🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-11-1443 ᴴ | 16-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-11-1443 ᴴ | 16-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
حضرت سید محمد گیسو دراز علیہالرحمہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد۔ کنیت: ابو الفتح ۔ القاب: صدر الدین ، ولی الاکبر ، الصادق ، اور زیادہ " خواجہ بندہ نواز گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہیں۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید یوسف حسینی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے، اور حضرت خواجہ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض سے بھی مستفید ہوئے تھے۔ سید راجہ کہلاتے تھے۔ آپ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کی وجہ سے دکن میں "راجو قتال" مشہور ہوئےـ
آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام زین العابدین کے توسط سے مولائے کائنات سے جاکر ملتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ حسینی سید ہیں۔
گیسو دراز کہلانے کی وجہ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ایک دن اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اپنے پیر و مرشد شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پالکی اٹھائے دہلی کے پر رونق بازار سے گزر رہے تھے۔ آپ کے "گیسو" (زلفیں) پالکی کے نیچے پھنس گئے۔ آپ ادب و احترام کے پیش نظر ان بالوں کو نکالنے کی بجائے پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، اور ایک لمبا فاصلہ طے کر گئے۔ حضرت شیخ چراغ دہلوی کو آپ کی اس کیفیت کا علم ہوا تو آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت گیسو دراز کی اس جانثاری اور ادب پر یہ شعر کہا۔
؏: ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد،
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد
اسی دن سے آپ "گیسو دراز" کے لقب سے مشہور ہو گئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 / رجب المرجب 720ھ، بمطابق 9 / اگست 1320ء، بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد اور نانا کے زیر سایہ ہوئی۔ آپ نےقرآن شریف حفظ کیا، اس کے علاوہ خلد آباد کے قیام کے زمانے میں آپ نے علومِ دینیہ کی تحصیل شروع کر دی تھی۔ جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی آئے تو آپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے میں کافی محنت و کوشش کی۔ آپ کو مولانا شرف الدین کیتھلی، مولانا تاج الدین بہادر، اور قاضی عبد المقتدر سے علوم متداولہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں۔ علومِ دینیہ کی تحصیل سے انیس سال کی عمر میں فراغت پائی۔ علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ 16 / رجب 736ھ، کو شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ مدت کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
امام العاشقین، زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین، شیخِ کامل، عارف باللہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ سیادت علم و ولایت کے جامع تھے۔ آپ اعلیٰ شان کے مالک تھے۔ آپ کا رتبہ سچ ، احوال قوی، مشرب وسیع، بلند ہمت ، عارفانہ کلام، صوفیانہ احوال ، اور شیریں مقال رکھتے تھے۔ مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں آپ کا مشرب خاص، اور رموزِ حقیقت کے بیان میں آپ کا طریقہ مخصوص ہے۔ آپ زہد و تقویٰ، تحمل و بردباری، سخاوت و فیاضی، عطاء و بخشش، قناعت و توکل، ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات میں یگانۂ عَصر تھے۔
آپ کو اپنے پیر و مرشد شیخ الاسلام حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلی سے والہانہ محبت تھی۔حضرت چراغ دہلی رحمۃ اللہ علیہ جو حکم فرماتے تھے، آپ اس کو بجالاتے۔ آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے۔تمام سنن و نوافل ادا کرتے تھے۔ کم سونا، کم کھانا، کم پینا، اور ہر وقت ذکر و فکر، مراقبۂ و مشاہدہ، اور مریدین کو وعظ و نصیحت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔
تقریباً 105 تصنیفات:
آپ کو تمام علوم پر مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ قرآن و حدیث اور تصوف و فقہ پر آپ درس دیا کرتے تھے۔ آپ نے مختلف موضوعات پر عربی اور فارسی زبان میں تقریباً ایک سو پانچ کتب تصنیف فرمائی ہیں، اور کچھ کتب کے حواشی اور شروح بھی تحریر فرمائے ہیں ، جیسے: شرح رسالہ قشیریہ" شرح فقہ الاکبر" اور قرآنِ مجید کے پانچ پاروں کی تفسیر بھی لکھی ہے۔ آپ کے ایک مرید نے آپ کے ملفوظات "جوامع الکلم" کے نام سے جمع کیے ہیں۔ مشائخِ چشتیہ میں ان ملفوظات کی بہت اہمیت ہے۔
شریعت طریقت اور حقیقت:
آپ کے نزدیک شریعت کی پاسداری سب سے مقدم ہے۔آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں :"یہ عقیدہ نہ رکھو کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ (فی زمانہ جس طرح جاہل پیر کہتے پھرتے ہیں) بلکہ ایک ہیں۔ دیکھو بادام کے اندر تین چیزیں ہیں۔پوست، مغز اور روغن، تینوں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا خلاصہ ہیں۔ یعنی پوست کا خلاصہ مغز ہے اور مغز کا خلاصہ روغن، اسی طرح شریعت کا خلاصہ طریقت اور طریقت کا خلاصہ حقیقت ہے"۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد۔ کنیت: ابو الفتح ۔ القاب: صدر الدین ، ولی الاکبر ، الصادق ، اور زیادہ " خواجہ بندہ نواز گیسو دراز " کے لقب سے مشہور ہیں۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید یوسف حسینی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے، اور حضرت خواجہ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیوض سے بھی مستفید ہوئے تھے۔ سید راجہ کہلاتے تھے۔ آپ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے۔ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کی وجہ سے دکن میں "راجو قتال" مشہور ہوئےـ
آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام زین العابدین کے توسط سے مولائے کائنات سے جاکر ملتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ حسینی سید ہیں۔
گیسو دراز کہلانے کی وجہ تسمیہ:
آپ علیہ الرحمہ ایک دن اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اپنے پیر و مرشد شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پالکی اٹھائے دہلی کے پر رونق بازار سے گزر رہے تھے۔ آپ کے "گیسو" (زلفیں) پالکی کے نیچے پھنس گئے۔ آپ ادب و احترام کے پیش نظر ان بالوں کو نکالنے کی بجائے پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، اور ایک لمبا فاصلہ طے کر گئے۔ حضرت شیخ چراغ دہلوی کو آپ کی اس کیفیت کا علم ہوا تو آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت گیسو دراز کی اس جانثاری اور ادب پر یہ شعر کہا۔
؏: ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد،
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد
اسی دن سے آپ "گیسو دراز" کے لقب سے مشہور ہو گئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 / رجب المرجب 720ھ، بمطابق 9 / اگست 1320ء، بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد اور نانا کے زیر سایہ ہوئی۔ آپ نےقرآن شریف حفظ کیا، اس کے علاوہ خلد آباد کے قیام کے زمانے میں آپ نے علومِ دینیہ کی تحصیل شروع کر دی تھی۔ جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی آئے تو آپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے میں کافی محنت و کوشش کی۔ آپ کو مولانا شرف الدین کیتھلی، مولانا تاج الدین بہادر، اور قاضی عبد المقتدر سے علوم متداولہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں۔ علومِ دینیہ کی تحصیل سے انیس سال کی عمر میں فراغت پائی۔ علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ 16 / رجب 736ھ، کو شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور کچھ مدت کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
امام العاشقین، زبدۃ العارفین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین، شیخِ کامل، عارف باللہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ سیادت علم و ولایت کے جامع تھے۔ آپ اعلیٰ شان کے مالک تھے۔ آپ کا رتبہ سچ ، احوال قوی، مشرب وسیع، بلند ہمت ، عارفانہ کلام، صوفیانہ احوال ، اور شیریں مقال رکھتے تھے۔ مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں آپ کا مشرب خاص، اور رموزِ حقیقت کے بیان میں آپ کا طریقہ مخصوص ہے۔ آپ زہد و تقویٰ، تحمل و بردباری، سخاوت و فیاضی، عطاء و بخشش، قناعت و توکل، ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات میں یگانۂ عَصر تھے۔
آپ کو اپنے پیر و مرشد شیخ الاسلام حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلی سے والہانہ محبت تھی۔حضرت چراغ دہلی رحمۃ اللہ علیہ جو حکم فرماتے تھے، آپ اس کو بجالاتے۔ آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے۔تمام سنن و نوافل ادا کرتے تھے۔ کم سونا، کم کھانا، کم پینا، اور ہر وقت ذکر و فکر، مراقبۂ و مشاہدہ، اور مریدین کو وعظ و نصیحت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔
تقریباً 105 تصنیفات:
آپ کو تمام علوم پر مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ قرآن و حدیث اور تصوف و فقہ پر آپ درس دیا کرتے تھے۔ آپ نے مختلف موضوعات پر عربی اور فارسی زبان میں تقریباً ایک سو پانچ کتب تصنیف فرمائی ہیں، اور کچھ کتب کے حواشی اور شروح بھی تحریر فرمائے ہیں ، جیسے: شرح رسالہ قشیریہ" شرح فقہ الاکبر" اور قرآنِ مجید کے پانچ پاروں کی تفسیر بھی لکھی ہے۔ آپ کے ایک مرید نے آپ کے ملفوظات "جوامع الکلم" کے نام سے جمع کیے ہیں۔ مشائخِ چشتیہ میں ان ملفوظات کی بہت اہمیت ہے۔
شریعت طریقت اور حقیقت:
آپ کے نزدیک شریعت کی پاسداری سب سے مقدم ہے۔آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں :"یہ عقیدہ نہ رکھو کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ (فی زمانہ جس طرح جاہل پیر کہتے پھرتے ہیں) بلکہ ایک ہیں۔ دیکھو بادام کے اندر تین چیزیں ہیں۔پوست، مغز اور روغن، تینوں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا خلاصہ ہیں۔ یعنی پوست کا خلاصہ مغز ہے اور مغز کا خلاصہ روغن، اسی طرح شریعت کا خلاصہ طریقت اور طریقت کا خلاصہ حقیقت ہے"۔
❤3👍1
وقت کی اہمیت:
آپ کے نزدیک وقت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہ تھی۔اس لئے آپ وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اپنے مریدین کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے، کہ تمھارا ایک لمحہ بھی غفلت میں نہ گزرے، بلکہ اللہ جل شانہ کی یاد میں گزرے۔
وصال: آپ نے 16 / ذیقعدہ 825ھ، بمطابق / 1422ء کو اس عالم سے پردہ فرمایا۔
مزار مبارک:
گلبرگہ (دکن، انڈیا) میں قبلہ حاجات خلائق ہے،
عمر:
بوقت وفات آپ کی عمر ایک سو پانچ سال تھی۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ بزرگانِ چشت ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-meer-syed-muhamamd-gaisu-daraz
Copyright © Zia-e-Taiba
آپ کے نزدیک وقت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہ تھی۔اس لئے آپ وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اپنے مریدین کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے، کہ تمھارا ایک لمحہ بھی غفلت میں نہ گزرے، بلکہ اللہ جل شانہ کی یاد میں گزرے۔
وصال: آپ نے 16 / ذیقعدہ 825ھ، بمطابق / 1422ء کو اس عالم سے پردہ فرمایا۔
مزار مبارک:
گلبرگہ (دکن، انڈیا) میں قبلہ حاجات خلائق ہے،
عمر:
بوقت وفات آپ کی عمر ایک سو پانچ سال تھی۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ بزرگانِ چشت ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-meer-syed-muhamamd-gaisu-daraz
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-11-1443 ᴴ | 16-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-11-1443 ᴴ | 17-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1