Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯️فلسفہ قربانی اور فضائل و مسائل🕯️*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلامی سال کا آخری مہینہ جسے ذُوالحِجَّہ (اور ذِی الحِجہ) کہتے ہیں یعنی حج کامہینہ یہ مہینہ سایہ فگن ہوتے ہی عالم اسلام میں قربانی کے مناظر یعنی حضرت ابراہیم واسماعیل علیہِمَا السلام کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں
اللہ پاک اپنے حبیب علیہ السلام پر نازل کردہ کتاب قرآن مجید پارہ30، سورہ کوثر آیت نمبر 2 میں ارشاد فرماتاہے ترجمہ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو.(قرآن)
یہ قربانی کیا ہے؟
حضرت سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ وعنا فرماتے ہیں :صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں. (ابن ماجہ باب ثواب الاضحیہ حدیث 3127)
قربانی کے واقعات وروایات اور پس منظر
حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے ذُوالحِج کی آٹھویں (8)رات ایک خواب دیکھا جس میں کوئی کہنے والا یہ کہہ رہاہے :”بےشک اللہ تمہیں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے.” نویں (9)رات پھروہی خواب دیکھا، دسویں (10)رات پھر وہی خواب دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام نے صبح اس خواب پر عمل کرنے یعنی بیٹے کی قربانی کرنے کا پکا ارادہ فرمالیا
(تفسیر کبیر9/346)
اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے بیٹے کی قربانی کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جن کی عمراس وقت 7سال(یا13سال یااس سے تھوڑی زائد) تھی لیکر چلے. (بیٹاہوتوایساص3)
پھر جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہاتھا ان کو اسی طرح باندھ دیا، اپنی چھری تیز کی، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹادیا، ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی اور ان کے گلےپرچُھری چلادی، لیکن چُھری نے اپناکام نہ کیا یعنی گلانہ کاٹا. اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام پر وحْی نازل ہوئی.
چناں چہ پ23 سورۃ الصّفّت آیت نمبر 104تا107میں ارشاد ہوتا ہے :ترجمہ کنزالایمان:اور اسے ہم نے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھائی، ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو، بےشک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دےکراسے بچالیا. “(تفسیر خازن ج4ص22ملخصا)
کیاکوئی خواب دیکھ کر اپنے بیٹے کوذبح کرسکتا ہے ؟
یادرہے! کوئی شخص خواب یاغیبی آواز کی بنیاد پر اپنے یا دوسرے کے بچےیا کسی انسان کو ذبح نہیں کرسکتا، کرےگاتو سخت گنہگار اور عذاب نارکا حقدار قرار پائے گا
حضرت ابراہیم علیہ السلام جو خواب کی بنیاد پر اپنے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوگئے،یہ حق ہے کیونکہ آپ نبی ہیں اور نبی کا خواب وحْی الہی ہوتا ہے. ان حضرات کا امتحان تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام جنتی دنبہ لےآئےاور اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کے بجائے اس جنتی دنبے کو ذبح فرمادیا (بیٹا ہوتوایساص19)
حضرت سیدنا ابراہیم علی نبیناوعلیہ السلام کی چند ایسی فضیلتیں جو آپ ہی کے ساتھ خاص ہیں
۔(1)سیدالانبیاءنبی آخرالزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام سب سے افضل ہیں. (بہار شریعت ج1ص52)
۔(2)حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی اپنے بعد آنے والے سارے انبیاء کرام علیہم السلام کے والد ہیں.
۔(3)ہرآسمانی دین میں آپ ہی کی پیروی اور اطاعت ہے. آپ ہی کی یاد قربانی ہے
۔(4)آپ ہی کی یاد حج کے ارکان ہیں.
۔(5)آپ ہی کعبہ شریف کی پہلی تعمیر کرنےوالے یعنی اسے گھر کی شکل میں بنانے والے ہیں.
۔(6)جس پتھر(مقام ابراہیم) پرکھڑے ہوکرآپ نے کعبہ شریف بنایاوہاں اور سجدے ہونےلگے
۔(7)مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے بچوں کی آپ علیہ السلام اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا عالم برزخ میں پرورش کرتے ہیں (تفسیر نعیمی ج1ص621
/بحوالہ بیٹاہوتوایساص21بتغیرقلیل)
مگر اس کے باوجود ہمارے پیارے آقا ومولی جناب محمدٌ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں.
یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی جوخصائص وکمالات اور بلند مراتب حاصل ہوئے وہ بھی ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا صدقہ ہے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے صدقے ہی سے دنْیاومافیھاَ(دنیااورجوکچھ اس میں ہےسب) کچھ پیدا کیا گیا
اعلٰی حضرت امام اہل سنت مجدد ددین وملت اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ہوتے کہاں خلیل وبنا، کعبہ ومِنی
لولاک والے صاحبی سب تیرےگھرکی ہے
(حدائق بخشش ص84مطبوعہ فاروقیہ جامع مسجد دہلی)
-----------------------------------------------------------
*🕯️فلسفہ قربانی اور فضائل و مسائل🕯️*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلامی سال کا آخری مہینہ جسے ذُوالحِجَّہ (اور ذِی الحِجہ) کہتے ہیں یعنی حج کامہینہ یہ مہینہ سایہ فگن ہوتے ہی عالم اسلام میں قربانی کے مناظر یعنی حضرت ابراہیم واسماعیل علیہِمَا السلام کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں
اللہ پاک اپنے حبیب علیہ السلام پر نازل کردہ کتاب قرآن مجید پارہ30، سورہ کوثر آیت نمبر 2 میں ارشاد فرماتاہے ترجمہ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو.(قرآن)
یہ قربانی کیا ہے؟
حضرت سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ وعنا فرماتے ہیں :صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں. (ابن ماجہ باب ثواب الاضحیہ حدیث 3127)
قربانی کے واقعات وروایات اور پس منظر
حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے ذُوالحِج کی آٹھویں (8)رات ایک خواب دیکھا جس میں کوئی کہنے والا یہ کہہ رہاہے :”بےشک اللہ تمہیں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے.” نویں (9)رات پھروہی خواب دیکھا، دسویں (10)رات پھر وہی خواب دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام نے صبح اس خواب پر عمل کرنے یعنی بیٹے کی قربانی کرنے کا پکا ارادہ فرمالیا
(تفسیر کبیر9/346)
اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے بیٹے کی قربانی کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جن کی عمراس وقت 7سال(یا13سال یااس سے تھوڑی زائد) تھی لیکر چلے. (بیٹاہوتوایساص3)
پھر جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہاتھا ان کو اسی طرح باندھ دیا، اپنی چھری تیز کی، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹادیا، ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی اور ان کے گلےپرچُھری چلادی، لیکن چُھری نے اپناکام نہ کیا یعنی گلانہ کاٹا. اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام پر وحْی نازل ہوئی.
چناں چہ پ23 سورۃ الصّفّت آیت نمبر 104تا107میں ارشاد ہوتا ہے :ترجمہ کنزالایمان:اور اسے ہم نے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھائی، ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو، بےشک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دےکراسے بچالیا. “(تفسیر خازن ج4ص22ملخصا)
کیاکوئی خواب دیکھ کر اپنے بیٹے کوذبح کرسکتا ہے ؟
یادرہے! کوئی شخص خواب یاغیبی آواز کی بنیاد پر اپنے یا دوسرے کے بچےیا کسی انسان کو ذبح نہیں کرسکتا، کرےگاتو سخت گنہگار اور عذاب نارکا حقدار قرار پائے گا
حضرت ابراہیم علیہ السلام جو خواب کی بنیاد پر اپنے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوگئے،یہ حق ہے کیونکہ آپ نبی ہیں اور نبی کا خواب وحْی الہی ہوتا ہے. ان حضرات کا امتحان تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام جنتی دنبہ لےآئےاور اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کے بجائے اس جنتی دنبے کو ذبح فرمادیا (بیٹا ہوتوایساص19)
حضرت سیدنا ابراہیم علی نبیناوعلیہ السلام کی چند ایسی فضیلتیں جو آپ ہی کے ساتھ خاص ہیں
۔(1)سیدالانبیاءنبی آخرالزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام سب سے افضل ہیں. (بہار شریعت ج1ص52)
۔(2)حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی اپنے بعد آنے والے سارے انبیاء کرام علیہم السلام کے والد ہیں.
۔(3)ہرآسمانی دین میں آپ ہی کی پیروی اور اطاعت ہے. آپ ہی کی یاد قربانی ہے
۔(4)آپ ہی کی یاد حج کے ارکان ہیں.
۔(5)آپ ہی کعبہ شریف کی پہلی تعمیر کرنےوالے یعنی اسے گھر کی شکل میں بنانے والے ہیں.
۔(6)جس پتھر(مقام ابراہیم) پرکھڑے ہوکرآپ نے کعبہ شریف بنایاوہاں اور سجدے ہونےلگے
۔(7)مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے بچوں کی آپ علیہ السلام اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا عالم برزخ میں پرورش کرتے ہیں (تفسیر نعیمی ج1ص621
/بحوالہ بیٹاہوتوایساص21بتغیرقلیل)
مگر اس کے باوجود ہمارے پیارے آقا ومولی جناب محمدٌ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں.
یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی جوخصائص وکمالات اور بلند مراتب حاصل ہوئے وہ بھی ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا صدقہ ہے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے صدقے ہی سے دنْیاومافیھاَ(دنیااورجوکچھ اس میں ہےسب) کچھ پیدا کیا گیا
اعلٰی حضرت امام اہل سنت مجدد ددین وملت اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ہوتے کہاں خلیل وبنا، کعبہ ومِنی
لولاک والے صاحبی سب تیرےگھرکی ہے
(حدائق بخشش ص84مطبوعہ فاروقیہ جامع مسجد دہلی)
👍2
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
مفہوم شعر یعنی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ یہ فرمارہےہیں :ہرکسی کا وجود حضور اکرم سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے فیض نورسے ہے، اگر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نہ ہو تے تونہ کعبہ تعمیر کرنےوالے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہوتے، نہ کعبہ شریف کی بنیاد رکھی جاتی اور نہ ہی مِنی کی رونقیں ہوتیں. (شرح حدائق بخشش از مولانا حسن قادری، 585)
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ دوسری جگہ فرماتے ہیں
زمین وزماں تمہارے لیے، مکین ومکاں تمہارے لیے
چنین وچُناں تمہارے لیے، بنے دوجہاں تمہارے لیے،
فرشتے خِدم، رسول حَشم، تمام اُمم، غلامِ کرم
وُجودوعدم، حُدوثُ وقِدم، جہاں میں عیاں تمہارے لیے
(حدائق بخشش ص150فاروقیہ بکڈپوجامع مسجد دہلی)
اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی تمام اشیاء یہاں تک کہ جملہ انبیاء ومرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی وُجودکی دولت ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ہی کے توَسُّل سے ملی ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان اور حضرت اسماعیل وہاجرہ علیہِما السلام ک اصبرورضا، حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے
ان کی پیدائش کے بعد آپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام) پر وحْی نازل ہوئی کہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس سرزمین میں چھوڑ آئیں جہاں بے آب وگیاہ میدان اور خُشک پہاڑیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کوساتھ لےکرسفر فرمایا اور اس جگہ آئے جہاں کعبہ معظمہ ہے. یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی، نہ کوئی چشمہ، نہ دور دور تک پانی نہ آدمی کا کوئی نام و نشان تھا. ایک توشہ دان کچھ کھجوریں اور ایک مشک پانی حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں رکھ کر روانہ ہو گئے. حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فریادکی :اے اللہ کے نبی اس سُنسان بیابان میں جہاں نہ کوئی مونس ہے، نہ غمخوار، آپ ہمیں بےیارومددگار چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ کئی بار حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے آپ کو پکارا مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا. آخر میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہانے سوال کیا کہ آپ
اتنا فرمادیجئےکہ آپ نے اپنی
مرضی سے ہمیں یہاں لاکر چھوڑا ہے یا خداوند قدوس کے حکم سے آپ نے ایساکیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا اے ہاجرہ! میں نے جوکچھ کیا ہے وہ اللہ کے حکم کیا ہے. یہ سن کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ اب آپ جائے، مجھے یقین کامل اور پوراپورااطمینان ہے کہ اللہ کریم مجھے اور میرے بچے کو ضائع نہیں فرمائے گا
چنددنوں میں کھجوریں اور پانی ختم ہو نے پرحضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پربھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا اور ان کے سینے میں دودھ ختم ہوگیا اور بچہ بھوک اور پیاس سے تڑپنےلگا
حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے پانی کی تلاش وجستجو میں سات(7) چکرصفاومروہ کی دونوں پہاڑیوں کے لگائے، مگر پانی کا کوئی سراغ دور دور تک نہیں ملا حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے ایڑیاں پٹک پٹک کر رورہے تھے
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کی ایڑیوں کے پاس زمین پر اپنا پیر مارکر زمزم کا چشمہ جاری کردیا. ایک روایت کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی سے جاری ہوا. (مرآۃالمناجیح ج4ص67)
اس پانی میں دودھ کی خاصیت تھی کہ یہ غذا اور پانی دونوں کاکام کرتا تھا. چنانچہ یہی زمزم کا پانی پی پی کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام زندہ رہے
یہاں تک کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوگئےاور شکارکرنےلگےتوشکارکے گوشت اور زمزم کے پانی پر گزر بسرہونے لگی. پھرقبیلہ جُرہم کے کچھ لوگ اپنی بکریوں کو چراتے ہوئے اس میدان میں آئے اور پانی کا چشمہ دیکھ کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی اجازت سے یہاں آباد ہوگئے اور اس قبیلہ کی ایک لڑکی سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی بھی ہوگئی اور رفتہ رفتہ یہاں ایک آبادی ہوگئی (عجائب القرآن مع غرائب القرآن ص145ملخصا )
ان واقعات سے ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ کے بہت ہی اطاعت گزار اور فرمانبردارتھےکہ( آپ نے رضائے الٰہی کی خاطر اپنا) وہ بچہ جس کو بڑی دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں پایا تھا، جوآپ کی آنکھوں کانوراور دل کا سُرور تھا، فطری طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کو کبھی اپنے سے جدا نہیں کرسکتے تھے
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ دوسری جگہ فرماتے ہیں
زمین وزماں تمہارے لیے، مکین ومکاں تمہارے لیے
چنین وچُناں تمہارے لیے، بنے دوجہاں تمہارے لیے،
فرشتے خِدم، رسول حَشم، تمام اُمم، غلامِ کرم
وُجودوعدم، حُدوثُ وقِدم، جہاں میں عیاں تمہارے لیے
(حدائق بخشش ص150فاروقیہ بکڈپوجامع مسجد دہلی)
اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی تمام اشیاء یہاں تک کہ جملہ انبیاء ومرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی وُجودکی دولت ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ہی کے توَسُّل سے ملی ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان اور حضرت اسماعیل وہاجرہ علیہِما السلام ک اصبرورضا، حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے
ان کی پیدائش کے بعد آپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام) پر وحْی نازل ہوئی کہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس سرزمین میں چھوڑ آئیں جہاں بے آب وگیاہ میدان اور خُشک پہاڑیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کوساتھ لےکرسفر فرمایا اور اس جگہ آئے جہاں کعبہ معظمہ ہے. یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی، نہ کوئی چشمہ، نہ دور دور تک پانی نہ آدمی کا کوئی نام و نشان تھا. ایک توشہ دان کچھ کھجوریں اور ایک مشک پانی حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں رکھ کر روانہ ہو گئے. حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فریادکی :اے اللہ کے نبی اس سُنسان بیابان میں جہاں نہ کوئی مونس ہے، نہ غمخوار، آپ ہمیں بےیارومددگار چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ کئی بار حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے آپ کو پکارا مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا. آخر میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہانے سوال کیا کہ آپ
اتنا فرمادیجئےکہ آپ نے اپنی
مرضی سے ہمیں یہاں لاکر چھوڑا ہے یا خداوند قدوس کے حکم سے آپ نے ایساکیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا اے ہاجرہ! میں نے جوکچھ کیا ہے وہ اللہ کے حکم کیا ہے. یہ سن کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ اب آپ جائے، مجھے یقین کامل اور پوراپورااطمینان ہے کہ اللہ کریم مجھے اور میرے بچے کو ضائع نہیں فرمائے گا
چنددنوں میں کھجوریں اور پانی ختم ہو نے پرحضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پربھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا اور ان کے سینے میں دودھ ختم ہوگیا اور بچہ بھوک اور پیاس سے تڑپنےلگا
حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے پانی کی تلاش وجستجو میں سات(7) چکرصفاومروہ کی دونوں پہاڑیوں کے لگائے، مگر پانی کا کوئی سراغ دور دور تک نہیں ملا حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے ایڑیاں پٹک پٹک کر رورہے تھے
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کی ایڑیوں کے پاس زمین پر اپنا پیر مارکر زمزم کا چشمہ جاری کردیا. ایک روایت کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی سے جاری ہوا. (مرآۃالمناجیح ج4ص67)
اس پانی میں دودھ کی خاصیت تھی کہ یہ غذا اور پانی دونوں کاکام کرتا تھا. چنانچہ یہی زمزم کا پانی پی پی کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام زندہ رہے
یہاں تک کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوگئےاور شکارکرنےلگےتوشکارکے گوشت اور زمزم کے پانی پر گزر بسرہونے لگی. پھرقبیلہ جُرہم کے کچھ لوگ اپنی بکریوں کو چراتے ہوئے اس میدان میں آئے اور پانی کا چشمہ دیکھ کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی اجازت سے یہاں آباد ہوگئے اور اس قبیلہ کی ایک لڑکی سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی بھی ہوگئی اور رفتہ رفتہ یہاں ایک آبادی ہوگئی (عجائب القرآن مع غرائب القرآن ص145ملخصا )
ان واقعات سے ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ کے بہت ہی اطاعت گزار اور فرمانبردارتھےکہ( آپ نے رضائے الٰہی کی خاطر اپنا) وہ بچہ جس کو بڑی دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں پایا تھا، جوآپ کی آنکھوں کانوراور دل کا سُرور تھا، فطری طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کو کبھی اپنے سے جدا نہیں کرسکتے تھے
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
مگر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر پیارے فرزند اور زوجہ کو وادی بطحا کی اس سُنسان جگہ پر چھوڑ آئے جہاں سرچھپانے کو درخت کا پتہ اور پیاس بجھانےکو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا، نہ وہاں کوئی یارومددگار، نہ کوئی مونس وغم خوار ہم میں سے کوئی ہوتا تو شاید اس کےتصوُر ہی سے اس کے سینے میں دل دھڑکنے لگتا، بلکہ شدت غم سے دل پھٹ جاتا. مگر حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اللہ پاک کا یہ حکم سن کر نہ فکر مند ہوئے، نہ ایک لمحہ کے لئے سوچ وبچار میں پڑے، نہ رنج وغم سے نڈھال ہوئے بلکہ فوراً ہی اپنے رب تعالیٰ کا حکم بجالانے کے لئے بیوی اور بچے کو لےکر ملک شام سے سرزمین مکہ میں چلے گئے اور وہاں بیوی بچے کو چھوڑ کر ملک شام واپس آگئے
اور نہ ہی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا زباں پر حرف شکایت لائیں اللہ اکبر! اس جذبہ اطاعت شعاری اور جوش فرمانبرداری پر ہماری جان اور ہمارے ماں باپ قربان!!!۔
حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی ساری زندگی راہ خدا میں قربانیاں دیتے ہوئے گزری. جب بھی حکم خداوندی آیا آپ نے اس پرعمل کرتے ہوئے قدم آگے تو بڑھائےمگرکبھی بھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے
کاش! ہم بھی اطاعت الہی سے معمور زندگی گزار نے والے بن جائیں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی اولاد تک قربان کرنے کو تیار ہوگئے مگرافسوس کہ ہم میں سے اکثریت کا حال یہ ہے کہ کماحقہ ہم نہ مال کی قربانی دیتے ہیں نہ علم دین اور فروغ اہل سنت کے لیے وقت کی قربانی دیتے ہیں
اللہ پاک ہمیں حضرت ابراہیم ،حضرت اسماعیل علیہِمَاالسلام اور حضرت سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے فیضان سے مالا مال فرمائے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر صبروشکرجیسی عادات پیداکرنے کی کوشش کریں اور ان اوصاف حمیدہ کواپنانے کی کوشش کریں جن کو اپنا کر اسلاف کرام خدائے بزرگ کے مقرب اور مقبول بارگاہ ہوگئے
بالخصوص انبیاء کرام ورسولان عظام علیہم السلام، صحابہ اور اولیاء کرام کی سیرت وکردار کو پڑھیں تاکہ ان کی مبارک، تابناک اور پاکیزہ کرداروں سے ہماری زندگیاں بھی مہک اٹھیں
آج ہم نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مختصر حیات پاک کی جھلکیاں ملاحظہ کیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ساری زندگی اطاعت وفرمانبرداری میں گزاردی، حکم خداوندی میں اپنا تن من دھن فداکرنے کا عملی مظاہرہ کیا. یہاں تک کے چاند سابیٹا بھی راہ خدا میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ تمام امت مسلمہ کو حکم فرمادیاکہ تم بھی میرے خلیل کی اس اداپرعمل کرتےہوئےجانور ذبح کیاکرو چناں چہ ہربالغ، مقیم، مسلمان مردوعورت، مالک نصاب پرقربانی واجب ہے (بہار شریعت ج3ص332/عالمگیری ج5ص292)
مالک نصاب ہونےسے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یااتنی مالیت کی رقم یااتنی مالیت کا تجارت کا مال یااتنی مالیت کا (حاجات اصلیہ سے زائد ) سامان ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ یا بندوں کااتناقرضہ نہ ہو جسے اداکرکے بیان کردہ نصاب باقی نہ رہے (عالمگیری ج1ص187ملخصا)
فقہاے کرام رحمھم اللہ السلام فرماتے ہیں حاجت اصلیہ(یعنی ضروریات زندگی) سےمرادوہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزراوقات میں شدید تنگی ودشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنےکاگھر، پہننےکےکپڑے، سواری، علم دین سے متعلق کتابیں اور پیشےسےمتعلق اوزار وغیرہ (عالمگیری ج1 ص187ملخصا)
احادیث پاک میں قربانی کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں
حدیث نمبر (1)پیارے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:انسان بقرعید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جواللہ تعالیٰ کو خون بہانے سے زیادہ پیاری ہو، یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئےگی اور قربانی کاخون زمین پر گرنےسے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتاہے. لہٰذا خوش دلی سے قربانی کرو. (ترمذی شریف ج3ص162)
محقق علی الاطلاق حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :قربانی اپنے کرنے والے کےنیکیوں کے پلے میں رکھی جائے گی جس سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا
(اشعۃ اللمعات ج1ص654)
حضرت سیدنا علامہ ملاعلی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں پھر اس کے لیے سواری بنے گی جس کے ذریعے یہ شخص بآسانی پلصراط سے گزرےگااور اس (جانور) کا ہرعُضومالک (یعنی قربانی پیش کرنے والے) کے ہرعُضوکےلئے جھنم سے آزادی کا فدیہ بنےگا. (مرآۃج2ص375)
معجم الکبیر میں ہے جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہوکر قربانی کی، تووہ آتش جہنم سے حجاب (یعنی روک) ہوجائے گی. (المعجم الکبیر ج3ص84)
حدیث نمبر(2)جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہوپھربھی وہ قربانی نہ کرے تووہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے. (ابن ماجہ ج3ص529)
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم
اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی رضا وخوشنودی حاصل کرنے کے لئے خوش دلی کے ساتھ سنت ابراہیمی کواداکرنے کی کوشش کریں.
اور نہ ہی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا زباں پر حرف شکایت لائیں اللہ اکبر! اس جذبہ اطاعت شعاری اور جوش فرمانبرداری پر ہماری جان اور ہمارے ماں باپ قربان!!!۔
حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی ساری زندگی راہ خدا میں قربانیاں دیتے ہوئے گزری. جب بھی حکم خداوندی آیا آپ نے اس پرعمل کرتے ہوئے قدم آگے تو بڑھائےمگرکبھی بھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے
کاش! ہم بھی اطاعت الہی سے معمور زندگی گزار نے والے بن جائیں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی اولاد تک قربان کرنے کو تیار ہوگئے مگرافسوس کہ ہم میں سے اکثریت کا حال یہ ہے کہ کماحقہ ہم نہ مال کی قربانی دیتے ہیں نہ علم دین اور فروغ اہل سنت کے لیے وقت کی قربانی دیتے ہیں
اللہ پاک ہمیں حضرت ابراہیم ،حضرت اسماعیل علیہِمَاالسلام اور حضرت سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے فیضان سے مالا مال فرمائے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر صبروشکرجیسی عادات پیداکرنے کی کوشش کریں اور ان اوصاف حمیدہ کواپنانے کی کوشش کریں جن کو اپنا کر اسلاف کرام خدائے بزرگ کے مقرب اور مقبول بارگاہ ہوگئے
بالخصوص انبیاء کرام ورسولان عظام علیہم السلام، صحابہ اور اولیاء کرام کی سیرت وکردار کو پڑھیں تاکہ ان کی مبارک، تابناک اور پاکیزہ کرداروں سے ہماری زندگیاں بھی مہک اٹھیں
آج ہم نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مختصر حیات پاک کی جھلکیاں ملاحظہ کیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ساری زندگی اطاعت وفرمانبرداری میں گزاردی، حکم خداوندی میں اپنا تن من دھن فداکرنے کا عملی مظاہرہ کیا. یہاں تک کے چاند سابیٹا بھی راہ خدا میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ تمام امت مسلمہ کو حکم فرمادیاکہ تم بھی میرے خلیل کی اس اداپرعمل کرتےہوئےجانور ذبح کیاکرو چناں چہ ہربالغ، مقیم، مسلمان مردوعورت، مالک نصاب پرقربانی واجب ہے (بہار شریعت ج3ص332/عالمگیری ج5ص292)
مالک نصاب ہونےسے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یااتنی مالیت کی رقم یااتنی مالیت کا تجارت کا مال یااتنی مالیت کا (حاجات اصلیہ سے زائد ) سامان ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ یا بندوں کااتناقرضہ نہ ہو جسے اداکرکے بیان کردہ نصاب باقی نہ رہے (عالمگیری ج1ص187ملخصا)
فقہاے کرام رحمھم اللہ السلام فرماتے ہیں حاجت اصلیہ(یعنی ضروریات زندگی) سےمرادوہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزراوقات میں شدید تنگی ودشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنےکاگھر، پہننےکےکپڑے، سواری، علم دین سے متعلق کتابیں اور پیشےسےمتعلق اوزار وغیرہ (عالمگیری ج1 ص187ملخصا)
احادیث پاک میں قربانی کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں
حدیث نمبر (1)پیارے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:انسان بقرعید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جواللہ تعالیٰ کو خون بہانے سے زیادہ پیاری ہو، یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئےگی اور قربانی کاخون زمین پر گرنےسے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتاہے. لہٰذا خوش دلی سے قربانی کرو. (ترمذی شریف ج3ص162)
محقق علی الاطلاق حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :قربانی اپنے کرنے والے کےنیکیوں کے پلے میں رکھی جائے گی جس سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا
(اشعۃ اللمعات ج1ص654)
حضرت سیدنا علامہ ملاعلی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں پھر اس کے لیے سواری بنے گی جس کے ذریعے یہ شخص بآسانی پلصراط سے گزرےگااور اس (جانور) کا ہرعُضومالک (یعنی قربانی پیش کرنے والے) کے ہرعُضوکےلئے جھنم سے آزادی کا فدیہ بنےگا. (مرآۃج2ص375)
معجم الکبیر میں ہے جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہوکر قربانی کی، تووہ آتش جہنم سے حجاب (یعنی روک) ہوجائے گی. (المعجم الکبیر ج3ص84)
حدیث نمبر(2)جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہوپھربھی وہ قربانی نہ کرے تووہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے. (ابن ماجہ ج3ص529)
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم
اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی رضا وخوشنودی حاصل کرنے کے لئے خوش دلی کے ساتھ سنت ابراہیمی کواداکرنے کی کوشش کریں.
❤1👍1
اللہ پاک ہمیں دارین کی خوشیاں نصیب فرمائے.
آمین بجاہ سیدالمرسلین واشرف الاولین وآخرین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖
*ازقلم✍️ ابوضیا غلام رسول مِہر سعدی اشرفی رضوی کٹیہاری۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖
آمین بجاہ سیدالمرسلین واشرف الاولین وآخرین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖
*ازقلم✍️ ابوضیا غلام رسول مِہر سعدی اشرفی رضوی کٹیہاری۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖
👍2❤1
محافظ اسلام، سفیر امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت کوفہ میں ہوئی۔ آپ حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بھائی حضرت عقیل بن ابو طالب کے بیٹے، سید الشہداء سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ و ارضاہ کے چچا زاد بھائی، نائب اور جان نثار اصحاب میں سے ہیں۔ 9 ذوالحجہ 60ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کا مزار مبارک کوفہ کی جامع مسجد جسے مسجد انبیاء بھی کہتے ہیں کے پاس فیوض و برکات کا منبع ہے۔ (تاریخ دمشق، الکامل فی التاریخ، مرآۃ الزمان)
Defender of Islam, Ambassador of Imam Aali Maqam, Sayyiduna Muslim bin Aqeel (RadiyAllahu Anhu) was born in Kufa. He is the son of Sayyiduna Ali al-Murtada’s (may Allah ennoble his face) brother Aqeeel bin Abi Talib, Sayyiduna Imam Husayn’s (RadiyAllah Anhu wa Ardaah) cousin brother, representative, and one of his staunch devotees. He embraced martyrdom on 9th of Dhu al-Hijjah 60 AH. His blessed mausoleum is the centre of spiritual blessings and upliftment near Jaami’ Masjid of Kufa also known as Masjid Anbiya. [Tarikh Dimashq, Al-Kamil fi al-Tarikh, Mirat al-Zaman]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02karyVdHUL6aX48hLztipbw38DD18NFJeiYXowGqwEbNGJ9xMn5mvPLYMRAa7yhNml&id=100050689590519
Defender of Islam, Ambassador of Imam Aali Maqam, Sayyiduna Muslim bin Aqeel (RadiyAllahu Anhu) was born in Kufa. He is the son of Sayyiduna Ali al-Murtada’s (may Allah ennoble his face) brother Aqeeel bin Abi Talib, Sayyiduna Imam Husayn’s (RadiyAllah Anhu wa Ardaah) cousin brother, representative, and one of his staunch devotees. He embraced martyrdom on 9th of Dhu al-Hijjah 60 AH. His blessed mausoleum is the centre of spiritual blessings and upliftment near Jaami’ Masjid of Kufa also known as Masjid Anbiya. [Tarikh Dimashq, Al-Kamil fi al-Tarikh, Mirat al-Zaman]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02karyVdHUL6aX48hLztipbw38DD18NFJeiYXowGqwEbNGJ9xMn5mvPLYMRAa7yhNml&id=100050689590519
❤2👍2
روزہ کا بیان 📖 مسائل فقہیہ:
[ بہارِ شریعت جِـ¹ حِـ⁵ صَـ⁹⁶⁶ ]
روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱: روزے کے تین درجے ہیں:
ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یہی پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے جماع سے روکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ ان کے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوی ﷲ (یعنی ﷲ عزوجل کے سوا کائنات کی ہر چیز) سے اپنے کو بالکلیہ جُدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔ (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲: روزے کی پانچ قِسمیں ہیں:
(۱) فرض۔
(۲) واجب۔
(۳) نفل۔
(۴) مکروہِ تنزیہی۔
(۵) مکروہِ تحریمی۔
فرض و واجب کی دو قسمیں ہیں:
معیّن و غیر معیّن۔ فرض معیّن جیسے ادائے رمضان۔ فرض غیر معیّن جیسے قضائے رمضان اور روزۂ کفارہ۔
واجب معیّن جیسے نذر معیّن۔ واجب غیر معیّن جیسے نذر مطلق۔
نفل دو ۲ ہیں: نفل مسنون، نفل مستحب جیسے عاشورا یعنی دسویں محرم کا روزہ اور اس کے ساتھ نویں کا بھی اور ہر مہینے میں تیرھویں، چودھویں، پندرھویں اور عرفہ کا روزہ، پیر اور جمعرات کا روزہ، شش عید کے روزے صوم داؤد علیہ السلام، یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار۔
مکروہِ تنزیہی جیسے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیروز و مہرگان کے دن روزہ۔ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا)، صومِ سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے)، صومِ وصال کہ روزہ رکھ کر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ رکھے، یہ سب مکروہِ تنزیہی ہیں ۔
مکروہِ تحریمی جیسے عید اور ایّام تشریق (یعنی عید الفطر، عید الاضحی اور گیارہ، بارہ، تیرہ ذی الحجہ، ان پانچ دِنوں ۔) کے روزے۔ (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ادائے روزۂ رمضان اور نذر معین اور نفل کے روزوں کے لیے نیّت کا وقت غروب آفتاب سے ضحوۂ کبریٰ تک ہے، اس وقت میں جب نیّت کر لے، یہ روزے ہو جائیںگے۔ لہٰذا آفتاب ڈوبنے سے پہلے نیّت کی کہ کل روزہ رکھوںگا پھر بے ہوش ہو گیا اور ضحوۂ کبریٰ کے بعد ہوش آیا تو یہ روزہ نہ ہوا اور آفتاب ڈوبنے کے بعد نیّت کی تھی تو ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ضحوۂ کبریٰ نیّت کا وقت نہیں، بلکہ اس سے پیشتر نیّت ہو جانا ضروری ہے اور اگر خاص اس وقت یعنی جس وقت آفتاب خطِ نصف النہار شرعی پر پہنچ گیا، نیّت کی تو روزہ نہ ہوا۔ (درمختار)
مسئلہ ۹: جس طرح اور جگہ بتایا گیا کہ نیّت دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے کہنا شرط نہیں ۔ یہاں بھی وہی مراد ہے مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہےـ
مسئلہ ۱۰: دن میں نیّت کرے تو ضروری ہے کہ یہ نیّت کرے کہ میں صبح صادق سے روزہ دار ہوں اور اگر یہ نیّت ہے کہ اب سے روزہ دار ہوں، صبح سے نہیں تو روزہ نہ ہوا۔ (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: سحری کھانا بھی نیّت ہے، خواہ رمضان کے روزے کے لیے ہو یا کسی اور روزہ کے لیے، مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہے کہ صبح کو روزہ نہ ہوگا تو یہ سحری کھانا نیّت نہیں ۔ (جوہرہ، ردالمحتار)
[ بہارِ شریعت جِـ¹ حِـ⁵ صَـ⁹⁶⁶ ]
روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱: روزے کے تین درجے ہیں:
ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یہی پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے جماع سے روکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ ان کے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوی ﷲ (یعنی ﷲ عزوجل کے سوا کائنات کی ہر چیز) سے اپنے کو بالکلیہ جُدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔ (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲: روزے کی پانچ قِسمیں ہیں:
(۱) فرض۔
(۲) واجب۔
(۳) نفل۔
(۴) مکروہِ تنزیہی۔
(۵) مکروہِ تحریمی۔
فرض و واجب کی دو قسمیں ہیں:
معیّن و غیر معیّن۔ فرض معیّن جیسے ادائے رمضان۔ فرض غیر معیّن جیسے قضائے رمضان اور روزۂ کفارہ۔
واجب معیّن جیسے نذر معیّن۔ واجب غیر معیّن جیسے نذر مطلق۔
نفل دو ۲ ہیں: نفل مسنون، نفل مستحب جیسے عاشورا یعنی دسویں محرم کا روزہ اور اس کے ساتھ نویں کا بھی اور ہر مہینے میں تیرھویں، چودھویں، پندرھویں اور عرفہ کا روزہ، پیر اور جمعرات کا روزہ، شش عید کے روزے صوم داؤد علیہ السلام، یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار۔
مکروہِ تنزیہی جیسے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیروز و مہرگان کے دن روزہ۔ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا)، صومِ سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے)، صومِ وصال کہ روزہ رکھ کر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ رکھے، یہ سب مکروہِ تنزیہی ہیں ۔
مکروہِ تحریمی جیسے عید اور ایّام تشریق (یعنی عید الفطر، عید الاضحی اور گیارہ، بارہ، تیرہ ذی الحجہ، ان پانچ دِنوں ۔) کے روزے۔ (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ادائے روزۂ رمضان اور نذر معین اور نفل کے روزوں کے لیے نیّت کا وقت غروب آفتاب سے ضحوۂ کبریٰ تک ہے، اس وقت میں جب نیّت کر لے، یہ روزے ہو جائیںگے۔ لہٰذا آفتاب ڈوبنے سے پہلے نیّت کی کہ کل روزہ رکھوںگا پھر بے ہوش ہو گیا اور ضحوۂ کبریٰ کے بعد ہوش آیا تو یہ روزہ نہ ہوا اور آفتاب ڈوبنے کے بعد نیّت کی تھی تو ہو گیا۔ (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ضحوۂ کبریٰ نیّت کا وقت نہیں، بلکہ اس سے پیشتر نیّت ہو جانا ضروری ہے اور اگر خاص اس وقت یعنی جس وقت آفتاب خطِ نصف النہار شرعی پر پہنچ گیا، نیّت کی تو روزہ نہ ہوا۔ (درمختار)
مسئلہ ۹: جس طرح اور جگہ بتایا گیا کہ نیّت دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے کہنا شرط نہیں ۔ یہاں بھی وہی مراد ہے مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہےـ
مسئلہ ۱۰: دن میں نیّت کرے تو ضروری ہے کہ یہ نیّت کرے کہ میں صبح صادق سے روزہ دار ہوں اور اگر یہ نیّت ہے کہ اب سے روزہ دار ہوں، صبح سے نہیں تو روزہ نہ ہوا۔ (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: سحری کھانا بھی نیّت ہے، خواہ رمضان کے روزے کے لیے ہو یا کسی اور روزہ کے لیے، مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہے کہ صبح کو روزہ نہ ہوگا تو یہ سحری کھانا نیّت نہیں ۔ (جوہرہ، ردالمحتار)
❤2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-12-1443 ᴴ | 08-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-12-1443 ᴴ | 09-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2