ یومِ شہادت ¹⁸ ذو الحجہ ۵۳ ھ
#فیضان_حضرت_عثمان_غنی ⓫
یومِ شہادت ¹⁸ ذو الحجہ ۵۳ ھ
یومِ شہادت ¹⁸ ذو الحجہ ۵۳ ھ
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
#فیضان_حضرت_عثمان_غنی ⓬
یومِ شہادت ۱۸ ذو الحجہ ۵۳ ھ
یومِ شہادت ۱۸ ذو الحجہ ۵۳ ھ
❤3👍1