🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-12-1443 ᴴ | 12-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-12-1443 ᴴ | 13-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-12-1443 ᴴ | 13-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-12-1443 ᴴ | 13-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
االسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
سوال: زکاة کی رقم حیلئہ شرعی سے قبل محصل اپنے لیے یا کرایہ کے طور پر خرچ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ کتب معتبرہ سے جلد جواب عنایت فرمائیں
سایل : عبدالقادرمصباحی
_____________________
وعلیکم السلام ورحمة اللہ
الجواب ھوالھادی الی الصواب ؛ صورت مسئولہ میں آج کل مدارس عربیہ کے چندہ وصول کرنے والے عموما عامل نہیں ہوتے کہ انہیں بھیجنے والے ذمہ داران مدرسہ ہوتے ہیں جو حاکم اسلام نہیں -
اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جہاں حاکم اسلام نہ ہو وہاں مدارس عربیہ کے ذمہ داران حاکم اسلام نہیں قرار دیئے جائیں گے اور نہ ان کے مقرر کرنے سے زکوة وغیرہ وصول کرنے والے عالم ہوں گے - بلکہ ایسی جگہ میں ضلع کا سب سے بڑا سنی صیح العقیدہ عالم اس کے قائم مقام ہے
فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 602
لہذا وہ وکیل ہوتے ہیں اور انہیں اجازت نہیں کہ بلا تملیک حق المحنت لیں - یا زائد لے کر بعد میں اپنی تنخواہ سے مدرسہ کو وضع کرائیں اگر ایسا کرتے ہیں تو خیانت ہوگی جو حرام ہے -
قال اللہ تعالی یا یھا الذین امنوا لا تخنوا للہ والرسول وتخنوا آمنتکم وانتم تعلمون
یعنی اے ایمان والوں اللہ ورسول سے دغا نہ کرو اور امانتوں میں جان بوجھ کر خیانت کرو - پارہ 9، سورہ انفال
اس طرح کرنے سے زکاة بھی ادا نہیں ہوگی بلکہ انہیں زکاة دینے والوں کو تاوان دینا ہوگا -
حضور صدرالرشرعیہ فرماتے ہیں اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالا بعداپنا روپیہ زکوة دیا تو زکوة ادا نہ ہوئ بلکہ تبرع ہے اور موکل - یعنی زکاة دینے والے کا تاوان دےگا -
بہارشریعت حصہ پنجم صفحہ 23
لہذا چندہ وصول کرنے والوں پر لازم ہے کہ اپنا خاص روپیہ جن روپیوں کو شرعا تصرف کرنے کی اجازت حاصل ہے. انہیں اپنی ضروریات میں خرچ کریں اور چندہ کے سب روپیے جمع کریں پھر بعد تملیک جو حق المحنت انہیں ملے اسے اپنے خرچ میں لائیں
فتاوی فقیہ ملت اول صفحہ 327
واللہ تعالی اعلم
کتبہ؛ عبدالستاررضوی عفی عنہ
خادم التدریس والافتاء مدرسہ ارشدالعلوم ، عالم بازار، کلکتہ
4، رمضان المبارک 1439 ھ بمطابق 22، مئ 2018 عیسوی
9007644990
گروپ فقیہ ملت فاونڈیشن
بانی شہزادہ فقیہ ملت مفتی ازہارامجدی ازہری صاحب قبلہ
سوال: زکاة کی رقم حیلئہ شرعی سے قبل محصل اپنے لیے یا کرایہ کے طور پر خرچ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ کتب معتبرہ سے جلد جواب عنایت فرمائیں
سایل : عبدالقادرمصباحی
_____________________
وعلیکم السلام ورحمة اللہ
الجواب ھوالھادی الی الصواب ؛ صورت مسئولہ میں آج کل مدارس عربیہ کے چندہ وصول کرنے والے عموما عامل نہیں ہوتے کہ انہیں بھیجنے والے ذمہ داران مدرسہ ہوتے ہیں جو حاکم اسلام نہیں -
اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جہاں حاکم اسلام نہ ہو وہاں مدارس عربیہ کے ذمہ داران حاکم اسلام نہیں قرار دیئے جائیں گے اور نہ ان کے مقرر کرنے سے زکوة وغیرہ وصول کرنے والے عالم ہوں گے - بلکہ ایسی جگہ میں ضلع کا سب سے بڑا سنی صیح العقیدہ عالم اس کے قائم مقام ہے
فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 602
لہذا وہ وکیل ہوتے ہیں اور انہیں اجازت نہیں کہ بلا تملیک حق المحنت لیں - یا زائد لے کر بعد میں اپنی تنخواہ سے مدرسہ کو وضع کرائیں اگر ایسا کرتے ہیں تو خیانت ہوگی جو حرام ہے -
قال اللہ تعالی یا یھا الذین امنوا لا تخنوا للہ والرسول وتخنوا آمنتکم وانتم تعلمون
یعنی اے ایمان والوں اللہ ورسول سے دغا نہ کرو اور امانتوں میں جان بوجھ کر خیانت کرو - پارہ 9، سورہ انفال
اس طرح کرنے سے زکاة بھی ادا نہیں ہوگی بلکہ انہیں زکاة دینے والوں کو تاوان دینا ہوگا -
حضور صدرالرشرعیہ فرماتے ہیں اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالا بعداپنا روپیہ زکوة دیا تو زکوة ادا نہ ہوئ بلکہ تبرع ہے اور موکل - یعنی زکاة دینے والے کا تاوان دےگا -
بہارشریعت حصہ پنجم صفحہ 23
لہذا چندہ وصول کرنے والوں پر لازم ہے کہ اپنا خاص روپیہ جن روپیوں کو شرعا تصرف کرنے کی اجازت حاصل ہے. انہیں اپنی ضروریات میں خرچ کریں اور چندہ کے سب روپیے جمع کریں پھر بعد تملیک جو حق المحنت انہیں ملے اسے اپنے خرچ میں لائیں
فتاوی فقیہ ملت اول صفحہ 327
واللہ تعالی اعلم
کتبہ؛ عبدالستاررضوی عفی عنہ
خادم التدریس والافتاء مدرسہ ارشدالعلوم ، عالم بازار، کلکتہ
4، رمضان المبارک 1439 ھ بمطابق 22، مئ 2018 عیسوی
9007644990
گروپ فقیہ ملت فاونڈیشن
بانی شہزادہ فقیہ ملت مفتی ازہارامجدی ازہری صاحب قبلہ
❤2👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ چیک کی صورت میں "حیلۂ شرعی" ہو سکتا ہے کہ نہیں؟؟؟
جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
.......................................
نہیں ہوسکتا کہ حیلئہ شرعی میں حقدارِزکاۃ کو مالِ زکاۃکا مالک بنایا جاتا ہے، اور چیک مال نہیں بلکہ سند مال ہے، یہی وجہ ہے کہ چیک کے ذریعے زکاۃ کی ادائیگی درست نہیں.
مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے :"چیک ایک سندِ زر ہے اور اس حیثیت سے وہ مال متقوم نہیں،، (ص 159)
فتاوی رضویہ میں سرکار اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نوٹ اور چیک کی حقیقت یوں تحریر فرماتے ہیں" أقول بل من ارداء الشكوك توهم أنه سند من قبيل الصكوك أى أن السلطنة التي تروج هذه القراطيس تستدين من آخذيها الدراهم وتعطيهم هذه تذكرة لديونهم ولمقاديرها فإذا جاؤا بها إلي السلطنة قضتهم ديونهم و أخذت قراطيس،، (ج7،ص129)
واللہ أعلم
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
.......................................
نہیں ہوسکتا کہ حیلئہ شرعی میں حقدارِزکاۃ کو مالِ زکاۃکا مالک بنایا جاتا ہے، اور چیک مال نہیں بلکہ سند مال ہے، یہی وجہ ہے کہ چیک کے ذریعے زکاۃ کی ادائیگی درست نہیں.
مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے :"چیک ایک سندِ زر ہے اور اس حیثیت سے وہ مال متقوم نہیں،، (ص 159)
فتاوی رضویہ میں سرکار اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نوٹ اور چیک کی حقیقت یوں تحریر فرماتے ہیں" أقول بل من ارداء الشكوك توهم أنه سند من قبيل الصكوك أى أن السلطنة التي تروج هذه القراطيس تستدين من آخذيها الدراهم وتعطيهم هذه تذكرة لديونهم ولمقاديرها فإذا جاؤا بها إلي السلطنة قضتهم ديونهم و أخذت قراطيس،، (ج7،ص129)
واللہ أعلم
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-12-1443 ᴴ | 13-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-12-1443 ᴴ | 14-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1