🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-11-1443 ᴴ | 14-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-11-1443 ᴴ | 14-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-11-1443 ᴴ | 14-06-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-11-1443 ᴴ | 14-06-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت شاہ بہاءالدین باجن برہان پوری رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* شاہ بہاء الدین۔
*تخلص:* باجن۔
*لقب:* ادیبِ اول اردو، صاحبِ علم و عرفاں۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* حضرت شیخ بہاء الدین شاہ باجن بن حاجی معزالدین بن علاء الدین بن شہاب الدین بن شیخ ملک بن مولانا احمد خطابی مدنی علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کے بھائی ہبل بن خطاب کی نسل سے ہیں۔ آپ کے جد اعلیٰ، حضرت شیخ احمد خطابی مدنی رحمۃ اللّٰه علیہ حضرت ابو مدین رحمہ اللّٰه کے مریدین میں سے تھے۔ علوم ِ دینیہ میں تبحر حاصل تھا۔ علمِ حدیث کے تو گویا امام تھے۔ حدیث کی اکثر مشکلات صاحبِ حدیث علیہ السلام سے حل کراتے تھے۔ ہمیشہ آدھی رات کے وقت جب روضۂ رسولﷺ کی آستانہ بوسی کےلئے حاضر ہوتے، تو آپ کے لیے حرم محترم کے دروازے خود بخود کھل جاتے تھے، بارگاہِ حبیبﷺ میں راز و نیاز کی باتیں کرتے پھر واپس آجاتے۔
*(گلزار ابرار: 212)*
پھر یکایک دل میں سیر و سیاحت کی آرزو پیدا ہوئی، تو اپنے فرزند ارجمند شیخ ملک کو بھی ہمراہ لیا۔ کچھ طلباء بھی ساتھ ہوگئے، اور مدینۃ المنورہ سے چلے، عراق، خراسان، ماوراء النہر، اور سندھ کی سیر کرتے ہوئے دہلی پہنچے۔ یہاں آپ سے لوگ بڑی محبت سے پیش آئے۔ آپ کی اور آپ کے طلباء کی خوب خدمت کی۔ جب بادشاہ کو آپ کی اطلاع کی آمد ہوئی تو وہ بھی حاضر خدمت ہوا اور شدید خواہش کی کہ آپ ہمارے ملک میں رہیں، اور اپنے فیوضات و برکات سے مستفید فرمائیں۔ پھر سلطان نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ کے صاحبزادے ’’شیخ ملک‘‘ سے کردیا۔ کچھ عرصے کےلئے شیخ دہلی رونق افروز رہے۔ کثیر مخلوقِ خدا نے استفادہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد اپنے وطن مالوف کی یاد تازہ ہوئی، اور مدینۃ المنورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ پھر مدینہ طیبہ میں بقیہ زندگی گزاری اور وہیں کی خاک پاک میں آرام فرما ہوئے۔ (ایضا:213)
آپ کے صاحبزادے شیخ ملک دہلی میں قیام پذیر ہوگئے۔ ان کی اولاد کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ سب کے سب علم و فضل میں اپنی مثال تھے۔ حضرت شیخ باجن رحمۃ اللّٰه علیہ کےوالد گرامی مخدوم حاجی معزالدین رحمہ اللّٰه حضرت مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری رحمہ اللّٰه کے جید خلیفہ تھے۔ ان کی عمر ایک سو چالیس ہوئی۔ سات مرتبہ حرمین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کو اپنے خاندان کی ملاقات و دیدار کا شوق ہوا۔ اس کےلئے حجاز کے سفر کا ارادہ کیا۔ جب احمد آباد گجرات (ہند) پہنچے تو عقیدت مندوں نے یہاں رہنے پہ مجبور کر دیا۔ پھر یہیں رہائش پذیر ہوگئے۔ ان کی اولاد کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوا۔ (ایضا:)
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 790ھ مطابق 1388ء کو احمد آباد گجرات (ہند) میں ہوئی۔
*تحصیلِ علم:* آپ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گھر کا ماحول شروع سے ہی مذہبی تھا۔ اس لیے بچپن میں ہی دین کی طرف لگاؤ پیدا ہوگیا تھا۔چار سال کی عمر تھی کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ان کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کی تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری آپ کی والدہ محترمہ پر آگئی۔ انہوں نے یہ ذمہ داری خوب نبھائی۔ آپ کی والدہ کی خواہش تھی کہ حضرت شاہ برہان الدین کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کریں، اور شاہ صاحب نے آپ کوئی خاص توجہ نہیں کی۔ پھر ایک دن وہ اپنے چچا زاد بھائی شیخ میاں کی معرفت شیخ رحمت اللہ کی خدمت میں پہنچے، خانقاہ میں تعلیمی سلسلہ شروع کیا، اور وہیں پہ تکمیل ہوئی۔
*بیعت و خلافت:* دورانِ تعلیم آپ حضرت شاہ رحمت اللہ رحمۃ اللّٰه علیہ کو قریب سے دیکھا، اور متأثر ہو کر دستِ بیعت ہوئے۔ اکیس سال ان کی خدمت میں گزارے۔ یہاں تک کہ ولایت کے درجے کو پہنچے۔
*سیرت و خصائص:* جامع الفضائل و الکمالاتِ علمیہ و عملیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، حضرت شیخ بہاء الدین باجن برہان پوری رحمہ اللّٰه۔
آپ اپنے وقت کے نام ور عالم دین، صوفی شاعر، اور ولی کامل تھے۔ اپنے اکابرین کی اعلیٰ صفات کے حامل، ان کی امانتوں کے وارثِ کامل تھے۔ اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں اکیس سال گزارے، اور پھر ان کی اجازت سے خشکی کے راستے سفر حجاز پر روانہ ہوئے۔ دہلی سے خراسان پہنچے۔ وہاں سے کعبہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے۔ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور سرور کائناتﷺ حج کی قبولیت کا مژدہ سنا رہے ہیں اور برہان پور کی طرف مراجعت کی ہدایت فرما رہے ہیں۔ اسی طرح خواب میں آپﷺ نےآپ کے پیر و مرشد سے فرمایا کہ اپنے مرید سے کہ دو کہ خیالِ حج جو تم نے کیا تھا وہ قبول ہوا۔ اب لوٹ خراسان سے برہان واپس آجائے، اور وہیں قیام کرے، لوگوں کو دین کی طرف بلائے، اور ان کا تزکیہ کرے۔ اس کی تعبیر آپ نے اپنے پیر و مرشد کے وصال سے کی۔
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت شاہ بہاءالدین باجن برہان پوری رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* شاہ بہاء الدین۔
*تخلص:* باجن۔
*لقب:* ادیبِ اول اردو، صاحبِ علم و عرفاں۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* حضرت شیخ بہاء الدین شاہ باجن بن حاجی معزالدین بن علاء الدین بن شہاب الدین بن شیخ ملک بن مولانا احمد خطابی مدنی علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کے بھائی ہبل بن خطاب کی نسل سے ہیں۔ آپ کے جد اعلیٰ، حضرت شیخ احمد خطابی مدنی رحمۃ اللّٰه علیہ حضرت ابو مدین رحمہ اللّٰه کے مریدین میں سے تھے۔ علوم ِ دینیہ میں تبحر حاصل تھا۔ علمِ حدیث کے تو گویا امام تھے۔ حدیث کی اکثر مشکلات صاحبِ حدیث علیہ السلام سے حل کراتے تھے۔ ہمیشہ آدھی رات کے وقت جب روضۂ رسولﷺ کی آستانہ بوسی کےلئے حاضر ہوتے، تو آپ کے لیے حرم محترم کے دروازے خود بخود کھل جاتے تھے، بارگاہِ حبیبﷺ میں راز و نیاز کی باتیں کرتے پھر واپس آجاتے۔
*(گلزار ابرار: 212)*
پھر یکایک دل میں سیر و سیاحت کی آرزو پیدا ہوئی، تو اپنے فرزند ارجمند شیخ ملک کو بھی ہمراہ لیا۔ کچھ طلباء بھی ساتھ ہوگئے، اور مدینۃ المنورہ سے چلے، عراق، خراسان، ماوراء النہر، اور سندھ کی سیر کرتے ہوئے دہلی پہنچے۔ یہاں آپ سے لوگ بڑی محبت سے پیش آئے۔ آپ کی اور آپ کے طلباء کی خوب خدمت کی۔ جب بادشاہ کو آپ کی اطلاع کی آمد ہوئی تو وہ بھی حاضر خدمت ہوا اور شدید خواہش کی کہ آپ ہمارے ملک میں رہیں، اور اپنے فیوضات و برکات سے مستفید فرمائیں۔ پھر سلطان نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ کے صاحبزادے ’’شیخ ملک‘‘ سے کردیا۔ کچھ عرصے کےلئے شیخ دہلی رونق افروز رہے۔ کثیر مخلوقِ خدا نے استفادہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد اپنے وطن مالوف کی یاد تازہ ہوئی، اور مدینۃ المنورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ پھر مدینہ طیبہ میں بقیہ زندگی گزاری اور وہیں کی خاک پاک میں آرام فرما ہوئے۔ (ایضا:213)
آپ کے صاحبزادے شیخ ملک دہلی میں قیام پذیر ہوگئے۔ ان کی اولاد کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ سب کے سب علم و فضل میں اپنی مثال تھے۔ حضرت شیخ باجن رحمۃ اللّٰه علیہ کےوالد گرامی مخدوم حاجی معزالدین رحمہ اللّٰه حضرت مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری رحمہ اللّٰه کے جید خلیفہ تھے۔ ان کی عمر ایک سو چالیس ہوئی۔ سات مرتبہ حرمین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کو اپنے خاندان کی ملاقات و دیدار کا شوق ہوا۔ اس کےلئے حجاز کے سفر کا ارادہ کیا۔ جب احمد آباد گجرات (ہند) پہنچے تو عقیدت مندوں نے یہاں رہنے پہ مجبور کر دیا۔ پھر یہیں رہائش پذیر ہوگئے۔ ان کی اولاد کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوا۔ (ایضا:)
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 790ھ مطابق 1388ء کو احمد آباد گجرات (ہند) میں ہوئی۔
*تحصیلِ علم:* آپ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گھر کا ماحول شروع سے ہی مذہبی تھا۔ اس لیے بچپن میں ہی دین کی طرف لگاؤ پیدا ہوگیا تھا۔چار سال کی عمر تھی کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ان کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کی تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری آپ کی والدہ محترمہ پر آگئی۔ انہوں نے یہ ذمہ داری خوب نبھائی۔ آپ کی والدہ کی خواہش تھی کہ حضرت شاہ برہان الدین کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کریں، اور شاہ صاحب نے آپ کوئی خاص توجہ نہیں کی۔ پھر ایک دن وہ اپنے چچا زاد بھائی شیخ میاں کی معرفت شیخ رحمت اللہ کی خدمت میں پہنچے، خانقاہ میں تعلیمی سلسلہ شروع کیا، اور وہیں پہ تکمیل ہوئی۔
*بیعت و خلافت:* دورانِ تعلیم آپ حضرت شاہ رحمت اللہ رحمۃ اللّٰه علیہ کو قریب سے دیکھا، اور متأثر ہو کر دستِ بیعت ہوئے۔ اکیس سال ان کی خدمت میں گزارے۔ یہاں تک کہ ولایت کے درجے کو پہنچے۔
*سیرت و خصائص:* جامع الفضائل و الکمالاتِ علمیہ و عملیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، حضرت شیخ بہاء الدین باجن برہان پوری رحمہ اللّٰه۔
آپ اپنے وقت کے نام ور عالم دین، صوفی شاعر، اور ولی کامل تھے۔ اپنے اکابرین کی اعلیٰ صفات کے حامل، ان کی امانتوں کے وارثِ کامل تھے۔ اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں اکیس سال گزارے، اور پھر ان کی اجازت سے خشکی کے راستے سفر حجاز پر روانہ ہوئے۔ دہلی سے خراسان پہنچے۔ وہاں سے کعبہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے۔ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور سرور کائناتﷺ حج کی قبولیت کا مژدہ سنا رہے ہیں اور برہان پور کی طرف مراجعت کی ہدایت فرما رہے ہیں۔ اسی طرح خواب میں آپﷺ نےآپ کے پیر و مرشد سے فرمایا کہ اپنے مرید سے کہ دو کہ خیالِ حج جو تم نے کیا تھا وہ قبول ہوا۔ اب لوٹ خراسان سے برہان واپس آجائے، اور وہیں قیام کرے، لوگوں کو دین کی طرف بلائے، اور ان کا تزکیہ کرے۔ اس کی تعبیر آپ نے اپنے پیر و مرشد کے وصال سے کی۔
❤1👍1