🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ماہ رجب المرجب اور روزے ❻

۴۱۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے بعد کسی ماہ کے اکثر روزے نہیں رکھے بجز رجب اور شعبان کے۔

۴۲۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو کسی حرمت والے مہینے کے جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کے تین روزے رکھ لے، حق تعالیٰ شانہ‘ اس کے لئے نو سو سال کی عبادت لکھ لے گا۔

۴۳۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا: جو رجب کا ایک روزہ رکھ لے گویا اس نے ایک ہزار سال کے روزے رکھے اور گویا اس نے ایک ہزار غلام آزاد کئے اور جو اس میں خیرات کرے گویا اس نے ایک ہزار دینار خیرات کیے اور اللہ تعالیٰ اس کے بدن کے ہر بال کے عوض ایک ہزار نیکیاں لکھتا ہے۔ ایک ہزار درجے بلند فرماتا ہے اور ایک ہزار برائیاں مٹادیتا ہے اور اس کے لئے رجب کے ہر روزے کے عوض اور ہر صدقے کے عوض ایک ہزار حج اور ایک ہزار عمرے لکھ لیتا ہے۔

۴۴۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ جو رجب کی پہلی تاریخ کا روزہ رکھے تو یہ روزہ ثواب میں ایک ماہ کے روزوں کے برابر ہے اور جو سات روزے رکھ لے اس سے جہنم کے ساتوں دروازے بند ہوجاتے ہیں اور جو آٹھ رکھ لے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں اور جو دس رکھ لے حق تعالیٰ اس کی برائیاں نیکیوں سے بدل ڈالے گا اور جو اٹھارہ روزے رکھ لے تو ایک آواز دینے والا آسمان میں اعلان کرتا ہے کہ اس کے گناہ بخش دئیے گئے اب ازسر نو نیک عمل کرے۔

۴۵۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : جس نے ستائیسویں (27) کا روزہ رکھا، اس کے لئے یہ روزہ عمر بھر کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور اگر وہ اس سال مرجائے گا تو شہید ہوگا۔

۴۶۔ تاجدارِ انبیاء حضرت محمد نے فرمایا کہ رجب میں ایک دن اور ایک رات ایسی آتی ہے کہ اگر کوئی اس میں روزہ رکھ لے اور اس رات عبادت کرے تو اسے سو سال کے روزوں کا اور سو سال کی راتوں کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔ یہ دن رات رجب کی 27 ویں تاریخ ہے۔ اسی دن رسول اللہ مبعوث فرمائے گئے۔

۴۷۔ حافظ ابن حجر مکی علیہ الرحمہ کہتے ہیں ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث پہنچی کہ "رجب میں ایک رات ہے جس میں عمل کرنے والے کے لئے سو برس کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور یہ رجب کی ۲۷ویں شب ہے اس میں بارہ رکعات دو دو کرکے ادا کریں پھر آخر میں "سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ"سو(۱۰۰) مرتبہ ، پھر استغفار سو(۱۰۰) مرتبہ، پھر درود شریف سو(۱۰۰)مرتبہ پڑھ کر اپنے امور کی دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا دوسری روایت میں ہے کہ "اللہ تعالیٰ ساٹھ(۶۰) سال کے گناہ مٹادے گا"(ما ثبت من السنۃ،ص۱۸۴)

۴۸۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ "جس نے خلوص اور اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا۔وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جس نے رجب شریف میں ایک دن کا روزہ رکھا صرف رب ذو الجلال کی رضا حاصل کرنے کیلئے وہ جنت میں داخل ہوگیا ۔" (درۃ الناصحین)

Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/events/rajab-ul-muraajab-aur-rozay
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 ماہ رجب المرجب اور روزے 🌹
🌹 رجب المرجب اور نوافل 🌹

۱۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے جامع الاصول کے حوالہ سے یہ حدیث نقل کی ہے:"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے "لیلۃ الرغائب" کا تذکرہ فرمایا اور رجب کے پہلے جمعہ کی رات میں مغر ب کے بعدبارہ نفل چھ سلام سے ادا کی جاتی ہے۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ القدر تین دفعہ اور سورۂ اخلاص بارہ بارہ دفعہ پڑھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ درود شریف(70)مرتبہ پڑھے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِالنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلِّمْ ترجمہ: اے اللہ ! رحمت فرما حضرت محمد ﷺ نبی امی پر اور ان کی آل و اصحاب پر اور بھی اور سلامتی کا نزول فرما پھر سجدہ میں جاکر ستر(70) مرتبہ یہ پڑھے :سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْ حِ (یعنی پاک و مقدس ہے ہمارا رب اور فرشتوں اور حضرت جبرئیل کا رب) پھر سجدے سے سر اٹھا کر ستر بار یہ پڑھے:(یعنی اے اللہ ! بخش دے اور رحم فرمایا اور تجاوز فرما اس بات سے جسے تو جانتا ہے بے شک تو بلند و برتر اور عظیم ہے) پھر دوسرا سجدہ کرے اور اس میں وہی دعا پڑھے اور پھر سجدے میں جو دعا مانگے گا قبول ہوگی۔ (ما ثبت من السنۃ،ص۱۸۱) حضرت سلطان المشائخ سے منقول ہے کہ جو شخص لیلۃ الرغائب کی نماز ادا کرے اس سال اسے موت نہ آئے آگی۔ (لطائف اشرفی جلد دوم ص ۳۴۳)

۲۔ حافظ ابن حجر مکی علیہ الرحمہ کہتے ہیں ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث پہنچی کہ "رجب میں ایک رات ہے جس میں عمل کرنے والے کے لئے سو برس کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور یہ رجب کی ۲۷ویں شب ہے اس میں بارہ رکعات دو دو کرکے ادا کریں پھر آخر میں "سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ"سو(۱۰۰) مرتبہ ، پھر استغفار سو(۱۰۰) مرتبہ، پھر درود شریف سو(۱۰۰)مرتبہ پڑھ کر اپنے امور کی دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا دوسری روایت میں ہے کہ "اللہ تعالیٰ ساٹھ(۶۰) سال کے گناہ مٹادے گا"(ما ثبت من السنۃ،ص۱۸۴)

۳۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رجب میں ایک رات ہے جس میں عمل کرنے والے کے لئے سو برس کی نیکیاں لکھی جائیں گی اور یہ رجب کی ۲۷ویں شب ہے ۔پس جس نے اس میں بارہ رکعات پڑھیں اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد "سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ"سو(۱۰۰) مرتبہ ، پھر استغفار سو(۱۰۰) مرتبہ، پھر درود شریف سو(۱۰۰)مرتبہ پڑھے پھر اپنے لئے دنیا و آخرت کی جو چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا بجز دعائے معصیت کے۔"(ما ثبت من السنۃ،ص۱۷۲)

۴۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے رجب المرجب کی کسی رات نماز مغرب کے بعد اس طرح بیس رکعتیں پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ شریف اور سورۂ اخلاص پڑھی اور دس سلام پھیرے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گھر والوں کو اور اس کے عیال کو دنیا کی مصیبتوں اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔(زبدۃ الواعظین)

Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/events/rajab-ul-muraajab-aur-nawafil
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

لیلۃ الرغائب :
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے جامع الاصول کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے : حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ الرغائب کا تذکرہ فرمایا اور رجب کے پہلے جمعہ کی رات میں مغرب کے بعد بارہ نفل چھ سلام سے ادا کی جاتی ہے ـ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ القدر تین دفعہ سورہ اخلاص بارہ بارہ دفعہ پڑھے

نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ درود شریف ⁷⁰ مرتبہ پڑھے

اللھم صلی علی محمد ن النبی الامی وعلیٰ اٰلہٖ واصحابہٖ وسلم

پھر سجدہ میں جاکر ⁷⁰مرتبہ یہ پڑھے
سبحان قدوس ربنا ورب الملائکۃ والروح

پھر سجدے سے سر اٹھا کر ⁷⁰بار یہ پڑھے
ربغفر وارحم وتجاوز عما تعلم فن کا انت الاعز الاکرم

پھر دوسرا سجدہ کرے
اور اس میں وہی دعا پڑھے

اور پھر سجدے میں
جو دعا مانگے گا قبول ہوگی

ما ثبت من السنۃ صفحہ ١٨١

حضرت سلطان المشائخ سے منقول ہے کہ جو شخص لیلۃ الرغائب کی نماز ادا کرے اس سال اسے موت نہ آئےگی ـ

لطائف اشرفی جلد 2 صفحہ 343
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

ماہِ رجب میں روزہ رکھنا :
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے خلوص اور اخلاص کے ساتھ [ لا الہ الا اللہ ] کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس نے رجب میں ایک دن کا روزہ رکھا صرف رب ذوالجلال کی رضا حاصل کرنے کے لیے وہ جنت میں داخل ہو گیا (درۃ الناصحین)
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

روزے کم ثواب زیادہ :
ابو خلال محمد نے رجب شریف کے فضائل کے بارے میں ایک روایت حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نقل کی ــ

آپ نے فرمایا :
رجب کے ❶ پہلے دن کا روزہ ³ سالوں کا کفارہ ہے ❷ دوسرے دن کا روزہ ² سالوں کا کفارہ جبکہ ❸ تیسرے دن کا روزہ ¹ سال کا کفارہ ہے ـــ پھر ہر دن کا روزہ ایک مہینہ کا کفارہ ہے ـــ جس طرح کی جامع صغیر میں ہے ...
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

سو برس کے روزے اور شب بیداری :
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ : رجب میں ایک دن اور رات ہے ـــ

جو اس دن کا روزہ رکھے ـــ اور وہ رات نوافل میں گزارے ـــ

سَو برس کے روزوں اور سَو برس کی شب بیداری کے برابر ہو ـــ اور وہ 27 رجب ہے ـــ

اسی تاریخ اللہ تبارک وتعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا ـــ

الفردوس بماثور الخطاب حدیث⁴³⁸¹
دارالکتب العلمیہ بیروت ج ² ص ¹⁴²
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
1
ضیائے رجب المرجب 🌹

دس برس کے گناہوں کا کفارہ :
27 رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت کے دعا کرے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو ـــ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

رجب سے رمضان کی یاد :
نبئ کریم ﷺ ہمیشہ یہ اہتمام فرماتے کہ ماہ رجب المرجب شروع ہوتے ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے : اے ہمارے رب رجب اور شعبان میں برکتیں فرما اور رمضان میں بھی برکتیں عطا فرما ـــ
امام ابو شیبانی (241ھ)
مسند امام احمد جلد¹ صفحہ⁴²⁸
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

ماہ رجب میں خیرات :
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :

جس نے رجب میں کچھ بھی خیرات کی اس نے گویا ہزار دینار خیرات کی اللہ تعالیٰ اس کے بدن کے ہر بال کے برابر نیکی لکھے گا ـ اور ہزار درجہ بلند فرما کر ہزار گناہ مٹا دےگا
[ غنیۃ الطالبین صفحہ 355 ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
1
ضیائے رجب المرجب 🌹

رجب المرجب میں درود شریف :
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے معراج کی رات پانی کی ایک نہر دیکھی جس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا برف سے زیادہ ٹھنڈا کستوری سے زیادہ خوشبو والا تھا ــ

میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا ــ اے جبرائیل یہ نہر کس کے لیے ہے ؟

عرض کیا : یہ اس خوش نصیب کے لئے ہے جو رجب کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود شریف پڑھتا ہے ـــ
[ درۃ الناصحین ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

رجب کی ²⁷ ستائیسویں
شب کی خصوصی عبادات :

حافظ ابن حجر مکی علیہ الرحمہ کہتے ہیں ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعاً حدیث پہنچی،

رجب میں ایک رات ہے، جس میں عمل کرنے والے کے لیے سو برس کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور یہ رجب کی ²⁷ویں شب ہے،

اس میں بارہ رکعت دو دو کرکے ادا کریں پھر آخر میں [ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ] ¹⁰⁰ مرتبہ ــ استغفار ¹⁰⁰مرتبہ ـــ پھر درود شریف سَو مرتبہ پڑھ کر اپنے امور کی دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا ـــ دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ 60 سال کی گناہ مٹادے گا ـــ
[ ما ثبت من السنۃ صفحہ ¹⁸⁴ ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد اعظم امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے شہرۂ آفاق قصیدہ معراجیہ میں لکھتے ہیں :

وہ سرور کشور رسالت
جو عرش پر جلوہ گر ہوئے

نئے نرالے طرب کے ساماں
عرب کے مہمان کے لیے تھے

[ نعتیہ دیوان : حدائق بخشش ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد اعظم امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے شہرۂ آفاق قصیدہ معراجیہ میں لکھتے ہیں :

وہی لامکاں کے مکیں ہوئے
سر عرش تخت نشیں ہوئے

وہ نبی ہے جس کے ہیں یہ مکاں
وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں ...

[ نعتیہ دیوان : حدائق بخشش ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

رجب میں کار خیر کی فضیلت :
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انھوں نے فرمایا : جس نے اپنے مسلمان بھائی سے رجب کے مہینے میں (جو اللہ کا ماہِ اصم ہے) غم دور کیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو فردوس میں نگاہ کی رسائی کی مقدار (حد نظر تک) وسیع محل مرحمت فرمائے گا،

خوب سُن لُو❗️تم ماہ رجب کی عزت کرو گے، اللہ تبارک وتعالیٰ ہزار درجہ بزرگی عطا فرمائے گا ـــ
[ غنیۃ الطالبین صفحہ 356 ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ضیائے رجب المرجب 🌹

نیکیوں میں زیادتی :
رجب المرجب میں ¹نیکی کے بدلے⁷⁰
شعبان میں ¹نیکی کے بدلے سَات سَو
رمضان میں ایک نیکی کے بدلے ہَزار

اور یہ نیکیوں کا زیادہ ہونا خاص طور پر اس امت مصطفیٰ ﷺ کے لیے ہے
[ حوالہ : درۃ الناصحین ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا امام جعفر صادق¹

نام و نسب :
آپ کا نام : حضرت جعفرِ طیار رضی اللہ عنہ کی نسبت سے" جعفر "رکھا گیا۔

کنیت :
ابو عبداللہ - ابو اسماعیل اور ابو موسیٰ ہے۔

لقب (القاب) :
صادق ، فاضل ، طاہر ، اور کامل ہے۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے :
امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )۔

آپکی والدہ  محترمہ کا اسمِ گرامی
امِ فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے۔

یعنی آپ والدہ کی طرف سے "صدیقی" اور والد کی طرف سے" علوی فاطمی سید" ہیں۔

آپ کے نانا :
سیدنا قاسم بن محمد مدینہ منورہ کے سات فقہا میں سے تھے۔

آپ کی والدہ محترمہ سیدہ ام فروہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی بھی تھیں اور پڑنواسی بھی۔

اس لیے آپ فرمایا کرتے تھے "ولدنی ابوبکر مرتین" یعنی  مجھے  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دوہری ولادت ہونے کا شرف حاصل ہے۔

تاریخِ ولادت :
بروز جمعۃ المبارک،17/ربیع الاول،80 ھ، بمطابق،24/اپریل،702ء۔

مدینۃ الرّسول ﷺ کی
پُر نور فضا میں ولادت ہوئی۔

تحصیلِ علم :
آپ نے خاندانی روایات کی مطابق ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی سیدنا  امام محمد باقر رضی اللہ عنہ اور اپنے دادا گرامی سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ اور اپنے نانا جان فقیہِ اعظم مدینۃ المنورہ سیدنا  امام قاسم بن محمد سے حاصل کی۔ ان کے علاوہ صحابیِ رسول ﷺ حضرت سہل بن  سعدد رضی اللہ عنہ اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی تحصیلِ علم کیا۔

بیعت وخلافت :
اپنے والدِ گرامی سے روحانی تربیت حاصل  کی۔ ان کے علاوہ اپنے نانا جان  فقیہ ِ اعظم مدینۃ المنورہ ،سیدنا امام قاسم بن محمد سے بھی اکتساب فیض کیا ۔امام قاسم کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے فیض ملا ہے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو آپﷺ کے فیضِ صحبت کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے  بھی فیض  حاصل ہوا۔

سیرت و خصائص :
ملتِ نبوی کے سلطان، دینِ مصطفیٰ ﷺ کے پاسبان ،علومِ  نبویہ کے مظہر و وارثِ کامل  ،اہل ِ حق کے امام، اہلِ ذوق کے پیشرو، صاحبانِ عشق و محبت کے پیشوا، عابدوں کے مقدّم، زاہدوں کے مکرم ،خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ  حضرت سید نا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ۔

آپ کے کمالات اس قدر ہیں کہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کمال ہوسکتا ہے کہ سراج الامہ امام  اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ آپ کے پاس دو سال رہ کر درجٔہ کمال  تک پہنچ گئے اور نعرہ لگایا "لولا السنتان  لھلک النعمان" (اگر مجھے امام موصوف کی صحبت کے دو سال نہ ملتے تو میں ہلاک ہوجاتا)۔
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا امام جعفر صادق²

عبید بن رافع فرماتے ہیں :
کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ۔آپ  درمیانہ قد ،خوبصورت جسم، اور چہرہ ایسا حسین کہ جیسے سورج آپ کے چہرہ انور میں گردش کر رہا ہو۔ کالی سیاہ زلفیں ،اور ان زلفوں میں چہرہ ایسے نظر آرہا تھا جیسے اندھیری میں  رات میں چودہویں کاچاند نظر آتا ہے۔

عمرو بن مقدام فرماتے ہیں :
کہ جب میں امام جعفر صادِق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتا تھا، تو آپکے چہرہ انور کی زیارت کرتے ہی یہ خیال آتا کہ اس نورانی شخصیت کا تعلق انبیاء کے پاک گھرانے سے ہے۔

سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ
رضی الـلّٰـه تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

کہ میں نے اہل بیت میں امام جعفر بن محمد سے بڑھ کر کسی کو فقیہ نہیں دیکھا۔ مشہور محدث حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں : کہ میں نے آپ جیسا عالم، زاہد، حسین ،اور سخی نہیں دیکھا

حضرت سیدنا امام مالک
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

کہ میں حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ آ پ کی ذات اخلاق و عاداتِ مصطفیٰ ﷺ اور حسنِ مصطفیٰ ﷺ کا حسین امتزاج تھی ۔اور تمام علوم میں درجہ کمال حاصل تھا۔ تمام نسبتوں اور فضیلتوں کے باوجود آپ سب سے زیادہ خوفِ خدا کے مالک تھے۔

ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی ﷫نے  حضرت امام جعفر صادق ﷫ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :
اے فرزند رسولﷺ! مجھے نصیحت فرمائیں کیونکہ میرا دل سیاہ ہوگیا ہےـ

فرمایا : یا ابا سلیمان !
آپ  تو  زاہدِ زمانہ ہیں۔ آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے۔

داؤد نے عرض کیا :
اے فرزند رسولﷺ ! آپ کو سب پر فضیلت حاصل ہے۔ اس لیے آپ پر واجب ہے کہ سب کو نصیحت کریں۔

فرمایا : یا ابا سلیمان!
مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قیامت کے دن میرے جد بزرگوار انبیاء کے سردار ﷺ  میرا دامن پکڑیں اور یوں فرمادیں کہ میرا حق متابعت کیوں نہ ادا کیا :

کیونکہ یہ کام نسب کی شرافت پر موقوف نہیں۔ بلکہ درگاہِ رب العزت میں عمل کی پسندیدگی معتبر ہے۔

یہ سن کر داؤد بہت روئے۔
اور بارگاہ الٰہی میں عرض کی:
کہ اے پروردگار! جس شخص کی سرشت نبوت کے آب و گل سے ہے، اور جس کی طبیعت کی ترکیب آثارِ رسالت ﷺ سے ہوئی ہے، اور جس کے جدِ بزرگوار رسول کریم ﷺ ہیں، اور ماں حضرت فاطمہ بتول ہیں۔ جب وہ ایسی حیرانی میں ہے تو داؤد کس شمار میں ہے ۔

وصال :
آپ کاوصال 15/رجب 148ھ ،بمطابق 765ء  مدینۃ المنورہ میں ہوئی ،اور جنت البقیع میں قبہ اہلبیت میں مدفون ہوئے۔ مزید
Read More At :
http://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-imam-jafar-sadiq-bin-imam-baqir
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا امام جعفر صادق
بن امام باقر رضی اللہ تعالی عنہما

یومِ ولادت :
17 ربیع الاول سنہ 80 ہجری

یوم وصال :
15 رجب المرجب 148 ہجری
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت عباس بن عبدالمطلب¹

نام ونسب :
اسم گرامی : عباس بن عبدالمطلب

کنیت : ابوالفضل

لقب :
خاتم المہاجرین، عم رسول اللہﷺ

سلسلہ نسب اسطرح ہے :
حضرت عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ۔الی آخرہ۔(الاصابہ )

تاریخِ ولادت :
آپ کی ولادت باسعادت  566ءمیں واقعہ فیل سےتین سال قبل مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔حضرت عباس  پانچ سال کی عمرمیں اتفاقیہ طورپرکہیں گم ہوگئے۔ان کی والدہ محترمہ کو بڑی فکر ہوئی،انہوں نے اسی وقت نذرمانی کہ اگر عباس مجھ کو مل گئے تو میں بیت اللہ پر حریر و دیباج کا، جو نہایت بیش قیمت کپڑا ہوتا ہے، غلاف چڑھاؤں گی۔نذر ماننے کے بعد ہی حضرت عباس مل گئے، ان کی والدہ نے نذر پوری کی۔حضرت عباس  کی والدہ ہی وہ اول عرب خاتون ہیں جنہوں نے بیش بہا کپڑے کا غلاف بیت اللہ کو پہنایا۔

تحصیلِ علم :
زمانۂ جاہلیت میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان افرادمیں سےتھےجولکھناپڑھناجانتےتھے۔چنانچہ حضرت عباس جب سن تمیز کو پہنچے تو علم الانسا ب،علم التاریخ،علم الادیان میں مہارت حاصل کی،چوں کہ عرب میں یہ علوم عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے،

خصوصاً علم الانساب، کیوں کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام ہی کے زمانے سے برابر یہ خبر چلی آرہی تھی کہ عرب میں نسل اسماعیل ہی سے نبی آخرالزامان پیدا ہوں گے، اس وجہ سے علم الانساب کا بہت خیال رکھاجاتاتھا۔رسول اللہ کی بعثت کےبعدتورسول اللہ ﷺکاہرصحابی وحی کاامین اورعلومِ مصطفیٰ ﷺکاوارث بنا۔

سیرت وخصائص :
کچھ شخصیات زمانہ جاہلیت واسلام دونوں میں عزت کی نگاہ سےدیکھی جاتیں تھیں،اوران کی رائےکوتسلیم کیاجاتاتھا،ان میں سےایک ذات حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بھی ہے۔آپ قبل از قبول اسلام اوربعد از قبول اسلام ہمیشہ عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ اس گھرانےکےطبع سلیم  رکھنےوالےبزرگ قبل ازاعلان نبوت ملت خلیل پرعمل پیراتھے،جیسےحضرت عبدالمطلب،چنانچہ ان کی پرہیزگاری عرب میں مشہورتھی۔اس لئے بیت اللہ اوردیگراہم قومی امورکی نگرانی انہیں کےذمہ تھی۔حضرت عبدالمطلب کےبعد قریش نے حضرت عباس میں علم، شجاعت، سخاوت، سیادت، خاندانی نجابت، صلہ رحمی دیکھ کر انہیں کو بیت اللہ کا محافظ منتخب کیا۔(الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب) چناں چہ حضرت عباس ہمیشہ بیت اللہ کی حفاظت میں اپنے وقت کو صرف کیا کرتے تھے اور آپ نے اس قدر اچھا انتظام کیا کہ کسی کومجال نہ تھی کہ کوئی شخص بیت اللہ میں بیٹھ کر کسی کی ہجویا غیبت کر سکے،اگر کوئی ایسا کرتا تو حضرت عباس فوراً اس کو تنبیہ فرمادیا کرتے تھے اور ان کے حکم کے آگے سب کی گردنیں خم ہو جاتی تھیں۔ (کامل ابن اثیر،ج:1،ص:9)

تعمیر کعبہ :
حضرت عباس کی عمر جب سولہ سال کی ہوئی تو خانہ کعبہ میں اتفاقیہ طور پر آگ لگ گئی،جس کی وجہ سے عمارت مسمار ہوگئی، قریش نے جمع ہوئےاور اس کو بنانا شروع کیا تو ہر شخص کار ثواب سمجھ کراس کی تعمیر میں حصہ لینے لگا،حضرت عباس نےسب سے زیادہ اس میں حصہ لیا۔ حضرت عباس  کا نکاح:حضرت عباس کا نکاح حضرت لبابۃ الکبریٰ سے ہوا، جو ام المومنین حضرت میمونہ کی حقیقی بہن تھیں ،ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت لبابۃ الکبریٰ جن کی کنیت ام الفضل ہے ،یہ وہ پہلی خاتون ہیں جو حضرت خدیجہ کے بعد مسلمان ہوئیں اور بہت سی حدیثیں ان سے مروی ہیں ۔یہ رسول اللہ کی چچی محترمہ تھیں اورآپ ﷺکابہت خیال رکھتیں تھیں ـ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻