Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯تاج العلماءحضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ۔
*لقب:* تاج العلماء۔
*والد کا اسمِ گرامی:* محمد صدیق مرادآبادی علیہ الرحمہ۔
*تاریخِ ولادت:* آپ 27/ربیع الثانی 1311ھ، بمطابق اکتوبر/1893ء کو بمقام مرادآباد (صوبہ اترپردیش، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔
*تحصیلِ علم:* ابتدائی تعلیم جناب منشی شمس الدین سے حاصل کی، قرآن مجید الحاج حافظ محمد حسین سے پڑھا۔فارسی اور صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں مولانا نظام الدین سے پڑھیں، پھر درس نظامی کے لیے حضرت صدر الافاضل مفسر قرآن مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے بقیہ درس نظامی کی مکمل تعلیم صدر الافاضل ہی سے حاصل کی، 1324ھ، بمطابق 1906ء میں سند فضیلت حاصل کی۔ آپ اپنے اساتذہ کا بے حد ادب فرماتے تھے۔ یہ آپ کی خوش قسمتی تھی کہ آپ کی رسمِ دستار بندی امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوئی، اور اس وقت کی قابلِ فخر شخصیات نے شرکت فرمائی۔ استاذ محترم کے ارشاد کے مطابق آپ نے انہی کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں تدریس شروع کی اور نصف صدی تک علم و عرفان کے جام لٹاتے رہے۔
*بیعت و خلافت:* 1325ھ، بمطابق 1907ء کو شیخ المشائخ حضرت سید علی حسین اشرفی رحمۃاللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور 1329ھ کو اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔ بقول مفتی محمد اطہر نعیمی زید مجدہ آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے بھی خلافت حاصل تھی۔ (تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ:159)
*سیرت و خصائص:* محسنِ ملت، فقیہِ امت، کامل مفسر و محدث، تاج العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ۔
درمیانہ قد، کشادہ پیشانی، صاف رنگ، خوبصورت چہرہ، سراپا علم و فضل، پیکرِ زہد و تقویٰ، مجسمۂ اخلاق و مروت، عظیم محدث و فقیہ، مفسر و ادیب، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر ہمہ وقت عمل پیرا رہنے والی شخصیت تھی۔
آپ علیہ الرحمہ ہر لحاظ سے یادگارِ اسلاف تھے۔ آپ حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے ہونہار اور قابلِ فخر تلامذہ میں سے تھے۔ آپ قیام مرادآباد کے دوران 1919ء میں نہایت اہم ماہنامہ "السواد الاعظم" صدر الافاضل علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں جاری کیا۔یہ جریدہ ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک علوم اسلامیہ اور سنیت کا سرگرم نقیب رہا۔حالات حاضرہ اور ملکی سیاست پر زبر دست تنقید و تبصرہ کے علاوہ دینی نقطۂ نظر سے راہنمائی کے فرائض بھی انجام دیتا رہا۔ مفتی صاحب نے "آل انڈیا سنی کانفرنس" کے نائب ناظم کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔
*کنزالایمان کی طباعتِ اول:* مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی نمایاں دینی و علمی خدمات میں امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا ترجمۂ قرآن بنام "کنزالایمان" کی پہلی اشاعت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا۔اس کے بعد تفسیری حاشیہ "خزائن العرفان" کی املاء اور کتابت، پروف ریڈنگ، پیسٹنگ، جلد سازی اور اشاعت کے سلسلے میں اہلِ خیر حضرات سے رابطہ کرنا، اور مجلہ "السوادالاعظم" کے لئے مضامین کی فراہمی اور اس کی اشاعت،"آل انڈیا سنی کانفرنس" کے ذریعے مسلمانانِ ہند کی بیداری، یہ سب آپ نے صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کے ہمراہ انجام دیے۔ (ایضاً:173)
تقسیم ملک کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ ہندوستان میں عافیت سے رہنا مشکل ہے (کیونکہ تحریکِ پاکستان میں بھرپور کوشش کی وجہ سے مرادآباد اور قرب و جوار کے ہندو آپ کے سخت مخالف ہوگئے تھے) تو ہجرت کر کے بغداد شریف جانے کے ارادے سے کراچی تشریف لائے اور مبلغ اسلام مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ کے اصرار پر کراچی ہی میں قیام پذیر ہو گئے"دار العلوم مخزن علوم عربیہ" جاری کیا اور جامع مسجد آرام باغ میں اعزازی طور پر خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
جب 1953ء میں "تحریک ختم نبوت" چلی تو ملک کے طول وعرض سے علماء و عوام اہل سنت سر بکف میدان عمل میں داخل ہوگئے، کراچی میں مفتی صاحب نے ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر بے مثال جدو جہد کی اور بالآ خر آپ کو جیل میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں، جو ہمیشہ اہل حق کا مقدر رہی ہیں۔
*وصال:* 23/ ذیقعدہ 1385ھ، بمطابق/ مارچ 1966ء کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف مسجد دارالصلوٰۃ ناظم آباد کراچی میں ہے۔
*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تذکرہ اولیاءِ سندھ۔ روشن دریچے۔ تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*🕯تاج العلماءحضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ۔
*لقب:* تاج العلماء۔
*والد کا اسمِ گرامی:* محمد صدیق مرادآبادی علیہ الرحمہ۔
*تاریخِ ولادت:* آپ 27/ربیع الثانی 1311ھ، بمطابق اکتوبر/1893ء کو بمقام مرادآباد (صوبہ اترپردیش، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔
*تحصیلِ علم:* ابتدائی تعلیم جناب منشی شمس الدین سے حاصل کی، قرآن مجید الحاج حافظ محمد حسین سے پڑھا۔فارسی اور صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں مولانا نظام الدین سے پڑھیں، پھر درس نظامی کے لیے حضرت صدر الافاضل مفسر قرآن مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے بقیہ درس نظامی کی مکمل تعلیم صدر الافاضل ہی سے حاصل کی، 1324ھ، بمطابق 1906ء میں سند فضیلت حاصل کی۔ آپ اپنے اساتذہ کا بے حد ادب فرماتے تھے۔ یہ آپ کی خوش قسمتی تھی کہ آپ کی رسمِ دستار بندی امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوئی، اور اس وقت کی قابلِ فخر شخصیات نے شرکت فرمائی۔ استاذ محترم کے ارشاد کے مطابق آپ نے انہی کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں تدریس شروع کی اور نصف صدی تک علم و عرفان کے جام لٹاتے رہے۔
*بیعت و خلافت:* 1325ھ، بمطابق 1907ء کو شیخ المشائخ حضرت سید علی حسین اشرفی رحمۃاللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور 1329ھ کو اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔ بقول مفتی محمد اطہر نعیمی زید مجدہ آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے بھی خلافت حاصل تھی۔ (تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ:159)
*سیرت و خصائص:* محسنِ ملت، فقیہِ امت، کامل مفسر و محدث، تاج العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ۔
درمیانہ قد، کشادہ پیشانی، صاف رنگ، خوبصورت چہرہ، سراپا علم و فضل، پیکرِ زہد و تقویٰ، مجسمۂ اخلاق و مروت، عظیم محدث و فقیہ، مفسر و ادیب، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر ہمہ وقت عمل پیرا رہنے والی شخصیت تھی۔
آپ علیہ الرحمہ ہر لحاظ سے یادگارِ اسلاف تھے۔ آپ حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے ہونہار اور قابلِ فخر تلامذہ میں سے تھے۔ آپ قیام مرادآباد کے دوران 1919ء میں نہایت اہم ماہنامہ "السواد الاعظم" صدر الافاضل علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں جاری کیا۔یہ جریدہ ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک علوم اسلامیہ اور سنیت کا سرگرم نقیب رہا۔حالات حاضرہ اور ملکی سیاست پر زبر دست تنقید و تبصرہ کے علاوہ دینی نقطۂ نظر سے راہنمائی کے فرائض بھی انجام دیتا رہا۔ مفتی صاحب نے "آل انڈیا سنی کانفرنس" کے نائب ناظم کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔
*کنزالایمان کی طباعتِ اول:* مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی نمایاں دینی و علمی خدمات میں امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا ترجمۂ قرآن بنام "کنزالایمان" کی پہلی اشاعت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا۔اس کے بعد تفسیری حاشیہ "خزائن العرفان" کی املاء اور کتابت، پروف ریڈنگ، پیسٹنگ، جلد سازی اور اشاعت کے سلسلے میں اہلِ خیر حضرات سے رابطہ کرنا، اور مجلہ "السوادالاعظم" کے لئے مضامین کی فراہمی اور اس کی اشاعت،"آل انڈیا سنی کانفرنس" کے ذریعے مسلمانانِ ہند کی بیداری، یہ سب آپ نے صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کے ہمراہ انجام دیے۔ (ایضاً:173)
تقسیم ملک کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ ہندوستان میں عافیت سے رہنا مشکل ہے (کیونکہ تحریکِ پاکستان میں بھرپور کوشش کی وجہ سے مرادآباد اور قرب و جوار کے ہندو آپ کے سخت مخالف ہوگئے تھے) تو ہجرت کر کے بغداد شریف جانے کے ارادے سے کراچی تشریف لائے اور مبلغ اسلام مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ کے اصرار پر کراچی ہی میں قیام پذیر ہو گئے"دار العلوم مخزن علوم عربیہ" جاری کیا اور جامع مسجد آرام باغ میں اعزازی طور پر خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
جب 1953ء میں "تحریک ختم نبوت" چلی تو ملک کے طول وعرض سے علماء و عوام اہل سنت سر بکف میدان عمل میں داخل ہوگئے، کراچی میں مفتی صاحب نے ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر بے مثال جدو جہد کی اور بالآ خر آپ کو جیل میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں، جو ہمیشہ اہل حق کا مقدر رہی ہیں۔
*وصال:* 23/ ذیقعدہ 1385ھ، بمطابق/ مارچ 1966ء کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف مسجد دارالصلوٰۃ ناظم آباد کراچی میں ہے۔
*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تذکرہ اولیاءِ سندھ۔ روشن دریچے۔ تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1👍1
استاذ العلماء والقراء والحفاظ، شیخ طریقت، الحاج حافظ و قاری مفتی دین محمد رتوی قادری نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تقریباً 1303ھ میں رتہ شریف، تحصیل و ضلع چکوال میں پیدا ہوئے۔ آپ عالم باعمل، صوفی باصفا، اسلام کے شیدائی، دین مصطفی ﷺ پر سختی سے قائم، شریعت مطہرہ کے پابند، اور محسن انسانیت ﷺ کے عاشق صادق تھے۔ 23 ذو القعدہ 1366ھ مطابق 25 اکتوبر 1946ء بروز اتوار صبح 10 بجے وصال فرمایا۔ مزار مبارک رتہ شریف، تحصیل و ضلع چکوال، پنجاب، پاکستان میں ہے۔ (روشنی ہی روشنی)
Teacher of Scholars, Quran Reciters, and Memorisers, Spiritual Guide, Al-Haaj Hafiz Qari Mufti Deen Muhammad Ratwi Qadiri Naqshbandi Mujaddidi (Alayhir Rahmah) was born in about 1303 AH in Rattah Sharif, Chakwal. He was a pious practicing scholar, Sufi sage, adherent of Islam, strict follower of the Noble Shari’ah, and an ardent devotee of beloved Prophet ﷺ. He passed away on Sunday, 23rd Dhu al-Qa’dah 1366 AH i.e. 25 October 1946 CE at 10 am. His blessed resting place is in Rattah Sharif, Chakwal, Punjab, Pakistan. [Roshni Hi Roshni]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0jNJeyDqDFAjEEUnnxPxgUXE4jJvz1zTwKdUkhAnswLJJqSbJzFCRd2uprJxYDiMVl&id=100050689590519
Teacher of Scholars, Quran Reciters, and Memorisers, Spiritual Guide, Al-Haaj Hafiz Qari Mufti Deen Muhammad Ratwi Qadiri Naqshbandi Mujaddidi (Alayhir Rahmah) was born in about 1303 AH in Rattah Sharif, Chakwal. He was a pious practicing scholar, Sufi sage, adherent of Islam, strict follower of the Noble Shari’ah, and an ardent devotee of beloved Prophet ﷺ. He passed away on Sunday, 23rd Dhu al-Qa’dah 1366 AH i.e. 25 October 1946 CE at 10 am. His blessed resting place is in Rattah Sharif, Chakwal, Punjab, Pakistan. [Roshni Hi Roshni]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0jNJeyDqDFAjEEUnnxPxgUXE4jJvz1zTwKdUkhAnswLJJqSbJzFCRd2uprJxYDiMVl&id=100050689590519
❤1👍1
استاذ امام بخاری امام مسلم و امام ابو داود، حافظ الحدیث، حضرت امام حافظ ابو زکریا یحیی بن مَعِین بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 158ھ بمطابق 775ء کو انبار کے قریب نقیا نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ جلیل القدر عالم دین، شیخ المحدثین اور اپنے ہاتھ سے 10 لاکھ احادیث مبارکہ تحریر کرنے کا اعزاز پانے والے تھے۔ بڑے بڑے علماء و محدثین نے آپ کو جرح و تعدیل کا امام، اسماء الرجال کا سب سے بڑا عالم، اور صحت حدیث کو پرکھنے کا بادشاہ کہا۔ علم دین کی طلب میں آپ نے اپنا کل سرمایہ تقریباً 10 لاکھ 50 ہزار درہم صرف کر ڈالا یہاں تک کہ جوتا تک نہ خرید پائے اور ننگے پیر چلتے تھے۔ ”تاریخ ابن معین“ آپ کی یادگار کتاب ہے۔ 23 ذو القعدہ 233ھ کو مدینۂ منورہ میں وصال فرمایا اور جس تخت مبارک پر حضور نبی مکرم نورِ مجسم ﷺ کو غسل دیا گیا تھا اسی پر آپ کو غسل دیا گیا۔ (تاریخ دمشق، تھذیب التھذیب، بستان المحدثین، وفیات الاعیان، الرحلۃ فی طلب الحدیث)
Teacher of Imam Bukhari Imam Muslim and Imam Abu Dawood, Hafiz al-Hadith, Imam Abu Zakariyya Yahya bin Ma’een Baghdadi (Alayhir Rahmah) was born in 158 AH (775 CE) in a village called Niqya near Anbar. He was an esteemed scholar, teacher of Hadith masters, and the one who had the honor of writing a million hadiths with his own hands. Great scholars and hadith experts have regarded him as the Imam of Jarh and Ta’deel, the greatest scholar of Asma’ ar-Rijal, and the king of examining the authenticity of hadith. In pursuit of sacred knowledge, he spent his entire wealth of about 1 million and 50 thousand dirhams so much so that he could not even buy a shoe and walked barefoot. ‘‘Tarikh Ibn Ma’een’’ is his memorable book. He passed away on 23 Dhu al-Qa’dah 233 AH in Madinah Munawwarah and was bathed on the blessed board on which the Beloved Prophet ﷺ was bathed. [Tarikh Dimashq, Tahzib at-Tahzib, Bustan al-Muhaddithin, Wafyat al-A’yaan, Ar-Rihla fi Talab al-Hadith]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0TPDkLmtQK6k5ddaBkrb84CAoJS1LsHrowCD6h44ptJM2ux2h4c99wqb4LEtSpEfsl&id=100050689590519
Teacher of Imam Bukhari Imam Muslim and Imam Abu Dawood, Hafiz al-Hadith, Imam Abu Zakariyya Yahya bin Ma’een Baghdadi (Alayhir Rahmah) was born in 158 AH (775 CE) in a village called Niqya near Anbar. He was an esteemed scholar, teacher of Hadith masters, and the one who had the honor of writing a million hadiths with his own hands. Great scholars and hadith experts have regarded him as the Imam of Jarh and Ta’deel, the greatest scholar of Asma’ ar-Rijal, and the king of examining the authenticity of hadith. In pursuit of sacred knowledge, he spent his entire wealth of about 1 million and 50 thousand dirhams so much so that he could not even buy a shoe and walked barefoot. ‘‘Tarikh Ibn Ma’een’’ is his memorable book. He passed away on 23 Dhu al-Qa’dah 233 AH in Madinah Munawwarah and was bathed on the blessed board on which the Beloved Prophet ﷺ was bathed. [Tarikh Dimashq, Tahzib at-Tahzib, Bustan al-Muhaddithin, Wafyat al-A’yaan, Ar-Rihla fi Talab al-Hadith]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0TPDkLmtQK6k5ddaBkrb84CAoJS1LsHrowCD6h44ptJM2ux2h4c99wqb4LEtSpEfsl&id=100050689590519
❤1👍1
مشہور ولی کامل، زاہد کبیر، حضرت سیدنا ابو المغیث حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت قصبہ طور بیضاء صوبہ فارس ایران میں ہوئی۔ آپ خواجہ عمرو بن عثمان مکی کے مرید، امام جنید بغدادی کے صحبت یافتہ، عالم دین، صاحب دیوان، صاحب ریاضات و کرامات، اور اکابر اہل حال اولیائے کرام سے ہیں۔ آپ نے اپنے جسم کو ٹخنوں سے گھٹنوں تک تیرہ جگہوں سے بیڑیوں میں جکڑ رکھا تھا اور اسی حالت میں وہ دن رات میں ایک ہزار رکعت نفل ادا کرتے تھے۔ 23 ذی القعدہ 309ھ بروز منگل بغداد عراق میں جام شہات نوش فرمایا۔ مزار شریف الکرامہ ہسپتال بغداد کے عقب میں واقع ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء، مرآۃ الاسرار، مکاشفۃ القلوب، وفیات الاعیان)
The famous Wali, Paramount Ascetic, Sayyiduna Abu al-Mughis Husayn bin Mansoor al-Hallaj (Alayhir Rahmah) was born in Toor Bayda, Persia, Iran. He was a disciple of Khwajah Amr bin Usman Makki, companion of Imam Junayd al-Baghdadi, pious practicing scholar, poet, man of marvels, and among the prominent and highly acclaimed Awliya of his time. He kept his body in shackles from thirteen places from ankle to knee and in this condition, he would perform 1000 rak'ats of Nafl prayers a day and night. He was martyred on Tuesday, 23 Dhu al-Qa’dah 309 AH in Baghdad, Iraq. His blessed mausoleum is located behind Al-Karamah Hospital Baghdad. [Tazkirat al-Awliya, Mirat al-Asrar, Mukashafat al-Quloob, Wafiyat al-A’yaan]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid026VyEBmDrLNZetBSQF941htQ22Gw3RnJU2YKZAQ33kmvViqwC85ERq3oaUxdmKCKol&id=100050689590519
The famous Wali, Paramount Ascetic, Sayyiduna Abu al-Mughis Husayn bin Mansoor al-Hallaj (Alayhir Rahmah) was born in Toor Bayda, Persia, Iran. He was a disciple of Khwajah Amr bin Usman Makki, companion of Imam Junayd al-Baghdadi, pious practicing scholar, poet, man of marvels, and among the prominent and highly acclaimed Awliya of his time. He kept his body in shackles from thirteen places from ankle to knee and in this condition, he would perform 1000 rak'ats of Nafl prayers a day and night. He was martyred on Tuesday, 23 Dhu al-Qa’dah 309 AH in Baghdad, Iraq. His blessed mausoleum is located behind Al-Karamah Hospital Baghdad. [Tazkirat al-Awliya, Mirat al-Asrar, Mukashafat al-Quloob, Wafiyat al-A’yaan]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid026VyEBmDrLNZetBSQF941htQ22Gw3RnJU2YKZAQ33kmvViqwC85ERq3oaUxdmKCKol&id=100050689590519
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-11-1443 ᴴ | 23-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-11-1443 ᴴ | 24-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1