Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-11-1443 ᴴ | 29-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-11-1443 ᴴ | 29-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
فقیہ افخم حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ یوم وصال 29 ذوالقعدہ 1336 ھ
فقیہ افخم حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ عارف باللہ حضرت مخدوم نور اللہ نورنگ رحمتہ اللہ علیہ (متوفی ۹۹۴ھ) کے خاندان کے چشم و چراغ ، رجال السند کے سر فراز موتی ، نامور عالم دین ، فقیہ افخم حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ سنی حنفی قادری کی ولادت گوٹھ کھورواہ (تحصیل گولا رچی ضلع بدین ) میں حافظ محمد کے گھر ہوئی۔
نور نگ کی وجہ تسمیہ:
مخدوم نور اللہ کو کسی معترض نے طنزیہ کہا: پیری مریدی کے لئے شرط ہے کہ سید ہوں اور تم کون ہو؟ (یعنی تم سید نہیں ہو لہٰذا بزرگ نہیں ہو) مخدوم صاحب نے جیب سے مسواک نکال کر فرمایا: یہ میری پہچان ہے یہ کہہ کر مسواک کو زمین میں گاڑا تو ایک ہی دن ان میں نو (۹) رنگ دیکھنے میں آئے۔ اس کرامت کے بعد آپ نو رنگ سے مشہور ہوئے ۔ (السند )
مسجد کی بنیاد:
امام العارفین پیر صاحب روضے دہنی قدس سرہ الاقدس کے خلیفہ عارف باللہ حضرت محمود نظامانی (۱۲۶۷ھ) کے مریدین میں سے ایک مرید بمبئی (انڈیا) کے بڑے تاجر تھے ۔ چینی (شکر) سے بھرا ہوا جہاز بمبئی سے کراچی لا رہے تھے کہ جہاز کو ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہوا۔ جس کے سبب اس نے نذر مانی کہ یا خدا! اگر جہاز ڈوبنے سے بچ گیا تو سات مساجد سات پکے کنویں فی سبیل اللہ بنواوٗں گا۔ کھورواہ کے میمن ، خلیفہ صاحب کے مرید تھے اور کھور واہ میں اس سے قبل مسجد نہیں تھی ۔ تاجر کی منت پوری ہوئی تو اپنا وعدہ پورا کیا۔
خلیفہ صاحب کی نشاندہی پر مساجد اور کنویں بنوائے ۔ خلیفہ صاحب کے کہنے پر کھورواہ میں ایک مسجد شریف اور پکا کنواں بنوایا۔ مسجد شریف کی امامت کیلئے خلیفہ صاحب نے مولانا محمد عثمان نورنگ کے والد حافظ محمد صاحب کو مقرر کیا جو کہ خلیفہ صاحب کے مرید خاص تھے ۔ اس کے بعد اس خاندان نے ہمیشہ کیلئے کھورواہ میں سکونت اختیار کی۔ (السند ۳۷)
مخدوم نور اللہ نورنگ سہروردی ذات کے سومرہ اور ملتان شریف کے بزرگ کی طرف سے لاڑ میں خلیفہ تھے۔ پیدا گھم کوٹ (ضلع حیدرآباد ) میں ہوئے جہاں آپ کا مدرسہ تھا اور آپ کا روضہ شریف ٹنڈو غلام حیدر تحصیل گولا رچی میں ہے ۔ آپ کی اولاد نورنگ زادہ کہلواتی ہے۔ (جنت السند (سندھی) ص ۳۳۸)
تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ نے وقت کے نامور جید علماء سے حدیث ، تفسیر ، فقہ ، منطق ، فلسفہ ، تاریخ اور تصوف کی تعلیم حاصل کر کے مخدوم نورنگ کے تاریخی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔
تصنیف و تالیف :
نیاز ہمایونی رقمطراز ہیں:
مولانا محمد عثمان عالم دین کے ساتھ ساتھ طب ، جفر اور نجوم سے بھی دلچپسی رکھتے تھے۔ ( سندھ کی طبی تاریخ جلد دوم ص ۶۱۲مطبوعہ ۱۹۷۶ئ)
مولانا محمد عثمان کثیر التعداد تصنیف بزرگ تھے، درج ذیل تصانیف معلوم ہو سکی ہیں:
٭ تحفۃ المسلیمین (نور محمدی ﷺ کا بھی بیان ہے )
٭ تحفۃ الاسلام ۵ جلد توحید رسالت ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ کے مسائل پر مشتمل
٭ کیمیائے کرامات یعنی کرامات غوث اعظم (سندھی)
٭ ھدیۃ الندیۃ فی جواز الخطبۃ بلسان الھندیہ
٭ اکسیر کالاحمر فی اسرار الجفر مطبوعہ ۱۸۵۱ء
٭ خطبات عثمانی جمعہ کے خطبات بزبان سندھی نظم
٭ قصیدہ غوثیہ کا سلیس سندھی میں ترجمہ کیا
٭ ترجمہ فتوح الغیب ۔ سر کار غوث اعظم کی کتاب کا سندھی ترجمہ عرصہ پہلے شائع ہوا، اب نایاب ہے۔
٭ بینات القرآن لھدایۃ العصیان ( سندھی ) مطبوعہ بمبئی طبع قدیم
٭ عجیب العجائب
٭ راہ نجات
٭ نماز اشراق (نفل ) کی فضیلت
اور تفسیر تنویر الایمان (سندھی ) آپ کے نام سے شہرت رکھتی ہے۔ حقیقت میں آپ نے چند پارے لکھے اور اس میں بھی رد و بدل ہوئی ۔ اس سلسلہ میں راقم راشدی کا مضمون ’’مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ کا مسلک ‘‘ماہنامہ الراشد کنگری کے شمارہ جمادی الاول سن ۱۴۲۲ھ میں ملا حظہ فرمائیں ۔
درس و تدریس:
حسن علی آفندی نے مسلمانوں کی تعلیم و تنظیم کے لئے جب کراچی میں تاریخی درسگاہ ’’سندھ مدرسۃ الاسلام ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ تو مولانا صاحب نے آفندی کا ساتھ دیا اور سن ۱۸۵۰ء میں سندھ مدرسہ الاسلام کراچی کے ’’معلم الفقہ ‘‘مقرر ہوئے۔ مولانا صاحب جید عالم ، فقیہ ، مفتی ، صوفی ، مفسر ، مورخ ، شاعر کے علاوہ علم طب، علم نجوم ، رمل اور جفر کی بھی مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ سندھ مدرسۃ الاسلام میں دوران تعلیم بے شمار فرزندان اسلام نے آپ سے دینی تعلیم حاصل کی ۔ ان دنوں سندھ مدرسۃ الاسلام سے ایک ماہنامہ جاری ہوا جس کے آپ پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے ۔ مجلہ میں آپ کے فکر انگیز مضامین اور نعتیہ شاعری شائع ہوتی تھی۔
شاعری :
سصپ بلند پایہ کے شاعر تھے ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی نے ’’ نعتیہ شاعری ‘‘میں آپ کی ایک نعت نقل کی ہے ۔ اس کے علاوہ خطبات عثمانی منظوم سندھی خطبات پر مشتمل ہے۔ سر کار غوث اعظم کی شان میں طویل منقبت ، اپنے جد اعلیٰ مخدوم نورنگ کی شان میں طویل منقبت اور مرشد مربی پیر سائیں بیعت دہنی کی شان میں طویل مناقب
فقیہ افخم حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ عارف باللہ حضرت مخدوم نور اللہ نورنگ رحمتہ اللہ علیہ (متوفی ۹۹۴ھ) کے خاندان کے چشم و چراغ ، رجال السند کے سر فراز موتی ، نامور عالم دین ، فقیہ افخم حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ سنی حنفی قادری کی ولادت گوٹھ کھورواہ (تحصیل گولا رچی ضلع بدین ) میں حافظ محمد کے گھر ہوئی۔
نور نگ کی وجہ تسمیہ:
مخدوم نور اللہ کو کسی معترض نے طنزیہ کہا: پیری مریدی کے لئے شرط ہے کہ سید ہوں اور تم کون ہو؟ (یعنی تم سید نہیں ہو لہٰذا بزرگ نہیں ہو) مخدوم صاحب نے جیب سے مسواک نکال کر فرمایا: یہ میری پہچان ہے یہ کہہ کر مسواک کو زمین میں گاڑا تو ایک ہی دن ان میں نو (۹) رنگ دیکھنے میں آئے۔ اس کرامت کے بعد آپ نو رنگ سے مشہور ہوئے ۔ (السند )
مسجد کی بنیاد:
امام العارفین پیر صاحب روضے دہنی قدس سرہ الاقدس کے خلیفہ عارف باللہ حضرت محمود نظامانی (۱۲۶۷ھ) کے مریدین میں سے ایک مرید بمبئی (انڈیا) کے بڑے تاجر تھے ۔ چینی (شکر) سے بھرا ہوا جہاز بمبئی سے کراچی لا رہے تھے کہ جہاز کو ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہوا۔ جس کے سبب اس نے نذر مانی کہ یا خدا! اگر جہاز ڈوبنے سے بچ گیا تو سات مساجد سات پکے کنویں فی سبیل اللہ بنواوٗں گا۔ کھورواہ کے میمن ، خلیفہ صاحب کے مرید تھے اور کھور واہ میں اس سے قبل مسجد نہیں تھی ۔ تاجر کی منت پوری ہوئی تو اپنا وعدہ پورا کیا۔
خلیفہ صاحب کی نشاندہی پر مساجد اور کنویں بنوائے ۔ خلیفہ صاحب کے کہنے پر کھورواہ میں ایک مسجد شریف اور پکا کنواں بنوایا۔ مسجد شریف کی امامت کیلئے خلیفہ صاحب نے مولانا محمد عثمان نورنگ کے والد حافظ محمد صاحب کو مقرر کیا جو کہ خلیفہ صاحب کے مرید خاص تھے ۔ اس کے بعد اس خاندان نے ہمیشہ کیلئے کھورواہ میں سکونت اختیار کی۔ (السند ۳۷)
مخدوم نور اللہ نورنگ سہروردی ذات کے سومرہ اور ملتان شریف کے بزرگ کی طرف سے لاڑ میں خلیفہ تھے۔ پیدا گھم کوٹ (ضلع حیدرآباد ) میں ہوئے جہاں آپ کا مدرسہ تھا اور آپ کا روضہ شریف ٹنڈو غلام حیدر تحصیل گولا رچی میں ہے ۔ آپ کی اولاد نورنگ زادہ کہلواتی ہے۔ (جنت السند (سندھی) ص ۳۳۸)
تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ نے وقت کے نامور جید علماء سے حدیث ، تفسیر ، فقہ ، منطق ، فلسفہ ، تاریخ اور تصوف کی تعلیم حاصل کر کے مخدوم نورنگ کے تاریخی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔
تصنیف و تالیف :
نیاز ہمایونی رقمطراز ہیں:
مولانا محمد عثمان عالم دین کے ساتھ ساتھ طب ، جفر اور نجوم سے بھی دلچپسی رکھتے تھے۔ ( سندھ کی طبی تاریخ جلد دوم ص ۶۱۲مطبوعہ ۱۹۷۶ئ)
مولانا محمد عثمان کثیر التعداد تصنیف بزرگ تھے، درج ذیل تصانیف معلوم ہو سکی ہیں:
٭ تحفۃ المسلیمین (نور محمدی ﷺ کا بھی بیان ہے )
٭ تحفۃ الاسلام ۵ جلد توحید رسالت ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ کے مسائل پر مشتمل
٭ کیمیائے کرامات یعنی کرامات غوث اعظم (سندھی)
٭ ھدیۃ الندیۃ فی جواز الخطبۃ بلسان الھندیہ
٭ اکسیر کالاحمر فی اسرار الجفر مطبوعہ ۱۸۵۱ء
٭ خطبات عثمانی جمعہ کے خطبات بزبان سندھی نظم
٭ قصیدہ غوثیہ کا سلیس سندھی میں ترجمہ کیا
٭ ترجمہ فتوح الغیب ۔ سر کار غوث اعظم کی کتاب کا سندھی ترجمہ عرصہ پہلے شائع ہوا، اب نایاب ہے۔
٭ بینات القرآن لھدایۃ العصیان ( سندھی ) مطبوعہ بمبئی طبع قدیم
٭ عجیب العجائب
٭ راہ نجات
٭ نماز اشراق (نفل ) کی فضیلت
اور تفسیر تنویر الایمان (سندھی ) آپ کے نام سے شہرت رکھتی ہے۔ حقیقت میں آپ نے چند پارے لکھے اور اس میں بھی رد و بدل ہوئی ۔ اس سلسلہ میں راقم راشدی کا مضمون ’’مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ کا مسلک ‘‘ماہنامہ الراشد کنگری کے شمارہ جمادی الاول سن ۱۴۲۲ھ میں ملا حظہ فرمائیں ۔
درس و تدریس:
حسن علی آفندی نے مسلمانوں کی تعلیم و تنظیم کے لئے جب کراچی میں تاریخی درسگاہ ’’سندھ مدرسۃ الاسلام ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ تو مولانا صاحب نے آفندی کا ساتھ دیا اور سن ۱۸۵۰ء میں سندھ مدرسہ الاسلام کراچی کے ’’معلم الفقہ ‘‘مقرر ہوئے۔ مولانا صاحب جید عالم ، فقیہ ، مفتی ، صوفی ، مفسر ، مورخ ، شاعر کے علاوہ علم طب، علم نجوم ، رمل اور جفر کی بھی مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ سندھ مدرسۃ الاسلام میں دوران تعلیم بے شمار فرزندان اسلام نے آپ سے دینی تعلیم حاصل کی ۔ ان دنوں سندھ مدرسۃ الاسلام سے ایک ماہنامہ جاری ہوا جس کے آپ پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے ۔ مجلہ میں آپ کے فکر انگیز مضامین اور نعتیہ شاعری شائع ہوتی تھی۔
شاعری :
سصپ بلند پایہ کے شاعر تھے ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی نے ’’ نعتیہ شاعری ‘‘میں آپ کی ایک نعت نقل کی ہے ۔ اس کے علاوہ خطبات عثمانی منظوم سندھی خطبات پر مشتمل ہے۔ سر کار غوث اعظم کی شان میں طویل منقبت ، اپنے جد اعلیٰ مخدوم نورنگ کی شان میں طویل منقبت اور مرشد مربی پیر سائیں بیعت دہنی کی شان میں طویل مناقب
❤1👍1
وغیرہ آپ کی شاعری کے اعلیٰ نمونہ ہیں ۔ آپ اس طرح نظم میں اپنے نظریات احساسات جذبات کا بھی اظہار فرماتے رہے۔ یہ تو مطبوعہ مواد ہے اور غیر مطبوعہ مواد اکثر ضائع ہو گیا۔
بیعت:
حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ ، شمس العارفین ، واقف اسرار ورموز حقیقت ، غوث الزمان ، حضرت خواجہ پیر سید محمد رشید الدین شاہ راشدی المعروف پیر صاحب بیعت دہنی قدس سرہ الاقدس (درگاہ شریف پیرصاحب جھنڈے دہنی ضلع حیدر آباد) کے دست اقدس پر بیعت ہو کر سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں داخل ہوئے ۔ مولانا کو سرکار غوث اعظم اور اپنے پیر و مرشد سے بے پناہ محبت تھی ، اسی محبت میں زندگی گذاری اور اسی محبت سے اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ اس کے ثبوت میں آپ کی تصنیف کیمیائے کرامات ، خطبات عثمانی اور تحفۃ المسلمین پیش کی جا سکتی ہیں ۔
اور اپنے پیر و مرشد کو ان القابات سے یاد کیا ہے: استغاثہ بدرگاہ عرش اشتباہ، ملجاء الغرباء ،ماواء الفقراء ، کہف الوری ، منظور نظر حضرت سید الانبیاء ، محبوب رب العلاء ، غوث الزمان ، قطب الدوران ، ہادی گمراہان، داعی الخلق الی اللہ حضرت مرشدنا و مولانا پیر سائیں صاحب العلم رشید الدین شاہ جھنڈے دہنی ادام اللہ تعالیٰ برکاتہ و فیو ضاتہ ۔ (مولانا عثمان کا مسلک ، الراشد ) ۔
دوسرے مقام پر اپنے مرشد کریم کیلئے درج ذیل القابات درج کئے ہیں :۔ ہادی گمراہاں ، دستگیر بے کساں ، مرشد ارشد دوران ، مربی مکمل ۔ (تنویر الایمان جلد اول دیباچہ)
آپ کا مسلک :
اس موضوع پر فقیر نے مفصل مضمون رقم کیا ہے ، یہاں ایک جھلک پیش خدمت ہے۔ مولانا محمد عثمان نے ایک نعت سندھی زبان میں رقم فرمائی جو کہ ۲۵ مصرعہ پر مشتمل ہے اس نعت میں ندا کے الفاظ بھی ہیں : یارسول اللہ! یا خیر النبی یاحبیب اللہ! یا خیر الوریٰ یا شفیع الخلق! یانور الھدیٰ (خطبات عثمانی) اپنی ایک کتاب میں رقم فرماتے ہیں :۔ یہ بات بالاتفاق ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے مقدس نور سے حضور انور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نور مبارک پیدا کیا۔ (تحفۃ المسلمین ص۱)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی امت کے گنہگار وں کو دوزخ سے نکلوا کے جنت کو لے جائیں گے (تحفۃ المسلمین ص۶۱) ۔
ایک مقام پر سر کار غوث اعظم ، محبوب سبحانی ، قطب ربانی ، مرشد حقائی ، شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بغداد شریف ) کی شان میں درج ذیل فارسی شعرندا سے متعلق درج فرما کر اپنے مبارک مسلک کا اعلان فرما دیا: یاغوث اعظم پاک وقت مدد است شد سینہ زدرد چاک وقت مدد است مہر چند کا وارہ و خستہ خاطریم لاحد زلنا سواک وقت مدد است ایک سندھی منقبت میں دربار غوثیہ میں یوں عرض کرتے ہیں : المدد یاغوث اعظم دستگیر الغیاث اے حضرت پیراں پیر (کیمیائے کرامات)
وصال:
حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ نے آخری عمر میں سندھ مدرسۃ الاسلام سے استعفیٰ دے کر اپنے گوٹھ کھورواہ تشریف لے گئے ، جہاں زیادہ وقت عبادت میں گذرتا تھا اور اپنے پوتے مولوی محمد کو تعلیم دیتے اور تفسیر تنویر الایمان کا کام شروع کیا جو کہ آخری کوشش تھی۔ ۲۹، ذوالعقدہ ۱۳۳۶ھ ؍ ۱۹۱۸ء کو انتقال کیا۔ (السند ، اسلام آباد )
مزار شریف:
آپ کا مزار شریف ، عارف کامل حضرت خلیفہ محمود نظامانی قادری قدس سرہ کی درگاہ شریف ( کڑیو گھنور ضلع بدین ) میں روضہ شریف کے زیر سایہ صحن میں مرجع خلائق ہے۔ فقیر راقم راشدی نے حاضری دی ہے اور حاضری کے بعد آپ کا مطالعہ اور آپ پر لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی ۔ (انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-usman
Copyright © Zia-e-Taiba
بیعت:
حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ ، شمس العارفین ، واقف اسرار ورموز حقیقت ، غوث الزمان ، حضرت خواجہ پیر سید محمد رشید الدین شاہ راشدی المعروف پیر صاحب بیعت دہنی قدس سرہ الاقدس (درگاہ شریف پیرصاحب جھنڈے دہنی ضلع حیدر آباد) کے دست اقدس پر بیعت ہو کر سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں داخل ہوئے ۔ مولانا کو سرکار غوث اعظم اور اپنے پیر و مرشد سے بے پناہ محبت تھی ، اسی محبت میں زندگی گذاری اور اسی محبت سے اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ اس کے ثبوت میں آپ کی تصنیف کیمیائے کرامات ، خطبات عثمانی اور تحفۃ المسلمین پیش کی جا سکتی ہیں ۔
اور اپنے پیر و مرشد کو ان القابات سے یاد کیا ہے: استغاثہ بدرگاہ عرش اشتباہ، ملجاء الغرباء ،ماواء الفقراء ، کہف الوری ، منظور نظر حضرت سید الانبیاء ، محبوب رب العلاء ، غوث الزمان ، قطب الدوران ، ہادی گمراہان، داعی الخلق الی اللہ حضرت مرشدنا و مولانا پیر سائیں صاحب العلم رشید الدین شاہ جھنڈے دہنی ادام اللہ تعالیٰ برکاتہ و فیو ضاتہ ۔ (مولانا عثمان کا مسلک ، الراشد ) ۔
دوسرے مقام پر اپنے مرشد کریم کیلئے درج ذیل القابات درج کئے ہیں :۔ ہادی گمراہاں ، دستگیر بے کساں ، مرشد ارشد دوران ، مربی مکمل ۔ (تنویر الایمان جلد اول دیباچہ)
آپ کا مسلک :
اس موضوع پر فقیر نے مفصل مضمون رقم کیا ہے ، یہاں ایک جھلک پیش خدمت ہے۔ مولانا محمد عثمان نے ایک نعت سندھی زبان میں رقم فرمائی جو کہ ۲۵ مصرعہ پر مشتمل ہے اس نعت میں ندا کے الفاظ بھی ہیں : یارسول اللہ! یا خیر النبی یاحبیب اللہ! یا خیر الوریٰ یا شفیع الخلق! یانور الھدیٰ (خطبات عثمانی) اپنی ایک کتاب میں رقم فرماتے ہیں :۔ یہ بات بالاتفاق ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے مقدس نور سے حضور انور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نور مبارک پیدا کیا۔ (تحفۃ المسلمین ص۱)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی امت کے گنہگار وں کو دوزخ سے نکلوا کے جنت کو لے جائیں گے (تحفۃ المسلمین ص۶۱) ۔
ایک مقام پر سر کار غوث اعظم ، محبوب سبحانی ، قطب ربانی ، مرشد حقائی ، شیخ محی الدین سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بغداد شریف ) کی شان میں درج ذیل فارسی شعرندا سے متعلق درج فرما کر اپنے مبارک مسلک کا اعلان فرما دیا: یاغوث اعظم پاک وقت مدد است شد سینہ زدرد چاک وقت مدد است مہر چند کا وارہ و خستہ خاطریم لاحد زلنا سواک وقت مدد است ایک سندھی منقبت میں دربار غوثیہ میں یوں عرض کرتے ہیں : المدد یاغوث اعظم دستگیر الغیاث اے حضرت پیراں پیر (کیمیائے کرامات)
وصال:
حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ نے آخری عمر میں سندھ مدرسۃ الاسلام سے استعفیٰ دے کر اپنے گوٹھ کھورواہ تشریف لے گئے ، جہاں زیادہ وقت عبادت میں گذرتا تھا اور اپنے پوتے مولوی محمد کو تعلیم دیتے اور تفسیر تنویر الایمان کا کام شروع کیا جو کہ آخری کوشش تھی۔ ۲۹، ذوالعقدہ ۱۳۳۶ھ ؍ ۱۹۱۸ء کو انتقال کیا۔ (السند ، اسلام آباد )
مزار شریف:
آپ کا مزار شریف ، عارف کامل حضرت خلیفہ محمود نظامانی قادری قدس سرہ کی درگاہ شریف ( کڑیو گھنور ضلع بدین ) میں روضہ شریف کے زیر سایہ صحن میں مرجع خلائق ہے۔ فقیر راقم راشدی نے حاضری دی ہے اور حاضری کے بعد آپ کا مطالعہ اور آپ پر لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی ۔ (انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-usman
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
حضور رئیس الاتقیاء حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد نقی علی خان علیہ الرحمہ
یوم وصال 29 ذوالقعدہ 1297
یوم پیدائش 01 رجب المرجب 1246
حضرت علامہ محمد نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت وفراست وہ جناب فضائلِ مآب تاج العلما، راس الفضلا، حامیِ سنّت ماحیِ بدعت، بقیۃ السلف، حجت الخلف رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَفِیْ اَعْلٰی غُرَفِ الْجِنَانِ بَوَّاہُ سلخ جمادی الآخرَۃ یا غرّۂ رجب ۱۲۴۶ ہجریہ قدسیہ کو رونق افزائے دارِ دنیا ہوئے۔
اپنے والدِ ماجد حضرت مولائے اعظم فضائل پناہ عارف باللہ صاحبِ کمالاتِ باہرہ و کراماتِ ظاہرہ حضرت مولانا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رَوَّحَ اللہُ رُوْحَہٗ وَنَوَّرَ ضَرِیْحَہٗ سے اکتسابِ علوم فرمایا۔ بحمد اللہ منصب شریف علم کا پایہ درجۂ علیا کو پہنچایا۔ ؎ راست میگویم ویزداں نہ پسندد وجزراست کہ جو دقّتِ انظار، وحدتِ افکار ،وفہمِ صائب ،ورائے ثاقب ، حضرت حق جَلَّ وَعَلَا نے انہیں عطا فرمائی۔ ان دیار وامصار میں اس کی نظیر نظر نہ آئی۔ فراستِ صادقہ کی یہ حالت تھی کہ جس معاملے میں جو کچھ فرمایا، وہی ظہور میں آیا۔ عقلِ معاش و معاد دونوں کا بروجہِ کمال اجتماع بہت کم سنا، یہاں آنکھوں دیکھا۔ علاوہ بریں۔ سخاوت و شجاعت، و علوِّہمت و کرم ، و مروّت و صدقاتِ خفیہ، و مبرّات جلیہ ،و بلندیِ اقبال ، ودبدبہ و جلال ، ومولات فقراء ، اور امرِ دینی میں عدمِ مبالات باغنیاء حکام سے عزلتِ رزقِ موروث پر قناعت وغیر ذالک فضائلِ جلیلہ و خصائلِ جمیلہ کا حال وہی کچھ جانتا ہے جس نے اس جناب کی برکتِ صحبت سے شرف پایا ہے ؏ ایں نہ بحریست کہ در کوزۂ تحریر آید حضور اقدس ﷺ کے اعدا پر شدت مگر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس ذاتِ گرامیِ صفات کو خالق عزوجل نے حضرتِ سلطانِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیہ کی غلامی و خدمت اور حضورِ اقدس کے اعدا پر غلظت وشدّت کے لیے بنایا تھا۔ بحمد اللہ ان کے بازوئے ہمت وطنطنۂ صولت نے اس شہر کو فتنۂ مخالفین سے یکسر پاک کر دیا۔ کوئی اتنا نہ رہا کہ سر اٹھائے یا آنکھ ملائے۔ یہاں تک کہ ۲۶؍شعبان ۱۲۹۳ھ کو مناظرۂ دینی کا عام اعلان مسمّٰی بنامِ تاریخی ‘‘اصلاحِ ذات بین’’ طبع کرایا اور سوا مہر ِسکوت ،یا عارِ فرار، وغوغائے جہال ،و عجز و اضطرار، کے کچھ جواب نہ پایا۔ فتنہ شش مثل کا شعلہ کہ مدّت سے سر بفلک کشیدہ تھا اور تمام اقطارِ ہند میں اہلِ علم اس کے اطفا پر عرق ریز گرویدہ اس جناب کی ادنیٰ توجّہ میں بحمد اللہ سارے ہندوستان سے ایسا فرو ہوا کہ جب سے کان ٹھنڈے ہیں اہلِ فتنہ کا بازار سرد ہے، خود اس کے نام سے جلتے ہیں۔ مصطفیٰ ﷺ کی یہ خدمت روز ازل سے اس جناب کے لیے ودیعت تھی، جس کی قدرے تفصیل رسالہ تنبیہہ ‘‘الجہال (۱۳۹۱ھ) بالہام الباسط المتعال ’’میں مطبوع ہوئی۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ۔
تصانیف:
تصانیفِ شریفہ اس جناب کی سب علومِ دینیہ نافع مسلمین، ودافع مفسدین ، والحمدللہ رب العالمین۔ ازاں جملہ:
۱.‘‘اَلْکَلَامُ الْاَوْضَحْ فِیْ تَفْسِیْرِ سُوْرَۃِ اَلَمْ نَشْرَحْ ’’کہ مجلّدِ کبیر ہے، علومِ کثیرہ پر مشتمل ہے۔ ‘‘وسیلۃ النجاۃ’’ جس کا موضوع ذکرِ حالاتِ سیّدِ کائنات ہے، ﷺ، مجلّدِ وسیط۔ 3.‘‘سرور القلوب فی ذکر المحبوب ’’کہ مطبع نو لکشور میں چھپی۔ ‘‘جواہر البیان فی اسرار الارکان’’ جس کی خوبی دیکھنے سے تعلّق رکھتی ہے۔ ؏ ذوق ایں مے نشناسی بخداتا نہ چشی فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے صرف اُس کے ڈھائی صفحوں کی شرح میں ایک رسالہ مسمّٰی بہ ‘‘زواہر الجنان من جواہر’’البیان ملقب بنام تاریخی ‘‘سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی’’ تالیف کیا۔ ‘‘اصول الرشاد لقمع مباتی الفساد’’ جس میں وہ قواعد ایضاح واثبات فرمائے جن کے بعد نہیں مگر سنّت کو قوت اور بدعت نجدیہ کو موتِ حسرت۔ ‘‘ہدایۃ البریہ الی الشریعۃ الاحمدیہ ’’ کہ دس فرقوں کا رد ہے۔ یہ کتابیں مطبعِ صبحِ صادق سیتا پور میں طبع ہوئیں۔ ‘‘اذاقۃ الاٰثام لمانعی عمل المولود والقیام’’ کہ اپنی شان میں اپنا نظیر نہیں رکھتی اور انشاء اللہ العزیز عنقریب شائع ہوگی۔ ‘‘فَضْلُ الْعِلْم وَالْعُلَمَآء ’’ایک مختصر رسالہ کہ بریلی میں طبع ہوا۔ ‘‘ازالۃ الاوہام ’’ رد نجدیہ۔ ‘‘تزکیۃ ایقان ردّ تقویۃ الایمان’’ کہ یہ عشرۂ کاملہ زمانۂ حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ میں تبییض پاچکا۔ ‘‘الکواکب الزہراء فی فضائل العلم وآداب العلماء’’ جس کی تخریج احادیث میں فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے رسالہ ‘‘النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب لکھا’’۔ ‘‘الروایۃ الرویۃ فی الاخلاق النبویۃ’’۔ ‘‘النقاوۃ التقویۃ فی الخصائص النبویۃ’’۔ 14.‘‘ لمعۃ النبراس فی آداب الاکل واللباس’’۔ ‘‘التمکن فی تحقیق مسائل التزین’’۔ ‘‘احسن الوعاء لآداب الدعاء’’۔ ‘‘خیر المخاطبۃ فی المحاسبۃ والمراقبہ’’۔ ‘‘ہدایۃ المشتاق الٰی سیر الانفس ولآفاق’’۔ ‘‘ارشاد الاحباب الٰی آداب الاحتساب’’۔ ‘‘اجمل الفکر فی مباحث الذکر’’۔ ‘‘عین المشاہدۃلحسن المجاہدۃ’’۔
یوم وصال 29 ذوالقعدہ 1297
یوم پیدائش 01 رجب المرجب 1246
حضرت علامہ محمد نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت وفراست وہ جناب فضائلِ مآب تاج العلما، راس الفضلا، حامیِ سنّت ماحیِ بدعت، بقیۃ السلف، حجت الخلف رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَفِیْ اَعْلٰی غُرَفِ الْجِنَانِ بَوَّاہُ سلخ جمادی الآخرَۃ یا غرّۂ رجب ۱۲۴۶ ہجریہ قدسیہ کو رونق افزائے دارِ دنیا ہوئے۔
اپنے والدِ ماجد حضرت مولائے اعظم فضائل پناہ عارف باللہ صاحبِ کمالاتِ باہرہ و کراماتِ ظاہرہ حضرت مولانا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رَوَّحَ اللہُ رُوْحَہٗ وَنَوَّرَ ضَرِیْحَہٗ سے اکتسابِ علوم فرمایا۔ بحمد اللہ منصب شریف علم کا پایہ درجۂ علیا کو پہنچایا۔ ؎ راست میگویم ویزداں نہ پسندد وجزراست کہ جو دقّتِ انظار، وحدتِ افکار ،وفہمِ صائب ،ورائے ثاقب ، حضرت حق جَلَّ وَعَلَا نے انہیں عطا فرمائی۔ ان دیار وامصار میں اس کی نظیر نظر نہ آئی۔ فراستِ صادقہ کی یہ حالت تھی کہ جس معاملے میں جو کچھ فرمایا، وہی ظہور میں آیا۔ عقلِ معاش و معاد دونوں کا بروجہِ کمال اجتماع بہت کم سنا، یہاں آنکھوں دیکھا۔ علاوہ بریں۔ سخاوت و شجاعت، و علوِّہمت و کرم ، و مروّت و صدقاتِ خفیہ، و مبرّات جلیہ ،و بلندیِ اقبال ، ودبدبہ و جلال ، ومولات فقراء ، اور امرِ دینی میں عدمِ مبالات باغنیاء حکام سے عزلتِ رزقِ موروث پر قناعت وغیر ذالک فضائلِ جلیلہ و خصائلِ جمیلہ کا حال وہی کچھ جانتا ہے جس نے اس جناب کی برکتِ صحبت سے شرف پایا ہے ؏ ایں نہ بحریست کہ در کوزۂ تحریر آید حضور اقدس ﷺ کے اعدا پر شدت مگر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس ذاتِ گرامیِ صفات کو خالق عزوجل نے حضرتِ سلطانِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیہ کی غلامی و خدمت اور حضورِ اقدس کے اعدا پر غلظت وشدّت کے لیے بنایا تھا۔ بحمد اللہ ان کے بازوئے ہمت وطنطنۂ صولت نے اس شہر کو فتنۂ مخالفین سے یکسر پاک کر دیا۔ کوئی اتنا نہ رہا کہ سر اٹھائے یا آنکھ ملائے۔ یہاں تک کہ ۲۶؍شعبان ۱۲۹۳ھ کو مناظرۂ دینی کا عام اعلان مسمّٰی بنامِ تاریخی ‘‘اصلاحِ ذات بین’’ طبع کرایا اور سوا مہر ِسکوت ،یا عارِ فرار، وغوغائے جہال ،و عجز و اضطرار، کے کچھ جواب نہ پایا۔ فتنہ شش مثل کا شعلہ کہ مدّت سے سر بفلک کشیدہ تھا اور تمام اقطارِ ہند میں اہلِ علم اس کے اطفا پر عرق ریز گرویدہ اس جناب کی ادنیٰ توجّہ میں بحمد اللہ سارے ہندوستان سے ایسا فرو ہوا کہ جب سے کان ٹھنڈے ہیں اہلِ فتنہ کا بازار سرد ہے، خود اس کے نام سے جلتے ہیں۔ مصطفیٰ ﷺ کی یہ خدمت روز ازل سے اس جناب کے لیے ودیعت تھی، جس کی قدرے تفصیل رسالہ تنبیہہ ‘‘الجہال (۱۳۹۱ھ) بالہام الباسط المتعال ’’میں مطبوع ہوئی۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ۔
تصانیف:
تصانیفِ شریفہ اس جناب کی سب علومِ دینیہ نافع مسلمین، ودافع مفسدین ، والحمدللہ رب العالمین۔ ازاں جملہ:
۱.‘‘اَلْکَلَامُ الْاَوْضَحْ فِیْ تَفْسِیْرِ سُوْرَۃِ اَلَمْ نَشْرَحْ ’’کہ مجلّدِ کبیر ہے، علومِ کثیرہ پر مشتمل ہے۔ ‘‘وسیلۃ النجاۃ’’ جس کا موضوع ذکرِ حالاتِ سیّدِ کائنات ہے، ﷺ، مجلّدِ وسیط۔ 3.‘‘سرور القلوب فی ذکر المحبوب ’’کہ مطبع نو لکشور میں چھپی۔ ‘‘جواہر البیان فی اسرار الارکان’’ جس کی خوبی دیکھنے سے تعلّق رکھتی ہے۔ ؏ ذوق ایں مے نشناسی بخداتا نہ چشی فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے صرف اُس کے ڈھائی صفحوں کی شرح میں ایک رسالہ مسمّٰی بہ ‘‘زواہر الجنان من جواہر’’البیان ملقب بنام تاریخی ‘‘سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی’’ تالیف کیا۔ ‘‘اصول الرشاد لقمع مباتی الفساد’’ جس میں وہ قواعد ایضاح واثبات فرمائے جن کے بعد نہیں مگر سنّت کو قوت اور بدعت نجدیہ کو موتِ حسرت۔ ‘‘ہدایۃ البریہ الی الشریعۃ الاحمدیہ ’’ کہ دس فرقوں کا رد ہے۔ یہ کتابیں مطبعِ صبحِ صادق سیتا پور میں طبع ہوئیں۔ ‘‘اذاقۃ الاٰثام لمانعی عمل المولود والقیام’’ کہ اپنی شان میں اپنا نظیر نہیں رکھتی اور انشاء اللہ العزیز عنقریب شائع ہوگی۔ ‘‘فَضْلُ الْعِلْم وَالْعُلَمَآء ’’ایک مختصر رسالہ کہ بریلی میں طبع ہوا۔ ‘‘ازالۃ الاوہام ’’ رد نجدیہ۔ ‘‘تزکیۃ ایقان ردّ تقویۃ الایمان’’ کہ یہ عشرۂ کاملہ زمانۂ حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ میں تبییض پاچکا۔ ‘‘الکواکب الزہراء فی فضائل العلم وآداب العلماء’’ جس کی تخریج احادیث میں فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے رسالہ ‘‘النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب لکھا’’۔ ‘‘الروایۃ الرویۃ فی الاخلاق النبویۃ’’۔ ‘‘النقاوۃ التقویۃ فی الخصائص النبویۃ’’۔ 14.‘‘ لمعۃ النبراس فی آداب الاکل واللباس’’۔ ‘‘التمکن فی تحقیق مسائل التزین’’۔ ‘‘احسن الوعاء لآداب الدعاء’’۔ ‘‘خیر المخاطبۃ فی المحاسبۃ والمراقبہ’’۔ ‘‘ہدایۃ المشتاق الٰی سیر الانفس ولآفاق’’۔ ‘‘ارشاد الاحباب الٰی آداب الاحتساب’’۔ ‘‘اجمل الفکر فی مباحث الذکر’’۔ ‘‘عین المشاہدۃلحسن المجاہدۃ’’۔
❤1👍1
‘‘تشوق الاداۃ الٰی طرق حجۃ اللہ’’۔ 23.‘‘ نہایۃ السعادۃ فی تحقیقی الہمۃ والا رادۃ’’۔ ‘‘اقوی الذریعۃ الٰی تحقیق الطریقۃ والشریعۃ’’۔ ‘‘ترویج الارواح فی تفسیر الانشراح’’۔
ان پندرہ رسائل مابین وجیز وسیط کے مسوّدات موجود ہیں، جن کی تبییض کی فرصت حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ نے نہ پائی۔ فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالٰی لَہٗ کا قصد ہے کہ انہیں صاف کر کے ایک مجلّد میں طبع کرائے۔ انشاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ ؏ کہ حلوابہ تنہا نہ بایست خورد۔ ان کے سوا اور تصانیف شریفہ کے مسوّدے بستوں میں، ملتے ہیں مگر منتشر جن کے اجزا اوّل ،آخر، یا وسط سے گم ہیں۔ ان کے بارے میں حسرت و مجبوری ہے۔ غرض عمر اس جناب کی ترویجِ دین ، و ہدایتِ مسلمین ، ونکایتِ اعدا ۔ و حمایتِ مصطفیٰ ﷺ میں گزری جَزَاہُ اللہُ مِنَ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمیْنِ خَیْرَ جَزَاءٍ جَزاء (آمین)
بیعت و خلافت:
پنجم (۵) جمادی الاولیٰ ۱۲۹۴ھ کو مارہرۂ مطہرہ میں دستِ حق پرست ، حضرت آقائے نعمت، دریائے رحمت، سید الواصلین، سند الکاملین، قطبِ اوانہ ،وامامِ زمانہ حضورِ پر نور سیّدنا و مرشدنا مولانا وماوانا ذخرتی لیومی وغدی حضرت سیدنا شاہ آلِ رسول احمدی تاج دار مسندِ مارہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَاَفَاضَ عَلَیْنَا مِنْ بَرَکَاتِہٖ وَنْعْمَاہُ پر شرف بیعت حاصل فرمایا۔
حضور پیرو مرشدِ برحق نے مثالِ خلافت و اجازتِ جمیعِ سلاسل و سند حدیث عطا فرمائی۔ یہ غلامِ ناکارہ بھی اسی جلسے میں اس جناب کے طفیل ان برکات سے شرف یاب ہوا۔
والحمدللہ ربّ العالمین سرکار ﷺ کے حکم پر حجِ بیت اللہ ۲۶؍ شوال ۱۲۹۵ھ کو باوجود شدّتِ علالت ، وقوّتِ ضعف خود، حضورِ اقدس سیّدِ عالم ﷺ کے خاص طور پر بلانے سے کہ ‘‘مَن رَاٰنِیْ فِیْ الْمَنَامِ فَقُدْ رَاٰنِیْ’’ عزمِ زیارت وحجِّ مصمّم کاارادہ فرمایا۔ یہ غلام اور چند اصحاب وخدّام ہم راہ رکاب تھے۔ ہر چند احباب نے عرض کی کہ یہ حالت ہے آیندہ سال پر ملتوی فرمایئے۔ ارشاد فرمایا! مدینۂ طیبّہ کے قصد سے قدم دروازہ سے باہر رکھ لوں۔ پھر چاہے روح اسی وقت پرواز کرجائے۔ دیکھنے والے جانتے ہیں کہ تمام مشاہد میں تندرستوں سے کسی بات میں کمی نہ فرمائی، بلکہ وہ مرض ہی خود نبی ﷺ کے ایک آب خورے میں دو اعطا فرمانے سے کہ‘‘ مَنْ رَاٰنِیْ فَقَدْ رَأَی الْحَقَّ’’ حَدِّ منع پر نہ رہا۔ وہاں حضرت اجلّ العلما، اکمل الفضلاء، حضرت مولانا سیّد احمد زین دحلان شیخ الحرم وغیرہ علمائے مکۂ معظمہ سے مکرر سندِ حدیث حاصل فرمائی۔
وصال مبارک:
ذی القعدہ روزِ پنجشنبہ وقتِ ظہر ۱۲۹۷ ہجریہ قدسیہ کو اکیاون ۵۱برس پانچ مہینے کی عمر میں بعارضۂ اسہالِ دموی شہادت پاکر شب ِجمعہ اپنے حضرت والدِ ماجد قُدِّسَ سِرُّہٗ کے کنار میں جگہ پائی۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
روزِوصال نماز صبح پڑھ لی تھی اور ہنوز وقتِ ظہر باقی تھا کہ انتقال فرمایا۔ نزع میں سب حاضرین نے دیکھا کہ آنکھیں بند کیے متواتر سلام فرماتے تھے۔ جب چند انفاس باقی رہے، ہاتھوں کو اعضائے وضو پر یوں پھیرا گویا وضو فرماتے ہیں یہاں تک کہ استنشاق بھی فرمایا۔ سبحان اللہ! وہ اپنےطور پر حالتِ بے ہوشی میں نمازِ ظہر بھی ادا فرما گئے۔ جس وقت روحِ پر فتوح نے جدائی فرمائی۔ فقیر سرہانے حاضر تھا۔ وَاللہ الْعَظِیْم! ایک نورِ ملیح علانیہ نظر آیا کہ سینے سے اٹھ کر برقِ تابندہ کی طرح چہرے پر چمکا، اور جس طرح لمعانِ خورشید آئینے میں جنبش کرتا ہے، یہ حالت ہو کر غائب ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی روح بدن میں نہ تھی۔
پچھلا کلمہ، کہ زبانِ فیضِ ترجمان سے نکلا، لفظِ اللہ تھا و بس اور اخیر تحریر کہ دستِ مبارک سے ہوئی ‘‘بسم اللہ الرحمٰن الرحیم’’ تھی کہ انتقال سے دو روز پہلے ایک کاغذ پر لکھی تھی۔ بعدہٗ فقیر نے حضور پیر و مرشدِ برحق رضی اللہ عنہ کو رویا میں دیکھا کہ حضرتِ والدِ قُدِّسَ سِرُّہٗ الماجد کے مرقد پر تشریف لائے۔ غلام نے عرض کی حضور یہاں کہاں؟ اَدْ لَفْظاً ھٰذَا مَعَنَاہُ فرمایا آج سے یا فرمایا اب سے ہم یہیں رہا کریں گے۔ رَحِمَھُمَا اللہُ تَعالٰی رَحْمَۃً وَّاسِعَۃً۔ ذھب الذین یعاش فی اکنافھم وبقیت فی ناس کجلد الاجرب لیھن دعاء الناس ولیفرح الجھل بعدک لا یرجوالبقا من لہ عقل اللھم ارحمھما وارض عنھما واکرم نزلھما واقض علینا من برکاتھما اٰمین برحمتک یا ارحم الراحمین! وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہٖ اجمعین۔ اٰمین!
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-naqi-ali-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
ان پندرہ رسائل مابین وجیز وسیط کے مسوّدات موجود ہیں، جن کی تبییض کی فرصت حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ نے نہ پائی۔ فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالٰی لَہٗ کا قصد ہے کہ انہیں صاف کر کے ایک مجلّد میں طبع کرائے۔ انشاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ ؏ کہ حلوابہ تنہا نہ بایست خورد۔ ان کے سوا اور تصانیف شریفہ کے مسوّدے بستوں میں، ملتے ہیں مگر منتشر جن کے اجزا اوّل ،آخر، یا وسط سے گم ہیں۔ ان کے بارے میں حسرت و مجبوری ہے۔ غرض عمر اس جناب کی ترویجِ دین ، و ہدایتِ مسلمین ، ونکایتِ اعدا ۔ و حمایتِ مصطفیٰ ﷺ میں گزری جَزَاہُ اللہُ مِنَ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمیْنِ خَیْرَ جَزَاءٍ جَزاء (آمین)
بیعت و خلافت:
پنجم (۵) جمادی الاولیٰ ۱۲۹۴ھ کو مارہرۂ مطہرہ میں دستِ حق پرست ، حضرت آقائے نعمت، دریائے رحمت، سید الواصلین، سند الکاملین، قطبِ اوانہ ،وامامِ زمانہ حضورِ پر نور سیّدنا و مرشدنا مولانا وماوانا ذخرتی لیومی وغدی حضرت سیدنا شاہ آلِ رسول احمدی تاج دار مسندِ مارہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَاَفَاضَ عَلَیْنَا مِنْ بَرَکَاتِہٖ وَنْعْمَاہُ پر شرف بیعت حاصل فرمایا۔
حضور پیرو مرشدِ برحق نے مثالِ خلافت و اجازتِ جمیعِ سلاسل و سند حدیث عطا فرمائی۔ یہ غلامِ ناکارہ بھی اسی جلسے میں اس جناب کے طفیل ان برکات سے شرف یاب ہوا۔
والحمدللہ ربّ العالمین سرکار ﷺ کے حکم پر حجِ بیت اللہ ۲۶؍ شوال ۱۲۹۵ھ کو باوجود شدّتِ علالت ، وقوّتِ ضعف خود، حضورِ اقدس سیّدِ عالم ﷺ کے خاص طور پر بلانے سے کہ ‘‘مَن رَاٰنِیْ فِیْ الْمَنَامِ فَقُدْ رَاٰنِیْ’’ عزمِ زیارت وحجِّ مصمّم کاارادہ فرمایا۔ یہ غلام اور چند اصحاب وخدّام ہم راہ رکاب تھے۔ ہر چند احباب نے عرض کی کہ یہ حالت ہے آیندہ سال پر ملتوی فرمایئے۔ ارشاد فرمایا! مدینۂ طیبّہ کے قصد سے قدم دروازہ سے باہر رکھ لوں۔ پھر چاہے روح اسی وقت پرواز کرجائے۔ دیکھنے والے جانتے ہیں کہ تمام مشاہد میں تندرستوں سے کسی بات میں کمی نہ فرمائی، بلکہ وہ مرض ہی خود نبی ﷺ کے ایک آب خورے میں دو اعطا فرمانے سے کہ‘‘ مَنْ رَاٰنِیْ فَقَدْ رَأَی الْحَقَّ’’ حَدِّ منع پر نہ رہا۔ وہاں حضرت اجلّ العلما، اکمل الفضلاء، حضرت مولانا سیّد احمد زین دحلان شیخ الحرم وغیرہ علمائے مکۂ معظمہ سے مکرر سندِ حدیث حاصل فرمائی۔
وصال مبارک:
ذی القعدہ روزِ پنجشنبہ وقتِ ظہر ۱۲۹۷ ہجریہ قدسیہ کو اکیاون ۵۱برس پانچ مہینے کی عمر میں بعارضۂ اسہالِ دموی شہادت پاکر شب ِجمعہ اپنے حضرت والدِ ماجد قُدِّسَ سِرُّہٗ کے کنار میں جگہ پائی۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
روزِوصال نماز صبح پڑھ لی تھی اور ہنوز وقتِ ظہر باقی تھا کہ انتقال فرمایا۔ نزع میں سب حاضرین نے دیکھا کہ آنکھیں بند کیے متواتر سلام فرماتے تھے۔ جب چند انفاس باقی رہے، ہاتھوں کو اعضائے وضو پر یوں پھیرا گویا وضو فرماتے ہیں یہاں تک کہ استنشاق بھی فرمایا۔ سبحان اللہ! وہ اپنےطور پر حالتِ بے ہوشی میں نمازِ ظہر بھی ادا فرما گئے۔ جس وقت روحِ پر فتوح نے جدائی فرمائی۔ فقیر سرہانے حاضر تھا۔ وَاللہ الْعَظِیْم! ایک نورِ ملیح علانیہ نظر آیا کہ سینے سے اٹھ کر برقِ تابندہ کی طرح چہرے پر چمکا، اور جس طرح لمعانِ خورشید آئینے میں جنبش کرتا ہے، یہ حالت ہو کر غائب ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی روح بدن میں نہ تھی۔
پچھلا کلمہ، کہ زبانِ فیضِ ترجمان سے نکلا، لفظِ اللہ تھا و بس اور اخیر تحریر کہ دستِ مبارک سے ہوئی ‘‘بسم اللہ الرحمٰن الرحیم’’ تھی کہ انتقال سے دو روز پہلے ایک کاغذ پر لکھی تھی۔ بعدہٗ فقیر نے حضور پیر و مرشدِ برحق رضی اللہ عنہ کو رویا میں دیکھا کہ حضرتِ والدِ قُدِّسَ سِرُّہٗ الماجد کے مرقد پر تشریف لائے۔ غلام نے عرض کی حضور یہاں کہاں؟ اَدْ لَفْظاً ھٰذَا مَعَنَاہُ فرمایا آج سے یا فرمایا اب سے ہم یہیں رہا کریں گے۔ رَحِمَھُمَا اللہُ تَعالٰی رَحْمَۃً وَّاسِعَۃً۔ ذھب الذین یعاش فی اکنافھم وبقیت فی ناس کجلد الاجرب لیھن دعاء الناس ولیفرح الجھل بعدک لا یرجوالبقا من لہ عقل اللھم ارحمھما وارض عنھما واکرم نزلھما واقض علینا من برکاتھما اٰمین برحمتک یا ارحم الراحمین! وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہٖ اجمعین۔ اٰمین!
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-naqi-ali-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
👍2❤1
والد و استاذ اعلی حضرت، رئیس المتکلمین، رئیس الاتقیاء، حضرت علامہ مولانا مفتی نقی علی خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 1246ھ میں جمادی الاخری کے آخری یا رجب کے پہلے روز بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ مرید و خلیفۂ خاتم الاکابر شاہ آل رسول مارہروی علیہ الرحمہ، باعمل عالم دین، مفتی اسلام، سیرت، عقائد، اعمال اور تصوف وغیرہ موضوعات پر پچیس سے زائد شاندار کتب کے مصنف، بہترین مدرس، اور ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔ 29 یا 30 ذو القعدہ 1297ھ بمطابق 1880ء بروز جمعرات 51 برس، 5 ماہ کی عمر میں وصال فرمایا اور سٹی قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف، یو پی، ہند میں اپنے والد محترم کے پہلو میں آرام فرما ہوئے۔ (مولانا نقی علی خان: حیات اور علمی و ادبی کارنامے)
The honorable father and teacher of AlaHazrat, Ra’ees al-Mutakallimeen, Ra’ees al-Atqiya, Allamah Mawlana Mufti Naqi Ali Khan Qadiri Barakati (Alayhir Rahmah) was born in Bareilly Sharif on the last day of Jumad al-Ukhra or the first day of Rajab al-Murajjab, 1246 AH. He was a disciple and caliph of Khatim al-Akabir Shah Aal-e-Rasool Marehrawi, pious practicing scholar, Mufti of Islam, author of more than 25 remarkable books on the topics of Seerah, beliefs, practices, mysticism, etc., excellent teacher, and a great knowledgeable and spiritual personality. He passed away at the age of 51 years and 5 months on Thursday, 29th or 30th Dhu al-Qa’dah 1297 AH (1880 CE), and was laid to rest beside his exalted father in City Graveyard, Biharipur near police line city station, Bareilly Sharif, U.P. India. [Maulana Naqi Ali Khan: Hayat aur ‘Ilmi wa Adabi Kaarnamay]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0yzYUhDyYcDxf4hVUwwhgVohnWaDrnzxFmz4NJbrzibSBoi78CWeAJRDmtAGosQJel&id=100050689590519
The honorable father and teacher of AlaHazrat, Ra’ees al-Mutakallimeen, Ra’ees al-Atqiya, Allamah Mawlana Mufti Naqi Ali Khan Qadiri Barakati (Alayhir Rahmah) was born in Bareilly Sharif on the last day of Jumad al-Ukhra or the first day of Rajab al-Murajjab, 1246 AH. He was a disciple and caliph of Khatim al-Akabir Shah Aal-e-Rasool Marehrawi, pious practicing scholar, Mufti of Islam, author of more than 25 remarkable books on the topics of Seerah, beliefs, practices, mysticism, etc., excellent teacher, and a great knowledgeable and spiritual personality. He passed away at the age of 51 years and 5 months on Thursday, 29th or 30th Dhu al-Qa’dah 1297 AH (1880 CE), and was laid to rest beside his exalted father in City Graveyard, Biharipur near police line city station, Bareilly Sharif, U.P. India. [Maulana Naqi Ali Khan: Hayat aur ‘Ilmi wa Adabi Kaarnamay]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0yzYUhDyYcDxf4hVUwwhgVohnWaDrnzxFmz4NJbrzibSBoi78CWeAJRDmtAGosQJel&id=100050689590519
❤1👍1