محافظ اسلام، سفیر امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت کوفہ میں ہوئی۔ آپ حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بھائی حضرت عقیل بن ابو طالب کے بیٹے، سید الشہداء سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ و ارضاہ کے چچا زاد بھائی، نائب اور جان نثار اصحاب میں سے ہیں۔ 9 ذوالحجہ 60ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کا مزار مبارک کوفہ کی جامع مسجد جسے مسجد انبیاء بھی کہتے ہیں کے پاس فیوض و برکات کا منبع ہے۔ (تاریخ دمشق، الکامل فی التاریخ، مرآۃ الزمان)
Defender of Islam, Ambassador of Imam Aali Maqam, Sayyiduna Muslim bin Aqeel (RadiyAllahu Anhu) was born in Kufa. He is the son of Sayyiduna Ali al-Murtada’s (may Allah ennoble his face) brother Aqeeel bin Abi Talib, Sayyiduna Imam Husayn’s (RadiyAllah Anhu wa Ardaah) cousin brother, representative, and one of his staunch devotees. He embraced martyrdom on 9th of Dhu al-Hijjah 60 AH. His blessed mausoleum is the centre of spiritual blessings and upliftment near Jaami’ Masjid of Kufa also known as Masjid Anbiya. [Tarikh Dimashq, Al-Kamil fi al-Tarikh, Mirat al-Zaman]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02karyVdHUL6aX48hLztipbw38DD18NFJeiYXowGqwEbNGJ9xMn5mvPLYMRAa7yhNml&id=100050689590519
Defender of Islam, Ambassador of Imam Aali Maqam, Sayyiduna Muslim bin Aqeel (RadiyAllahu Anhu) was born in Kufa. He is the son of Sayyiduna Ali al-Murtada’s (may Allah ennoble his face) brother Aqeeel bin Abi Talib, Sayyiduna Imam Husayn’s (RadiyAllah Anhu wa Ardaah) cousin brother, representative, and one of his staunch devotees. He embraced martyrdom on 9th of Dhu al-Hijjah 60 AH. His blessed mausoleum is the centre of spiritual blessings and upliftment near Jaami’ Masjid of Kufa also known as Masjid Anbiya. [Tarikh Dimashq, Al-Kamil fi al-Tarikh, Mirat al-Zaman]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02karyVdHUL6aX48hLztipbw38DD18NFJeiYXowGqwEbNGJ9xMn5mvPLYMRAa7yhNml&id=100050689590519
❤2👍2
روزہ کا بیان 📖 مسائل فقہیہ:
[ بہارِ شریعت جِـ¹ حِـ⁵ صَـ⁹⁶⁶ ]
روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱: روزے کے تین درجے ہیں:
ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یہی پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے جماع سے روکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ ان کے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوی ﷲ (یعنی ﷲ عزوجل کے سوا کائنات کی ہر چیز) سے اپنے کو بالکلیہ جُدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔ (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲: روزے کی پانچ قِسمیں ہیں:
(۱) فرض۔
(۲) واجب۔
(۳) نفل۔
(۴) مکروہِ تنزیہی۔
(۵) مکروہِ تحریمی۔
فرض و واجب کی دو قسمیں ہیں:
معیّن و غیر معیّن۔ فرض معیّن جیسے ادائے رمضان۔ فرض غیر معیّن جیسے قضائے رمضان اور روزۂ کفارہ۔
واجب معیّن جیسے نذر معیّن۔ واجب غیر معیّن جیسے نذر مطلق۔
نفل دو ۲ ہیں: نفل مسنون، نفل مستحب جیسے عاشورا یعنی دسویں محرم کا روزہ اور اس کے ساتھ نویں کا بھی اور ہر مہینے میں تیرھویں، چودھویں، پندرھویں اور عرفہ کا روزہ، پیر اور جمعرات کا روزہ، شش عید کے روزے صوم داؤد علیہ السلام، یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار۔
مکروہِ تنزیہی جیسے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیروز و مہرگان کے دن روزہ۔ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا)، صومِ سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے)، صومِ وصال کہ روزہ رکھ کر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ رکھے، یہ سب مکروہِ تنزیہی ہیں ۔
مکروہِ تحریمی جیسے عید اور ایّام تشریق (یعنی عید الفطر، عید الاضحی اور گیارہ، بارہ، تیرہ ذی الحجہ، ان پانچ دِنوں ۔) کے روزے۔ (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ادائے روزۂ رمضان اور نذر معین اور نفل کے روزوں کے لیے نیّت کا وقت غروب آفتاب سے ضحوۂ کبریٰ تک ہے، اس وقت میں جب نیّت کر لے، یہ روزے ہو جائیںگے۔ لہٰذا آفتاب ڈوبنے سے پہلے نیّت کی کہ کل روزہ رکھوںگا پھر بے ہوش ہو گیا اور ضحوۂ کبریٰ کے بعد ہوش آیا تو یہ روزہ نہ ہوا اور آفتاب ڈوبنے کے بعد نیّت کی تھی تو ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ضحوۂ کبریٰ نیّت کا وقت نہیں، بلکہ اس سے پیشتر نیّت ہو جانا ضروری ہے اور اگر خاص اس وقت یعنی جس وقت آفتاب خطِ نصف النہار شرعی پر پہنچ گیا، نیّت کی تو روزہ نہ ہوا۔ (درمختار)
مسئلہ ۹: جس طرح اور جگہ بتایا گیا کہ نیّت دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے کہنا شرط نہیں ۔ یہاں بھی وہی مراد ہے مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہےـ
مسئلہ ۱۰: دن میں نیّت کرے تو ضروری ہے کہ یہ نیّت کرے کہ میں صبح صادق سے روزہ دار ہوں اور اگر یہ نیّت ہے کہ اب سے روزہ دار ہوں، صبح سے نہیں تو روزہ نہ ہوا۔ (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: سحری کھانا بھی نیّت ہے، خواہ رمضان کے روزے کے لیے ہو یا کسی اور روزہ کے لیے، مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہے کہ صبح کو روزہ نہ ہوگا تو یہ سحری کھانا نیّت نہیں ۔ (جوہرہ، ردالمحتار)
[ بہارِ شریعت جِـ¹ حِـ⁵ صَـ⁹⁶⁶ ]
روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱: روزے کے تین درجے ہیں:
ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یہی پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے جماع سے روکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ ان کے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوی ﷲ (یعنی ﷲ عزوجل کے سوا کائنات کی ہر چیز) سے اپنے کو بالکلیہ جُدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔ (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲: روزے کی پانچ قِسمیں ہیں:
(۱) فرض۔
(۲) واجب۔
(۳) نفل۔
(۴) مکروہِ تنزیہی۔
(۵) مکروہِ تحریمی۔
فرض و واجب کی دو قسمیں ہیں:
معیّن و غیر معیّن۔ فرض معیّن جیسے ادائے رمضان۔ فرض غیر معیّن جیسے قضائے رمضان اور روزۂ کفارہ۔
واجب معیّن جیسے نذر معیّن۔ واجب غیر معیّن جیسے نذر مطلق۔
نفل دو ۲ ہیں: نفل مسنون، نفل مستحب جیسے عاشورا یعنی دسویں محرم کا روزہ اور اس کے ساتھ نویں کا بھی اور ہر مہینے میں تیرھویں، چودھویں، پندرھویں اور عرفہ کا روزہ، پیر اور جمعرات کا روزہ، شش عید کے روزے صوم داؤد علیہ السلام، یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار۔
مکروہِ تنزیہی جیسے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیروز و مہرگان کے دن روزہ۔ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا)، صومِ سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے)، صومِ وصال کہ روزہ رکھ کر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ رکھے، یہ سب مکروہِ تنزیہی ہیں ۔
مکروہِ تحریمی جیسے عید اور ایّام تشریق (یعنی عید الفطر، عید الاضحی اور گیارہ، بارہ، تیرہ ذی الحجہ، ان پانچ دِنوں ۔) کے روزے۔ (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ادائے روزۂ رمضان اور نذر معین اور نفل کے روزوں کے لیے نیّت کا وقت غروب آفتاب سے ضحوۂ کبریٰ تک ہے، اس وقت میں جب نیّت کر لے، یہ روزے ہو جائیںگے۔ لہٰذا آفتاب ڈوبنے سے پہلے نیّت کی کہ کل روزہ رکھوںگا پھر بے ہوش ہو گیا اور ضحوۂ کبریٰ کے بعد ہوش آیا تو یہ روزہ نہ ہوا اور آفتاب ڈوبنے کے بعد نیّت کی تھی تو ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ضحوۂ کبریٰ نیّت کا وقت نہیں، بلکہ اس سے پیشتر نیّت ہو جانا ضروری ہے اور اگر خاص اس وقت یعنی جس وقت آفتاب خطِ نصف النہار شرعی پر پہنچ گیا، نیّت کی تو روزہ نہ ہوا۔ (درمختار)
مسئلہ ۹: جس طرح اور جگہ بتایا گیا کہ نیّت دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے کہنا شرط نہیں ۔ یہاں بھی وہی مراد ہے مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہےـ
مسئلہ ۱۰: دن میں نیّت کرے تو ضروری ہے کہ یہ نیّت کرے کہ میں صبح صادق سے روزہ دار ہوں اور اگر یہ نیّت ہے کہ اب سے روزہ دار ہوں، صبح سے نہیں تو روزہ نہ ہوا۔ (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: سحری کھانا بھی نیّت ہے، خواہ رمضان کے روزے کے لیے ہو یا کسی اور روزہ کے لیے، مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہے کہ صبح کو روزہ نہ ہوگا تو یہ سحری کھانا نیّت نہیں ۔ (جوہرہ، ردالمحتار)
❤2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-12-1443 ᴴ | 08-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-12-1443 ᴴ | 09-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-12-1443 ᴴ | 09-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-12-1443 ᴴ | 09-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍3❤2