🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-11-1443 ᴴ | 25-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-11-1443 ᴴ | 26-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-11-1443 ᴴ | 26-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-11-1443 ᴴ | 26-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شہزادۂ غوث الاعظم
سید ابو اسحاق ابراہیم
سید ابو الفضل محمد
علیہم الرحمہ

پھلوں کا بادشاہ آم کے فوائد
بدمذہب عورت سے نکاح
फ़िक़ह में उम्मी किसको कहते हैं?
फ़िक़ह में क़ारी किसको कहते हैं?
जिस से ह़रफ़ अदा न हो वो क्या करे
[ निज़ामे शरीअ़त स़फ़्ह़ा ²²⁶-²²⁷]
فقہ میں امی کس کو کہتے ہیں؟
فقہ میں قاری کس کو کہتے ہیں؟
جس سے حرف ادا نہ ہو وہ کیا کرے
[ نظام شریعت صفحہ ²⁷¹ تا ²⁷² ]
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید پیر جماعت علی شاہ ۔ لقب: امیرِ ملت ، ابو العرب ، سنوسیِ ہند ۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی ۔ الیٰ آخرہ ۔

آپ "نجیب الطرفین سید "اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے۔

آپ کاسلسلہ نسب 38 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔ (رحمۃ اللہ علیہم  اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1257ھ، بمطابق 1841ء کو علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ (پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نے علی پور سیداں میں  حافظ قاری شہاب الدین کشمیری سے قرآن پاک حفظ کیا۔ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتب میاں عبد الرشید علی پوری سے پڑھ کر مولانا عبد الوہاب امر تسری سے درس نظامی کی تکمیل کی۔

بعد ازاں لاہور جاکر مولانا غلام قادر بھیروی اور مولانا مفتی محمد عبد اللہ ٹونکی (پرو فیسر اورنٹیل کالج لاہور) سے مولوی عالم اور مولوی فاضل کے درسیات پڑھے۔ اس  کے بعد سہار نپور جا کر مولانا محمد مظہر سہار نپوری اور مولانا فیض الحسن سہارن پوری سے استفادہ کیا۔ مگر تشنگیِ علم ہنوز باقی تھی۔ چنانچہ یہ تشنگی کشاں کشاں آپ کو مولانا سید محمد علی مونگیری ناظم دارالعلوم ندوہ، مولانا احمد حسن کانپوری ، مولانا میر محمد عبد اللہ مولانا ارشاد حسین رامپوری ، مولانا شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا شاہ عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی، مولانا قاری عبد الرحمٰن محدث پانی پتی اور حضرت علامہ محمد عمر ضیاء الدین استنبولی کی خدمت میں لے گئی اور تمام علوم متداولہ عقلیہ و نقلیہ پر دسترس اور مہارتِ تامہ حاصل کر کے اسناد حاصل کیں۔

حضرت شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی نے تو اپنی کُلاہ مبارک اتار کر آپ کے سرِ اقدس پر رکھ دی اور اپنا پس خوردہ پانی پلا کر بہت سے اوراد و وظائف اور سندِ حدیث کی اجازت عنایت فرما کر رخصت کیا۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ فقیر محمد نقشبندی چوراہی رحمۃ اللہ علیہ (چورہ شریف) کے مرید ہوئے اور قلیل مدت کے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔

سیرت و خصائص:
آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اطاعتِ خداوندی اور غلامئِ مصطفےٰ ﷺ میں بسر ہوا ہے۔ آپ بعد از نماز فجر تا اشراق اور بعد از عصر تا مغرب دنیاوی بات بالکل نہیں کرتے تھے اور بعد نمازِ عصر ختم شریف حضرت خواجہ محمد معصوم ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔

تہجد کی نماز کبھی قضا نہیں ہوئی۔ تمام یارانِ طریقت کو بھی تہجد پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ طالب علموں کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ جب کوئی بزرگ آپ کے پاس آتا تو اسے اپنی جگہ پر بِٹھاتے۔ جب آپ کسی بزرگ کے پاس جاتے تو دوزانو ہو کر بیٹھتے تھے۔ حق گوئی و بے باکی آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔

حلیہ:
آپ کا قد مبارک موزوں، قدرے بلند، جوانی میں اعضاء مضبوط، سڈول و متناسب تھے۔ مگر ضعیفی میں لاغر و نحیف ہو گئے تھے۔ رنگ گندم گوں مائل بہ سفیدی مگر چہرۂ مبارک عالمِ شباب میں سرخ انار کی طرح چمکتا تھا۔ سر بڑا، پیشانی کشادہ و بلند اور اس پر ہلکا سا سجدوں کا نشان۔ آنکھیں بڑی اور روشن۔ پُتلی سُرخی مائل، کبھی کبھی ایک آنکھ دبا کر دیکھتے تھے۔ بینی مبارک بلند و باریک، لب سُرخ و پتلے۔ دہن مبارک متوسط و خوبصورت۔ دندان مبارک سفید موزوں گویا موتیوں کی لڑی، مسکراتے وقت نہایت بھلے معلوم ہوتے تھے۔ مسکراہٹ آپ کی ہنسی تھی۔ کِھلکِھلا کر کبھی نہیں ہنستے تھے۔ نوے سال کی عمر تک تمام دانت موجود تھے اور مضبوط ایسے کہ خود گنے چھیل کر کھاتے۔ ریش مبارک کثیر اور اس پر حنائی رنگ۔ داڑھی اور سر پر ہمیشہ مہندی لگاتے۔ سر کے بال ہمیشہ مقصر رکھتے۔ شانے کشادہ، ہاتھ لمبے، انگلیاں پتلی و دراز، سینہ فیض گنجینہ کشادہ، کمر پتلی، پاؤں مضبوط مگر آخری عمر میں چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے تھے۔ آواز بلند، تقریر دلپذیر جس کا ایک ایک لفظ سمجھا جا سکتا تھا۔ تقریر میں امثال و مشاہدات زیادہ بیان فرماتے۔ آنجناب کے چہرۂ اقدس سے ایسا رعب و ادب نمایاں تھا کہ حاضرین ہمیشہ اس وجہ سے با ادب و خائف رہتے تھے۔

آپ کی آمد پر بڑے بڑے آدمی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔ گوشۂ کرامت کو یہ کہ کر واضح کرتا ہوں کہ آپ کی سب سے بڑی کرامت سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع اور دینِ اسلام پر قربان ہونے کا وہ لازوال جذبہ تھا جس نے عمر بھر آپ کو مجاہدانہ کردار پر کمر بستہ رکھا۔ آپ نے تبلیغ اسلام کے سلسلے میں گراں قدر خدمات انجام دیں ، اسلام کا پیغام متحدہ ہندوستان ( پاک و ہند) کے کونے کونے تک پہنچا یا ۔ عیسائی مشنریوں اور آریہ سماج کی ریشہ دوانیوں کو ناکام بنایا، ہزار ہا عیسائیوں اور ہندؤں کو مشرف بہ اسلام کیا ، شدھی تحریک (مسلمانوں کو ہندو بنانے کی تحریک ) کے خلاف بھر پور جد
1👍1
و جہد کی اور آگرہ میں تبلیغی مرکز قائم کر کے طوفانی دورے کئے۔ مرزا قادیانی کے عقائدِ باطلہ کی زبر دست تردید کی ، شاہی مسجد ، لاہور میں مرزا کی موت کی پیش گوئی کی جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی ۔آپ کی سیاسی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ۔ تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت (1920۔21 ) کے نقصانات سے مسلمانوں کو پوری طرح باخبر کیا ۔ 1935ء میں مسجد شہید گنج کی تحریک کے وقت شاہی مسجد لاہور میں دلولہ انگیز تقریری کی جس کی بنا پر آپ کو " امیر ملت " کا خطاب دیا گیا آپ کے لاکھوں مریدین پاک و ہند اور دیگر ممالک میں پھیلے ہوئیں ہیں۔

تحریکِ پاکستان میں آپ کی خدمات:
آپ نے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا اور تمام مریدین کو مسلم لیگ کی حمایت کرنے کی پرزور تلقین کی ۔ 1939ء میں جب کا نگر س وزارت سے مستعفی ہوئی تو قائد اعظم نے جمعہ 23، ستمبر (1357ھ/ 1939ء) کو" یوم نجات" منانے کی اپیل کی ، اس موقع پر آپ نے نماز جمعہ کے بعد علی پور سیداں میں دوران تقریر فرمایا: "دو جھنڈے ہیں ایک اسلام کا ، دوسرا کفر کا ۔ مسلمانو! تم کس جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوگے؟ حاضرین نےبا آواز بلند جواب دیا کہ اسلام کے ، پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ جو کفر کے جھنڈے تلے کھڑا ہو تو کیا تم اس کے جنازہ کی نماز پڑھوگے؟ حاضرین نے انکار کیا ۔ پھر آپ نے استفسار فرمایا کہ کیا تم اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کروگے؟ حاضرین نے بالاتفاق کہا نہیں ہر گز نہیں!

اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اس وقت اسلامی جھنڈا مسلم لیگ کا ہے ، ہم مسلم لیگ کے ساتھ ہیں اور سب مسلمانوں کو مسلم لیگ میں شامل ہونا چاہئے"۔(صد افسوس! فی زمانہ مسلم لیگ اسلام اور مسلمانوں کی بنسبت غیروں کی زیادہ بہی خواہ ہے، اور نام "مسلم لیگ" ہے لیکن اس میں عیسائی، مرزائی، سِکھ، ہندو سب ہیں۔ یہ کیسی مسلم لیگ ہے)۔ قیامِ پاکستان کے بعد آپ نے اسلامی آئین کے نفاذ کی پوری پوری کوشش کی جگہ جگہ جلسوں اور یاد داشتوں کے ذریعے حکومت کو مقامِ مصطفےٰ ﷺ کے تحفظ اور نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کا وعدہ یاد دلایا۔

حضرت پیر صاحب مانکی شریف پیر امین الحسنات اور ضیغم اسلام مجاہد ملت حضرت مولانا محمد عبدالستار خاں نیازی نے آپ کی ہمنوائی میں ملک بھر کا دورہ کیا مگر افسوس کہ حکومت نے وعدہ پورا نہ کیا جس کا آپ کو تادمِ زیست صدمہ رہا۔ دینی مدارس کی امداد اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے 1910ء میں سلطان عبد الحمید کی اپیل پر آپ نے حجاز ریلوے فنڈ میں اپنے متوسلین کی طرف سے چھ لاکھ روپے جمع کرائے ۔ 1911ء میں علی گڑھ کالج کو یونیورسٹی بنانے کی عرض سے نواب وقار الملک نے امداد کی اپیل کی اور یقین دلایا کہ انگریزی کے ساتھ دینیات کی تعلیم لازمی ہوگی اور یونیورسٹی کی مساجد میں پنجوقتہ نمازوں کی حاضری تمام طلبہ پر لازمی ہوگی ، آپ نے کئی لاکھ روپیہ اپنے حلقۂ ارادات سے جمع کرا دیا۔

علامہ محمد اقبال آپ کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ ایک موقع پر پیر صاحب نے علامہ اقبال سے سے ازراہِ عنایت فرمایا: آپ کا یہ شعر ہمیں بھی یادہے۔

؏: کوئی اندازہ کر سکتا ہے ان کے زور بازوکا، نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔

اس پر علامہ اقبال نے کہا : "میری نجات کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ کو میرا یہ شعر یاد ہے"۔ آپ نے بے شمار حج کئے ، کم و بیش پچاس مرتبہ دربار رسالت میں حاضری دی، سینکڑوں مسجدیں تعمیر کرائیں، متعدد مدرسے جاری کئے ۔ 1904 ء میں" انجمن خدام الصوفیہ " کی بنیاد لاہور میں رکھی ، اس انجمن نے ماہنامہ انوار الصوفیہ لاہور ( جو ان دنوں قصور سے شائع ہوتا ہے ) اور ماہنامہ "لمعات الصوفیہ "سیالکوٹ پر آپ کی خاص نظر عنایت تھی، اس دور میں یہ رسائل بڑے وقیع مضامین پر مشتمل ہوتے تھے۔ آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں بحیثیت سر پرست شریک ہوئے ۔

آپ کی سخاوت اور دریا دلی کا ایک عالم میں چر چا تھا ، کوئی سائل آپ کے دربار سے خالی نہ جاتا تھا ، خاص طور پر عربوں کی بہت عزت و تکریم کرتے چنانچہ اہل عرب آپ کو "ابو العرب " کے لقب سے یاد کرتے تھے ۔

وصال:
آپ کی وفات حسرت آیات 26؍ ذیقعد 1370ھ / 30؍ اگست1951ء بروز جمعرات ایک سو دس برس کی عمر میں ہوئی اور" علی پور سیداں" میں آخری آرام گاہ بنی۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تاریخ مشائخِ نقشبند۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-peer-jamat-ali-shah-ali-puri
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
امیر ملت، ابو العرب، حضرت پیر سید جماعت علی شاہ نقشبندی محدث علی پوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ 1257ھ مطابق 1841ء میں علی پور سیداں، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ آپ نجیب الطرفین سید، حافظ قرآن، عالم باعمل، شیخ المشائخ، مسلمانان برعظیم کے متحرک راہنما اور مرجع خاص و عام تھے۔ ایک زمانہ آپ سے مستفیض ہوا، ہزارہا ہندو اور عیسائی آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ نے کم و بیش 50 مرتبہ حج و دربار رسالت ﷺ میں حاضری کا شرف پایا، سینکڑوں مساجد تعمیر کرائیں اور متععد مدارس قائم کیے۔ 26 ذی القعدہ 1370ھ مطابق 30 اگست 1951ء شب جمعہ وصال فرمایا، مزار مبارک علی پور سیداں، ضلع نارووال، پنچاب، پاکستان میں مرجع خلائق ہے۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت، امیر ملت)

Ameer-e-Millat, Abu al-Arab, Pir Sayyid Jama’at Ali Shah Naqshbandi Muhaddith Alipuri (Alayhir Rahmah) was born in 1257 AH (1841 CE) in Alipur Syedan, Punjab. He was a Najib al-Tarafayn Sayyid, Hafiz of the Holy Qur'an, pious practicing scholar, shaykh of shaykhs, a dynamic leader of the Muslims, and a beloved personality of the people of sorts. An era benefitted from him. Thousands of Hindus and Christians converted to Islam at his blessed hands. He had the privilege of performing Hajj and visiting the August court of the beloved Prophet ﷺ more or less 50 times, built hundreds of mosques, and established numerous Islamic education centers. He passed away on Friday night, 26 Dhu al-Qa’dah 1370 AH (i.e. 30 August 1951). [Tazkirah Akabir-e-AhleSunnat, Ameer-e-Millat]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=576422324057416&id=100050689590519
1👍1