🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ا جواب:* علامہ وفد کی یہ گفتگو سن کر دس بارہ منٹ تک بالکل خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ وفد کے ارکان منتظر اور مضطرب تھے کہ دیکھیے علامہ کیا فرماتے ہیں۔ توقع یہی تھی کہ جواب اثبات میں ملے گا کہ ایک عاشقِ رسول کا معاملہ دوسرے عاشقِ رسول کے سامنے پیش ہے۔ اس سکوت کو پھر علامہ اقبال ہی کی آواز نے توڑا۔ انہوں نے فرمایا:
’’کیا عبد القیوم کمزور پڑگیا ہے؟
‘‘ارکانِ وفد نے کہا: ’’نہیں اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اعتراف کیا ہے، اس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اور ایچ پیچ کی کوئی بات کہی وہ تو کھلے دل سے کہتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو‘‘۔ وفد کی اس گفتگو کو سن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا۔ انہوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا: ’’جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے، تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں ، جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مرگیا تو شہید ہے‘‘۔ علامہ کے لہجے میں اس قدر تیزی تھی کہ وفد کے ارکان اس سلسلے میں پھر کچھ اور کہنے کی جرأت نہ کرسکے۔ وفد کراچی واپس ہوگیا۔ غازی عبد القیوم کو جس دن پھانسی دی گئی، کراچی کی تاریخ میں وہ دن مسلمانوں کے جوش و اضطراب کا یادگار دن تھا۔ دلوں میں یہ جذبہ موجزن تھا کہ کاش، یہ شہادت ہمیں میسر آتی۔

لاہور میں غازی علم دین اور کراچی میں غازی عبد القیوم کے ان واقعات کا علامہ اقبال نے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا اور اپنے اس قلبی تاثر کو تین شعروں میں بیان فرمادیا۔ یہ اشعار *’’لاہور اور کراچی‘‘* کے عنوان سے *’’ ضربِ کلیم‘‘* میں شائع ہو چکے ہیں مگر غازی عبد القیوم کے لیے رحم کی درخواست کے اس واقعے کی روشنی میں ان اشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ ابھرتا ہے۔

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور

موت کیا شے ہے؟ فقط عالمِ معنیٰ کا سفر

ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ

قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

آہ اے مردِ مسلمان تجھے کیا یاد نہیں

حرفِ لا تد ع مع اللّٰہ الھا اٰخر


لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے وقتِ جنازہ جلوس نکالے۔ لاکھوں نے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، ناموسِ رسول ﷺ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اس شہید کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میوہ شاہ کے قبرستان میں ایک خاص چار دیواری کے اندر دفن کیا گیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی قبرِ انور پر اپنی کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے طفیل ہمارے اوپر بھی رحمت فرمائے۔ ہمیں بھی غازی عبد القیوم خان شہید رحمۃ اللہ علیہ کی طرح ناموسِ رسالت پر مر مٹنے والا بنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

*تاریخ شہادت:* 13/ذی الحجہ 1353ء بمطابق 19/مارچ 1935ء۔قبر انور میوہ شاہ قبرستان کراچی میں ہے۔

*ماخذومراجع:* شہیدان ناموس رسالت۔


*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 📱+966-551830750*
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-12-1443 ᴴ | 12-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-12-1443 ᴴ | 13-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-12-1443 ᴴ | 13-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-12-1443 ᴴ | 13-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1