🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
⚡️ قبروں پر مدرسہ بنانا
⚡️ قبرستان پر مٹی ڈال کر
⚡️ دوبارہ مردے دفن کرنا

1) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے یہاں ایک پرانا قبرستان تھا قبروں کے نشانات مِٹ گئے تھے کُچھ قبروں کے تعلق سے لوگ جانتے تھے کہ اس جگہ پر فلاں کی قبر ہے. پھر دوبارہ اس پر مٹی ڈال کر اسے برابر کر دیا گیا ہے، اب اسی قبرستان میں دوبارہ مُردوں کو دفن کر رہے ہیں. ایسا کرنا از روئے شرع درست ہے ؟

2) اور ایسے ہی ایک قبرستان اور ہے وہاں مدرسہ قائِم ہے  پکا مکان بھی بنا ہے. مکان کے اندر اور چھت پر دونوں جگہ بچے پڑھتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟

3) ایک قبرستان ہے لوگ جانتے بھی ہَیں کہ یہاں ہمارے وَالِد, چاچا، دادا وغیرہ کی قبر ہے. اُس پر مِٹِّی ڈال کر برابر کر دیا گیا ہے  اب وہاں مدرسہ قائِم کر دِیا گیا ہے  بچے، اساتذہ، گاؤں اور باہر کے لوگ جو بھی وہاں آتے ہیں اکثر چپل جوتا پہن کر آتے ہیں اور انہیں قبروں پر بیٹھ کر بچے پڑھتے اور اساتذہ پڑھاتے بھی ہیں. اور وہاں وضو خانہ، غسل خانہ، پیشاب خانہ اور پاخانہ بھی بنا ہے، وضو غسل اور پیشاب کا پانی باہر نکل جاتا ہے. لیکن پاخانہ کا ٹینک وہیں ہے. کیا ایسا کرنا از روئے شرع درست ہے ؟

الجواب : 1 ) اگر واقعی قبرستان مردوں سے بھر گیا ہے، دوسری زمین میسر نہیں ہے تو اس پر مٹی ڈال کر دوبارہ دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ یہاں ضرورت ثابت ہوچکی ہے اور ضرورت پڑنے پر فقہائے کرام نے اجازت دی ہے. والله تعالی اعلم.

2، 3) عام طور پر مسلمانوں کے قبرستان وقفی ہوتے ہیں. وقف کی ہیئت تبدیل کرنا جائز نہیں تو سرے سے وقف کو ہی تبدیل کر دینا کیسے جائز ہوگا؟ فتح القدیر میں ہے: الواجب ابقاء الوقف عل ماکان علیه. (فتح القدیر، ٤٤٠/٥) وقف کو حال سابق پر برقرار رکھنا واجب ہے.

قال الإمام رحمه الله: وقف کی تبدیل جائز نہیں، جو چیز جس مقصد کے لیے وقف ہے اسے بدل کر دوسرے مقصد کے لئے کر دینا روا نہیں، جس طرح مسجد یا مدرسہ کو قبرستان نہیں کرسکتے یونہی قبرستان کو مسجد یا مدرسہ یا کتب خانہ کردینا حلال نہیں. (فتاوی رضویہ، ٤٥٦/٩)

وقال: مسلمانوں کاعام قبرستان وقف ہوتا ہے اور اس میں سوائے دفن کے اور تصرف کی اجازت نہیں اسے تجارت گاہ بنانا یا اس پر کھیت کرنا سب حرام ہے. (فتاوی رضویہ، ٥٤٠/١٦)

جنہوں نے مدرسہ قائم کیا اور جن جن لوگوں نے اس کام میں شرکت کی سب کے سب گنہ گار، مستحق عذاب نار ہوئے، انھوں نے کئی گناہ کے کام کیے، موقوف زمین پر قبضہ کیا، عمارت تعمیر کرکے توہین کی، روزانہ روندنتے ہیں اس سے مردوں کی توہین کی، علاوہ ازیں اس میں بیت الخلاء وغیرہ بنوانا مردوں پر ظلم بالائے ظلم ہے حدیث و فقہ کی روشنی میں یہ سب کام ناجائز و حرام ہیں اسی طرح اس مدرسہ میں پڑھنا پڑھانا. مدرسین کو چاہیے کہ اس مدرسہ کو چھوڑ دیں اور کوئی دوسرا مدرسہ تلاش کریں اور عوام اپنے بچوں کو وہاں سے نکال لیں اور سال خراب ہونے سے نہ ڈریں بلکہ غضب الہی سے ڈریں. فوراً زمین خالی کروائیں، اگر وہ لوگ خالی نہ کریں مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کا بائیکاٹ کریں اور یہ بائیکاٹ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک قبرستان خالی نہ کردیں.

اگر قبرستان وقفی نہیں ہے پھر بھی قبروں کو برابر کرکے کوئی بھی عمارت تعمیر کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ اس میں مردوں کی توہین ہے، البتہ قبرستان کی جس جگہ پر کوئی قبر نہیں ہے اور یہ بات یقین کے ساتھ معلوم ہے تو مالک کی اجازت سے تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے.

قال المجدد رحمه الله : وقف نہ بھی ہو تو قبور مسلمین کی توہین وبیحرمتی ہے. قبر پر چلنا پھرنا، پاؤں رکھنا حرام ہے چہ جائکہ انھیں پامالی کے لیے مقرر کرلینا. اس کی تفصیل ہمارے رسالہ اھلاک الوھابین فی توھین قبور المسلمین میں ہے. (فتاوی رضویہ، ٣٨٣/٩) والله تعالیٰ اعلم.
⚡️
کتبہ : ابو حماد قادری مصباحی

▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@Fmfoundation 🆔 @WahabiExposed
🆔 @RaddeWahabiyat 🆔 @Jawabat
@sharayiAdalatchannelfmfoundation
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
فرمانِ مصطفیٰ ﷺ
جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرےگا، عذابِ قبر سے بچا لیا جائےگا اور قیامت کے دن اس طرح آئےگا کہ اس پر شہیدوں کی مہر ہوگی ـ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وا حسرتا

اہل سُنّت بہر قوالی و عرس
دیوبندی بہر تصنیفات و درس
خرچ سُنّی بر قبور و خانقاہ
خرچ نجدی بر علوم و درسگاہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور حکیم الامت ، حضرت
علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی
تخلص : سالِکؔ رَحۡمَۃُ‌اللہِ‌تَعَالیٰ‌عَلَیۡہۡ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 خواجہ غریب نواز علیہ الرّحمہ 🌹
نام | سنِ پیدائش | القابات | والِد ماجِد
اساتذہ | وِصال پر مَلال | مزارِ مُقدّس
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اَجمیر کا عاشِق ہُوں خادِم ہُوں بَریلی کا
یہ دَر بھی ہَمَارا ہے ، وُہ دَر بھی ہَمَارا ہے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میری طرف‌سے آپ سب‌کو عُرسِ KGN
عُرسِ خواجہ غریب نواز خُـوب مُبارَڪ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
زمین پر دسترخوان بچھا کر کھانا سنت ہے - اور سنت ہی میں عظمت ہے -
فیضان سنت جلد 1 صفحہ 204
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ज़मीन पर दस्तरख़्वान बिछाकर खाना सुन्नत है, और सुन्नत ही में बरकत है
फ़ैज़़ाने सुन्नत जिल्द¹ पेज²⁰⁴
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 بے اَولادِی 🌹 یَآ اَوَّلُ 🌹
41 بار روزانہ پڑھیے انشاءاللہ صاحب اولاد ہُو جائیں گے مدت چالیس دن
زندہ بیٹی کنویں میں پھینک دی ص²²
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 علمائے کرام کا بلند مقام 🌹
حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں : علماء عام مومنوں سے سَات سَو درجے بلند ہُونگے، ان درجو میں ہَر ²دو درجوں کے درمیان ⁵⁰⁰سال کا فاصلہ ہوگا —
احیاء العلوم کتاب العلم جلد¹ صفحہ²⁰
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 مزار مبارک 🌹
السلطان محمود بن زنکی
الملقب : نور الدین الشہید
حضرت سلطان نورالدین زنگی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـه
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ماہ رجب المرجب 🌹
قمری تقویم (ہجری کیلنڈر)

اسلامی سال کے ساتویں مہینہ کا نام رجب المرجب ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے اور ترجیب کے معنی تعظیم کرنا ہیں یہ حرمت والا مہینہ ہے اس مہینہ میں جدال و قتال نہیں ہوتے تھے اس لیے اسے ’’الاصم رجب‘‘ کہتے تھے کہ اس میں ہتھیاروں کی آوازیں نہیں سنی جاتیں۔ اس مہینہ کو ’’اصب‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و بخشش کے خصوصی انعام فرماتا ہے اس ماہ میں عبادات اور دعائیں مستجاب ہوتی ہیں دور جہالت میں مظلوم، ظالم کے لیے رجب میں بد دعا کرتا تھا۔
Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/events/rajab-ul-muraajab
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رجب المرجب اور قرآن حکیم

رجب المرجب اسلامی سال کا سا تواں مہینہ اللہ تبارک و تعالی کا مہینہ حرمت والا مہینہ

اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ مِنْہَاۤ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ (توبہ،آیت 36)
ترجمہ کنز الایمان : بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں مفہومِ ترجمہ: زمینوں اور آسمان کے پیدا کرنے کے دن سے ہی اللہ تعالیٰ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تفسیر خزائن العرفان: تین متّصِل ذوالقعدہ و ذوالحِجّہ ، محرّم اور ایک جدا رَجَب ۔ عرب لوگ زمانۂ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کی تعظیم کرتے تھے اور ان میں قتال حرام جانتے تھے ۔ اسلام میں ان مہینوں کی حرمت و عظمت اور زیادہ کی گئی ۔
Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/events/rajab-ul-muraajab-aur-quran-e-hakeem
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رجب المرجب اور فرمان رسول ﷺ

رجب میں ایک نیکی کے بدلے ستر اور شعبان المعظم میں ایک نیکی کے بدلے سات سو اور رمضان المبارک میں ایک نیکی کے بدلے ہزار اور یہ نیکیوں کا زیادہ ہونا خاص طور پر اس امتِ محمد مصطفی ﷺ کے لئے ہے۔(درۃ الناصحین) 2۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں :""رجب ""میں تین حروف ہیں ۔ ر،ج،ب ، ""ر""سے مراد رحمتِ الٰہی عزوجل ، ""ج""سے مراد بندے کا جرم،""ب""سے مراد بِرّ یعنی احسان و بھلائی ۔ گویا اللہ عزوجل فرماتا ہے :میرے بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی کے درمیان کردو۔ (مکاشفۃ القلوب ص301) 3۔ رجب شھر اللّٰہ وشعبان شھری و رمضان شھر اُمتی ( الجامع الصغیر ،حدیث نمبر:3094) رجب اللہ کا مہینہ ، اور شعبان میرا مہینہ، اوررمضان میری اُمت کا مہینہ ہے ۔ 4۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کیا کہ : بیشک رجب اللہ کا مہینہ ہے۔ اسے اصم بھی کہتے ہیں ۔ زمانۂ جاہلیت میں جب آتا تو اپنے ہتھیاروں سے کام لینا چھوڑ دیتے اور انہیں اٹھا رکھتے تھے۔پھر مسافر لوگ امن سے رہتے اور راستہ پر امن ہوجاتا ۔کسی سے کسی کوکوئی خوف نہ ہوتا ۔یہاں تک کہ یہ مہینہ گزر جائے۔(ما ثبت من السنۃ:ص170)
🆔 @islaamic_Knowledge
رجب المرجب اوراس کے فضائل

رجب میں ایک نیکی کے بدلے ستر اور شعبان المعظم میں ایک نیکی کے بدلے سات سو اور رمضان المبارک میں ایک نیکی کے بدلے ہزار اور یہ نیکیوں کا زیادہ ہونا خاص طور پر اس امتِ محمد مصطفی ﷺ کے لئے ہے۔(درۃ الناصحین)

2۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں :""رجب ""میں تین حروف ہیں ۔ ر،ج،ب ، ""ر""سے مراد رحمتِ الٰہی عزوجل ، ""ج""سے مراد بندے کا جرم،""ب""سے مراد بِرّ یعنی احس ان و بھلائی ۔ گویا اللہ عزوجل فرماتا ہے :میرے بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی کے درمیان کردو۔ (مکاشفۃ القلوب ص301) 3۔ رجب شھر اللّٰہ وشعبان شھری و رمضان شھر اُمتی ( الجامع الصغیر ،حدیث نمبر:3094) رجب اللہ کا مہینہ ، اور شعبان میرا مہینہ، اوررمضان میری اُمت کا مہینہ ہے ۔ 4۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کیا کہ : بیشک رجب اللہ کا مہینہ ہے۔ اسے اصم بھی کہتے ہیں ۔ زمانۂ جاہلیت میں جب آتا تو اپنے ہتھیاروں سے کام لینا چھوڑ دیتے اور انہیں اٹھا رکھتے تھے۔پھر مسافر لوگ امن سے رہتے اور راستہ پر امن ہوجاتا ۔کسی سے کسی کوکوئی خوف نہ ہوتا ۔یہاں تک کہ یہ مہینہ گزر جائے۔(ما ثبت من السنۃ:ص170)
🆔 @islaamic_Knowledge
رجب المرجب اور روزے

رجب المرجب اوراس کے فضائل

۱۔ ابو خلال محمد نے رجب شریف کے فضائل کے بارے میں ایک روایت حضرت عبد اللہ ابن عباس ﷠سے نقل کی آپ نے فرمایا: رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سالوں کا کفارہ ہے دوسرے دن کا روزہ ود سالوں کا کفارہ جب کہ تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے پھر ہر دن کا روزہ ایک مہینہ کا کفارہ ہے جس طرح کہ جامع الصغیر میں ہے۔(درۃ الناصحین)

۲۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حدیث نقل کی حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایک نہر ہے جسے رجب کہا جاتا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے تو جو شخص رجب شریف میں ایک دن کا روزہ رکھےتو اللہ تعالیٰ اس کو اس نہر سے سیراب فرمائے گا۔(درۃ الناصحین)
Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/events/zia-e-rajab-ul-murajjab
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رجب المرجب اور روزے قِسط ❷

۳۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا آپ نے فرمایا : جب رجب شریف کی پہلی جمعرات کا تیسرا حصہ گزر جاتا ہے تو زمین و آسمان کے سارے فرشتے کعبۃ اللہ میں جمع ہوجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے اے میرے فرشتو! مانگو جو کچھ مانگنا چاہتے ہو۔ پس وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری حاجت یہ ہے کہ تو ہر اس شخص کی بخشش فرما جو رجب شریف میں روزے۔ رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے ان کو بخش دیا۔(درۃ الناصحین)

۴۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے۔ وہ فرماتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن انبیاء کرام اور ان کے اہل اور رجب ، شعبان اور رمضان میں روزے رکھنے والوں کے علاوہ سارے لوگ بھوکے ہوں گے۔ وہ سیر ہوں گے نہ تو ان کو بھوک ہوگی اور نہ ہی پیاس ہوگی۔(درۃ الناصحین)

۵۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم موت کے وقت پیاس سے راحت چاہتے ہو ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہونا چاہتے ہو نیز شیطان سے نجات کا ارادہ ہے تو تم ان تمام مہینوں میں کا کثرت صیام اور گزرے ہوئے گناہوں پر ندامت کے ساتھ احترام کرو تمام مخلوق کو پیدا کرنے والے کو یاد کرو تاکہ تم سلامتی کے ساتھ اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔(زہرۃ الریاض)

۶۔ حضرت انس بن مالک ﷜سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ملا اور میں نے عرض کیا کہ اے معاذ رضی اللہ عنہ! آپ کہاں سے آرہے ہیں؟ انہوں نے فرمایاکہ میں حضور ﷺ کی بارگاہ سے آرہا ہوں،میں نے عرض کیا کہ آپ نے حضور ﷺ سے کیا سنا؟ وہ فرماتے ہیں : میں نے سنا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے خلوص اور اخلاص کے ساتھ "لاالہ الا اللہ "کہا،وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جس نے رجب شریف میں ایک دن کا روزہ رکھا صرف رب ذو الجلال کی رضا حاصل کرنے کیلئے وہ جنت میں داخل ہوگیا ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھے اس اس طرح خبر دی ہے پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا۔(زہرۃ الریاض)
Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/events/rajab-ul-muraajab-aur-rozay
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رجب المرجب اور روزے قِسط ❸

۷۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا اگر آخرت طلب کرے تو آ خرت ملے گی اگر خدا کی رضا مندی چاہے تو وہ حاصل ہوگی اگر بہشت کی خواہش کرے تو بہشت میں جائے گا۔

۸۔ جو شخص ر جب کے مہینہ میں تین روزے رکھ لے اس کو دو حصے ثواب ملے گا ہر حصہ کا وزن دنیا کے پہاڑوں کا سا ہوگا۔

۹۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں تین روزے رکھے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے بعد دوزخ کے درمیان خندق حائل کردے گا۔ اس خندق کی چوڑائی ایک سال کے راستہ کے برابر ہوگی۔

۱۰۔ جو شخص رجب کے ماہ میں چار روزے رکھ لے وہ شخص دیوانگی،برض ، جذام،فتنۂ دجال سے محفوظ رہے گا۔

۱۱۔ جو شخص رجب کے ماہ میں پانچ (۵) روزے رکھے گا عذاب قبر سے محفوظ رہے گا۔

۱۲۔ جو شخص رجب کے ماہ میں چھ(۶) روزے رکھے گا۔قبر سے نکلتے ہوئے اس کا منہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا۔

۱۳۔ جو شخص سات (۷)روزے رکھ لے اس پر دوزخ کے ساتوں دروازے بند ہوجائیں گے۔

۱۴۔ جو شخص آٹھ(۸) روزے رکھتا ہے۔اس پر بہشت کے آٹھ دروازے کھول دئیے جاتے ہیں-

۱۵۔ جو شخص نو(۹)روزے رکھے گا۔ جب وہ اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ کہتا اٹھے گا کہ "اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ" اور اس کا منہ بہشت کی طرف ہوگا۔

۱۶۔ اگر کوئی رجب میں دس(۱۰) روزے رکھے گا تو اس کے واسطے اللہ تعالیٰ جل شانہ پل صراط کے اوپر ہر ایک میل پر ایک فرش بچھائے گا۔ وہاں سے گزرتا ہوا اس فرش پر آرام کرے گا۔

۱۷۔ جو شخص اس ماہ میں گیارہ(۱۱) روزے رکھے گا۔ وہ قیامت کے دن اپنے آپ کو سب سے اچھا دیکھے گا۔

۱۸۔ ماہ رجب میں جو شخص 12 روزے رکھے گا۔ ان کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دو صلے پہنچائے گا۔ ہر ایک صلہ ساری دنیا سے بہتر ہوگا۔

۱۹۔ جو شخص تیرہ روزے رکھے گا وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ تلے ہوگا اور حوریں اس کے سامنے ایک دستر خوان لگائیں گی وہ اس سے کھائے گا۔حالانکہ اور لوگ اس دن سختی میں مبتلا ہوں گے۔

۲۰۔ جو شخص اس ماہ میں چودہ روزے رکھ لے اس کے بدلے میں اللہ تبارک و تعالیٰ اسے وہ چیز عطا فرمائے گاجس کو نہ کسی نے دیکھا نہ سنا اور نہ کسی کے دل میں وہ چیز آئی۔

۲۱۔ جو شخص اس ماہ میں 15 روزے رکھے گا امن پانے والوں میں اللہ تعالیٰ جل شانہ کھڑا کر ے گا اور مقرب فرشتہ اور مرسل نبی اس کے پاس سے گزرے گا اور اس کو مبارک باد دے گا اور یہ کہے گا کہ تو خوش نصیب شخص ہے کہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو امن دیا گیا ہے۔

۲۲۔ جو شخص اس ماہ میں سولہ روزے رکھے گا اس کو اللہ تعالیٰ جل جلالہ ان لوگوں میں شامل فرمائے گا جو قیامت کےروز سب سے پہلے اس کی زیارت کرنے والے ہوں گے۔

۲۳۔ جو آدمی سترہ روزے رکھے گا۔اس کے لئے قیامت کے روز پل صراط پر ہر قدم پر آرام گاہ تیار کی جائے گی۔ جب وہاں سے گزرے گا تو اس پر آرام کرے گا۔

۲۴۔ جو ماہ رجب میں اٹھارہ روزے رکھے گا قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبے کے سامنے اس کا قبہ ہوگا۔

۲۵۔ جو شخص رجب کے ماہ میں انیس روزے رکھے گا تو اللہ تعالیٰ جل شانہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نشست گاہ کے روبرو بہشت میں محل عطا کرے گا۔ جب یہ روزہ دار وہاں جائے گا تو یہ ان کو سلام کہے گا اور وہ اس کو سلام کہیں گے۔

۲۶۔ جو شخص ماہ رجب میں بیس روزے رکھتا ہے اس شخص کو آسمان سے ایک شخص پکارے گا اور کہے گا کہ اے بندے اس سے پہلے تو جو کچھ کرچکا ہے اللہ تعالیٰ نے وہ سب تجھے معاف کردیا، اب جب تک زندگی باقی ہے۔تو نئے سرے سے نیک عمل کر۔علاوہ ازیں رجب کو مظہر اس لئے کہتے ہیں کہ جو شخص اس ماہ میں روزے رکھتا ہے وہ گناہوں اورخطاؤں سے پاک ہوجاتا ہے۔
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رجب اور روزے❹

۲۷۔ غنیۃ الطالبین ص،352 پر ایک اور روایت کے مطابق جو شخص ماہ رجب کے بعد تین(۳) روزے رکھے گا۔ اس کو پہلے آدمی سے تین حصے زیادہ ثواب ملے گا اور اس کے لیے آسمان پر پکارنے والا پکار کر کہتا رہے گا کہ اے خدا کے دوست تجھے خوشخبری ہو کہ ان روزوں کے بدلے خدا سے تجھے بزرگی عطا ملی ہے۔اور بڑی عظمت ہوئی ہے۔اور حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ بزرگی خدا وند تعالیٰ کا مبارک دیدار ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ معزز و مکرم ہے۔اور یہ دیدار اس کو پیغمبروں، صدیقوں،شہیدوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ نصیب ہوگا۔ اور یہ دوست بھی اچھے ہیں۔تجھے خعشی ہو جب کل قیامت کے دن پردے دور کئے جائیں گے تو اس وقت خداوند کریم سے تجھ کو بڑا عظیم ثواب پہنچے گا۔جب تین روزے رکھنے والا مرنے لگے گا اور موت کا فرشتہ اس کے پاس حاضر ہوگا تو جان کنی کے وقت اللہ جل شانہ بہشت کے حوضوں اور مشروبوں سے اسے شربت پلائے گا۔ تاکہ موت کی سختی اس پر آسان ہوجائے اور موت کا درد اس کو محسوس نہ ہو اور جب قبر میں جائے گاتو ہمیشہ اس میں خوش اور خرم رہے گا اور ہمیشہ اپنی قبر میں اور میدانِ قیامت میں اس ماہ رجب میں تیس روزے رکھنے والا سیراب رہے گا۔اور پھر یہ پیغمبر کے حوض پر آپہنچے گا۔اور جب یہ اپنی قبر سے نکلے گا تو ستر ہزار فرشتے اس کو رخصت کرنے جائیں گے، اور ان کے ساتھ فاخرہ لباس بھی ان کے ہمراہ ہوں گے ۔فرشتے اس کو کہیں گے اے خدا کے دوست توقف نہ کر اور جلدی کر اپنے خدا کی طرف روانہ ہو۔ جس کے واسطے تو سارا سارا دن پیاسا رہا اور جس کے واسطے تو نے اپنے جسم کو لاغر کرلیا اور یہ پہلا شخص ہوگا۔جو داخل جنت ہوگا۔

۲۸۔ موسی بن عمران سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہکو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا کہ بہشت کے اندر ایک نہر جاری ہے اور اس کا نام رجب ہے۔یہ دودھ سے سفید ہے اور شہد ست زیادہ میٹھی ہے۔جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک روزہ بھی رکھے گا۔تو اللہ جل شانہ اس آدمی کو اس نہر سے پانی پلائےگا اور انس بن مالک رضی اللہ عنہفرماتے ہیں جنت میں ایک محل ہے اس میں وہی آدمی جائیں گے جو رجب کے مہینہ میں روزے رکھیں گے، ان کے علاوہ دوسرے آدمی ان میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ (غنیۃ الطالبین،ص353)

۲۹۔ حضرت ابو داؤد رضی اللہ عنہسے ایک شخص نے پوچھا کہ رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کیسے ہیں۔ تو آپ رضی اللہ عنہنے بتایا کہ جاہلیت کے زمانے میں جاہلوں نے بھی اس مہینے کو بزرگی دی ہے اور اسلام نے بھی اس ماہ کو فضیلت بخشی ہے ۔ اور جو آدمی اس ماہ میں ثواب اور اطاعت اور خدا کی رضا مندی کے لئے دلی خلوص سے ایک روزہ بھی رکھے تو وہ روزہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کے غضب کو دور کردیتا ہے اور دوزخ کا ایک دروازہ اس پر بند کردیا جاتا ہے اور اس روزہ کا اس قدر ثواب روزے دار کو عطا ہوتا ہے کہ اگر ساری زمین کے برابر سونا کردیا جائے اور وہ سونا صدقہ و خیرات کردیا جائے پھر بھی وہ سوناتو اس ثواب کے برابر نہیں ہوسکتا۔اور دنیا کی جتنی چیزیں ہیں ان سب کا اجر بھی اس ثواب کو نہیں پہنچ سکتا۔روزہ رکھنے والا رات کے وقت دس دعائیں بھی کرے تو وہ بھی پوری کردی جائیں گی ۔اگر دعا نہ کرے تو ذخیرۂ آخرت ہوجائیگی۔(غنیۃ الطالبین،ص:350)

۳۰۔ حضرت علی رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اس ماہ رجب میں ایک روزہ بھی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ جل شانہ اس کو ایک ہزار سال کے روزوں کا ثواب عطا فرماتا ہے۔(غنیۃ الطالبین،ص:350)

۳۱۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا: اے مسلمانو! تم آگاہ رہو کہ رجب کا مہینہ ان مہینوں میں سے ہے جو حرام کئے گئے ہیں۔اور اس میں خدا نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی پر سوار کیا اور کشتی میں حضرت نوح علیہ السلام نے روزے رکھے اور اپنے ساتھ والوں کو روزے رکھنے کا ارشاد فرمایا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو خلاصی عطا کی اور ڈوبنے سے بچالیا اور کافروں کے غرق کردینے سے زمین کو کفر اور نافرمانی اور ظلمت سے پاک کیا اور اس مہینے کا نام بھی اصم یعنی بہرہ اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ وہ تیر کے ظلم اور خواری سے بھرا ہوا ہے اور اے مومن یہ تیری بزرگی کو سننے والا ہے۔پس خدا وند تعالیٰ نے ظلم اور اس قسم کی لغزش سے اس کو بہرہ کردیا ہے۔تاکہ قیامت کے دن وہ تیری ایسی گواہی نہ دے سکے اور تیرے ان نیک اعمال جو گواہ بنائے جو اس ماہ میں تیرے سے صادر ہوں۔(غنیۃ الطالبین،ص:348)

۳۲۔ حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا اگر کوئی آدمی رجب کے مہینے میں ایک دن بھی روزہ رکھ لے تو گویا اس نے ایک ہزار سال کے روزے رکھ لیے اور گویا کہ اس نے ایک ہزار غلام آزاد کردئیے۔(غنیۃ الطالبین،ص:354)

Read more at :
http://www.ziaetaiba.com/ur/events/rajab-ul-muraajab-aur-rozay
Copyright © Zia-e-Taiba

➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ماہ رجب المرجب اور روزے ❺

۳۳۔ انّ رجب شھر عظیم تضاعف فیہ الحسنات من صام یومًا منہ کان کصیام سنۃً
ترجمہ :
بے شک رجب عظمت والا مہینہ ہے اس میں نیکیوں کاثواب دُگنا ہوتا ہے جو شخص رجب کا ایک دن روزے رکھے تو گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے۔

۳۴۔ سرکار کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "رجب ایک عظیم الشان مہینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کو دوگنا کرتا ہے جو آدمی رجب کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے اور جوکوئی رجب کے سات دن کے روزے رکھے تو اس پر دوزخ کے سات دروازے بند کئے جائیں گے اور جو کوئی اس کے آٹھ دن کے روزے رکھےتو اس کے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھولے جائیں گے اور جو شخص رجب کے دس دن کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرے وہ اسے عطا کرے گا اور جو کوئی رجب کے پندرہ دن کے روزے رکھے تو آسمان سے منادی ندا کرےگا کہ تیرے گزشتہ گناہ معاف ہوگئے ہیں اور اب نئے سرے سے عمل شروع کر اور جو اس سے بھی زیادہ روزے رکھے تو اللہ کریم اپنے کرم ِ خاص سے اس شخص کو نوازے گا۔"(ماثبت من السنۃ،ص126)

۳۵۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: پندرہ رجب کو روزہ رکھنے والے کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔(انیس الواعظین)

۳۶۔ حضرت محمدمصطفیﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ "ماہ رجب خداکے نزدیک بزرگی کا حامل ہے۔ کوئی بھی مہینہ حرمت وفضیلت میں اس کا ہم پلہ نہیں اور اس مہینے میں کافروں سے جنگ و جدال کرنا حرام ہے۔نیز یہ کہ رجب خدا کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ رجب میں ایک روزہ رکھنے والے کو خدا کی عظیم خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔" مکاشفة القلوب میں(صفحات: 680-678) رقمطراز ہیں:

۳۷۔ حضور اکرم نے فرمایا: رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔

۳۸۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ستائیس رجب کو روزہ رکھا اس کے لئے ساٹھ ماہ کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: یاد رکھو رجب اللہ کا مہینہ ہے۔ جس نے رجب میں ایک دن روزہ رکھا، ایمان کے ساتھ اور محاسبہ کرتے ہوئے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضوانِ اکبر ( یعنی سب سے بڑی رضا مندی) لازم ہوگئی۔

۳۹۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے ماہ حرام میں تین روزے رکھے، اس کے لئے نو سو برس کی عبادت کا ثواب لکھ دیا گیا۔ حضرت انس ﷜سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺسے نہ سنا ہو تو میرے کان بہرے ہوجائیں۔

۴۰۔ اگر کوئی رجب میں ایک دن کا روزہ رکھے اور اس کی نیت اللہ تعالیٰ سے ثواب کی ہو اور خلوص سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہو تو اس کا ایک دن کا روزہ اللہ تعالیٰ کے غصے کو بجھا دے گا اور آگ کا ایک دروازہ بندکرا دے گا اور اگر اسے تمام زمین بھر کا سونا دیا جائے تو اس ایک روزے کا پورا ثواب نہ مل سکے گا اور دنیا کی کسی چیز کی قیمت سے اس کا اجر پورا نہ ہوگا۔ اگر یہ اجر پورا ہوگا تو قیامت کے دن ہی حق تعالیٰ پورا فرمائے گا۔ اس روزے دار کی شام کے وقت افطار سے پہلے دس دعائیں قبول ہوں گی۔ اگر وہ دنیا کی کسی چیز کے لئے دعا مانگے گا تو حق تعالیٰ وہ اسے عطا فرمائے گا۔
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻