🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-12-1443 ᴴ | 16-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-12-1443 ᴴ | 17-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-12-1443 ᴴ | 17-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-12-1443 ᴴ | 17-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*یوم وصال:*
*18 ذوالحجہ*

📖 حدیث شریف میں ہے: جہاں صالحین (نیک بندوں) کا ذکر ہوتا ہے وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔


*🪔امیر المؤمنین جامع القرآن ذوالنّورین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ*


*🪔حضرت سیف الدین چشتی علیہ الرحمہ*


*🪔حضرت شیخ محی الدین عاصم علیہ الرحمہ*


*🪔حضرت محب اللہ شامی علیہ الرحمہ*


*🪔 خاتم الاکابر حضرت سیّد شاہ آل ِرسول قادری مارہروی علیہ الرحمہ*


*🪔حضرت شیخ احمد بن صبغت اللہ شافعی مدراسی محدث علیہ الرحمہ*


*🪔حضرت مولانا حافظ دوست محمد للہی علیہ الرحمہ*


*🪔صدر الافاضل حضرت علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ*


*🪔حضرت علامہ مفتی ابو داؤد محمد صادق قادری رضوی علیہ الرحمہ*


*🪔خلیفۂ مفتی اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی ریاض احمدرضوی سیوانی علیہ الرحمہ*


🔎 مزید معلومات اور تفصیل کے لیے دیے گئے لنک کو ملاحظہ فرمائیں 👇
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=18&month=12&year=

📿 اِن کے لیے ایصالِ ثواب کا اہتمام فرمائیں اور دعا کریں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اِن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خدمتِ دین و ملّت کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔🤲
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ۔ کنیت: ابوعبداللہ۔ لقب:غنی،جامع القرآن،اور ذوالنورین، یعنی دونوروں والا ہے۔(کیونکہ حضورﷺ کی دو صاحبزادیاں یکے بعددیگرے آ پ کے نکاح میں رہیں)۔

منقول ہے کہ آج تک کسی انسان کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی کہ اس کے عقد میں کسی نبی کی دو بیٹیاں آئی ہوں(سنن البیہقی)۔ رسول اللہ ﷺفرمایا کرتے تھے: اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نکاح کرتا چلا جاتا۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے:
امیرالمومنین عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبدالمناف۔

آپ کی والدہ کا نام:
ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبدمناف تھا۔

آپ کی نانی کا نام:
امِ حکیم بیضاء بنتِ عبد المطلب تھا جو آنحضرت ﷺ کے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی سگی بہن تھیں، اور دونوں جڑواں پیدا ہوئے تھے ،رسولِ اکرم ﷺکی پھوپھی تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے ہوئے۔

آپ کا نسب والدہ اور والد دونوں نسبتوں سے آنحضرت ﷺ کے جد امجد حضرت عبد مناف سے ملتا ہے۔ حضرت عبد مناف حضرت رسول اکرمﷺ کے جد چہارم اور حضرت عثمانرضی اللہ عنہ کے جدپنجم تھے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت واقعۂ فیل کے چھ سال بعد مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔ قبولِ اسلام: امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کوشش سے مشرف با اسلام ہوئے۔آپ اسلام قبول کرنے والے چوتھے شخص ہیں۔

حضرت عثمان کے فضائل:
اہل حق اہلِ سنت وجماعت کا متفقہ نظریہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے بلند مقام حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا، ان کے بعد حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا اور ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہے اور یہ نظریہ حضور ﷺ کی زندگی ہی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔

چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: " كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ"(صحیح بخاری ج1ص516 باب فضل ابی بکررضی اللہ عنہ)

ترجمہ:
ہم حضور علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کو ایک دوسرے پر ترجیح دیتے تھے۔ سب سے بہترحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سمجھتے تھے، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اور ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو۔

1۔شیخین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام نے حضرت عثمان کے آنے پر اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور فرمایا ! کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔۔(الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۵ )

2۔ابو نعیم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ! کہ عثمان میری امت کا سب سے زیادہ حیا دار اور کریم شخص ہے۔۔(الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۵ )

3۔طبرانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! کہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے خدا کی خاطر اپے اہل سمیت ہجرت کی۔۔(الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۵ )

4۔ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان سے فرمایا اے عثمان! یہ جبریل ہیں جو مجھے بتار ہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ام کلثوم کو رقیہ کے مہر کے مثل پر تیری زوجیّت میں دیا ہے۔ اور اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرنا ۔۔(الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۶ )

5۔ترمذی نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے۔۔(الصواعق المحرقہ ،ص ،۳۷۶ )

6۔ابن عساکر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ! کہ عثمان کی شفاعت سے ستّر ہزار ایسے آدمی جنت میں بلا حساب داخل ہوں گے جو آگ کے مستحق ہو چکے ہوں گے ۔۔(الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۷ )

7۔ ترمذی اور حاکم نے بیان کیا ہے اور اسے عبد الرحمٰن بن سمرہ سے صحیح قرار دیا ہے کہ حضور ﷺ’’جیش العسرۃ‘‘ کی تیاری فرمارہے تھے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دنیار لے کر آئے اور آپ ﷺکے حجرہ میں انہیں بکھیر دیا ۔ حضور ﷺ ا نہیں الٹنے پلٹنے لگے پھر فرمایا ! عثمان آج کے بعد جو کام کرے گا اس کا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

8۔ترمذی ،ابن ِماجہ،اور حاکم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ! اے عثمان ! اللہ تعالیٰ تجھے (خلافت کی)ایک قمیص پہنائیگا اگر منافقین اس کے اتارنے کا ارادہ کریں تو تم اسے نہ اتارنا ۔یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔(الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۷ ) یہ حدیث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ِحقّہ پر واضح دلیل ہے
1👍1