🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-11-1443 ᴴ | 22-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-11-1443 ᴴ | 22-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
حضرت مفتی صاحب قبلہ کیا بینک سے لون لے کر مسجد بنا سکتے ہیں؟ اور بینک سے لون لینا کیسا ہے؟ مدلل و مفصل طور سے جلدی جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : محمد عمران رضوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* سود لینا و دینا دونوں ناجائز و حرام وہ سخت گناہ ہے، ارشاد باری تعالی ہے " احل اللہ البیع و حرم الربوا " اھ ( یعنی اللہ تعالی نے بیع کو حلال فرمایا اور سود کو حرام " اھ ( پ 3 سورۂ بقرہ آیت 275 ) اور حدیث پاک میں ہے کہ " لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آکل الربوا و مؤکله و کاتبه و شاھدیه و قال ھم سواء " اھ ( مشکوۃ شریف ص 244 ) لہذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے لیکن اس کو دینا جائز نہیں ہاں اگر تھوڑا نفع بخش دینے میں اپنا نفع زیاده ہو تو جائز ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے کہ " الظاھر ان الاباحة یفید نیل المسلم الزیادة وقد الزم الاصحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا و القمار ما اذا حصلت الزیادة للمسلم " اھ ( ردالمحتار ج 4 ص 188 ) اور شہزادہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا محمد مصطفی رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرمایا ہے کہ " گورنمنٹ سے جو روپیہ زائد ملتا ہے وہ سود نہیں کہ سود ہونے ہونے کے لیے مال معصوم ہونا ضروری ہے -” و مال الحربی لیس بمعصوم“ جب گورنمنٹ ایک رقم اپنی رضا سے خود زائد دیتی ہے اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ سود نہیں مگر سود سمجھ کر لینا ضرور گناہ ہوگا اس سمجھنے سے وہ سود نہ ہو جائے گا جو زائد مال اخذ کیا مال حلال ہے مگر حرام سمجھ کر لیا اس کا گناہ ہوا " اھ ( فتاویٰ مصطفویہ ص 414 : کتاب الربوا ) اور فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ " رہا گورنمینٹ بینک سے فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لینا تو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ، بینک کو جو زائد رقم بنام سود دینی پڑتی ہے اس زائد رقم کے برابر یا اس سے زیادہ نفع کا حصول یقینی طور پر معلوم ہو جب تو فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لینا جائز ہے اور اس رقم سے مسجد کی تعمیر کرنا بھی جائز ہے ورنہ ناجائز " اھ ( فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ص 261 )
لہذا مذکورہ بالا تفصیلات سے ثابت ہوا کہ بینک سے لون لینا جائز ہے ۔

واللہ اعلم باالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے علمائے دین مسئلہ ذیل میں بینک سے لون لینا از روئے شرع کیسا ہے۔
المستفتی۔محمد عرش عالم نظامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
*جواب* اولا تو کافروں کی تین قسمیں ہیں ذمی، مستامن، اور حربی-- ذمی وه کافر ہیں جو دارالاسلام میں رہتے ہوں اور بادشاه اسلام نے ان کی جان و مال کی حفاظت اپنے ذمے لیا ہو اور مستامن وه کافر ہیں کہ کچھ دنوں کے لیے امان لے کر دارالاسلام میں اگئے ہوں اور ظاہر ہے کہ ہندوستان کے کفار نہ تو ذمی ہے اور نا مستامن بلکہ وه تیسری قسم یعنی کافر حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقها حضرت ملا جیون رحمة الله علیہ تحریر فرماتے ہیں " ان هم الاحربى وما يعقلها الا العالمون " (تفسیرات احمدیه ص300 )
اور یہاں ہندوستان میں حکومت کافروں کی ہے ۔اورمسلمان و کافر کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے "لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب"
اور دار الحرب کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی لهذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے لیکن اس کو دینا جائز نہیں ہاں اگر تھوڑا نفع دینے میں اپنا نفع زیاده ہو تو جائز ہے ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں ہے " الظاھر ان الاباحة یفید نیل المسلم الزیادة وقد الزم الاصحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا و القمار ما اذا حصلت الزیادة للمسلم " (ردالمحتار، ج 4 ص 188)
لہذا بینک یا کسی کمپنی سے لون لیکر اپنا بزنس چلانا اس وقت جائز ہے جبکہ اسکی ضرورت ہو یا اسکی حاجت ہو کہ بغیر اسکے کام نہیں چلے گا یا چلے گا لیکن بہت دشواری سے چلےگا اور یہ صورت حاجت شدیده کی ہے اور اس میں نفع مسلم بھی زیاده ہے تو جائز ہے ۔
حضور مفتی اعظم هند علیه الرحمه بھی بینک سے لون لینے کی اجازت اس میں مسلمانوں کو نفع کثیر ہونے کی بنا پر دیتے تھے لیکن یہ اجازت مطلقا نہیں ہے یہ اس طور پر مشروط ہے کہ جس کام کے لیے لون لے رہا ہے یہ اسکی شرعی ضرورت ہو کہ اسکے بغیر کوئی چارا نہ ہو یا ہو کہ کام تو چل جائےگا لیکن بہت مشقت سے چلےگا ۔
اور لیتے وقت اسے پورا اعتماد ہو کہ مدت مقرره میں قسطیں ادا کر دیگا تو جائز ہے۔ کہ اس میں بینک کا تھوڑا فائده ہے لیکن مسلمانوں کا نفع زیادہ ہے ۔ اسی طرح فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے کہ " گورنمنٹ کے بینک فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لیا تو یہ اس شرط پر ہے کہ بینک کو جو زائد رقم سود دینی پڑتی ہے اس زائد رقم کے برابر یا اس سے زیاده نفع کا حصول یقینی طور پر معلوم ہو جب تو فاضل مال دینے کی شرط پر قرض لینا جائز ہے ورنہ نا جائز " (فتاوی مرکز تربیت افتاء ج 2 ) اور بہار شریعت میں ہے " کہ اگر اس طرح بھی قرض نہ مل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے " (بہار شریعت ح 11 ) اور الاشباه میں ہے "فى القنية و البغية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح " ( الاشباه والنظائر ص92 ) اور اعلی حضرت فاضل بریلوی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں"سود دینے والا اگر حقیقة صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں در مختار میں ہے " یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح " اور اگر بلا مجبوری شرعی سود لیتا ہے مثلا تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا محل اونچا بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وه بھی سود کھانے والے کے مثل ہے " (فتاوی رضویہ ج 3 ص 243 ) اور ایسا ہی فتاوی فیض الرسول ج 2 میں لکھا ہے ۔

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی فون نمبر 7666456313
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-11-1443 ᴴ | 22-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-11-1443 ᴴ | 23-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-11-1443 ᴴ | 23-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-11-1443 ᴴ | 23-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1