🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-11-1443 ᴴ | 29-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-11-1443 ᴴ | 29-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-11-1443 ᴴ | 29-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-11-1443 ᴴ | 29-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
فقیہ افخم حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ یوم وصال 29 ذوالقعدہ 1336 ھ

فقیہ افخم حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ عارف باللہ حضرت مخدوم نور اللہ نورنگ رحمتہ اللہ علیہ (متوفی ۹۹۴ھ) کے خاندان کے چشم و چراغ ، رجال السند کے سر فراز موتی ، نامور عالم دین ، فقیہ افخم حضرت مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ سنی حنفی قادری کی ولادت گوٹھ کھورواہ (تحصیل گولا رچی ضلع بدین ) میں حافظ محمد کے گھر ہوئی۔

نور نگ کی وجہ تسمیہ:
مخدوم نور اللہ کو کسی معترض نے طنزیہ کہا: پیری مریدی کے لئے شرط ہے کہ سید ہوں اور تم کون ہو؟ (یعنی تم سید نہیں ہو لہٰذا بزرگ نہیں ہو) مخدوم صاحب نے جیب سے مسواک نکال کر فرمایا: یہ میری پہچان ہے یہ کہہ کر مسواک کو زمین میں گاڑا تو ایک ہی دن ان میں نو (۹) رنگ دیکھنے میں آئے۔ اس کرامت کے بعد آپ نو رنگ سے مشہور ہوئے ۔ (السند )

مسجد کی بنیاد:
امام العارفین پیر صاحب روضے دہنی قدس سرہ الاقدس کے خلیفہ عارف باللہ حضرت محمود نظامانی (۱۲۶۷ھ) کے مریدین میں سے ایک مرید بمبئی (انڈیا) کے بڑے تاجر تھے ۔ چینی (شکر) سے بھرا ہوا جہاز بمبئی سے کراچی لا رہے تھے کہ جہاز کو ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہوا۔ جس کے سبب اس نے نذر مانی کہ یا خدا! اگر جہاز ڈوبنے سے بچ گیا تو سات مساجد سات پکے کنویں فی سبیل اللہ بنواوٗں گا۔ کھورواہ کے میمن ، خلیفہ صاحب کے مرید تھے اور کھور واہ میں اس سے قبل مسجد نہیں تھی ۔ تاجر کی منت پوری ہوئی تو اپنا وعدہ پورا کیا۔

خلیفہ صاحب کی نشاندہی پر مساجد اور کنویں بنوائے ۔ خلیفہ صاحب کے کہنے پر کھورواہ میں ایک مسجد شریف اور پکا کنواں بنوایا۔ مسجد شریف کی امامت کیلئے خلیفہ صاحب نے مولانا محمد عثمان نورنگ کے والد حافظ محمد صاحب کو مقرر کیا جو کہ خلیفہ صاحب کے مرید خاص تھے ۔ اس کے بعد اس خاندان نے ہمیشہ کیلئے کھورواہ میں سکونت اختیار کی۔ (السند ۳۷)

مخدوم نور اللہ نورنگ سہروردی ذات کے سومرہ اور ملتان شریف کے بزرگ کی طرف سے لاڑ میں خلیفہ تھے۔ پیدا گھم کوٹ (ضلع حیدرآباد ) میں ہوئے جہاں آپ کا مدرسہ تھا اور آپ کا روضہ شریف ٹنڈو غلام حیدر تحصیل گولا رچی میں ہے ۔ آپ کی اولاد نورنگ زادہ کہلواتی ہے۔ (جنت السند (سندھی) ص ۳۳۸)

تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ نے وقت کے نامور جید علماء سے حدیث ، تفسیر ، فقہ ، منطق ، فلسفہ ، تاریخ اور تصوف کی تعلیم حاصل کر کے مخدوم نورنگ کے تاریخی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔

تصنیف و تالیف :
نیاز ہمایونی رقمطراز ہیں:
مولانا محمد عثمان عالم دین کے ساتھ ساتھ طب ، جفر اور نجوم سے بھی دلچپسی رکھتے تھے۔ ( سندھ کی طبی تاریخ جلد دوم ص ۶۱۲مطبوعہ ۱۹۷۶ئ)

مولانا محمد عثمان کثیر التعداد تصنیف بزرگ تھے، درج ذیل تصانیف معلوم ہو سکی ہیں:

٭     تحفۃ المسلیمین (نور محمدی ﷺ کا بھی بیان ہے )
٭     تحفۃ الاسلام ۵ جلد توحید رسالت ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ کے مسائل پر مشتمل
٭     کیمیائے کرامات یعنی کرامات غوث اعظم (سندھی)
٭     ھدیۃ الندیۃ فی جواز الخطبۃ بلسان الھندیہ
٭     اکسیر کالاحمر فی اسرار الجفر مطبوعہ ۱۸۵۱ء
٭     خطبات عثمانی جمعہ کے خطبات بزبان سندھی نظم
٭     قصیدہ غوثیہ کا سلیس سندھی میں ترجمہ کیا
٭     ترجمہ فتوح الغیب ۔ سر کار غوث اعظم کی کتاب کا سندھی ترجمہ عرصہ پہلے شائع ہوا، اب نایاب ہے۔
٭     بینات القرآن لھدایۃ العصیان ( سندھی ) مطبوعہ بمبئی طبع قدیم
٭     عجیب العجائب
٭     راہ نجات
٭     نماز اشراق (نفل ) کی فضیلت

اور تفسیر تنویر الایمان (سندھی ) آپ کے نام سے شہرت رکھتی ہے۔ حقیقت میں آپ نے چند پارے لکھے اور اس میں بھی رد و بدل ہوئی ۔ اس سلسلہ میں راقم راشدی کا مضمون ’’مولانا محمد عثمان نورنگ زادہ کا مسلک ‘‘ماہنامہ الراشد کنگری کے شمارہ جمادی الاول سن ۱۴۲۲ھ میں ملا حظہ فرمائیں ۔

درس و تدریس:
حسن علی آفندی نے مسلمانوں کی تعلیم و تنظیم کے لئے جب کراچی میں تاریخی درسگاہ ’’سندھ مدرسۃ الاسلام ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ تو مولانا صاحب نے آفندی کا ساتھ دیا اور سن ۱۸۵۰ء میں سندھ مدرسہ الاسلام کراچی کے ’’معلم الفقہ ‘‘مقرر ہوئے۔ مولانا صاحب جید عالم ، فقیہ ، مفتی ، صوفی ، مفسر ، مورخ ، شاعر کے علاوہ علم طب، علم نجوم ، رمل اور جفر کی بھی مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ سندھ مدرسۃ الاسلام میں دوران تعلیم بے شمار فرزندان اسلام نے آپ سے دینی تعلیم حاصل کی ۔ ان دنوں سندھ مدرسۃ الاسلام سے ایک ماہنامہ جاری ہوا جس کے آپ پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے ۔ مجلہ میں آپ کے فکر انگیز مضامین اور نعتیہ شاعری شائع ہوتی تھی۔

شاعری :
سصپ بلند پایہ کے شاعر تھے ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی نے ’’ نعتیہ شاعری ‘‘میں آپ کی ایک نعت نقل کی ہے ۔ اس کے علاوہ خطبات عثمانی منظوم سندھی خطبات پر مشتمل ہے۔ سر کار غوث اعظم کی شان میں طویل منقبت ، اپنے جد اعلیٰ مخدوم نورنگ کی شان میں طویل منقبت اور مرشد مربی پیر سائیں بیعت دہنی کی شان میں طویل مناقب
1👍1