🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.82K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت سیدنا امام محمد باقر

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید امام محمد ۔(آپ کا نام جد امجد سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نامِ نامی اسمِ گرامی پر رکھا گیا) کنیت: ابو جعفر۔ لقب: باقر، شاکر، ہادی ۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی المرتضی ۔

آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ فاطمہ بنت سیدنا امام حسن تھا۔ یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہیں کہ آپ کا سلسلہ نسب دونوں طرف سے سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتا ہے۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

باقر کی وجہ تسمیہ:
باقر، بقرہ سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل بھی ہے ۔ اس کے معنیٰ شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں (المنجد)۔ حضرت امام محمد باقر کو اس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سر بستہ خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے۔ (صواعق محرقہ، شواہد النبوت)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز جمعہ 3 / صفر المظفر 57ھ، بمطابق 15 /دسمبر 676ء کو اپنے دادا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تین سال پہلے مدینہ منورہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
اپنے والدِ گرامی اور فقہاء مدینۃ المنورہ سے علم حاصل کیا ـ طبقات الحفاظ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد، اور جد امجد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک طائفہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اِن سے اِن کے صاحبزادے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ و عطاء رضی اللہ عنہ و ابن جریج رضی اللہ عنہ و امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ و اوزاعی رضی اللہ عنہ و زُہری رضی اللہ عنہ وغیرہ نے حدیث کو لیا ہے، اور ابن شہاب زہری رضی اللہ عنہ جنہوں نے سب سے پہلے حدیث کی تدوین کی ہے اِن کو حدیث میں ثقہ لکھا ہے، اور امام نسائی رضی اللہ عنہ نے اہلِ مدینہ کے فقہائے تابعین میں اِن کا ذکر کیا ہے۔ علم احادیث، علم سنن اور تفسیر قرآن و علم السیرت و دیگر علوم و فنون کے ذخیرے جس قدر امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے ظاہر ہوئے اتنے حسنین کریمین کی اولاد میں سے کسی سے ظاہر نہیں ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی کے جانشین ہوئے، اور آئمہ اہل بیت میں سے پانچویں امام ہیں۔

سیرت و خصائص:
کاشفِ اسرار، مطلعِ انوار، آثارِ سید المرسلین ﷺ وارثِ حسن و حسین حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے اور اس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم و زہد اور شرف و فضیلت میں بے مثال شخصیت کے مالک تھے۔ آپ علم القرآن، علم الآثار، علم السنن اور ہر قسم کے علوم ، حکم، آداب وغیرہ کے جامع تھے۔ بڑے بڑے تابعین، اور عظیم القدر فقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے۔ عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ میں نے علمائے کرام کو ازروئے علم کے کسی کے پاس اس قدر اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ اِن کے رو برو دیکھا۔

علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں:
کہ حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے علمی فیوض و برکات اور کمالات و احسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہو گئی ہو، جس کا دماغ خراب ہو گیا ہو اور جس کی طینت و طبیعت فاسد ہو گئی ہو، کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا، اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ "باقر العلوم" علم کے پھیلانے والے اور جامع العلوم ہیں۔

آپ کا دل صاف، علم و عمل روشن و تابندہ ، اور خلقت شریف تھی۔ آپ کے کل اوقات اطاعت خدا وندی میں بسر ہوتے تھے۔ عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اور گہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اور عاجز و ماندہ ہیں ۔

آپ کے ہدایات و کلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں نا ممکن ہے (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔

علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں:
کہ امام محمد باقر علامہ زمان اور سردار کبیر الشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحر اور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان)۔

علامہ ذہبی لکھتے ہیں :
کہ آپ بنی ہاشم کے سردار اور متبحر علمی کی وجہ سے باقر مشہور تھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اور آپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا (تذکرة الحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔

آپ اپنے آباؤ اجداد کی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ۔ساری رات نماز پڑھنا، اور سارا دن روزہ سے گزارنا آپ کی عادت تھی ۔ آپ کی زندگی زاہدانہ تھی۔ آپ بڑے عابد، زاہد، خاشعِ، خاضع، پاک طینت اور بزرگ نفس تھے، تمام اوقات کو عبادت و طاعتِ الٰہی سے معمور رکھتے، آدھی رات کو رویا کرتے، اور بارگاہِ الٰہی میں نہایت عاجزی سے مناجات کیا کرتے تھے۔ ہدایا جو آتے تھے اسے فقراء و مساکین پر تقسیم کر دیتے تھے غریبوں پر بے حد شفقت فرماتے تھے تواضع اور فروتنی ،صبر و شکر غلام نوازی صلہ رحمی وغیرہ میں اپنی نظیر آپ تھے۔ آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اور انہیں اچھے نام سے یاد کرتے تھے (کشف الغمہ )۔
👍1
سید المرسلین ﷺ کا سلام بھیجنا:
حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو سلام کیا۔ اس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ میں نےکہا محمد بن علی بن حسین ہوں۔ یہ سنتے ہی فرمایا: اے میرے بیٹے آگے آؤ! جب میں آگے ہوا تو آپ نے میرے ہاتھ پر بوسہ دیا ،اس کے بعد میرے پاؤں پر بوسہ دینا چاہا کہ میں دور ہو گیا۔ آپ نے کہا :"رسول اللہ ﷺ نے آپ کو سلام بھیجا ہے"۔میں نے جواب دیا: اللہ کے حبیب ﷺ پر بھی صلوۃ و سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ میں نے پوچھا کہ حضرت یہ واقعہ کس طرح ہے؟

آپ نے ارشاد فرمایا :
کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا تھا کہ اے جابر! شاید تم میرے ایک فرزند کے آنے تک زندہ رہوگے۔ اور اس سے ملاقات کروگے۔ اس کا نام محمد بن علی بن حسین ہوگا۔ خدا تعالیٰ ان کو نور و حکمت عطا کرے گا میرا اس کو سلام پہنچا دینا۔ (بارہ امام : مولانا جامی)

وصال:
آپ کا وصال 7 / ذوالحجہ 114ھ، بمطابق جنوری/ 733ء کو 57 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کی قبرِ انور امام حسن مجتبیٰ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہما کے ساتھ (جنت البقیع، مدینۃ المنورہ) میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیا ۔ الصواعق المحرقہ ۔ اقتباس الانوار ۔ بارہ امام ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-baqir-bin-zain-ul-abideen
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
وارث ولایت مرتضوی، استاذ التابعین، فقیہ مدینہ منورہ، حضرت سیدنا امام ابو جعفر محمد الھادی الشاکر الباقر رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت صفر یا رجب 56ھ یا 57ھ میں مدینۂ منورہ میں ہوئی۔ آپ حضرت سیدنا امام حسن کے نواسے، امام حسین کے پوتے، اور امام زین العابدین کے شہزادے ہیں۔ آپ جلیل القدر تابعی، باکمال فقیہ، عظیم محدث اور سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے پانچویں امام و شیخ طریقت ہیں۔ جس قدر علم دینِ متین، علم قرآن و سنت، تاریخ و سیرت اور فنونِ ادب وغیرہ آپ سے ظاہر ہوئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بھی آپ سے استفادہ فرمایا ہے۔ مشہور قول کے مطابق آپ نے 7 ذو الحجہ 114ھ بروز پیر شریف وصال فرمایا اور جنت البقیع شریف میں اپنے والد ماجد اور نانا جان کے پہلو میں آرام فرما ہوئے۔ (تاریخ دمشق، شذرات الذھب، مرآۃ الاسرار، مناقب امام اعظم ابوحنیفہ للکردری)

Heir of Ali al-Murtada’s Sainthood, Teacher of Tabi’un, Jurist of Madinah, Sayyiduna Imam Muhammad al-Hadi al-Shakir al-Baqir (RadiyAllahu Anhu) was born in Safar or Rajab 56 or 57 AH in Madinah Munawwarah. He is the maternal grandson of Imam Hasan, paternal grandson of Imam Husayn, and the son of Imam Zayn al-Abideen. He is a great Tabi’i, perfect jurist, paramount muhaddith, and the 5th Imam and Shaykh of the Qadiriyah Barakatiyah Ridawiyah Sufi order. His extraordinary understanding of religion, knowledge of the Quran and Sunnah, history, biography, literature, etc., was beyond compare. Imam al-A’zam Abu Hanifah (Alayhir Rahmah) also benefited from him. According to a popular narration, he passed away on Monday 7th Dhu al-Hijjah 114 AH and was laid to rest beside his exalted father and maternal grandfather in the blessed Al-Baqi Cemetery. [Tarikh Dimashq, Shadhrat al-Dhahab, Mirat al-Asrar, Manaqib Imam al-Azam li al-Kurdi]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02axoD4Hfpqm1Sm7fyDg8ikhmy96LGTMUJ799beVtHY8mgRsNZ4Q2nmPkZVd3STQmsl&id=100050689590519
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
میڈیا پر خبر چل رہی ہے کہ مناسک حج کا آغاز آج سے ہو گا اس میں ترمیم کی حاجت ہے۔اس کو یوں کہنا مناسب ہے کہ حجاج آج سے منی پہنچنا شروع ہوں گے۔
مناسک حج کا آغاز 8 ذو الحجہ سے ہوتا ہے جو عرب شریف میں کل بروز جمعرات کو ہے 8 ذو الحجہ کو فجر کے بعد حجاج منی پہنچتے ہیں اور ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز منی میں ادا کرتے ہیں ۔پھر حج کا فرض اعظم وقوف عرفات ادا کرنے کے لئے عرفات جاتے ہیں
فی زمانہ حجاج اگرچہ کہ 7 ذوالحجہ سے منی جانا شروع ہو جاتے ہیں لیکن مناسک کی ادائیگی کا آغاز 7 ذو الحجہ نہیں بلکہ 8 ذو الحجہ کو ہوتا ہے 8 ذوالحجہ کو یوم ترویہ بھی کہا جاتا ہے۔منی کا یہ قیام سنت موکدہ ہے
ایک اورغلطی بھی رفتہ رفتہ بڑھتی جا رہی کہ کچھ حاجیوں کو مزدلفہ میں خیمے ملتے ہیں تو ٹریول والے یا کاروان والے کہتے ہیں کہ آپ کا خیمہ نیو منی میں ہے ۔یہاں کوئی لیاقت آباد یا گولیمار یا لاہور کراچی کے محلے کی بات تو ہے نہیں کہ جو مرضی نام رکھ لیا جائے ۔مزدلفہ میں حج کا ایک واجب اور ایک سنت موکدہ کی ادائیگی ہوتی ہے قرآن پاک نے مزدلفہ میں واقع مبارک مقام مشعر الحرام کا ذکر کیا ہے
جو مزدلفہ ہے آپ اس کو نیو منی کا نام کیسے دے سکتے ہیں ؟
منی کے اپنے احکام ہیں اور مزدلفہ کے اپنے۔یہ مبارک مقامات مشاعر مقدسہ ہیں ۔گاہک مزدلفہ کا نام سن کر گھبرا جائے گا اس لئے آپ نیو منی کہہ دیں ایسا نہیں کر سکتے۔احتیاط کی حاجت ہے۔

✍️ مفتی علی اصغر
6 جولائی 2022

https://www.facebook.com/100064918620807/posts/pfbid027diq2mStV3U3RNY1RWsj5rhbzdrKgEcEs7gsghyNh29aKGNMJHkbdAqZHLQAqr9Jl/
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-12-1443 ᴴ | 06-07-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-12-1443 ᴴ | 07-07-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1