🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ضیائے رجب المرجب 🌹

نیکیوں میں زیادتی :
رجب المرجب میں ¹نیکی کے بدلے⁷⁰
شعبان میں ¹نیکی کے بدلے سَات سَو
رمضان میں ایک نیکی کے بدلے ہَزار

اور یہ نیکیوں کا زیادہ ہونا خاص طور پر اس امت مصطفیٰ ﷺ کے لیے ہے
[ حوالہ : درۃ الناصحین ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا امام جعفر صادق¹

نام و نسب :
آپ کا نام : حضرت جعفرِ طیار رضی اللہ عنہ کی نسبت سے" جعفر "رکھا گیا۔

کنیت :
ابو عبداللہ - ابو اسماعیل اور ابو موسیٰ ہے۔

لقب (القاب) :
صادق ، فاضل ، طاہر ، اور کامل ہے۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے :
امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )۔

آپکی والدہ  محترمہ کا اسمِ گرامی
امِ فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے۔

یعنی آپ والدہ کی طرف سے "صدیقی" اور والد کی طرف سے" علوی فاطمی سید" ہیں۔

آپ کے نانا :
سیدنا قاسم بن محمد مدینہ منورہ کے سات فقہا میں سے تھے۔

آپ کی والدہ محترمہ سیدہ ام فروہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی بھی تھیں اور پڑنواسی بھی۔

اس لیے آپ فرمایا کرتے تھے "ولدنی ابوبکر مرتین" یعنی  مجھے  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دوہری ولادت ہونے کا شرف حاصل ہے۔

تاریخِ ولادت :
بروز جمعۃ المبارک،17/ربیع الاول،80 ھ، بمطابق،24/اپریل،702ء۔

مدینۃ الرّسول ﷺ کی
پُر نور فضا میں ولادت ہوئی۔

تحصیلِ علم :
آپ نے خاندانی روایات کی مطابق ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی سیدنا  امام محمد باقر رضی اللہ عنہ اور اپنے دادا گرامی سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ اور اپنے نانا جان فقیہِ اعظم مدینۃ المنورہ سیدنا  امام قاسم بن محمد سے حاصل کی۔ ان کے علاوہ صحابیِ رسول ﷺ حضرت سہل بن  سعدد رضی اللہ عنہ اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی تحصیلِ علم کیا۔

بیعت وخلافت :
اپنے والدِ گرامی سے روحانی تربیت حاصل  کی۔ ان کے علاوہ اپنے نانا جان  فقیہ ِ اعظم مدینۃ المنورہ ،سیدنا امام قاسم بن محمد سے بھی اکتساب فیض کیا ۔امام قاسم کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے فیض ملا ہے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو آپﷺ کے فیضِ صحبت کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے  بھی فیض  حاصل ہوا۔

سیرت و خصائص :
ملتِ نبوی کے سلطان، دینِ مصطفیٰ ﷺ کے پاسبان ،علومِ  نبویہ کے مظہر و وارثِ کامل  ،اہل ِ حق کے امام، اہلِ ذوق کے پیشرو، صاحبانِ عشق و محبت کے پیشوا، عابدوں کے مقدّم، زاہدوں کے مکرم ،خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ  حضرت سید نا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ۔

آپ کے کمالات اس قدر ہیں کہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کمال ہوسکتا ہے کہ سراج الامہ امام  اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ آپ کے پاس دو سال رہ کر درجٔہ کمال  تک پہنچ گئے اور نعرہ لگایا "لولا السنتان  لھلک النعمان" (اگر مجھے امام موصوف کی صحبت کے دو سال نہ ملتے تو میں ہلاک ہوجاتا)۔
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا امام جعفر صادق²

عبید بن رافع فرماتے ہیں :
کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ۔آپ  درمیانہ قد ،خوبصورت جسم، اور چہرہ ایسا حسین کہ جیسے سورج آپ کے چہرہ انور میں گردش کر رہا ہو۔ کالی سیاہ زلفیں ،اور ان زلفوں میں چہرہ ایسے نظر آرہا تھا جیسے اندھیری میں  رات میں چودہویں کاچاند نظر آتا ہے۔

عمرو بن مقدام فرماتے ہیں :
کہ جب میں امام جعفر صادِق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتا تھا، تو آپکے چہرہ انور کی زیارت کرتے ہی یہ خیال آتا کہ اس نورانی شخصیت کا تعلق انبیاء کے پاک گھرانے سے ہے۔

سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ
رضی الـلّٰـه تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

کہ میں نے اہل بیت میں امام جعفر بن محمد سے بڑھ کر کسی کو فقیہ نہیں دیکھا۔ مشہور محدث حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں : کہ میں نے آپ جیسا عالم، زاہد، حسین ،اور سخی نہیں دیکھا

حضرت سیدنا امام مالک
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

کہ میں حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ آ پ کی ذات اخلاق و عاداتِ مصطفیٰ ﷺ اور حسنِ مصطفیٰ ﷺ کا حسین امتزاج تھی ۔اور تمام علوم میں درجہ کمال حاصل تھا۔ تمام نسبتوں اور فضیلتوں کے باوجود آپ سب سے زیادہ خوفِ خدا کے مالک تھے۔

ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی ﷫نے  حضرت امام جعفر صادق ﷫ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :
اے فرزند رسولﷺ! مجھے نصیحت فرمائیں کیونکہ میرا دل سیاہ ہوگیا ہےـ

فرمایا : یا ابا سلیمان !
آپ  تو  زاہدِ زمانہ ہیں۔ آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے۔

داؤد نے عرض کیا :
اے فرزند رسولﷺ ! آپ کو سب پر فضیلت حاصل ہے۔ اس لیے آپ پر واجب ہے کہ سب کو نصیحت کریں۔

فرمایا : یا ابا سلیمان!
مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قیامت کے دن میرے جد بزرگوار انبیاء کے سردار ﷺ  میرا دامن پکڑیں اور یوں فرمادیں کہ میرا حق متابعت کیوں نہ ادا کیا :

کیونکہ یہ کام نسب کی شرافت پر موقوف نہیں۔ بلکہ درگاہِ رب العزت میں عمل کی پسندیدگی معتبر ہے۔

یہ سن کر داؤد بہت روئے۔
اور بارگاہ الٰہی میں عرض کی:
کہ اے پروردگار! جس شخص کی سرشت نبوت کے آب و گل سے ہے، اور جس کی طبیعت کی ترکیب آثارِ رسالت ﷺ سے ہوئی ہے، اور جس کے جدِ بزرگوار رسول کریم ﷺ ہیں، اور ماں حضرت فاطمہ بتول ہیں۔ جب وہ ایسی حیرانی میں ہے تو داؤد کس شمار میں ہے ۔

وصال :
آپ کاوصال 15/رجب 148ھ ،بمطابق 765ء  مدینۃ المنورہ میں ہوئی ،اور جنت البقیع میں قبہ اہلبیت میں مدفون ہوئے۔ مزید
Read More At :
http://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-imam-jafar-sadiq-bin-imam-baqir
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا امام جعفر صادق
بن امام باقر رضی اللہ تعالی عنہما

یومِ ولادت :
17 ربیع الاول سنہ 80 ہجری

یوم وصال :
15 رجب المرجب 148 ہجری
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت عباس بن عبدالمطلب¹

نام ونسب :
اسم گرامی : عباس بن عبدالمطلب

کنیت : ابوالفضل

لقب :
خاتم المہاجرین، عم رسول اللہﷺ

سلسلہ نسب اسطرح ہے :
حضرت عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ۔الی آخرہ۔(الاصابہ )

تاریخِ ولادت :
آپ کی ولادت باسعادت  566ءمیں واقعہ فیل سےتین سال قبل مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔حضرت عباس  پانچ سال کی عمرمیں اتفاقیہ طورپرکہیں گم ہوگئے۔ان کی والدہ محترمہ کو بڑی فکر ہوئی،انہوں نے اسی وقت نذرمانی کہ اگر عباس مجھ کو مل گئے تو میں بیت اللہ پر حریر و دیباج کا، جو نہایت بیش قیمت کپڑا ہوتا ہے، غلاف چڑھاؤں گی۔نذر ماننے کے بعد ہی حضرت عباس مل گئے، ان کی والدہ نے نذر پوری کی۔حضرت عباس  کی والدہ ہی وہ اول عرب خاتون ہیں جنہوں نے بیش بہا کپڑے کا غلاف بیت اللہ کو پہنایا۔

تحصیلِ علم :
زمانۂ جاہلیت میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان افرادمیں سےتھےجولکھناپڑھناجانتےتھے۔چنانچہ حضرت عباس جب سن تمیز کو پہنچے تو علم الانسا ب،علم التاریخ،علم الادیان میں مہارت حاصل کی،چوں کہ عرب میں یہ علوم عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے،

خصوصاً علم الانساب، کیوں کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام ہی کے زمانے سے برابر یہ خبر چلی آرہی تھی کہ عرب میں نسل اسماعیل ہی سے نبی آخرالزامان پیدا ہوں گے، اس وجہ سے علم الانساب کا بہت خیال رکھاجاتاتھا۔رسول اللہ کی بعثت کےبعدتورسول اللہ ﷺکاہرصحابی وحی کاامین اورعلومِ مصطفیٰ ﷺکاوارث بنا۔

سیرت وخصائص :
کچھ شخصیات زمانہ جاہلیت واسلام دونوں میں عزت کی نگاہ سےدیکھی جاتیں تھیں،اوران کی رائےکوتسلیم کیاجاتاتھا،ان میں سےایک ذات حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بھی ہے۔آپ قبل از قبول اسلام اوربعد از قبول اسلام ہمیشہ عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ اس گھرانےکےطبع سلیم  رکھنےوالےبزرگ قبل ازاعلان نبوت ملت خلیل پرعمل پیراتھے،جیسےحضرت عبدالمطلب،چنانچہ ان کی پرہیزگاری عرب میں مشہورتھی۔اس لئے بیت اللہ اوردیگراہم قومی امورکی نگرانی انہیں کےذمہ تھی۔حضرت عبدالمطلب کےبعد قریش نے حضرت عباس میں علم، شجاعت، سخاوت، سیادت، خاندانی نجابت، صلہ رحمی دیکھ کر انہیں کو بیت اللہ کا محافظ منتخب کیا۔(الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب) چناں چہ حضرت عباس ہمیشہ بیت اللہ کی حفاظت میں اپنے وقت کو صرف کیا کرتے تھے اور آپ نے اس قدر اچھا انتظام کیا کہ کسی کومجال نہ تھی کہ کوئی شخص بیت اللہ میں بیٹھ کر کسی کی ہجویا غیبت کر سکے،اگر کوئی ایسا کرتا تو حضرت عباس فوراً اس کو تنبیہ فرمادیا کرتے تھے اور ان کے حکم کے آگے سب کی گردنیں خم ہو جاتی تھیں۔ (کامل ابن اثیر،ج:1،ص:9)

تعمیر کعبہ :
حضرت عباس کی عمر جب سولہ سال کی ہوئی تو خانہ کعبہ میں اتفاقیہ طور پر آگ لگ گئی،جس کی وجہ سے عمارت مسمار ہوگئی، قریش نے جمع ہوئےاور اس کو بنانا شروع کیا تو ہر شخص کار ثواب سمجھ کراس کی تعمیر میں حصہ لینے لگا،حضرت عباس نےسب سے زیادہ اس میں حصہ لیا۔ حضرت عباس  کا نکاح:حضرت عباس کا نکاح حضرت لبابۃ الکبریٰ سے ہوا، جو ام المومنین حضرت میمونہ کی حقیقی بہن تھیں ،ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت لبابۃ الکبریٰ جن کی کنیت ام الفضل ہے ،یہ وہ پہلی خاتون ہیں جو حضرت خدیجہ کے بعد مسلمان ہوئیں اور بہت سی حدیثیں ان سے مروی ہیں ۔یہ رسول اللہ کی چچی محترمہ تھیں اورآپ ﷺکابہت خیال رکھتیں تھیں ـ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت عباس بن عبدالمطلب

قبولِ اسلام :
جب آپ ﷺنےاعلان  نبوت فرمایاتو اس وقت  حضرت عباس کی عمر تینتالیس سال تھی۔آپ نےغزوۂ بدرکےبعدہی اسلام ظاہرکیا،اس کی وجہ یہ ہےکہ آپ کا ایک عرصہ تک مکہ میں مقیم رہنا اورعلانیہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہونا درحقیقت ایک مصلحت پر مبنی تھا،وہ کفارمکہ کی نقل وحرکت اوران کے رازہائے سربستہ کی اطلاع  رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے، نیز اس سرزمین کفر میں جو ضعفائے اسلام رہ گئے تھے ان کے لیے تنہا ماویٰ وملجا تھے،یہی وجہ ہے کہ حضرت  عباس نے جب کبھی رسالت پناہ ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے منع کردیااورفرمایا :کہ "آپ کا مکہ میں مقیم رہنا بہتر ہے،خدانے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے ،اسی طرح آپ پر ہجرت ختم کرے گا۔یہی وجہ ہےکہ جنگ بدر میں لڑائی سے پہلے حضوراکرمﷺ نے فرمادیا تھا: کہ تم لوگ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل مت کرنا کیونکہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں،اورکفار مکہ ان پر دباؤ ڈال کر انہیں جنگ میں لائے ہیں ۔ (سیرتِ مصطفیٰﷺ:151

فضائل ومناقب :
آپ کےبہت فضائل ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت رسول اللہﷺ کی قرابت ہے۔رسول اللہﷺ کےعم محترم ہیں۔حضورﷺانہیں والدکہ کر بُلاتےتھے۔جب پوری قوم نےآپ ﷺکاساتھ چھوڑدیا، اور دشمنی پہ اترآئے،اورمعاشی،معاشرتی ہرقسم کابائیکاٹ کردیا،اورخاندان بنی ہاشم نے"شعب ابی طالب"میں تین سال انتہائی کسمپرسی میں بسرکیےیہاں تک کہ نوبت درختوں کےپتےکھانے، اورسوکھاچمڑاچبانے،اورپیٹ پرپتھرباندھنےتک جاپہنچی ۔ان مشکل حالات میں حضرت عباس اورحضرت عبدالمطلب نےرسول اللہ ﷺکاساتھ نہ چھوڑا۔
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ہجرتِ حضرت عباس رضی اللہ عنہ:
حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں(مکہ معظمہ سے) خط تحریرکیا کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوجاؤں۔ اس کے جواب میں حضور پر نورﷺ نے یہ فرمایا:یا عم اقم مکانک الذی انت فیہ، فان اﷲ یختم بک الھجرۃ کما ختم بی النبوۃ۔ اے چچا!اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو، جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں ﷺ ۔( تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ذکر من اسمہ عباس، داراحیاء التراث العربی، بیروت، 7/235)

جب رسول اللہ ﷺ نےکفارمکہ کےظلم وستم کی وجہ سےابتداءً مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کاارادہ کیاتوآپﷺ نےحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمشورہ فرمایا کہ میراارادہ یہاں سےہجرت کاہےآپ کی کیارائےہے،اس وقت مدینۃ المنورہ کےبارہ افراداسلام قبول کرچکےتھے۔توحضرت عباس نےاس وقت منع کردیا،اورعرض کی اتنی قلیل لوگوں کےساتھ آپ تشریف نہ لےجائیں، بلکہ آپ اپنانائب بھیج کروہاں تبلیغ کریں۔

آپ ﷺکو یہ رائےبہت پسند آئی، اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کومدینۃ المنورہ تبلیغ کی غرض سےبھیج دیا۔

اور ان کی کوششوں سےحضرت سعد بن معاذمشرف بااسلام ہوگئے، اور ان کی تبلیغ پران کاپوراقبیلہ مسلمان ہوگیا

دوسرےسال اسی(80) مسلمان حج کےلئےمکۃ المکرمہ آئے۔تواس وقت ان سےبات چیت اوررسول اللہ ﷺکی ہر حال میں حفاظت واطاعت کا عہد کرنےوالے حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ ان لوگوں نے پورا عہد کیا اور کہا:

اے عباس!ہم نے خدا کے لیے یہ عہدکیاہے، کہ ہم ان پر اپنی جانیں قربان کردیں گےاوران کاساتھ نہ چھوڑیں گے،جب تک جسم میں جان باقی ہےہم ان تک  کسی دشمن کو نہیں پہنچنےدیں گے،ہم اپنی جان ،اولادسب کچھ ان پرقربان کردیں گے۔

لیکن! ایک عرض ہماری بھی ہے کہ، اگر آں حضرت ﷺ اپنے دشمنوں پر غالب آجائیں اور کسی کا خوف و اندیشہ نہ رہے تو ایسا نہ ہوکہ آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ چلے آئیں۔

آپ ﷺنے یہ سن کرارشاد فرمایا:
کہ ایسانہ ہوگا، میری قبر تمہاری قبروں میں ہوگی اور میرا گھر تمہارے گھروں میں ہوگا ۔جن کے ساتھ تم  لڑوگے میں بھی لڑوں گا،جن سے تم صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا۔

یہ فرما کر آپ ﷺکھڑے ہوئے اور تقریر کی۔ چند ایام گزرنے کے بعد آپ ﷺباذن خداوندی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہم راہ لے کر مدینہ کی طرف ہجرت فرماگئے۔ سبحان اللہ!

انصارنےکیسا ساتھ نبھایا،اورمصطفیٰ کریم ﷺنےکیساکرم فرمایا۔منقول ہے کہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے متصل  تھا اوربارش میں  اس مکان کاپرنالے کاپانی گلی میں گرتاتھا،جس کی وجہ سےگلی میں پانی بھرجاتاتھا،

امیرالمؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس پرنالہ کو اکھاڑ دیا ۔حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ خدا کی قسم!اس پرنالہ کو رسول ﷲﷺنے میری گردن پر سوار ہو کر اپنے مقدس ہاتھوں سے لگایا تھا۔ یہ سن کر امیر المؤمنین نے فرمایا کہ اے عباس! مجھے اسکا علم نہ تھا اب میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ میری گردن پر سوار ہو کر اس پر نالہ کو پھر اسی جگہ لگا دیجئے ،جہاں رسول اللہ ﷺنےلگایاتھاچنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(وفاء الوفا جلد1 ص348)۔

( یہ صحابی تھے، وہابی نہیں تھے، وہ رسول اللہ کی نسبت والی چیزوں کاخیال اوران کوبحال رکھتے تھے، اوریہ گرانےاور مٹانے پہ تلے ہوئے ہیں )

آپ کےتوسل سےبارش کانزول :
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب شدید قحط پڑگیا اور خشک سالی کی مصیبت سے دنیا ئے عرب بدحالی میں مبتلا ہوگئی تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز استسقاء کے لیے مدینہ منورہ سے باہر میدان میں تشریف لے گئے اور اس موقع پر ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اجتماع ہوا ۔ اس بھرے مجمع میں دعا کے وقت حضرت امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بازو تھام کرانہیں اٹھایا اور انکو اپنے آگے کھڑا کر کے اس طرح دعا مانگی:''یا اللہ ! پہلے جب ہم لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تھے تو تیرے نبی کو وسیلہ بناکر بارش کی دعائیں مانگتے تھے اورتو ہم کو بارش عطافرماتا تھا مگر آج ہم تیرے نبیﷺکے چچا کو وسیلہ بناکر دعا مانگتے ہیں لہٰذا تو ہمیں بارش عطافرمادے''۔(صحیح البخاری:3710)

پھر جب حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بارش کے ليے دعامانگی تو ناگہاں اسی وقت اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ گھٹنوں  تک پانی میں چلتے ہوئے اپنے گھروں میں واپس آئے اورلوگ جو ش مسرت اورجذبہ عقیدت سے آپ کی چادر مبارک کو چومنے لگے اورکچھ لوگ آپ کے جسم مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔

وفات :
آپ کاوصال 12/رجب المرجب 32ھ،مطابق 18فروری 653ء،بروزجمعۃ المبارک88سال کی عمرمیں ہوا۔

جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نےقبرمیں اتارا

ماخذومراجع :
صحیح البخاری ۔ وفاء الوفاء ۔ سیرت
مصطفیٰﷺ ۔ الاصابہ ۔ کامل ابن کثیر
ابوالفضل حضرت عباس
رضی اللہ عنہ عم رسول اللہ ﷺ

یومِ وِصال :
۱۲ رجب المرجب ۳۲ ہِجری
➻═══════════➻
Read More At : ↓
www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-abul-fazl-al-abbas-ibn-abdul-muttalib
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 اہلسنت کو مُبارک ہُو 🌹
اَلۡحَمۡدُ لِـلّٰـه 16ᵀᴴ فِقہی سیمینار میں

جانشینِ حضور تاج الشریعہ حضرت
علامہ مفتی محمد عسجد رَضا خان
قادِری بریلوی دامَت برکاتہم العَالِـیَہ

کو حضور مُحَدِّثِ کبِیر اور دیگر
مفتیانِ کرام کی مَوجُودگی میں

قاضی القضاۃ کے منصب سے
نوازا گیا ..... سُبحَانَ اللہ ﷻ .....

جماعت رَضائے مُصطَفیٰ مُمبَئِی
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اِختلاف کِیجِۓ ہمیں کوئی شِکایت نہیں
لیکن بَد تمیزی نا قابلِ بَرداشت ۔۔۔۔۔ـ۔۔

31 مارچ 2019 کو جامعۃ الرضا ،بریلی شریف میں منعقدہ 16ویں فِقہی سیمینار میں حضور محدث کبیر و دیگر مفتیانِ کرام کی جماعت کے ذریعے متفقہ طور پر جانشین تاج الشریعہ ، قائِدِ اہلسُنت حضرت علامہ مفتی محمد عسجد رَضا خان صاحب قبلہ کو قاضی القضاۃ فی الہِند منتخب کیا گیا ، دوسرے دن سے ہی سُوشل میڈیا پر اختلافی پُوسٹ کا دور شروع ہو گیا،

اختلاف کرنے والے حضرات میں دو طرح کے افراد ہیں ، ایک سنجیدہ قسم کے افراد دوسرے غیر سنجیدہ افراد ...

سنجیدہ حضرات سے مَیں یہ عرض کروں گا کہ آپ اختلاف شوق سے کریں ، یہ اختلاف حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے معاملے میں بھی ہوا تھا ،ہم قطعاً آپ سے اتفاق کرنے کے لئے نہیں کہیں گے، اگر آپ حضرات کوئی دوسرا قاضی القضاۃ منتخب کر لیں تو بھی ہم اعتراض نہیں کریں گے ۔

غیر سنجیدہ افراد سے عرض ہے کہ آپ حضرات جانشینِ تاج الشریعہ کا عِلم ناپنے کی کوشِش نا کریں کیوں کہ ہم نے ماہر قلم کار ، چرب زبان مُقرِّر اور مناظر کہلانے والوں کی زبانوں پر جانشینِ تاج الشریعہ کے سامنے تالے لگتے ہوۓ دیکھا ہے ، اگر آپ حضرات کی زبانیں کنٹرول میں نہ رہیں تو مجبوراً غلامانِ تاج الشریعہ کو بہت سے آپریشن کرنے پڑیں گے جن کی موجودہ حالات اجازت نہیں دیتے۔

لِہٰذا اُمِّید ہے کہ آپ حضرات میری گذارِش کو قبول فرما کر اُمَّتِ مسلمہ کو مزید دشواریوں میں نہیں ڈالیں گے ۔

سگ بارگاہ تاج الشریعہ
قمر غنی عثمانی قادری چشتی
نائب سجادہ نشین : درگاہ سرکار بندگی، امیٹھی شریف، لکھنؤ - بانی و صدر تحریک فروغ اسلام
➻═══════════➻
🅣🅣🅢 AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِ سُـنّت
حـضرت عـلامـہ و مولانا مفتی الشاہ
محمد عسجد رَضا خان قادِری‌رَضوی
فاضِلِ بریلوی دامَت برکاتہم الـعَـالِـیَہ

کو منصبِ قاضی القضاۃ فی الہند
خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹 🌹 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
غلامِ حضور تاج الشریعہ
محمد صلاح الدین برکاتی رَضوی
خاک پائے حضور تاج الشریعہ
مُـحَـمَّـد ہَارون خان رَضوی علیمی

خادِم مدرسۃ الدراسات السنیہ
جامعۃ الرَّضا دُوبَر سَائیں پُوروَہ
بَتاریخ ²⁶ رجبُ المرجب ¹⁴⁴⁰ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِ سُـنّت
حـضرت عـلامـہ و مولانا مفتی الشاہ
محمد عسجد رَضا خان قادِری‌رَضوی
فاضِلِ بریلوی دامَت برکاتہم الـعَـالِـیَہ

کو منصبِ قاضی القضاۃ فی الہند
خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹 🌹 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خاڪ پائے حضور تاج الشریعہ
محمد اِسلام خان رَضوی مِصباحی
صدر المدرسین مدرسہ گلشن رَضا
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Mufti Asjad Raza Confrred
With Qadi Al Qudaat Titel
📇 Times City 📇
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Tarjumane Urdu Male Ganw
علامہ مفتی عسجد رَضا کو منصبِ
”قاضی القضاۃ فی الہِند“ مُبارک🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اللہ تبارَڪ تعالیٰ ﷻ اپنے بندوں میں سے ڪِسی ڪُو چُن لیتا ہے اور جِسے چاہتا ہے بے حِساب نوازتا ہے ؛ جَیسے عِزت ، دَولت ، شُہرت ، مَنصب اور سَب ڪُچھ قاضی القضاۃ فی الہِند کے منصب سے مُبارڪ ہُو سُنِّیُوں ، ہَم سَب ڪو .....
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مَسلڪِ اعلیٰ حضرت سَلامت رَہے
آمین ... سَجَّاد حُسَین رَضوی
📇Razvi Networkرَضوِی نیٹ ورک
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
عہدہ قاضی القضاۃ اور عسجد میاں¹

31 مارچ کو المرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرَّضَا بریلی شریف میں ہونے والے فِقہی سیمینار کے اختتام پر مقتدر علماء کرام کی آراء وصواب دید پہ جانشین حضور تاج الشریعہ , قائد اہلسنت حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد عسجد رضا خان قادِری برکاتی رَضوی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ کو قاضی القضاۃ فِی الہِند کے خطاب سے نوازا گیا 🌹

جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پہ جہاں ایک طبقہ گلہائے مُبارک باد پیش کرنے میں مصروف ہے – تو وہیں دوسری جانب کچھ لوگوں نے طوفان بد تمیزی کابازار گرم کر رکھا ہے ...

اب آئِیے آپ کے قاضی القضاۃ فی الہند ہونے کی ضرورت , اہلیت وَ فوائد پہ عقیدت و محبت کی نظر سے ہٹ کے محض حقیقتِ حال کے اعتبار سے نظر ڈالی جائے .....

کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ عسجد میاں سے بہت قابِل لوگ ہیں ان کو بنانا چاہئے قاضی – تو بلا شبہہ میں خود اس بات کا معترف ہوں کہ حضور عسجد میاں صاحب قبلہ سے زیادہ قابل علماء فضلاء فی زماننا موجود ہیں ـ بلکہ آپ دور نا جائیں تو اسی سیمینار میں بعضے ایسے تھے جن کے سامنے قائد اہلسنت کی حیثیت ایک تلمیذ کی سی ہے پھر بھی اُنہیں کبار علماء نے آپ کو قاضی چُنا ..... تو آخِر کیوں ؟؟؟

کیا قاضی القضاۃ ہونے کیلئے زمانے میں موجود سبھی لوگوں سے زیادہ قابل ہونا ضروری ہے تو ایسا نہیں ـ کیونکہ اگر آپ اس تلاش میں لگیں بھی تو تلاش کاسلسلہ بند نہیں ہوگا ـ کیونکہ فوق ذی علم علیم ایک مسلمہ حقیقت ہے ـ

آج جو لوگ اہلسنت کے مابَین اِتحاد کی باتیں کرتے ہیں تو میں ان سبھی سے ادباً عرض گزار ہوں کہ اس کے لئے ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہُونا ضروری ہے اور شہر بریلی شریف جو عقیدت و محبت کا تقریباً دو صدِیوں سے محور و مرکز رہا ہے ـ اہلسنت کے ایمان و عقیدے کی اس شہر سے پاسبانی ہوتی رہی ہے تو کیوں نا ہم اسی سابقہ روایت کے مطابق محسنِ اہلسنت یعنی سیدی سرکار اعلیٰ حضرت کے خانوادے کے ایک فرد یعنی قائد اہلسنت , حضور عسجد میاں صاحب قبلہ کو اپنا قائد و قاضی تسلیم کر کے یکسوئی و اِتحاد کا ثبوت پیش کریں اور اپنا ایک پلیٹ فارم بنا لیں ...

اب رہ گئی کُچھ لوگوں کی یہ بات اور خلش کہ ان سے بھی قابل لوگ موجود ہیں تو بلاشبہہ بہت سے ہمارے مقتدر علماء فضلاء بہت سے مدارس و خانقاہ میں موجود ہیں جن کی عظمت ہمیں تسلیم ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ قائد اہلسنت کے قاضی القضاۃ بنانے سے ان علماء کے علم و فضل اور عظمت و شان میں کُچھ فرق نا آئے گا ...

قائد و قاضی منفرد شان کا ہونا چاہئیے جس کے اندر گونا گوں صلاحیت ہو جیسا کہ ماضی قریب کی کچھ مثالیں ہماری بات کی عکاس ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب بڑے بڑے مدارس و خانقاہ کے علماء نے حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک دِئیے اور دَباؤ میں کچھ نے تو غلط فتوے بھی دے دئیے ـ ایسے وقت میں بھی اگر کوئی اہلسنت کی صحیح قیادت اور شریعت کے اصل احکام ہمیں سمجھانے میں لگا رہا تو وہ حضور عسجد میاں کی شان تھی ...

کُچھ دوسرے علماء کے بنسبت علم میں قدرے کم ہو معاملہ حل ہُو جائےگا❗️

لیکن جذبہ ایمانی ,اخلاص ,بے لوثی ,فکر ملت ,باشعوری اور شجاعت و بہادری جس کے اندر جس قدر زیادہ ہو باقیوں پہ اسی کو فوقیت دینی چاہئے کیونکہ اگر درپیش مسائل میں کچھ خفاء ہوگی تو

فَسۡـئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ
☆ Kanzul Iman Translation :
تو اے لوگو عِلم والوں سے پُوچھو
اگر تمہیں عِلم نہیں
سُورۃ النحل⁴³

پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اہلِ عِلم کی بارگاہ میں ایسا بے لوث خادمِ دین زانوئے ادب طے کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریگا لیکن اگر قضاۃ و قیادت کی باگ ڈور کسی ایسے کے ہاتھ لگ جائے جو زمانے کے باطل سورماؤں سے مرعوب ہو یا تصلب فی الدین میں کمی ہو تو آئے دن وہ مُلک و مِلّت کا سودا کرتا نظر آئیگا ...

اور رہ گئی بات حضور عسجد میاں صاحب قبلہ کی تو کسی کی قابلیت کا اندازہ آپ اس کی ڈِگریوں اور مدارس کے چکر لگانے سے نہیں کرسکتے وہ تو ایسے خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص ہیں جن کی پہچان ہی پُوری دنیا میں تفقہ فی الدین ,خشیت الٰہ اور عشق رسول کے طور پہ ہوئی وہاں نظروں سے علم وَ ادب کو دلوں میں اتارنے کا اختیار رب کائنات نے بخشا ہے ...

تو ہمیں رب تعالیٰ کی بارگاہ سے یہ قطعی یقین ہے کی جیسے اب تک اس نے ہماری حفاظت وصیانت اس خاندان کے ذریعہ فرمائی آئیندہ بھی فرماتا رہیگا اور بقدر ضرورت وحاجت معاملات کی گتھیوں کو سلجھانے کی صلاحیت بخشتا رہےگا کیونکہ فاعل حقیقی وکارساز حقیقی تو رب تعالی ہی ہے اور اسی ذات پہ ہمیں بھروسہ رکھنا چاہئے وہ اپنے بندوں کی قیادت کسی نااہل کے ہاتھ سپرد نہیں کریگا ...
عہدہ قاضی القضاۃ اور عسجد میاں²

اور آپ لوگ اس بات کو بھی نا بھولیں کہ جامعۃ الرَّضا بریلی شریف جو کہ جانشینِ حضور مُفتئ اعظمِ ہِند , حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کا لگایا ہوا پودا ہے جو اب بحمدہ تعالیٰ تناور درخت کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے جس میں ایک سے بڑھ کے ایک علماء کرام , مفتیانِ عظام دانشوران ملت بصورت ثمر موجود ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہاں سے علماء و فضلاء کی ایک جماعت ہر سال عوامِ اہلسنت کی خدمت کیلئے پیش کی جاتی ہے ...

تو جو بھی فیصلے ہونگے ان علماء و فضلاء کی نظروں سے ہوتے ہوئےآپ کی تحسینی و تنقیدی نظروں کے سامنے ہونگے ...

اللہ رب العزت ہم سب کو مرکزِ عقیدت و محبت بریلی شریف سے سَچِّی لگن عطا فرمائے اور محسنِ اہلسنت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ کے احسانوں کا بدلہ بصورت احسان ادا کرنے کی توفیق بخشے آمين

ڈال دی قلب میں عَظمتِ مصطفےٰﷺ
سَیِّدِی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سَلام


کام وہ لے لیجِئے تم کو جُو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رَضَا تم پہ کروڑوں درود


اسیرِ خاندانِ رَضا و گدائے
مُشاہدِ مِلَّت وحضور تاج الشریعہ

محمد عمار رَضا صدیقی حشمتی مصباحی 🏡دارالعلوم مخدومیہ رُدَولی شریف فیض آباد الہِند
➻═══════════➻
🅣🅣🅢 AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مفتی عسجد رَضا - عبدالمقتدر جالوی.MP3
3.6 MB
قاضی القضاۃ فی الہِند
مفتی عسجد رَضا خان
دامَت بَرکاتهم الـعَـالِـیَہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مفتی شبیر حسن رَوناہی
مفتی عاشِقُ الرّحمٰن اِلٰہ آبادی
سید اویس حسن مصطفیٰ بلگرامی
مفتی صالح رضوی صاحب بریلوی
مفتی ناظِم علی بارہ بنکوی
علامہ سید گلزار میاں مسولوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🎙مولانا عبدالمقتدر جالوی‌صاحب
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِ سُـنّت
حـضرت عـلامـہ و مولانا مفتی الشاہ
محمد عسجد رَضا خان قادِری‌رَضوی
فاضِلِ بریلوی دامَت برکاتہم الـعَـالِـیَہ

پَیدائِشی نام : محمد منور رَضا حامِد
عُرفی نام : عسجد رَضا
تاریخ پیدائِش ¹⁴شعبان ¹³⁹⁰ھ ¹⁹⁷⁰ء
زوجہ محترمہ : راشِدہ نوری صاحبہ
بنت علامہ سبطین رَضا خان بریلوی
تاریخ نکاح : ²شعبان المعظم ¹⁴¹¹ھ
اولاد : ⁴صاحبزادیاں ¹صاحبزادے
لڑکیاں : ¹اریج فاطمہ ²امرہ فاطمہ
³مزینہ فاطمہ ⁴بشریٰ فاطمہ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
تعارف : حضرت امام حسین بن علی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہ
پَیدائِش⁴شعبانۡ⁴ھ | عُمر ⁵⁶سَال⁵ماہ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
¹⁴ ویں امام احمد رَضا کانفرنس
🌹و جشنِ دستارِ فضیلت🌹🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📇دارالعلوم مسعودیہ مصباحیہ
خسیاری مسجِد محلہ سالار گنج
شہر بہرائچ شریف یُو پِی الہِند
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻